باب 12 اب کہاں دوسرے کے دکھ سے دکھی ہونے والے

ندا فاضلی
سن 1938-2016

12 اکتوبر 1938 کو دہلی میں پیدا ہونے والے ندا فاضلی کا بچپن گوالیار میں گزرا۔ ندا فاضلی اردو کی ساٹھویں پیڑھی کے اہم شاعر مانے جاتے ہیں۔ عام بول چال کی زبان میں اور سادگی سے کسی کے بھی دل و دماغ میں گھر کر سکے، ایسی شاعری کرنے میں انہیں مہارت حاصل ہے۔ وہی ندا فاضلی اپنی نثر تخلیقات میں شعر و شاعری پرو کر بہت کچھ کو تھوڑے میں کہہ دینے کے معاملے میں اپنی قسم کے اکیلے ہی نثر نگار ہیں۔

ندا فاضلی کی لفظوں کا پل نامی نظم کی پہلی کتاب آئی۔ شاعری کی کتاب کھویا ہوا سا کچھ کے لیے 1999 کے ساہتیہ اکادمی انعام سے سرفراز ندا فاضلی کی آپ بیتی کا پہلا حصہ دیواروں کے بیچ اور دوسرا دیواروں کے پار عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ فلم صنعت سے وابستہ رہنے والے ندا فاضلی کا انتقال 8 فروری 2016 کو ہوا۔ یہاں تماشا میرے آگے کتاب میں شامل ایک اقتباس پیش ہے۔

متن کا تعارف

قدرت نے یہ زمین ان تمام جانداروں کے لیے عطا فرمائی تھی جنہیں خود اسی نے جنم دیا تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ آدمی نام کے قدرت کے سب سے عظیم کارنامے نے آہستہ آہستہ پوری زمین کو ہی اپنی جاگیر بنا لیا اور دیگر تمام جانداروں کو در بدر کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دیگر جانداروں کی یا تو نسلیں ختم ہوتی گئیں یا انہیں اپنا ٹھور ٹھکانہ چھوڑ کر کہیں اور جانا پڑا یا پھر آج بھی وہ ایک آشیانے کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔

اتنا بھر ہوا رہتا تو تب بھی غنیمت ہوتی، لیکن آدمی نام کے اس جانور کی سب کچھ سمیٹ لینے کی بھوک یہیں پوری نہیں ہوئی۔ اب وہ دیگر جانوروں کو ہی نہیں خود اپنی جات کو بھی بے دخل کرنے سے ذرا بھی پرہیز نہیں کرتا۔ عالم یہ ہے کہ اسے نہ تو کسی کے سکھ دکھ کی فکر ہے، نہ کسی کو سہارا یا تعاون دینے کی منشا ہی۔ یقین نہ آتا ہو تو اس متن کو پڑھ جائیے اور ساتھ ہی یاد کیجیے گا اپنے آس پاس کے لوگوں کو۔ بہت ممکن ہے اسے پڑھتے ہوئے ایسے بہت لوگ یاد آئیں جو کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتے رہے ہوں۔

اب کہاں دوسرے کے دکھ سے دکھی ہونے والے

بائبل کے سلیمان جنہیں قرآن میں سلیمان کہا گیا ہے، عیسیٰ سے 1025 سال پہلے ایک بادشاہ تھے۔ کہا گیا ہے، وہ صرف انسان جات کے ہی بادشاہ نہیں تھے، سارے چھوٹے بڑے جانور پرندے کے بھی حاکم تھے۔ وہ ان سب کی زبان بھی جانتے تھے۔ ایک دفعہ سلیمان اپنے لشکر کے ساتھ ایک راستے سے گزر رہے تھے۔ راستے میں کچھ چیونٹیوں نے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنی تو ڈر کر ایک دوسرے سے کہا، ‘آپ جلدی سے اپنے اپنے بلوں میں چلو، فوج آ رہی ہے۔’ سلیمان ان کی باتیں سن کر تھوڑی دور پر رک گئے اور چیونٹیوں سے بولے، ‘گھبراؤ نہیں، سلیمان کو خدا نے سب کا رکھوالا بنایا ہے۔ میں کسی کے لیے مصیبت نہیں ہوں، سب کے لیے محبت ہوں۔’ چیونٹیوں نے ان کے لیے خدا سے دعا کی اور سلیمان اپنی منزل کی طرف بڑھ گئے۔


