باب 08 بڑے بھائی صاحب
پرم چند
سن 1880-1936
31 جولائی 1880 کو بنارس کے قریب لمہی گاؤں میں پیدا ہونے والے دھنپت رائے نے اردو میں نواب رائے اور ہندی میں پرم چند نام سے لکھنے کا کام کیا۔ ذاتی معاملات اور خط کتابت دھنپت رائے نام سے ہی کرتے رہے۔ اردو میں شائع ہونے والا پہلا افسانوی مجموعہ ‘سوز وطن’ انگریز سرکار نے ضبط کر لیا۔ روزگار کے لیے اسکول ماسٹری، انسپکٹری، مینجری کرنے کے علاوہ انہوں نے ‘ہنس’، ‘مادھوری’ جیسی اہم رسالوں کی ادارت بھی کی۔ کچھ عرصہ بمبئی (ممبئی) کی فلم نگری میں بھی گزارا لیکن وہ انہیں راس نہ آئی۔ اگرچہ ان کی کئی تخلیقات پر یادگار فلمیں بنیں۔
عام آدمی کے دکھ درد کے بے مثال مصور پرم چند کو ان کی زندگی ہی میں کتھا سم راج، ناول سم راج کہا جانے لگا تھا۔ انہوں نے ہندی افسانہ نگاری کی روایت پوری طرح بدل ڈالی تھی۔ اپنی تخلیقات میں انہوں نے ان لوگوں کو اہم کردار بنا کر ادب میں جگہ دی جنہیں زندگی اور جہان میں صرف پریشانی اور طعن ہی ملے تھے۔
8 اکتوبر 1936 میں ان کا انتقال ہوا۔ پرم چند نے جتنی بھی کہانیاں لکھیں وہ سب منسروور کے عنوان سے آٹھ جلدوں میں جمع ہیں۔ ان کے اہم ناول ہیں: گودان، گبن، پرم آشرم، سیوا سدن، نرملا، کرما بھومی، رنگ بھومی، کایا کلپ، پرتیگیا اور منگل ستر (نامکمل)۔
متن کا تعارف
ابھی تم چھوٹے ہو اس لیے اس کام میں ہاتھ مت ڈالو۔ یہ سنتے ہی کئی بار بچوں کے دل میں آتا ہے کاش، ہم بڑے ہوتے تو کوئی ہمیں یوں ن ٹوکتا۔ لیکن اس دھوکے میں ن رہیے گا، کیونکہ بڑے ہونے سے کچھ بھی کرنے کا اختیار نہیں مل جاتا۔ گھر کے بڑے کو کئی بار تو ان کاموں میں شامل ہونے سے بھی اپنے آپ کو روکنا پڑتا ہے جو اسی عمر کے اور لڑکے بے خوف ہو کر کرتے رہتے ہیں۔ جانتے ہو کیوں، کیونکہ وہ لڑکے اپنے گھر میں کسی سے بڑے نہیں ہوتے۔
پیش کردہ متن میں بھی ایک بڑے بھائی صاحب ہیں، جو ہیں تو چھوٹے ہی، لیکن گھر میں ان سے چھوٹا ایک بھائی اور ہے۔ اس سے عمر میں صرف کچھ سال بڑا ہونے کی وجہ سے ان سے بڑی بڑی توقعات کی جاتی ہیں۔ بڑا ہونے کے ناطے وہ خود بھی یہی چاہتے اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کریں وہ چھوٹے بھائی کے لیے ایک مثال کا کام کرے۔ اس آدرش حالت کو برقرار رکھنے کے چکر میں بڑے بھائی صاحب کا بچپنا غائب ہو جاتا ہے۔
بڑے بھائی صاحب
میرے بھائی صاحب مجھ سے پانچ سال بڑے، لیکن صرف تین درجے آگے۔ انہوں نے بھی اسی عمر میں پڑھنا شروع کیا تھا، جب میں نے شروع کیا لیکن تعلیم جیسے اہم معاملے میں وہ جلدی سے کام لینا پسند نہ کرتے تھے۔ اس عمارت کی بنیاد خوب مضبوط ڈالنا چاہتے تھے، جس پر عالی شان محل بن سکے۔ ایک سال کا کام دو سال میں کرتے تھے۔ کبھی کبھی تین سال بھی لگ جاتے تھے۔ بنیاد ہی پختہ نہ ہو، تو مکان کیسے پائیدار بنے۔
