باب 10 تتنارا-وامیرو کہانی
لیلادھر منڈلوی
سن 1954
1954 کو جنم اشٹمی کے دن چھندواڑہ ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں گڈھی میں پیدا ہونے والے لیلادھر منڈلوی کی تعلیم و تربیت بھوپال اور رائے پور میں ہوئی۔ نشریات کی اعلیٰ تعلیم کے لیے 1987 میں کامن ویلتھ ریلیشنز ٹرسٹ، لندن کی طرف سے مدعو کیے گئے۔ ان دنوں پرچار بھارتی دوردرشن کے مہانیدیشک کا کاروبار سنبھال رہے ہیں۔
لیلادھر منڈلوی بنیادی طور پر شاعر ہیں۔ ان کی نظموں میں چھتیس گڑھ علاقے کی بولی کی مٹھاس اور وہاں کے عوامی زندگی کی جاندار تصویر کشی ہے۔ انڈمان نکوبار جزائر پر لکھی ہوئی ان کی نثر اپنے آپ میں ایک سماجیاتی مطالعہ بھی ہے۔ ان کا شاعر دل ہی وہ سرچشمہ ہے جو انہیں لوک کہانی، لوک گیت، سفرنامہ، ڈائری، میڈیا، رپورٹاژ اور تنقیدی تحریر کی طرف مائل کرتا ہے۔
اپنے تخلیقی کام کے لیے کئی انعامات سے نوازے گئے منڈلوی کی اہم تصانیف ہیں- گھر گھر گھوما، رات برات، مگر ایک آواز، دیکھا اندیکھا اور کالا پانی۔
سبق کا تعارف
جو تہذیب جتنی پرانی ہے، اس کے بارے میں اتنے ہی زیادہ قصے کہانیاں بھی سننے کو ملتے ہیں۔ قصے ضروری نہیں کہ واقعی اسی شکل میں رونما ہوئے ہوں جس شکل میں ہمیں سننے یا پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ ان قصوں میں کوئی نہ کوئی پیغام یا سبق پوشیدہ ہوتا ہے۔ انڈمان نکوبار جزائر میں بھی طرح طرح کے قصے مشہور ہیں۔ ان میں سے کچھ کو لیلادھر منڈلوی نے دوبارہ لکھا ہے۔
پیش کردہ سبق تتنارا-وامیرو کہانی اسی جزائر کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر مرکوز ہے۔ مذکورہ جزیرے میں عداوت گہری جڑیں پکڑ چکی تھی۔ اس عداوت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ایک جوڑے کو آتم بلیدان دینا پڑا تھا۔ اسی جوڑے کے قربانی کی کہانی یہاں بیان کی گئی ہے۔
محبت سب کو جوڑتی ہے اور نفرت دوری بڑھاتی ہے، اس سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے۔ اسی لیے جو معاشرے کے لیے اپنی محبت کا، اپنی زندگی تک کا قربانی دیتا ہے، معاشرہ اسے نہ صرف یاد رکھتا ہے بلکہ اس کے قربانی کو بے کار نہیں جانے دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کے معاشرے کے سامنے ایک مثال قائم کرنے والے اس جوڑے کو آج بھی اس جزیرے کے رہنے والے فخر اور عقیدت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
تتنارا-وامیرو کہانی
انڈمان جزائر کا آخری جنوبی جزیرہ ہے لٹل انڈمان۔ یہ پورٹ بلیئر سے تقریباً سو کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس کے بعد نکوبار جزائر کی سلسلہ شروع ہوتی ہے جو نکوباری قبائل کی قدیم ثقافت کے مرکز ہیں۔ نکوبار جزائر کا پہلا اہم جزیرہ ہے کار-نکوبار جو لٹل انڈمان سے 96 کلومیٹر دور ہے۔ نکوباریوں کا یقین ہے کہ قدیم زمانے میں یہ دونوں جزیرے ایک ہی تھے۔ ان کے جدا ہونے کی ایک لوک کہانی ہے جو آج بھی دہرائی جاتی ہے۔