ایسی ایک واقعہ کا ذکر سندھی زبان کے عظیم شاعر شیخ ایاز نے اپنی آپ بیتی میں کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے-‘ایک دن ان کے والد کنویں سے نہا کر لوٹے۔ ماں نے کھانا پیش کیا۔ انہوں نے جیسے ہی روٹی کا لقمہ توڑا۔ ان کی نظر اپنی بازو پر پڑی۔ وہاں ایک کالا چیونٹا رینگ رہا تھا۔ وہ کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔’ ماں نے پوچھا، ‘کیا بات ہے؟ کھانا اچھا نہیں لگا؟’ شیخ ایاز کے والد بولے، ‘نہیں، یہ بات نہیں ہے۔ میں نے ایک گھر والے کو بے گھر کر دیا ہے۔ اس بے گھر کو کنویں پر اس کے گھر چھوڑنے جا رہا ہوں۔’

بائبل اور دوسرے مقدس کتابوں میں نوح نام کے ایک پیغمبر کا ذکر ملتا ہے۔ ان کا اصل نام لشکر تھا، لیکن عرب نے ان کو نوح کے لقب سے یاد کیا ہے۔ وہ اس لیے کہ آپ ساری عمر روتے رہے۔ اس کا سبب ایک زخمی کتا تھا۔ نوح کے سامنے سے ایک بار ایک زخمی کتا گزرا۔ نوح نے اسے دھتکارتے ہوئے کہا، ‘دور ہو جا گندے کتے!’ اسلام میں کتوں کو گندا سمجھا جاتا ہے۔ کتے نے ان کی دھتکار سن کر جواب دیا…‘نہ میں اپنی مرضی سے کتا ہوں، نہ تم اپنی پسند سے انسان ہو۔ بنانے والا سب کا تو وہی ایک ہے۔’

مٹی سے مٹی ملے
کھو کے سب نشان۔
کس میں کتنا کون ہے،
کیسے ہو پہچان॥

نوح نے جب اس کی بات سنی اور دکھی ہو مدت تک روتے رہے۔ ‘مہابھارت’ میں یودھیشٹھر کا جو آخر تک ساتھ نبھاتا نظر آتا ہے، وہ بھی علامتی طور پر ایک کتا ہی تھا۔ سب ساتھ چھوڑتے گئے تو صرف وہی ان کے اکیلے پن کو سکون دے رہا تھا۔

دنیا کیسے وجود میں آئی؟ پہلے کیا تھی؟ کس نقطے سے اس کی سفر شروع ہوئی؟ ان سوالوں کے جواب سائنس اپنی طرح سے دیتا ہے، مذہبی کتابیں اپنی اپنی طرح سے۔ دنیا کی تخلیق چاہے کیسے ہی ہوئی ہو لیکن زمین کسی ایک کی نہیں ہے۔ پرندے، انسان، جانور، دریا، پہاڑ، سمندر وغیرہ کی اس میں برابر کی حصہ داری ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس حصہ داری میں انسان جات نے اپنی عقل سے بڑی بڑی دیواریں کھڑی کر دی ہیں۔ پہلے پوری دنیا ایک خاندان کی مانند تھی اب ٹکڑوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے دور ہو چکی ہے۔ پہلے بڑے بڑے دالانوں آنگنوں میں سب مل جل کر رہتے تھے اب چھوٹے چھوٹے ڈبے جیسے گھروں میں زندگی سمٹنے لگی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادیوں نے سمندر کو پیچھے سرکانا شروع کر دیا ہے، درختوں کو راستوں سے ہٹانا شروع کر دیا ہے، پھیلتے ہوئے آلودگی نے پرندوں کو بستیوں سے بھگانا شروع کر دیا ہے۔ بارودوں کی تباہ کاریوں نے ماحول کو ستانا شروع کر دیا۔ اب گرمی میں زیادہ گرمی، بے وقت کی بارشیں، زلزلے، سیلاب، طوفان اور نئے نئے روگ، انسان اور قدرت کے اسی عدم توازن کے نتائج ہیں۔ فطرت کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ فطرت کے غصے کا ایک نمونہ

کچھ سال پہلے بمبئی (ممبئی) میں دیکھنے کو ملا تھا اور یہ نمونہ اتنا ڈراؤنا تھا کہ بمبئی کے رہنے والے ڈر کر اپنے اپنے عبادت گاہوں میں اپنے خداؤں سے دعا کرنے لگے تھے۔