میں چھوٹا تھا، وہ بڑے تھے۔ میری عمر نو سال کی تھی، وہ چودہ سال کے تھے۔ انہیں میری تنبیہ اور نگرانی کا پورا اور پیدائشی حق تھا اور میری شائستگی اسی میں تھی کہ ان کے حکم کو قانون سمجھوں۔
وہ فطرت سے بڑے مطالعہ پسند تھے۔ ہر وقت کتاب کھولے بیٹھے رہتے اور شاید دماغ کو آرام دینے کے لیے کبھی کاپی پر، کتاب کے حاشیوں پر چڑیوں، کتوں، بلیوں کی تصویریں بنایا کرتے تھے۔ کبھی کبھی ایک ہی نام یا لفظ یا جملہ دس بیس بار لکھ ڈالتے۔ کبھی ایک شعر کو بار بار خوبصورت حروف میں نقل کرتے۔ کبھی ایسی لفظ سازی کرتے، جس میں نہ کوئی معنی ہوتا، نہ کوئی مطابقت۔ مثلاً ایک بار ان کی کاپی پر میں نے یہ عبارت دیکھی: سپیشل، امینہ، بھائیوں-بھائیوں، دراصل، بھائی-بھائی۔ رادھے شیم، شریوت رادھے شیم، ایک گھنٹے تک-اس کے بعد ایک آدمی کا چہرہ بنا ہوا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ اس پہیلی کا کوئی مطلب نکالوں، لیکن ناکام رہا۔ اور ان سے پوچھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ وہ نویں جماعت میں تھے، میں پانچویں میں۔ ان کی تخلیقات کو سمجھنا میرے لیے چھوٹا منہ بڑی بات تھی۔
میرا جی پڑھنے میں بالکل نہ لگتا تھا۔ ایک گھنٹہ بھی کتاب لے کر بیٹھنا پہاڑ تھا۔ موقع پاتے ہی ہوسٹل سے نکل کر میدان میں آ جاتا اور کبھی کنکریاں اچھالتا، کبھی کاغذ کی تتلیاں اڑاتا اور کہیں کوئی ساتھی مل گیا، تو پوچھنا ہی کیا۔ کبھی چاردیواری پر چڑھ کر نیچے کود رہے ہیں۔ کبھی پھاٹک پر سوار، اسے آگے پیچھے چلاتے ہوئے موٹر کار کا لطف اٹھا رہے ہیں، لیکن کمرے میں آتے ہی بھائی صاحب کا وہ ردر روپ دیکھ کر جان سوکھ جاتی۔ ان کا پہلا سوال یہ ہوتا: ‘کہاں تھے’؟ ہمیشہ یہی سوال، اسی آواز میں ہمیشہ پوچھا جاتا تھا اور اس کا جواب میرے پاس صرف خاموشی تھا۔ نہ جانے میرے منہ سے یہ بات کیوں نہ نکلتی کہ ذرا باہر کھیل رہا تھا۔ میری خاموشی کہہ دیتی تھی کہ مجھے اپنا قصور تسلیم ہے اور بھائی صاحب کے لیے اس کے سوا اور کوئی علاج نہ تھا کہ محبت اور غصے سے ملے ہوئے الفاظ میں میرا استقبال کریں۔
“اس طرح انگریزی پڑھو گے، تو زندگی بھر پڑھتے رہو گے اور ایک حرف نہ آئے گا۔ انگریزی پڑھنا کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے کہ جو چاہے، پڑھ لے، نہیں تو ایڑا گیرا نتھو کھیرا سب انگریزی کے عالم ہو جاتے۔ یہاں رات دن آنکھیں پھوڑنی پڑتی ہیں اور خون جلانا پڑتا ہے، تب کہیں یہ علم آتی ہے۔ اور آتی کیا ہے، ہاں کہنے کو آ جاتی ہے۔ بڑے بڑے عالم بھی خالص انگریزی نہیں لکھ سکتے، بولنا تو دور رہا۔ اور میں کہتا ہوں، تم کتنے گھونگھے ہو کہ مجھے دیکھ کر بھی سبق نہیں لیتے۔ میں کتنی محنت کرتا ہوں، یہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو، اگر نہیں دیکھتے، تو یہ تمہاری آنکھوں کا قصور ہے، تمہاری عقل کا قصور ہے۔ اتنے میلے تماشے ہوتے ہیں، مجھے تم نے کبھی دیکھنے جاتے دیکھا ہے؟ روز ہی کرکٹ اور ہاکی میچ ہوتے ہیں۔ میں پاس نہیں پھٹکتا۔ ہمیشہ پڑھتا رہتا ہوں۔ اس پر بھی ایک ایک درجے میں دو دو، تین تین سال پڑا رہتا ہوں، پھر بھی تم کیسے امید کرتے ہو کہ تم یوں کھیل کود میں وقت گنوا کر پاس ہو جاؤ گے؟ مجھے تو دو ہی تین سال لگتے ہیں، تم عمر بھر اسی درجے میں پڑے سڑتے رہو گے؟ اگر تمہیں اس طرح عمر گنوانی ہے، تو بہتر ہے، گھر چلے جاؤ اور مزے سے گلی ڈنڈا کھیلو۔ دادا کی گاڑھی کمائی کے روپے کیوں برباد کرتے ہو؟”
میں یہ ڈانٹ سن کر آنسو بہانے لگتا۔ جواب ہی کیا تھا۔ قصور تو میں نے کیا، ڈانٹ کون سہے؟ بھائی صاحب وعظ کی فن میں ماہر تھے۔ ایسی ایسی لگتی باتیں کہتے، ایسے ایسے سکتی بان چلاتے کہ میرے جگر کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے اور ہمت ٹوٹ جاتی۔ اس طرح جان توڑ کر محنت کرنے کی طاقت میں اپنے میں نہ پاتا تھا اور اس مایوسی میں ذرا دیر کے لیے میں سوچنے لگتا: ‘کیوں نہ گھر چلا جاؤں۔ جو کام میرے بس کے باہر ہے، اس میں ہاتھ ڈال کر کیوں اپنی زندگی خراب کروں۔’ مجھے اپنا بیوقوف رہنا منظور تھا، لیکن اتنی محنت سے مجھے تو چکر آ جاتا تھا، لیکن گھنٹے دو گھنٹے کے بعد مایوسی کے بادل پھٹ جاتے اور میں ارادہ کرتا کہ آگے سے خوب جی لگا کر پڑھوں گا۔ فوراً ایک ٹائم ٹیبل بنا ڈالتا۔ بغیر پہلے سے نقشہ بنائے کوئی سکیم تیار کیے کام کیسے شروع کروں۔ ٹائم ٹیبل میں کھیل کود کی مد بالکل اڑ جاتی۔ صبح چھ بجے اٹھنا، منہ ہاتھ دھو، ناشتہ کر، پڑھنے بیٹھ جانا۔ چھ سے آٹھ تک انگریزی، آٹھ سے نو تک حساب، نو سے ساڑھے نو تک تاریخ، پھر کھانا اور اسکول۔ ساڑھے تین بجے اسکول سے واپس ہو کر آدھا گھنٹہ آرام، چار سے پانچ تک جغرافیہ، پانچ سے چھ تک گرامر، آدھا گھنٹہ ہوسٹل کے سامنے ہی ٹہلنا، ساڑھے چھ سے سات تک انگریزی کمپوزیشن، پھر کھانا کر کے آٹھ سے نو تک ترجمہ، نو سے دس تک ہندی، دس سے گیارہ تک مختلف مضامین، پھر آرام۔
مگر ٹائم ٹیبل بنا لینا ایک بات ہے، اس پر عمل کرنا دوسری بات۔ پہلے ہی دن اس کی خلاف ورزی شروع ہو جاتی۔ میدان کی وہ خوشگوار ہریالی، ہوا کے ہلکے ہلکے جھونکے، فٹ بال کی وہ اچھل کود، کبڈی کے وہ داؤں گھات، والی بال کی وہ تیزی اور پھرتی، مجھے نامعلوم اور ناگزیر طور پر کھینچ لے جاتی اور وہاں جاتے ہی میں سب کچھ بھول جاتا۔ وہ جان لیوا ٹائم ٹیبل، وہ آنکھ پھوڑ کتابیں، کسی کی یاد نہ رہتی اور بھائی صاحب کو نصیحت اور فحاشی کا موقع مل جاتا۔ میں ان کے سائے سے بھاگتا، ان کی آنکھوں سے دور رہنے کی کوشش کرتا، کمرے میں اس طرح دبے پاؤں آتا کہ انہیں خبر نہ ہو۔ ان کی نظر میری طرف اٹھی اور میرے جان نکلے۔ ہمیشہ سر پر ایک ننگی تلوار سی لٹکتی معلوم ہوتی۔ پھر بھی جیسے موت اور مصیبت کے درمیان بھی آدمی محبت اور مایا کے بندھن میں جکڑا رہتا ہے، میں ڈانٹ اور گھڑکیاں کھا کر بھی کھیل کود کا تحقیر نہ کر سکتا تھا۔
(2)
سالانہ امتحان ہوا۔ بھائی صاحب فیل ہو گئے، میں پاس ہو گیا اور درجے میں اول آیا۔ میرے اور ان کے درمیان میں صرف دو سال کا فرق رہ گیا۔ جی میں آیا، بھائی صاحب کو آڑے ہاتھوں لوں: ‘آپ کی وہ گھور تپسیا کہاں گئی؟ مجھے دیکھیے، مزے سے کھیلتا بھی رہا اور درجے میں اول بھی ہوں۔’ لیکن وہ اتنا دکھی اور اداس تھے کہ مجھے ان سے دلی ہمدردی ہوئی اور ان کے زخم پر نمک چھڑکنے کا خیال ہی شرمناک جان پڑا۔ ہاں، اب مجھے اپنے اوپر کچھ غرور ہوا اور خود اعتمادی بھی بڑھی۔ بھائی صاحب کا وہ رعب مجھ پر نہ رہا۔ آزادی سے کھیل کود میں شامل ہونے لگا۔ دل مضبوط تھا۔ اگر انہوں نے پھر میری فحاشی کی، تو صاف کہہ دوں گا: ‘آپ نے اپنا خون جلا کر کون سا تیر مار لیا۔ میں تو کھیلتے کودتے درجے میں اول آ گیا۔’ زبان سے یہ اکڑ دکھانے کی ہمت نہ ہونے پر بھی میرے رنگ ڈھنگ سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ بھائی صاحب کا وہ خوف مجھ پر نہیں تھا۔ بھائی صاحب نے اسے بھانپ لیا-ان کی سادہ عقل بڑی تیز تھی اور ایک دن جب میں صبح کا سارا وقت گلی ڈنڈے کی بھینٹ کر کے ٹھیک کھانے کے وقت لوٹا، تو بھائی صاحب نے گویا تلوار کھینچ لی اور مجھ پر ٹوٹ پڑے: دیکھتا ہوں، اس سال پاس ہو گئے اور درجے میں اول آ گئے، تو تمہیں دماغ ہو گیا ہے، مگر بھائی جان، غرور تو بڑے بڑے کا نہیں رہا، تمہاری کیا حیثیت ہے؟ تاریخ میں راون کا حال تو پڑھا ہی ہو گا۔ اس کے کردار سے تم نے کون سا وعظ لیا؟ یا یوں ہی پڑھ گئے؟ محض امتحان پاس کر لینا کوئی چیز نہیں، اصل چیز ہے عقل کا ترقی۔ جو کچھ پڑھو، اس کا مقصد سمجھو۔ راون بھومنڈل کا مالک تھا۔ ایسے راجاؤں کو چکرورتی کہتے ہیں۔ آج کل انگریزوں کے راج کا پھیلاؤ بہت بڑھا ہوا ہے، پر انہیں چکرورتی نہیں کہہ سکتے۔ دنیا میں بہت سی قومیں انگریزوں کی بالادستی تسلیم نہیں کرتیں، بالکل آزاد ہیں۔ راون چکرورتی راجا تھا، دنیا کے سب مہیپ اسے خراج دیتے تھے۔ بڑے بڑے دیوتا اس کی غلامی کرتے تھے۔ آگ اور پانی کے دیوتا بھی اس کے غلام تھے، مگر اس کا انجام کیا ہوا؟ غرور نے اس کا نام نشان تک مٹا دیا، کوئی اسے ایک چلو پانی دینے والا بھی نہ بچا۔ آدمی اور جو برا کام چاہے کرے، پر غرور نہ کرے، اترائے نہیں۔ غرور کیا اور دین دنیا دونوں سے گیا۔ شیطان کا حال بھی پڑھا ہی ہو گا۔ اسے یہ غرور ہوا تھا کہ خدا کا اس سے بڑھ کر سچا بھکت کوئی ہے ہی نہیں۔ آخر میں یہ ہوا کہ جنت سے دوزخ میں دھکیل دیا گیا۔ شاہ روم نے بھی ایک بار انا کی تھی۔ بھیک مانگ مانگ کر مر گیا۔ تم نے تو ابھی صرف ایک درجہ پاس کیا ہے اور ابھی سے تمہارا سر پھر گیا، تب تو تم آگے پڑھ چکے۔ یہ سمجھ لو کہ تم اپنی محنت سے نہیں پاس ہوئے، اندھے کے ہاتھ بٹیر لگ گئی۔ مگر بٹیر صرف ایک بار ہاتھ لگ سکتی ہے، بار بار نہیں لگ سکتی۔ کبھی کبھی گلی ڈنڈے میں بھی اندھا چوٹ نشانہ پڑ جاتا ہے۔ اس سے کوئی کامیاب کھلاڑی نہیں ہو جاتا۔ کامیاب کھلاڑی وہ ہے، جس کا کوئی نشانہ خالی نہ جائے۔
میرے فیل ہونے پر مت جاؤ۔ میرے درجے میں آؤ گے، تو دانتوں پسینہ آ جائے گا، جب الجبرا اور جیومیٹری کے لوہے کے چنے چبانے پڑیں گے اور انگلستان کی تاریخ پڑھنی پڑے گی۔ بادشاہوں کے نام یاد رکھنا آسان نہیں۔ آٹھ آٹھ ہنری ہو گزرے ہیں۔ کون سا واقعہ کس ہنری کے زمانے میں ہوا، کیا یہ یاد کر لینا آسان سمجھتے ہو؟ ہنری ساتویں کی جگہ ہنری آٹھواں لکھا اور سب نمبر غائب۔ صفا چٹ۔ صفر بھی نہ ملے گا، صفر بھی۔ ہو کس خیال میں۔ درجنوں تو جیمز ہوئے ہیں، درجنوں ولیم، کڑیوں چارلس۔ دماغ چکر کھانے لگتا ہے۔ چکر کا مرض ہو جاتا ہے۔ ان بدقسمتوں کو نام بھی نہ جڑتے تھے۔ ایک ہی نام کے پیچھے دوم، سوم، چہارم، پنجم لگاتے چلے گئے۔ مجھ سے پوچھتے، تو دس لاکھ نام بتا دیتا۔
اور جیومیٹری تو بس، خدا ہی پناہ۔ ا ب ج کی جگہ ا ج ب لکھ دیا اور سارے نمبر کٹ گئے۔ کوئی ان بے رحم ممتحنوں سے نہیں پوچھتا کہ آخر ا ب ج اور ا ج ب میں کیا فرق ہے، اور بے کار بات کے لیے کیوں طلبہ کا خون کرتے ہو۔ دال بھات روٹی کھائی یا بھات دال روٹی کھائی، اس میں کیا رکھا ہے، مگر ان پرکھنے والوں کو کیا پروا۔ وہ تو وہی دیکھتے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے۔ چاہتے ہیں کہ لڑکے حرف حرف رٹ ڈالیں۔ اور اسی رٹنٹ کا نام تعلیم رکھ چھوڑا ہے۔ اور آخر ان بے سر پیر باتوں کے پڑھنے سے فائدہ؟
اس لکیر پر وہ لمب گراؤ دو، تو بنیاد لمب سے دوگنا ہو گا۔ پوچھیے، اس سے مقصد؟ دوگنا نہیں، چوگنا ہو جائے، یا آدھا ہی رہے، میری بلا سے، لیکن امتحان میں پاس ہونا ہے، تو یہ سب خرافات یاد کرنی پڑیں گی۔
کہہ دیا: ‘وقت کی پابندی’ پر ایک مضمون لکھو، جو چار صفحات سے کم نہ ہو۔ اب آپ کاپی سامنے کھولی، قلم ہاتھ میں لیے اس کے نام کو رویے۔ کون نہیں جانتا کہ وقت کی پابندی بہت اچھی بات ہے۔ اس سے آدمی کی زندگی میں ضبط آ جاتا ہے، دوسروں کا اس پر محبت ہونے لگتی ہے اور اس کے کاروبار میں ترقی ہوتی ہے، لیکن اس ذرا سی بات پر چار صفحات کیسے لکھیں؟ جو بات ایک جملے میں کہی جا سکے، اسے چار صفحات میں لکھنے کی ضرورت؟ میں تو اسے حماقت کہتا ہوں۔ یہ تو وقت کی بچت نہیں، بلکہ اس کا غلط استعمال ہے کہ بے کار میں کسی بات کو ٹھونس دیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں، آدمی کو جو کچھ کہنا ہو، فوراً کہہ دے اور اپنی راہ لے۔ مگر نہیں، آپ کو چار صفحات رنگنے پڑیں گے، چاہے جیسے لکھیے اور صفحات بھی پورے فل سکیپ سائز کے۔ یہ طلبہ پر ظلم نہیں، تو اور کیا ہے؟ بے فائدہ تو یہ ہے کہ کہا جاتا ہے، مختصر میں لکھو۔ وقت کی پابندی پر مختصر میں ایک مضمون لکھو، جو چار صفحات سے کم نہ ہو۔ ٹھیک۔ مختصر میں تو چار صفحات ہوئے، نہیں شاید سو دو سو صفحات لکھواتے۔ تیز بھی دوڑیے اور آہستہ آہستہ بھی۔ ہے الٹی بات، ہے یا نہیں؟ بچہ بھی اتنی سی بات سمجھ سکتا ہے، لیکن ان استادوں کو اتنی تمیز بھی نہیں۔ اس پر دعویٰ ہے کہ ہم استاد ہیں۔ میرے درجے میں آؤ گے لالا، تو یہ سارے پاپڑ بیلنے پڑیں گے اور تب آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو گا۔ اس درجے میں اول آ گئے ہو، تو زمین پر پاؤں نہیں رکھتے۔ اس لیے میرا کہنا مانیے۔ لاکھ فیل ہو گیا ہوں، لیکن تم سے بڑا ہوں، دنیا کا مجھے تم سے کہیں زیادہ تجربہ ہے۔ جو کچھ کہتا ہوں اسے گرہ باندھیے، نہیں پچھتائیے گا۔
اسکول کا وقت قریب تھا، نہیں خدا جانے یہ وعظ مالا کب ختم ہوتی۔ کھانا آج مجھے بے ذائقہ سا لگ رہا تھا۔ جب پاس ہونے پر یہ تحقیر ہو رہی ہے، تو فیل ہو جانے پر تو شاید جان ہی لے لی جائیں۔ بھائی صاحب نے اپنے درجے کی پڑھائی کا جو خوفناک تصویر کھینچا تھا، اس نے مجھے خوفزدہ کر دیا۔ اسکول چھوڑ کر گھر نہیں بھاگا، یہی تعجب ہے، لیکن اتنی تحقیر پر بھی کتابوں میں میری عدم دلچسپی ویسی کی ویسی بنی رہی۔ کھیل کود کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔ پڑھتا بھی، مگر بہت کم۔ بس، اتنا کہ روز ٹاسک پورا ہو جائے اور درجے میں ذلیل نہ ہونا پڑے۔ اپنے اوپر جو اعتماد پیدا ہوا تھا، وہ پھر غائب ہو گیا اور پھر چوروں سا زندگی کٹنے لگی۔
(3)
پھر سالانہ امتحان ہوا اور کچھ ایسا اتفاق ہوا کہ میں پھر پاس ہوا اور بھائی صاحب پھر فیل ہو گئے۔ میں نے بہت محنت نہیں کی، پر نہ جانے کیسے درجے میں اول آ گیا۔ مجھے خود حیرت ہوئی۔ بھائی صاحب نے جان لیوا محنت کی۔ کورس کا ایک ایک لفظ چاٹ گئے تھے، دس بجے رات تک ادھر، چار بجے صبح سے ادھر، چھ سے ساڑھے نو تک اسکول جانے سے پہلے۔ صورت بے رونق ہو گئی تھی، مگر بیچارے فیل ہو گئے۔ مجھے ان پر رحم آتا تھا۔ نتیجہ سنایا گیا، تو وہ رو پڑے اور میں بھی رونے لگا۔ اپنے پاس ہونے کی خوشی آدھی ہو گئی۔ میں بھی فیل ہو گیا ہوتا، تو بھائی صاحب کو اتنا دکھ نہ ہوتا، لیکن تقدیر کی بات کون ٹالے!
