ہندوستان میں بینکاری

ہندوستان میں بینکاری

1. تاریخی پہلو

  • ہندوستان میں ابتدائی بینکاری:

    • ہندوستان میں بینکاری کی ابتدائی شکل کا سراغ سترہویں صدی میں بینک آف ہندوستان (1770) کے قیام سے لگایا جا سکتا ہے۔
    • بینک آف بنگال (1773) اور بینک آف بمبئی (1786) ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت قائم کیے گئے تھے۔
    • یہ بینک بنیادی طور پر تجارت کو آسان بنانے اور برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے مالیات کے انتظام کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
  • امپیریل بینک آف انڈیا کی تشکیل:

    • 1921 میں، بینک آف بنگال، بینک آف بمبئی، اور بینک آف مدراس کے انضمام سے امپیریل بینک آف انڈیا تشکیل دیا گیا۔
    • یہ ہندوستان کا پہلا حقیقی قومی بینک تھا اور بعد میں 1955 میں اسے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے طور پر تنظیم نو دی گئی۔
  • آزادی کے بعد بینکاری کی ترقی:

    • 1947 میں آزادی کے بعد، ہندوستانی حکومت نے بینکاری نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات اٹھائے۔
    • ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) 1935 میں قائم کیا گیا تھا اور ہندوستان کا مرکزی بینک بن گیا۔

2. موجودہ مرحلہ

پہلو تفصیلات
بینکوں کی تعداد 500 سے زائد بینک (2023 تک)
بینکاری شعبے کی ساخت سرکاری شعبے کے بینکوں کی بالادستی، اس کے بعد نجی اور غیر ملکی بینک
ڈیجیٹل بینکاری ڈیجیٹل بینکاری میں تیزی سے ترقی، یو پی آئی (یونیفائیڈ پے منٹس انٹرفیس) پر 3 ارب سے زائد صارفین
مالیاتی شمولیت پی ایم جے ڈی وائی (پرادھان منتری جن دھن یوجنا) اور ای-کے وائی سی جیسی اقدامات کے ذریعے حاصل کی گئی
بینکاری میں ایف ڈی آئی غیر ملکی بینکوں کے لیے خودکار راستے کے تحت 100 فیصد تک ایف ڈی آئی کی اجازت

3. بینکوں کی اقسام

الف. سرکاری شعبے کے بینک
  • تعریف: حکومت ہند کی ملکیت اور کنٹرول میں چلنے والے بینک۔
  • مثالیں: اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی)، بینک آف بڑودہ، پنجاب نیشنل بینک (پی این بی)، کینرا بینک، یونین بینک آف انڈیا۔
  • کردار: اقتصادی ترقی میں اہم شراکت دار، زراعت، ایم ایس ایم ای اور بنیادی ڈھانچے جیسے ترجیحی شعبوں کو قرض دینے پر توجہ۔
  • اہم خصوصیات:
    • بینکنگ ریگولیشن ایکٹ، 1949 کے تحت کام کرتے ہیں۔
    • ان میں سے زیادہ تر سرکاری شعبے کے ادارے (پی ایس یو) ہیں۔
ب. نجی شعبے کے بینک
  • تعریف: نجی اداروں یا افراد کی ملکیت میں چلنے والے بینک۔
  • مثالیں: ایچ ڈی ایف سی بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایکسس بینک، کوٹک مہندرہ بینک۔
  • کردار: گاہک کی خدمت، ٹیکنالوجی اور اختراع پر توجہ۔
  • اہم خصوصیات:
    • بینکنگ ریگولیشن ایکٹ، 1949 کے تحت کام کرتے ہیں۔
    • زیادہ تر عوامی فہرست میں شامل کمپنیاں ہیں۔
    • سرکاری بینکوں کے لیے مخصوص شعبوں کے علاوہ تمام شعبوں میں کام کرنے کی اجازت۔
ج. غیر ملکی بینک
  • تعریف: ہندوستان سے باہر شامل کیے گئے لیکن ہندوستان میں کام کرنے والے بینک۔
  • مثالیں: ایچ ایس بی سی، سٹینڈرڈ چارٹرڈ، سٹی بینک، ڈی بی ایس بینک۔
  • کردار: بین الاقوامی بینکاری خدمات، زرمبادلہ اور سرمایہ کاری بینکاری فراہم کرنا۔
  • اہم خصوصیات:
    • فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ (فیما)، 1999 کے تحت کام کرتے ہیں۔
    • آر بی آئی کے ضوابط اور احتیاطی اصولوں کے تابع۔
    • خودکار راستے (100 فیصد ایف ڈی آئی تک) کے تحت ہندوستان میں کام کرنے کی اجازت۔
د. علاقائی دیہی بینک (آر آر بی)
  • تعریف: دیہی علاقوں کو قرض اور دیگر مالیاتی خدمات فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے بینک۔
  • مثالیں: وجیا بینک، کارپوریشن بینک (اب ایس بی آئی میں ضم)، وغیرہ۔
  • کردار: دیہی اور نیم شہری علاقوں کی خدمت، زراعت اور چھوٹے پیمانے کی صنعتوں پر توجہ۔
  • اہم خصوصیات:
    • آر آر بی ایکٹ، 1975 کے تحت کام کرتے ہیں۔
    • نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈویلپمنٹ (نابارڈ) کے ذریعے فنڈڈ۔
    • حالیہ برسوں میں زیادہ تر آر آر بی سرکاری شعبے کے بینکوں میں ضم ہو چکے ہیں۔