صدیوں پہلے، جب لٹل انڈمان اور کار-نکوبار آپس میں جڑے ہوئے تھے تب وہاں ایک خوبصورت سا گاؤں تھا۔ پاس میں ایک خوبصورت اور طاقتور نوجوان رہا کرتا تھا۔ اس کا نام تھا تتنارا۔ نکوباری اسے بہت محبت کرتے تھے۔ تتنارا ایک نیک اور مددگار شخص تھا۔ ہمیشہ دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہتا۔ اپنے گاؤں والوں کو ہی نہیں، بلکہ پورے جزیرے والوں کی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ اس کے اس قربانی کی وجہ سے وہ مشہور تھا۔ سب اس کا احترام کرتے۔ وقت مصیبت میں اسے یاد کرتے اور وہ بھاگا بھاگا وہاں پہنچ جاتا۔ دوسرے گاؤں میں بھی تہواروں کے وقت اسے خاص طور پر مدعو کیا جاتا۔ اس کی شخصیت تو پرکشش تھی ہی، ساتھ ہی دوستانہ مزاج کی وجہ سے لوگ اس کے قریب رہنا چاہتے۔ روایتی لباس کے ساتھ وہ اپنی کمر میں ہمیشہ ایک لکڑی کی تلوار باندھے رہتا۔ لوگوں کا خیال تھا، باوجود لکڑی کی ہونے پر، اس تلوار میں حیرت انگیز الہامی طاقت تھی۔ تتنارا اپنی تلوار کو کبھی الگ نہ ہونے دیتا۔ اس کا دوسروں کے سامنے استعمال بھی نہ کرتا۔ لیکن اس کے مشہور بہادر کارناموں کی وجہ سے لوگ تلوار میں حیرت انگیز طاقت کا ہونا مانتے تھے۔ تتنارا کی تلوار ایک انوکھا راز تھا۔
ایک شام تتنارا سارے دن کے تھکے ہارے محنت کے بعد سمندر کنارے ٹہلنے نکل پڑا۔ سورج سمندر سے لگے افق تلے ڈوبنے کو تھا۔ سمندر سے ٹھنڈی ہوائیں آ رہی تھیں۔ پرندوں کی شام کی چہچہاہٹیں آہستہ آہستہ کم ہونے کو تھیں۔ اس کا دل پرسکون تھا۔ سوچ میں ڈوبا تتنارا سمندری ریت پر بیٹھ کر سورج کی آخری رنگ برنگی کرنوں کو سمندر پر دیکھنے لگا۔ اتنے میں کہیں پاس سے اسے میٹھا گیت گونجتا سنا۔ گیت گویا بہتا ہوا اس کی طرف آ رہا ہو۔ بیچ بیچ میں لہروں کا سنگیت سنائی دیتا۔ گانا اتنا مؤثر تھا کہ وہ اپنی ہوش کھونے لگا۔ لہروں کے ایک تیز زور نے اس کی توجہ توڑی۔ ہوش میں آتے ہی وہ اس طرف بڑھنے کو مجبور ہو گیا جس طرف سے اب بھی گیت کے سر بہ رہے تھے۔ وہ بے چین سا اس طرف بڑھتا گیا۔ آخرکار اس کی نظر ایک نوجوان لڑکی پر پڑی جو ڈھلتی ہوئی شام کے حسن میں بے خبر، ایک ٹک سمندر کے جسم پر ڈوبتے پرکشش رنگوں کو دیکھتے ہوئے گا رہی تھی۔ یہ ایک شنگارا گیت تھا۔
اسے پتہ ہی نہ چل سکا کہ کوئی اجنبی نوجوان اسے خاموش گھورے جا رہا ہے۔ اچانک ایک اونچی لہر اٹھی اور اسے بھگو دیا۔ وہ گھبراہٹ میں گانا بھول گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ معمول پر آ پاتی، اس نے اپنے کانوں میں گونجتی گمبھیر پرکشش آواز سنی۔
“تم نے اچانک اتنا میٹھا گانا ادھورا کیوں چھوڑ دیا؟” تتنارا نے شائستگی سے کہا۔
