باب 07 آتم تران (خود کو بچاؤ)
رابندر ناتھ ٹیگور
سن 1861-1941
6 مئی 1861 کو بنگال کے ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہونے والے رابندر ناتھ ٹیگور نوبل انعام پانے والے پہلے ہندوستانی ہیں۔ ان کی تعلیم و تربیت گھر پر ہی ہوئی۔ چھوٹی عمر میں ہی خود مطالعہ سے بہت سے مضامین کا علم حاصل کر لیا۔ بیرسٹری پڑھنے کے لیے بیرون ملک بھیجے گئے لیکن بغیر امتحان دیے ہی واپس آ گئے۔
رابندر ناتھ کی تخلیقات میں لوک ثقافت کی آواز نمایاں طور پر گونجتی ہے۔ فطرت سے ان کو گہرا لگاؤ تھا۔ انہوں نے تقریباً ایک ہزار نظمیں اور دو ہزار گیت لکھے ہیں۔ مصوری، موسیقی اور اظہاری رقص کے تئیں ان کے خاص شغف کی وجہ سے رابندر سنگیت نام کی ایک الگ دھارا کا ہی آغاز ہو گیا۔ انہوں نے شانتی نکیتن نام کی ایک تعلیمی اور ثقافتی ادارے کی بنیاد رکھی۔ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا ادارہ مانا جاتا ہے۔
اپنی شعری تخلیق گیتانجلی کے لیے نوبل انعام سے نوازے گئے رابندر ناتھ ٹیگور کی دیگر اہم تخلیقات ہیں- نئیویدیہ، پوربی، بالاکا، کشانیکا، چتر اور سانھیہ گیت، کابلی والا اور سینکڑوں دیگر کہانیاں؛ ناول- گورا، گھرے بائرے اور رابندر کے مضامین۔
سبق کا تعارف
تیرنا چاہنے والے کو پانی میں کوئی اتار تو سکتا ہے، اس کے آس پاس بھی بنا رہ سکتا ہے، مگر تیرنا چاہنے والا جب خود ہاتھ پاؤں چلاتا ہے تبھی تیراک بن پاتا ہے۔ امتحان دینے جانے والا جاتے وقت بڑوں سے دعا کی خواہش کرتا ہی ہے، بڑے دعا دیتے بھی ہیں، لیکن امتحان تو اسے خود ہی دینا ہوتا ہے۔ اسی طرح جب دو پہلوان کشتی لڑتے ہیں تو ان کا جوش تو سب ناظرین بڑھاتے ہیں، اس سے ان کا حوصلہ بڑھتا ہے، مگر کشتی تو انہیں خود ہی لڑنی پڑتی ہے۔
پیش کردہ سبق میں کوی گرو مانتے ہیں کہ پروردگار میں سب کچھ ممکن کر دینے کی صلاحیت ہے، پھر بھی وہ یہ ہرگز نہیں چاہتے کہ وہی سب کچھ کر دیں۔ شاعر آرزو کرتا ہے کہ کسی بھی آفت و مصیبت میں، کسی بھی کشمکش میں کامیاب ہونے کے لیے جدوجہد وہ خود کرے، پروردگار کو کچھ نہ کرنا پڑے۔ پھر آخر وہ اپنے پروردگار سے چاہتے کیا ہیں؟
رابندر ناتھ ٹیگور کی پیش کردہ نظم کا بنگلہ سے ہندی میں ترجمہ محترم آچاریہ ہزاری پرساد دویدی جی نے کیا ہے۔ دویدی جی کا ہندی ادب کو مالا مال کرنے میں انمول تعاون ہے۔ یہ ترجمہ بتاتا ہے کہ ترجمہ کیسے اصل تخلیق کی ‘روح’ کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہے۔
آتم تران (خود کو بچاؤ)
مصیبتوں سے مجھے بچاؤ، یہ میری دعا نہیں صرف اتنا ہو (کرنامے) کبھی نہ مصیبت میں پاؤں خوف۔ دکھ تکلیف سے پریشان چیت کو نہ دو تسلی نہیں سہی پر اتنا ہووے (کرنامے) دکھ کو میں کر سکوں ہمیشہ جیت۔ کوئی کہیں مددگار نہ ملے تو اپنا بل پورس نہ ڈگمگائے؛ نقصان اٹھانا پڑے جگت میں فائدہ اگر دھوکا رہی تو بھی من میں نہ مانوں کھی۔۔ میرا ترن کرو انودن تم یہ میری دعا نہیں بس اتنا ہووے (کرنامے) ترنے کی ہو طاقت انامے۔ میرا بھار اگر لگھو کر کے نہ دو تسلی نہیں سہی۔ صرف اتنا رکھنا انونے- وہن کر سکوں اس کو نڈر۔ نت شیر ہو کر سکھ کے دن میں توم مکھ پہچانوں چن چن میں۔ دکھ راتری میں کرے ونچنا میری جس دن نکھل مہی اس دن ایسا ہو کرنامے، تم پر کروں نہیں کچھ سنشے۔۔