4. 1949 کا بینکنگ ریگولیشن ایکٹ

  • نافذ کیا گیا: 1949 میں
  • مقصد: ہندوستان میں بینکاری کے کاروبار کو منظم اور کنٹرول کرنا۔
  • اہم دفعات:
    • “بینک” کی اصطلاح اور بینک کی سرگرمیوں کی تعریف کرتا ہے۔
    • بینکوں کے قیام، کام کرنے اور بند ہونے کو منظم کرتا ہے۔
    • ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو بینکاری آپریشنز کی نگرانی اور ریگولیٹ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
    • بینکنگ کمپنیز ایکٹ، 1949 اور بینکنگ ریگولیشن ایکٹ، 1949 کو الگ الگ ایکٹ کے طور پر فراہم کرتا ہے۔
  • اہمیت:
    • ہندوستان میں جدید بینکاری نظام کی بنیاد رکھی۔
    • 1969 اور 1981 میں بینکوں کی قومیانے میں معاونت کی۔

5. بینکوں کی قومیانے

الف. پہلی قومیانے (1969)
  • تاریخ: 19 اپریل 1969
  • قومیانے کیے گئے بینک:
    • 14 بڑے تجارتی بینک بشمول:
      • بینک آف انڈیا
      • انڈین بینک
      • پنجاب نیشنل بینک
      • کینرا بینک
      • انڈین اوورسیز بینک
      • یونائیٹڈ بینک آف انڈیا
      • بینک آف بڑودہ
      • الہ آباد بینک
      • پنجاب اینڈ سندھ بینک
      • کارپوریشن بینک
      • یونائیٹڈ کامرشل بینک
      • نیو بینک آف انڈیا
      • اورینٹل بینک آف کامرس
      • انڈین بینک
  • وجوہات:
    • قرض کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا، خاص طور پر زراعت اور چھوٹی صنعتوں کے لیے۔
    • مہنگائی پر قابو پانا اور معیشت کو مستحکم کرنا۔
    • بینکاری شعبے کو منصوبہ بند اقتصادی ترقی کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنا۔
ب. دوسری قومیانے (1981)
  • تاریخ: 19 اپریل 1981
  • قومیانے کیے گئے بینک:
    • 6 اضافی بینک بشمول:
      • سنڈیکیٹ بینک
      • آندھرا بینک
      • وجیا بینک
      • یو ٹی آئی بینک
      • لکشمی ولا بینک
      • نیو انڈیا اشورنس کمپنی (بعد میں دیگر بینکوں میں ضم)
  • اثر:
    • سرکاری شعبے کے بینکاری نظام کو مزید مضبوط کیا۔
    • اقتصادی ترقی میں سرکاری شعبے کے بینکوں کے کردار میں اضافہ کیا۔
    • 1982 میں نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈویلپمنٹ (نابارڈ) کی تشکیل کا باعث بنا۔

6. مقابلہ جاتی امتحانات (ایس ایس سی، آر آر بی) کے لیے اہم حقائق

  • ہندوستان کا پہلا بینک: بینک آف ہندوستان (1770)
  • امپیریل بینک آف انڈیا: 1921 میں بنگال، بمبئی اور مدراس بینکوں کے انضمام سے تشکیل دیا گیا۔
  • اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی): 1955 میں امپیریل بینک سے قائم کیا گیا۔
  • ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی): 1935 میں قائم کیا گیا، 1949 میں مرکزی بینک بنا۔
  • بینکوں کی قومیانے (1969): 14 بینک قومیانے کیے گئے۔
  • بینکوں کی قومیانے (1981): 6 مزید بینک قومیانے کیے گئے۔
  • آر آر بی ایکٹ، 1975: دیہی علاقوں کی خدمت کے لیے علاقائی دیہی بینک قائم کیے۔
  • بینکاری میں ایف ڈی آئی: خودکار راستے کے تحت 100 فیصد تک کی اجازت۔
  • پی ایم جے ڈی وائی: 2014 میں مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا۔
  • یو پی آئی (یونیفائیڈ پے منٹس انٹرفیس): این پی سی آئی کے ذریعے 2016 میں شروع کیا گیا، اب 3 ارب سے زائد صارفین استعمال کرتے ہیں۔