نظم - کوئی بھی آدمی اجنبی نہیں
کیا آپ نے کبھی کچھ لوگوں کو عجیب، یا دوسرے ممالک کو ‘اجنبی’ سمجھا ہے؟ ہمارے پاس دوسرے لوگوں کو ‘ہم’ سے مختلف، ‘وہ’ سمجھنے کے کئی طریقے ہیں۔ ‘وہ’ کسی دوسرے ملک سے تعلق رکھ سکتے ہیں، یا کوئی دوسری زبان بول سکتے ہیں۔ تاہم، اس نظم میں شاعر ہمیں ان کئی طریقوں کی یاد دہانی کراتا ہے جن میں ہم سب ایک جیسے ہیں - کیونکہ ہم سب انسان ہیں۔
یاد رکھو، کوئی آدمی عجیب نہیں، کوئی ملک اجنبی نہیں تمام وردیوں کے نیچے، ایک ہی جسم سانس لیتا ہے ہمارے جیسا: وہ زمین جس پر ہمارے بھائی چلتے ہیں ہماری زمین جیسی ہے، جس میں ہم سب لیٹیں گے۔
وہ بھی، سورج اور ہوا اور پانی سے واقف ہیں، امن کی فصلوں سے پلتے ہیں، جنگ کے طویل سردیوں کے قحط سے بھوکے رہتے ہیں۔ ان کے ہاتھ ہمارے ہاتھ ہیں، اور ان کی لکیروں میں ہم پڑھتے ہیں ایک محنت جو ہماری اپنی سے مختلف نہیں۔
یاد رکھو ان کی آنکھیں ہماری آنکھوں جیسی ہیں جو جاگتی ہیں یا سوتی ہیں، اور وہ طاقت جو جیتی جا سکتی ہے محبت سے۔ ہر زمین میں عام زندگی ہے جسے سب پہچان اور سمجھ سکتے ہیں۔
آئیے ہم یاد رکھیں، جب بھی ہمیں کہا جائے اپنے بھائیوں سے نفرت کرنے کو، یہ ہم خود ہیں جنہیں ہم بے گھر کریں گے، دھوکہ دیں گے، سزا دیں گے۔ یاد رکھو، ہم جو ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں
یہ انسانی زمین ہے جسے ہم آلودہ کرتے ہیں۔ آگ اور دھول کے ہمارے دوزخ، معصومیت کو مجروح کرتے ہیں اس ہوا کی جو ہر جگہ ہماری اپنی ہے، یاد رکھو، کوئی آدمی اجنبی نہیں، اور کوئی ملک عجیب نہیں۔
فرہنگ
dispossess: بے گھر کرنا؛ محروم کرنا
defile: گندا کرنا؛ آلودہ کرنا
outrage the innocence of: معصومیت کی بے حرمتی کرنا
نظم کے بارے میں سوچیے
1. (i) “تمام وردیوں کے نیچے…” آپ کے خیال میں شاعر کس وردی کی بات کر رہا ہے؟
(ii) شاعر کیسے بتاتا ہے کہ زمین پر تمام لوگ ایک جیسے ہیں؟
2. پہلے بند میں، پانچ طریقے بتائیے جن میں ہم سب ایک جیسے ہیں۔ الفاظ چن کر لکھیے۔
3. دوسرے بند میں آپ کتنی مشترکہ خصوصیات پا سکتے ہیں؟ الفاظ چن کر لکھیے۔
4۔ “…جب بھی ہمیں اپنے بھائیوں سے نفرت کرنے کو کہا جائے…” آپ کے خیال میں یہ کب ہوتا ہے؟ کیوں؟ کون ‘کہتا’ ہے؟ ایسے وقتوں میں ہمیں وہی کرنا چاہیے جو ہمیں کہا جاتا ہے؟ شاعر کیا کہتا ہے؟
میں ایک شہری ہوں، ایتھنز یا یونان کا نہیں، بلکہ دنیا کا۔