اپنے سامنے ایک خوبصورت نوجوان کو دیکھ کر وہ حیران ہوئی۔ اس کے اندر کسی نرم جذبے کا اظہار ہوا۔ لیکن اپنے آپ کو قابو کر کے اس نے بے رخی کے ساتھ جواب دیا۔
“پہلے بتاؤ! تم کون ہو، اس طرح مجھے گھورنے اور اس نامناسب سوال کا سبب؟ اپنے گاؤں کے علاوہ کسی اور گاؤں کے نوجوان کے سوالوں کا جواب دینے کو میں مجبور نہیں۔ یہ تم بھی جانتے ہو۔”
تتنارا گویا ہوش کھوئے ہوئے تھا۔ جواب دینے کی بجائے اس نے پھر اپنا سوال دہرایا۔ “تم نے گانا کیوں روک دیا؟ گاؤ، گیت پورا کرو۔ سچ مچ تم نے بہت سریلا گلا پایا ہے۔”
“یہ تو میرے سوال کا جواب نہ ہوا؟” نوجوان لڑکی نے کہا۔
“سچ بتاؤ تم کون ہو؟ لپاتی گاؤں میں تمہیں کبھی دیکھا نہیں۔”
تتنارا گویا مسحور تھا۔ اس کے کانوں میں نوجوان لڑکی کی آواز ٹھیک سے پہنچ نہ سکی۔ اس نے پھر التجا کی، “تم نے گانا کیوں روک دیا؟ گاؤ نا؟”
نوجوان لڑکی چڑ گئی۔ وہ کچھ اور سوچنے لگی۔ آخرکار اس نے فیصلہ کن طور پر ایک بار پھر تقریباً مخالفت کرتے ہوئے سخت لہجے میں کہا۔
“ڈھٹائی کی حد ہے۔ میں جب سے تعارف پوچھ رہی ہوں اور تم بس ایک ہی راگ الاپ رہے ہو۔ گیت گاؤ-گیت گاؤ، آخر کیوں؟ کیا تمہیں گاؤں کا قانون نہیں معلوم؟” اتنا بول کر وہ جانے کے لیے تیزی سے مڑی۔ تتنارا کو گویا کچھ ہوش آیا۔ اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ اس کے سامنے راستہ روک کر، گویا گڑگڑانے لگا۔
“مجھے معاف کر دو۔ زندگی میں پہلی بار میں اس طرح گھبرایا ہوں۔ تمہیں دیکھ کر میری ہوش اڑ گئی تھی۔ میں تمہارا راستہ چھوڑ دوں گا۔ بس اپنا نام بتا دو۔” تتنارا نے مجبوری میں اصرار کیا۔ اس کی آنکھیں نوجوان لڑکی کے چہرے پر مرکوز تھیں۔ اس کے چہرے پر سچی عاجزی تھی۔
“وا… می… رو…” ایک رس گھولتی آواز اس کے کانوں میں پہنچی۔
“وامیرو… وا… می… رو… واہ کتنا خوبصورت نام ہے۔ کل بھی آؤ گی نا یہاں؟” تتنارا نے التجا بھرے لہجے میں کہا۔
“نہیں… شاید… کبھی نہیں۔” وامیرو نے بے دلی سے کہا اور جھٹکے سے لپاتی کی طرف بے خبر سی دوڑ پڑی۔ پیچھے تتنارا کے جملے گونج رہے تھے۔
“وامیرو… میرا نام تتنارا ہے۔ کل میں اسی چٹان پر انتظار کروں گا… تمہاری راہ دیکھوں گا… ضرور آنا…”
وامیرو رکی نہیں، بھاگتی ہی گئی۔ تتنارا اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
وامیرو گھر پہنچ کر بھی اندر ہی اندر کچھ بے چینی محسوس کرنے لگی۔ اس کے اندر تتنارا سے آزاد ہونے کی ایک جھوٹی بے قراری تھی۔ ایک چڑچڑاہٹ میں اس نے دروازہ بند کیا اور دل کو کسی اور سمت لے جانے کی کوشش کی۔ بار بار تتنارا کی التجا بھرا چہرہ اس کی آنکھوں میں تیرتا۔ اس نے تتنارا کے بارے میں کئی کہانیاں سن رکھی تھیں۔ اس کے تصور میں وہ ایک حیرت انگیز بہادر نوجوان تھا۔ لیکن وہی تتنارا اس کے سامنے ایک الگ شکل میں آیا۔ خوبصورت، طاقتور لیکن بہت پرسکون، شائستہ اور بھولا۔ اس کی شخصیت شاید ویسی ہی تھی جیسی وہ اپنے زندگی ساتھی کے بارے میں سوچتی رہی تھی۔ لیکن ایک دوسرے گاؤں کے نوجوان کے ساتھ یہ تعلق روایت کے خلاف تھا۔ اس لیے اس نے اسے بھول جانا ہی بہتر سمجھا۔ لیکن یہ ناممکن لگا۔ تتنارا بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ بغیر پلک جھپکائے سائل کی طرح انتظار میں ڈوبا ہوا۔
کسی طرح رات گزری۔ دونوں کے دل دکھی تھے۔ کسی طرح بے لطف ایک ٹھنڈا اور اکتا دینے والا دن گزرنے لگا۔ شام کا انتظار تھا۔ تتنارا کے لیے گویا پوری زندگی کا اکیلا انتظار تھا۔ اس کے گمبھیر اور پرسکون زندگی میں ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ وہ حیران تھا، ساتھ ہی پرجوش بھی۔ دن ڈھلنے سے کافی پہلے وہ لپاتی کی اس سمندری چٹان پر پہنچ گیا۔ وامیرو کے انتظار میں ایک ایک پل پہاڑ کی طرح بھاری تھا۔ اس کے اندر ایک خوف بھی دوڑ رہا تھا۔ اگر وامیرو نہ آئی تو؟ وہ کچھ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا۔ صرف منتظر تھا۔ بس امید کی ایک کرن تھی جو سمندر کے جسم پر ڈوبتی کرنوں کی طرح کبھی بھی ڈوب سکتی تھی۔ وہ بار بار لپاتی کے راستے پر نظریں دوڑاتا۔ اچانک ناریل کے جھنڈوں میں اسے ایک شکل کچھ صاف ہوئی… کچھ اور… کچھ اور۔ اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ سچ مچ وہ وامیرو تھی۔ لگا جیسے وہ گھبراہٹ میں تھی۔ وہ اپنے آپ کو چھپاتے ہوئے بڑھ رہی تھی۔ بیچ بیچ میں ادھر ادھر نظر دوڑانا نہ بھولتی۔ پھر تیز قدموں سے چلتی ہوئی تتنارا کے سامنے آ کر رک گئی۔ دونوں بے کلام تھے۔ کچھ تھا جو دونوں کے اندر بہ رہا تھا۔ ایک ٹک دیکھتے ہوئے وے کب تک کھڑے رہے۔ سورج سمندر کی لہروں میں کہیں کھو گیا تھا۔ اندھیرا بڑھ رہا تھا۔ اچانک وامیرو کچھ ہوش میں آئی اور گھر کی طرف دوڑ پڑی۔ تتنارا اب بھی وہیں کھڑا تھا… ساکت… بے کلام…۔
دونوں روز اسی جگہ پہنچتے اور مورتی کی طرح ایک دوسرے کو بغیر پلک جھپکائے دیکھتے رہتے۔ بس اندر سرشار تھا جو مسلسل گہرا ہو رہا تھا۔ لپاتی کے کچھ نوجوانوں نے اس خاموش محبت کو بھانپ لیا اور خبر ہوا کی طرح اڑ گئی۔ وامیرو لپاتی گاؤں کی تھی اور تتنارا پاسا کا۔ دونوں کا تعلق ممکن نہ تھا۔ روایت کے مطابق دونوں کا ایک ہی گاؤں کا ہونا ضروری تھا۔ وامیرو اور تتنارا کو سمجھانے بجھانے کی کئی کوششیں ہوئیں لیکن دونوں اٹل رہے۔ وے قانون کے مطابق لپاتی کے اسی سمندری کنارے پر ملتے رہے۔ افواہیں پھیلتی رہیں۔