میرے اور بھائی صاحب کے درمیان میں اب صرف ایک درجے کا فرق اور رہ گیا۔ میرے دل میں ایک کٹیل خیال پیدا ہوا کہ کہیں بھائی صاحب ایک سال اور فیل ہو جائیں، تو میں ان کے برابر ہو جاؤں، پھر وہ کس بنیاد پر میری فحاشی کر سکیں گے، لیکن میں نے اس خیال کو دل سے زور سے نکال ڈالا۔ آخر وہ مجھے میرے فائدے کے خیال سے ہی تو ڈانٹتے ہیں۔ مجھے اس وقت ناگوار لگتا ہے ضرور، مگر یہ شاید ان کے وعظوں کا ہی اثر ہے کہ میں تیزی سے پاس ہو جاتا ہوں اور اتنی اچھے نمبروں سے۔
اب بھائی صاحب بہت کچھ نرم پڑ گئے تھے۔ کئی بار مجھے ڈانٹنے کا موقع پا کر بھی انہوں نے صبر سے کام لیا۔ شاید اب وہ خود سمجھنے لگے تھے کہ مجھے ڈانٹنے کا حق انہیں نہیں رہا، یا رہا بھی، تو بہت کم۔ میری آزادی بھی بڑھی۔ میں ان کی برداشت کا ناجائز فائدہ اٹھانے لگا۔ مجھے کچھ ایسا گمان ہوا کہ میں پاس ہی ہو جاؤں گا، پڑھوں یا نہ پڑھوں، میری قسمت طاقتور ہے، اس لیے بھائی صاحب کے ڈر سے جو تھوڑا بہت پڑھ لیا کرتا تھا، وہ بھی بند ہوا۔ مجھے کنکاوے اڑانے کا نیا شوق پیدا ہو گیا تھا اور اب سارا وقت پتنگ بازی ہی کی بھینٹ ہوتا تھا، پھر بھی میں بھائی صاحب کا ادب کرتا تھا اور ان کی نظر بچا کر کنکاوے اڑاتا تھا۔ منجھا دینا، کننے باندھنا، پتنگ ٹورنامنٹ کی تیاریاں وغیرہ مسائل سب خفیہ طور پر حل کی جاتی تھیں۔ میں بھائی صاحب کو یہ شک نہ کرنے دینا چاہتا تھا کہ ان کا احترام اور لحاظ میری نظر میں کم ہو گیا ہے۔
ایک دن شام کے وقت، ہوسٹل سے دور میں ایک کنکاوا لوٹنے بے قابو دوڑا جا رہا تھا۔ آنکھیں آسمان کی طرف تھیں اور دل اس آسمان گامی مسافر کی طرف، جو آہستہ رفتار سے جھومتا گرنے کی طرف چلا آ رہا تھا، گویا کوئی روح جنت سے نکل کر بے رغبت دل سے نئے اثرات قبول کرنے جا رہی ہو۔ بچوں کی پوری فوج لگے اور جھاڑ دار بانس لیے ان کا استقبال کرنے کو دوڑی آ رہی تھی۔ کسی کو اپنے آگے پیچھے کی خبر نہ تھی۔ سب گویا اس پتنگ کے ساتھ ہی آسمان میں اڑ رہے تھے، جہاں سب کچھ ہموار ہے، نہ موٹر کاریں ہیں، نہ ٹرام، نہ گاڑیاں۔
اچانک بھائی صاحب سے میری مڈبھیڑ ہو گئی، جو شاید بازار سے لوٹ رہے تھے۔ انہوں نے وہیں ہاتھ پکڑ لیا اور تند مزاجی سے بولے: ان بازاری لونڈوں کے ساتھ دھیلے کے کنکاوے کے لیے دوڑتے تمہیں شرم نہیں آتی؟ تمہیں اس کا بھی کچھ لحاظ نہیں کہ اب نیچی جماعت میں نہیں ہو، بلکہ آٹھویں جماعت میں آ گئے ہو اور مجھ