کئی سالوں سے بڑے بڑے بلڈر سمندر کو پیچھے دھکیل کر اس کی زمین کو ہتھیا رہے تھے۔ بیچارہ سمندر مسلسل سمٹتا جا رہا تھا۔ پہلے اس نے اپنی پھیلی ہوئی ٹانگیں سمیٹیں، تھوڑا سمٹ کر بیٹھ گیا۔ پھر جگہ کم پڑی تو اکڑوں بیٹھ گیا۔ پھر کھڑا ہو گیا…جب کھڑے رہنے کی جگہ کم پڑی تو اسے غصہ آ گیا۔ جو جتنا بڑا ہوتا ہے اسے اتنا ہی کم غصہ آتا ہے۔ پر آتا ہے تو روکنا مشکل ہو جاتا ہے، اور یہی ہوا، اس نے ایک رات اپنی لہروں پر دوڑتے ہوئے تین جہازوں کو اٹھا کر بچوں کی گیند کی طرح تین سمتوں میں پھینک دیا۔ ایک ورلی کے سمندر کے کنارے پر آ کر گرا، دوسرا باندرہ میں کارٹر روڈ کے سامنے اوندھے منہ اور تیسرا گیٹ وے آف انڈیا پر ٹوٹ پھوٹ کر سیاحوں کا نظارہ بنا باوجود کوشش، وہ پھر سے چلنے پھرنے کے قابل نہ ہو سکے۔

میری ماں کہتی تھی، سورج ڈھلے آنگن کے درختوں سے پتے مت توڑو، درخت روئیں گے۔ دیا بتی کے وقت پھولوں کو مت توڑو، پھول بدعا دیتے ہیں۔… دریا پر جاؤ تو اسے سلام کیا کرو، وہ خوش ہوتا ہے۔ کبوتروں کو مت ستایا کرو، وہ حضرت محمد کو عزیز ہیں۔ انہوں نے انہیں اپنی مزار کے نیلے گنبد پر گھونسلے بنانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ مرغ کو پریشان نہیں کیا کرو، وہ مولوی صاحب سے پہلے محلے میں اذان دے کر سب کو صبح جگاتا ہے-

سب کی پوجا ایک سی، الگ الگ ہے ریت۔
مسجد جائے مولوی، کوئل گائے گیت۔۔

گوالیار میں ہمارا ایک مکان تھا، اس مکان کے دالان میں دو روشن دان تھے۔ اس میں کبوتر کے ایک جوڑے نے گھونسلا بنا لیا تھا۔ ایک بار بلی نے اچھل کر دو میں سے ایک انڈا توڑ دیا۔ میری ماں نے دیکھا تو اسے دکھ ہوا۔ اس نے اسٹول پر چڑھ کر دوسرے انڈے کو بچانے کی کوشش کی۔ لیکن اس کوشش میں دوسرا انڈا اسی کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا۔ کبوتر پریشانی میں ادھر ادھر پھڑپھڑا رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں دکھ دیکھ کر میری ماں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس گناہ کو خدا سے معاف کروانے کے لیے اس نے پورے دن روزہ رکھا۔ دن بھر کچھ کھایا پیا نہیں۔ صرف روتی رہی اور بار بار نماز پڑھ پڑھ کر خدا سے اس غلطی کو معاف کرنے کی دعا مانگتی رہی۔

گوالیار سے بمبئی کی دوری نے دنیا کو کافی کچھ بدل دیا ہے۔ ویرسووا میں جہاں آج میرا گھر ہے، پہلے یہاں دور تک جنگل تھا۔ درخت تھے، پرندے تھے اور دوسرے جانور تھے۔ اب یہاں سمندر کے کنارے لمبی چوڑی بستی بن گئی ہے۔ اس بستی نے نہ جانے کتنے پرندوں چرندوں سے ان کا گھر چھین لیا ہے۔ ان میں سے کچھ شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ جو نہیں جا سکے ہیں انہوں نے یہاں وہاں ڈیرا ڈال لیا ہے۔ ان میں سے دو کبوتروں نے میرے فلیٹ کے ایک مچان میں گھونسلا بنا لیا ہے۔ بچے ابھی چھوٹے