کچھ وقت بعد پاسا گاؤں میں ‘پشو-پرو’ کا انعقاد ہوا۔ پشو-پرو میں صحت مند جانوروں کے نمائش کے علاوہ جانوروں سے نوجوانوں کی طاقت آزمائی مقابلہ بھی ہوتا ہے۔ سال میں ایک بار سب گاؤں کے لوگ حصہ لیتے ہیں۔ بعد میں رقص سنگیت اور کھانے کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ شام سے سب لوگ پاسا میں جمع ہونے لگے۔ آہستہ آہستہ مختلف پروگرام شروع ہوئے۔ تتنارا کا دل ان پروگراموں میں ذرا نہ تھا۔ اس کی بے چین آنکھیں وامیرو کو ڈھونڈنے میں مصروف تھیں۔ ناریل کے جھنڈ کے ایک درخت کے پیچھے سے اسے جیسے کوئی جھانکتا دکھائی دیا۔ اس نے تھوڑا اور قریب جا کر پہچاننے کی کوشش کی۔ وہ وامیرو تھی جو خوف کی وجہ سے سامنے آنے میں ہچکچا رہی تھی۔ اس کی آنکھیں نم تھیں۔ ہونٹ کانپ رہے تھے۔ تتنارا کو دیکھتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ تتنارا پریشان ہوا۔ اس سے کچھ بولتے ہی نہیں بن رہا تھا۔ رونے کی آواز مسلسل اونچی ہوتی جا رہی تھی۔ تتنارا حیران و پریشان تھا۔ وامیرو کے رونے کی آوازوں کو سن کر اس کی ماں وہاں پہنچی اور دونوں کو دیکھ کر آگ بن گئی۔ سارے گاؤں والوں کی موجودگی میں یہ منظر اسے ذلت آمیز لگا۔ اس دوران گاؤں کے کچھ لوگ بھی وہاں پہنچ گئے۔ وامیرو کی ماں غصے میں ابل پڑی۔ اس نے تتنارا کو طرح طرح سے ذلیل کیا۔ گاؤں کے لوگ بھی تتنارا کے خلاف آوازیں اٹھانے لگے۔ یہ تتنارا کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ وامیرو اب بھی روئے جا رہی تھی۔ تتنارا بھی غصے سے بھر گیا۔ اسے جہاں شادی کی ممنوعہ روایت پر غم تھا وہیں اپنی بے بسی پر چڑچڑاہٹ۔ وامیرو کا دکھ اسے اور گہرا کر رہا تھا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ کیا قدم اٹھانا چاہیے؟ بے ساختہ اس کا ہاتھ تلوار کی موٹھ پر جا ٹھہرا۔ غصے میں اس نے تلوار نکالی اور کچھ سوچتا رہا۔ غصہ مسلسل آگ کی طرح بڑھ رہا تھا۔ لوگ ڈر گئے۔ ایک سناٹا سا چھا گیا۔ جب کوئی راہ نہ سوجھی تو غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اس میں طاقت بھر کر اسے زمین میں گھونپ دیا اور طاقت سے اسے کھینچنے لگا۔ وہ پسینے سے شرابور ہو گیا۔ سب گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ تلوار کو اپنی طرف کھینچتے کھینچتے دور تک پہنچ گیا۔ وہ ہانپ رہا تھا۔ اچانک جہاں تک لکیر کھنچ گئی تھی، وہاں ایک دراڑ ہونے لگی۔ گویا زمین دو ٹکڑوں میں بٹنے لگی ہو۔ ایک گڑگڑاہٹ سی گونجنے لگی اور لکیر کی سیدھ میں زمین پھٹتی ہی جا رہی تھی۔ جزیرے کے آخری سرے تک تتنارا زمین کو گویا غصے میں کاٹتا جا رہا تھا۔ سب خوفزدہ ہو گئے۔ لوگوں نے ایسے منظر کا تصور نہ کیا تھا، وے کانپ اٹھے۔ ادھر وامیرو پھٹتی ہوئی زمین کے کنارے چیختی ہوئی دوڑ رہی تھی- تتنارا… تتنارا… تتنارا اس کی دردناک چیخ گویا گڑگڑاہٹ میں ڈوب گئی۔ تتنارا بدقسمتی سے دوسری طرف تھا۔ جزیرے کے آخری سرے تک زمین کو چیرتا وہ جیسے ہی آخری سرے پر پہنچا، جزیرہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکا تھا۔ ایک طرف تتنارا تھا دوسری طرف وامیرو۔ تتنارا کو جیسے ہی ہوش آیا، اس نے دیکھا اس کی طرف کا جزیرہ سمندر میں ڈوبنے لگا ہے۔ وہ تڑپنے لگا اس نے چھلانگ لگا کر دوسرا سرا تھامنا چاہا لیکن گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ وہ نیچے کی طرف پھسلنے لگا۔ وہ مسلسل سمندر کی سطح کی طرف پھسل رہا تھا۔ اس کے منہ سے صرف ایک ہی چیخ ابھر کر ڈوب رہی تھی، “وامیرو… وامیرو… وامیرو… وامیرو…” ادھر وامیرو بھی “تتنارا… تتنارا… تتنارا” پکار رہی تھی۔
تتنارا لہو لہان ہو چکا تھا… وہ بے ہوش ہونے لگا اور کچھ دیر بعد اسے کوئی ہوش نہ رہا۔ وہ کٹے ہوئے جزیرے کے آخری زمین کے ٹکڑے پر پڑا ہوا تھا جو کہ دوسرے حصے سے اتفاق سے جڑا تھا۔ بہتا ہوا تتنارا کہاں پہنچا، بعد میں اس کا کیا ہوا کوئی نہیں جانتا۔ ادھر وامیرو پاگل ہو گئی۔ وہ ہر وقت تتنارا کو ڈھونڈتی ہوئی اسی جگہ پہنچتی اور گھنٹوں بیٹھی رہتی۔ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ خاندان سے وہ ایک طرح الگ ہو گئی۔ لوگوں نے اسے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔
آج نہ تتنارا ہے نہ وامیرو لیکن ان کی یہ محبت کی کہانی گھر گھر میں سنائی جاتی ہے۔ نکوباریوں کا خیال ہے کہ تتنارا کی تلوار سے کار-نکوبار کے جو ٹکڑے ہوئے، اس میں دوسرا لٹل انڈمان ہے جو کار-نکوبار سے آج 96 کلومیٹر دور واقع ہے۔ نکوباری اس واقعے کے بعد دوسرے گاؤں میں بھی آپسی شادی کے تعلق کرنے لگے۔ تتنارا-وامیرو کی قربانی والی موت شاید اسی خوشگوار تبدیلی کے لیے تھی۔
سوالات و مشق
زبانی
مندرجہ ذیل سوالات کے جواب ایک دو سطروں میں دیجیے-
1. تتنارا-وامیرو کہاں کی کہانی ہے؟
2. وامیرو اپنا گانا کیوں بھول گئی؟
3. تتنارا نے وامیرو سے کیا التجا کی؟
4. تتنارا اور وامیرو کے گاؤں کی کیا روایت تھی؟
5. غصے میں تتنارا نے کیا کیا؟
تحریری
(ک) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب ( 25-30 الفاظ میں ) لکھیے-
1. تتنارا کی تلوار کے بارے میں لوگوں کا کیا خیال تھا؟
2. وامیرو نے تتنارا کو بے رخی سے کیا جواب دیا۔$ \qquad $
3. تتنارا-وامیرو کی قربانی والی موت سے نکوبار میں کیا تبدیلی آئی؟
4. نکوبار کے لوگ تتنارا کو کیوں پسند کرتے تھے؟
(خ) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب ( 50-60 الفاظ میں ) لکھیے-
1. نکوبار جزائر کے جدا ہونے کے بارے میں نکوباریوں کا کیا یقین ہے؟
2. تتنارا خوب محنت کرنے کے بعد کہاں گیا؟ وہاں کے قدرتی حسن کا بیان اپنے الفاظ میں کیجیے۔
3. وامیرو سے ملنے کے بعد تتنارا کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟
4. قدیم زمانے میں تفریح اور طاقت نمائی کے لیے کس قسم کے پروگرام کیے جاتے تھے؟