سوال-مشق
(ک) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے-
1. شاعر کس سے اور کیا دعا کر رہا ہے؟
2. ‘مصیبتوں سے مجھے بچاؤ، یہ میری دعا نہیں’-شاعر اس سطر کے ذریعے کیا کہنا چاہتا ہے؟
3. شاعر مددگار کے نہ ملنے پر کیا دعا کرتا ہے؟
4. آخر میں شاعر کیا التجا کرتا ہے؟
5. ‘آتم تران’ عنوان کی معنویت نظم کے حوالے سے واضح کیجیے۔
6. اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے آپ دعا کے علاوہ اور کیا کیا کوشش کرتے ہیں؟ لکھیے۔
7. کیا شاعر کی یہ دعا آپ کو دیگر دعائیہ گیتوں سے الگ لگتی ہے؟ اگر ہاں، تو کیسے؟
(خ) مندرجہ ذیل اقتباسات کا مطلب واضح کیجیے-
1. نت شیر ہو کر سکھ کے دن میں
توم مکھ پہچانوں چن چن میں۔
2. نقصان اٹھانا پڑے جگت میں فائدہ اگر دھوکا رہی
تو بھی من میں نہ مانوں کھی۔
3. ترنے کی ہو طاقت انامے
میرا بھار اگر لگھو کر کے نہ دو تسلی نہیں سہی۔
قابلیت میں اضافہ
1. رابندر ناتھ ٹیگور نے بہت سے گیتوں کی تخلیق کی ہے۔ ان کے گیتوں کے مجموعے میں سے دو گیت چنئے اور کلاس میں نظم خوانی کیجیے۔
2. بہت سے دیگر شعرا نے بھی دعائیہ گیت لکھے ہیں، انہیں پڑھنے کی کوشش کیجیے؛ جیسے-
(ک) مہادیوی ورما-کیا پوجا کیا ارچن رے!
(خ) سوریا کانت ترپاٹھی نیرالا-دلت جن پر کرو کرنا۔
(گ) اتنی شکتی ہمیں دینا داتا
من کا وشواس کمزور ہو نہ
ہم چلیں نک رستے پر ہم سے
بھول کر بھی کوئی بھول ہو نہ
اس دعا کو ڈھونڈ کر پورا پڑھیے اور سمجھیے کہ دونوں دعاؤں میں کیا مماثلت ہے؟ کیا آپ کو دونوں میں کوئی فرق بھی محسوس ہوتا ہے؟ اس پر آپس میں گفتگو کیجیے۔
پراجیکٹ کام
1. رابندر ناتھ ٹیگور کو نوبل انعام پانے والے پہلے ہندوستانی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کے متعلق اور معلومات جمع کر کے پراجیکٹ بک میں لکھیے۔
2. رابندر ناتھ ٹیگور کی ‘گیتانجلی’ کو لائبریری سے لے کر پڑھیے۔
3. رابندر ناتھ ٹیگور نے کلکتہ (کولکاتا) کے قریب ایک تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔ لائبریری کی مدد سے اس کے متعلق معلومات جمع کیجیے۔
4. رابندر ناتھ ٹیگور نے بہت سے گیت لکھے، جنہیں آج بھی گایا جاتا ہے اور اسے رابندر سنگیت کہا جاتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو رابندر سنگیت سے متعلق کیسٹ و سی ڈی لے کر سنیے۔
الفاظ کے معنی اور تشریحات
| ویپدا | - | مصیبت / پریشانی |
| کرنامے | - | دوسروں پر رحم کرنے والا |
| دکھ تاپ | - | تکلیف کی پیڑھا |
| ویتهت | - | دکھی |
| سہایک | - | مددگار |
| پورس | - | ہمت، بہادری |
| کھی | - | بربادی |
| تران | - | خوف دور کرنا / بچاؤ / پناہ |
| انودن | - | روزانہ |
| انامے | - | بیماری سے پاک / صحت مند |
| سانتوانا | - | تسلی دینا، حوصلہ بڑھانا |
| انونے | - | التجا |
| نت شیر | - | سر جھکا کر |
| دکھ راتری | - | دکھ سے بھری رات |
| ونچنا | - | دھوکا دینا / فریب دینا |
| نکھل | - | پورا، سارا |
| سنسے | - | شک |