ہیں۔ ان کے کھلانے پلانے کی ذمہ داری ابھی بڑے کبوتروں کی ہے۔ وہ دن میں کئی کئی بار آتے جاتے ہیں۔ اور کیوں نہ آئیں جائیں آخر ان کا بھی گھر ہے۔ لیکن ان کے آنے جانے سے ہمیں پریشانی بھی ہوتی ہے۔ وہ کبھی کسی چیز کو گرا کر توڑ دیتے ہیں۔ کبھی میری لائبریری میں گھس کر کبیر یا مرزا غالب کو ستانے لگتے ہیں۔ اس روز روز کی پریشانی سے تنگ آ کر میری بیوی نے اس جگہ جہاں ان کا آشیانہ تھا، ایک جالی لگا دی ہے، ان کے بچوں کو دوسری جگہ کر دیا ہے۔ ان کے آنے کی کھڑکی کو بھی بند کیا جانے لگا ہے۔ کھڑکی کے باہر اب دونوں کبوتر رات بھر خاموش اور اداس بیٹھے رہتے ہیں۔ مگر اب نہ سلیمان ہے جو ان کی زبان کو سمجھ کر ان کا دکھ بانٹے، نہ میری ماں ہے، جو ان کے دکھوں میں ساری رات نمازوں میں کاٹے-

ندیہ سینچے کھیت کو، طوطا کترے آم۔
سورج ٹھیکیدار سا، سب کو بانٹے کام॥

سوالات و مشق

زبانی

مندرجہ ذیل سوالات کے جواب ایک دو سطروں میں دیجیے-

1. بڑے بڑے بلڈر سمندر کو پیچھے کیوں دھکیل رہے تھے؟

2. مصنف کا گھر کس شہر میں تھا؟

3. زندگی کیسے گھروں میں سمٹنے لگی ہے؟

4. کبوتر پریشانی میں ادھر ادھر کیوں پھڑپھڑا رہے تھے؟

تحریری

(ک) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب ( 25-30 الفاظ میں ) لکھیے-

1. عرب میں لشکر کو نوح کے نام سے کیوں یاد کرتے ہیں؟

2. مصنف کی ماں کس وقت درختوں کے پتے توڑنے کے لیے منع کرتی تھیں اور کیوں؟

3. فطرت میں آئے عدم توازن کا کیا نتیجہ ہوا؟

4. مصنف کی ماں نے پورے دن کا روزہ کیوں رکھا؟

5. مصنف نے گوالیار سے بمبئی تک کن تبدیلیوں کو محسوس کیا؟ متن کی بنیاد پر واضح کیجیے۔

6. ‘ڈیرا ڈالنے’ سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ واضح کیجیے۔

7. شیخ ایاز کے والد اپنی بازو پر کالا چیونٹا رینگتا دیکھ کھانا چھوڑ کر کیوں اٹھ کھڑے ہوئے؟

(خ) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب (50-60 الفاظ میں ) لکھیے-

1. بڑھتی ہوئی آبادی کا ماحول پر کیا اثر پڑا؟

2. مصنف کی بیوی کو کھڑکی میں جالی کیوں لگوانی پڑی؟

3. سمندر کے غصے کی کیا وجہ تھی؟ اس نے اپنا غصہ کیسے نکالا؟

4. ‘مٹی سے مٹی ملے،

کھو کے سب نشان،

کس میں کتنا کون ہے،

کیسے ہو پہچان’

ان سطروں کے ذریعے مصنف کیا کہنا چاہتا ہے؟ واضح کیجیے۔

(گ) مندرجہ ذیل کے مطلب واضح کیجیے-

1. فطرت کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ فطرت کے غصے کا ایک نمونہ کچھ سال پہلے بمبئی میں دیکھنے کو ملا تھا۔

2. جو جتنا بڑا ہوتا ہے اسے اتنا ہی کم غصہ آتا ہے۔

3. اس بستی نے نہ جانے کتنے پرندوں چرندوں سے ان کا گھر چھین لیا ہے۔ ان میں سے کچھ شہر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ جو نہیں جا سکے ہیں انہوں نے یہاں وہاں ڈیرا ڈال لیا ہے۔

4. شیخ ایاز کے والد بولے، ‘نہیں، یہ بات نہیں ہے۔ میں نے ایک گھر والے کو بے گھر کر دیا ہے۔ اس بے گھر کو کنویں پر اس کے گھر چھوڑنے جا رہا ہوں۔’ ان سطروں میں چھپی ہوئی ان کی احساس کو واضح کیجیے۔