5. روایات جب بندھن بن کر بوجھ بننے لگیں تو ان کا ٹوٹ جانا ہی اچھا ہے۔ کیوں؟ واضح کیجیے۔
(گ) مندرجہ ذیل کے مطلب واضح کیجیے-
1. جب کوئی راہ نہ سوجھی تو غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اس میں طاقت بھر کر اسے زمین میں گھونپ دیا اور طاقت سے اسے کھینچنے لگا۔
2. بس امید کی ایک کرن تھی جو سمندر کے جسم پر ڈوبتی کرنوں کی طرح کبھی بھی ڈوب سکتی تھی۔
زبان کا مطالعہ
1. مندرجہ ذیل جملوں کے سامنے دیے گئے قوسین میں $(\checkmark)$ کا نشان لگا کر بتائیں کہ وہ جملہ کس قسم کا ہے-
(ک) نکوباری اسے بہت محبت کرتے تھے۔ (سوالیہ، خبریہ، نفی، تعجبی)
(خ) تم نے اچانک اتنا میٹھا گانا ادھورا کیوں چھوڑ دیا؟ (سوالیہ، خبریہ، نفی، تعجبی)
(گ) وامیرو کی ماں غصے میں ابل پڑی۔ (سوالیہ، خبریہ، نفی، تعجبی)
(گھ) کیا تمہیں گاؤں کا قانون نہیں معلوم؟ (سوالیہ، خبریہ، نفی، تعجبی)
(ڈ) واہ! کتنا خوبصورت نام ہے۔ (سوالیہ، خبریہ، نفی، تعجبی)
(چ) میں تمہارا راستہ چھوڑ دوں گا۔ (سوالیہ، خبریہ، نفی، تعجبی)
2. مندرجہ ذیل محاوروں کا اپنے جملوں میں استعمال کیجیے-
(ک) ہوش کھو دینا
(خ) راہ دیکھنا
(گ) خوشی کا ٹھکانہ نہ رہنا
(گھ) آگ بن جانا
(ڈ) آواز اٹھانا
3. نیچے دیے گئے الفاظ میں سے بنیادی لفظ اور لاحقہ الگ کر کے لکھیے-
لفظ $\quad \quad \quad \quad $ بنیادی $\quad \quad \quad \quad $ لفظ لاحقہ
چرچت $\quad \quad \quad $ _________ $\quad \quad \quad $ _________
ساہسک $\quad \quad $ _________ $\quad \quad \quad $ _________
چھٹپٹاہٹ $\quad \quad $ _________ $\quad \quad \quad $ _________
شبدہین $\quad \quad \quad $ _________ $\quad \quad \quad $ _________
4. نیچے دیے گئے الفاظ میں مناسب سابقہ لگا کر لفظ بنائیے-
____________ $+$ آکرشک $=$ ______________
____________ $+$ گیات $=$ ______________
____________ $+$ کومل $=$ ______________
____________ $+$ ہوش $=$ ______________
____________ $+$ گھٹنا $=$ ______________
5. مندرجہ ذیل جملوں کو ہدایت کے مطابق تبدیل کیجیے-
(ک) زندگی میں پہلی بار میں اس طرح گھبرایا ہوں۔ (مرکب جملہ)
(خ) پھر تیز قدموں سے چلتی ہوئی تتنارا کے سامنے آ کر رک گئی۔ (جملہ معطوف)
(گ) وامیرو کچھ ہوش میں آئی اور گھر کی طرف دوڑی۔ (سادہ جملہ)
(گھ) تتنارا کو دیکھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ (جملہ معطوف)
(ڈ) روایت کے مطابق دونوں کا ایک ہی گاؤں کا ہونا ضروری تھا۔ (مرکب جملہ)
6. نیچے دیے گئے جملے پڑھیے اور ‘اور’ لفظ کے مختلف استعمالات پر غور کیجیے-
(ک) پاس میں خوبصورت اور طاقتور نوجوان رہا کرتا تھا۔ (دو لفظوں کو جوڑنا)
(خ) وہ کچھ اور سوچنے لگی۔ (‘دوسرا’ کے معنی میں)
(گ) ایک شکل کچھ صاف ہوئی… کچھ اور … کچھ اور </ins