زبان کا مطالعہ

1. مثال کے مطابق مندرجہ ذیل جملوں میں کارک علامتوں کو پہچان کر زیرخط کیجیے اور ان کے نام خالی جگہوں میں لکھیے؛ جیسے-

(ک) ماں نے کھانا پیش کیا۔ $\quad \quad \quad \quad \quad \quad \quad \quad \quad \quad \quad \quad \quad \quad $ فاعل

(خ) میں کسی کے لیے مصیبت نہیں ہوں۔ $\quad \quad \quad \quad \quad \quad \quad \quad \quad $ _____________

(گ) میں نے ایک گھر والے کو بے گھر کر دیا۔ $\quad \quad \quad \quad \quad \quad \quad \quad $ _____________

(گھ) کبوتر پریشانی میں ادھر ادھر پھڑپھڑا رہے تھے۔ $\quad \quad \quad \quad \quad $ _____________

(ڈ) دریا پر جاؤ تو اسے سلام کیا کرو۔ $\quad \quad \quad \quad \quad \quad $ _____________

2. نیچے دیے گئے الفاظ کے جمع کے رپ لکھیے-

چیونٹی، گھوڑا، آواز، بل، فوج، روٹی، نقطہ، دیوار، ٹکڑا۔

3. دھیان دیجیے نقطہ لگانے سے لفظ کے معنی میں تبدیلی ہو جاتی ہے۔ متن میں ‘دفعہ’ لفظ کا استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے-بار (گنتی سے متعلق)، قانون سے متعلق۔ اگر اس لفظ میں نقطہ لگا دیا جائے تو لفظ بنے گا ‘دفعہ’ جس کا مطلب ہوتا ہے-دور کرنا، ہٹانا۔ یہاں نیچے کچھ نقطہ والے اور بغیر نقطہ کے الفاظ دیے جا رہے ہیں انہیں دھیان سے دیکھیے اور معنوی فرق کو سمجھیے۔$ \qquad $

سزا $-$ سزا $\quad \quad \quad $ ناز $-$ ناز

ذرا $-$ ذرا $\quad \quad \quad $ تیز $-$ تیز

مندرجہ ذیل جملوں میں مناسب لفظ بھر کر جملے پورے کیجیے-

(ک) آجکل …………… بہت خراب ہے۔ (زمانہ/زمانہ)

(خ) پورے کمرے کو …………… دو۔ (سجا/سزا)

(گ) …………… چینی تو دینا۔ (ذرا/ذرا)

(گھ) ماں دہی …………… بھول گئی۔ (جاننا/جاننا)

(ڈ) مجرم کو …………… دی گئی۔ (سجا/سزا)

(چ) مہاتما کے چہرے پر …………… تھا۔ (تیج/تیز)

قابلیت کی توسیع

1. جانور پرندے اور جنگلات کے تحفظ مراکز میں جا کر جانور پرندوں کی خدمت و دیکھ بھال کے متعلق معلومات حاصل کیجیے۔

منصوبہ کا کام

1. اپنے آس پاس ہر سال ایک پودا لگائیے اور اس کی مناسب دیکھ بھال کر ماحول میں آئے عدم توازن کو روکنے میں اپنا حصہ ڈالیے۔

2. کسی ایسے واقعہ کا بیان کیجیے جب اپنے تفریح کے لیے انسان کے ذریعے جانور پرندوں کا استعمال کیا گیا ہو۔

الفاظ کے معنی اور تشریحات

حاکم - بادشاہ / مالک
لشکر (لشکر) - فوج / وسیع انبوہ
لقب - عہدہ سنجانے والا نام
علامتی - علامت کے طور پر
دالان - برآمدہ
سمٹنا - سکڑنا
زلزلے - زلزلے
سیلاب - سیلاب
سیاح - ایسے سیاح جو سیر کر نئے نئے مقامات کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں
عزیز - پیارا / محبوب
مزار - درگاہ / قبر
گنبد - مندر، مسجد اور گردوارے وغیرہ کے اوپر بنی گول چھت جس میں آواز گونجتی ہے
اذان - نماز کے وقت کی اطلاع جو مسجد کی چھت یا دوسری اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر دی جاتی ہے
ڈیرا - عارضی پڑاؤ