باب 06 کر چلے ہم فدا

کیفی اعظمی
سن 1919-2002

عطہ حسین رضوی کی پیدائش 19 جنوری 1919 کو اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں واقع گاؤں مجماں میں ہوئی۔ ادب کی دنیا میں آگے چل کر وہ کیفی اعظمی کے نام سے مشہور ہوئے۔ کیفی اعظمی کا شمار ترقی پسند اردو شاعروں کی پہلی صف میں کیا جاتا ہے۔

کیفی کی شاعری میں ایک طرف سماجی اور سیاسی بیداری کا عنصر ہے تو دوسری طرف دل کی نرمی بھی ہے۔ اپنی جوانی میں مشاعروں میں واہ واہی پانے والے کیفی اعظمی نے فلموں کے لیے سینکڑوں بہترین گیت بھی لکھے ہیں۔

10 مئی 2002 کو اس دنیا سے رخصت ہونے والے کیفی کے پانچ شعری مجموعے جھنکار، آخر شب، آوارہ سجدے، سرمایہ اور فلمی گیتوں کا مجموعہ میری آواز سنو شائع ہوئے۔ اپنے تخلیقی کام کے لیے کیفی کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سمیت کئی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ کیفی فنکاروں کے خاندان سے تھے۔ ان کے تینوں بڑے بھائی بھی شاعر تھے۔ بیوی شوکت اعظمی، بیٹی شبانہ اعظمی مشہور اداکارائیں ہیں۔

باب کا تعارف

زندگی ہر جاندار کو عزیز ہوتی ہے۔ کوئی بھی اسے یوں ہی کھونا نہیں چاہتا۔ لاعلاج مریض تک زندگی کی تمنا کرتا ہے۔ زندگی کی حفاظت، سلامتی اور اسے قائم رکھنے کے لیے قدرت نے نہ صرف تمام وسائل ہی فراہم کیے ہیں، بلکہ تمام جانوروں میں اسے بنائے، بچائے رکھنے کی جبلت بھی پروئی ہوئی ہے۔ اسی لیے پرامن جانور بھی اپنی جان پر خطرہ آنے پر اس کی حفاظت کے لیے مقابلے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

لیکن اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے سپاہی کی زندگی، جو اپنی نہیں، بلکہ جب دوسروں کی زندگی پر، ان کی آزادی پر آن بنتی ہے، تب مقابلے کے لیے اپنا سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس مقابلے میں دوسروں کی زندگی اور آزادی بچ جائے، اس کی اپنی موت کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

پیش کردہ باب جو جنگ کی پس منظر پر بنی فلم ‘حقیقت’ کے لیے لکھا گیا تھا، ایسے ہی سپاہیوں کے دل کی آواز بیان کرتا ہے، جنہیں اپنے کیے پر ناز ہے۔ اسی کے ساتھ انہیں اپنے ہم وطنوں سے کچھ توقعات بھی ہیں۔ چونکہ جن سے انہیں وہ توقعات ہیں وہ ہم وطن اور کوئی نہیں، ہم اور آپ ہی ہیں، اس لیے آئیے، اسے پڑھ کر اپنے آپ سے پوچھیں کہ ہم ان کی توقعات پوری کر رہے ہیں یا نہیں؟

کر چلے ہم فدا

کر چلے ہم فدا جانو تن ساتھیو
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو
سانس تھمتی گئی، نبض جمتی گئی
پھر بھی بڑھتے قدم کو نہ رکنے دیا
کٹ گئے سر ہمارے تو کچھ غم نہیں
سر ہمالہ کا ہم نے نہ جھکنے دیا

مرتے مرتے رہا بانکپن ساتھیو
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو

زندہ رہنے کے موسم بہت ہیں مگر
جان دینے کی رت روز آتی نہیں
حسن اور عشق دونوں کو رسوا کرے
وہ جوانی جو خون میں نہاتی نہیں

آج دھرتی بنی ہے دلہن ساتھیو
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو

راہ قربانیوں کی نہ ویران ہو
تم سجاتے ہی رہنا نئے قافلے
فتح کا جشن اس جشن کے بعد ہے
زندگی موت سے مل رہی ہے گلے

باندھ لو اپنے سر سے کفن ساتھیو
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو

کھینچ دو اپنے خون سے زمین پر لکیر
اس طرف آنے پائے نہ راون کوئی
توڑ دو ہاتھ اگر ہاتھ اٹھنے لگے
چھو نہ پائے سیتا کا دامن کوئی
رام بھی تم، تمہی لکشمن ساتھیو
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو۔

سوالات و مشقیں

(ک) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے-

1. کیا اس گیت کی کوئی تاریخی پس منظر ہے؟

2. ‘سر ہمالہ کا ہم نے نہ جھکنے دیا’، اس مصرعے میں ہمالہ کس بات کی علامت ہے؟

3. اس گیت میں دھرتی کو دلہن کیوں کہا گیا ہے؟

4. گیت میں ایسی کیا خاص بات ہوتی ہے کہ وہ زندگی بھر یاد رہ جاتے ہیں؟

5. شاعر نے ‘ساتھیو’ خطاب کا استعمال کس کے لیے کیا ہے؟

6. شاعر نے اس نظم میں کس قافلے کو آگے بڑھاتے رہنے کی بات کہی ہے؟

7. اس گیت میں ‘سر پر کفن باندھنا’ کس طرف اشارہ کرتا ہے؟

8. اس نظم کا مرکزی خیال اپنے الفاظ میں لکھیے۔

(خ) مندرجہ ذیل کا مطلب واضح کیجیے-

1. سانس تھمتی گئی، نبض جمتی گئی

پھر بھی بڑھتے قدم کو نہ رکنے دیا

2. کھینچ دو اپنے خون سے زمین پر لکیر

اس طرف آنے پائے نہ راون کوئی

3. چھو نہ پائے سیتا کا دامن کوئی

رام بھی تم، تمہی لکشمن ساتھیو

زبان کا مطالعہ

1. اس گیت میں کچھ مخصوص استعمالات ہوئے ہیں۔ گیت کے حوالے سے ان کا مطلب واضح کرتے ہوئے اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

کٹ گئے سر، نبض جمتی گئی، جان دینے کی رت، ہاتھ اٹھنے لگے

2. غور کیجیے خطاب میں جمع ‘لفظی صورت’ پر نون غنہ کا استعمال نہیں ہوتا؛ جیسے-بھائیو، بہنو، دیویو، سججنو وغیرہ۔

قابلیت میں اضافہ

1. کیفی اعظمی اردو زبان کے ایک مشہور شاعر اور غزل گو تھے۔ یہ پہلے غزل لکھتے تھے۔ بعد میں فلموں میں گیت کار اور کہانی کار کے طور پر لکھنے لگے۔ پروڈیوسر چیٹن آنند کی فلم ‘حقیقت’ کے لیے انہوں نے یہ گیت لکھا تھا، جسے بہت شہرت ملی۔ اگر ممکن ہو سکے تو یہ فلم دیکھیے۔

2. ‘فلم کا معاشرے پر اثر’ موضوع پر کلاس میں مباحثہ کا اہتمام کیجیے۔

3. کیفی اعظمی کی دیگر تخلیقات کو لائبریری سے حاصل کر پڑھیے اور کلاس میں سنائیے۔ اس کے ساتھ ہی اردو زبان کے دیگر شعرا کی تخلیقات کو بھی پڑھیے۔

4. این سی ای آر ٹی کے ذریعے کیفی اعظمی پر بنائی گئی فلم دیکھنے کی کوشش کیجیے۔

پراجیکٹ کام

1. فوجی زندگی کی مشکلات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک مضمون لکھیے۔

2. آزاد ہونے کے بعد سب سے مشکل کام ہے ‘آزادی قائم رکھنا’۔ اس موضوع پر کلاس میں بحث کیجیے۔

3. اپنے اسکول کے کسی تقریب پر یہ گیت یا کوئی اور وطن پرستانہ گیت گا کر سنائیے۔

الفاظ کے معنی اور تشریحات

فدا - نثار
حوالے - سونپنا
رت - موسم
حسن - خوبصورتی
رسوا - بدنام
خون - خون
قافلے - مسافروں کا گروہ
فتح - جیت
جشن - خوشی منانا
نبض - نبض
قربانیاں - قربانی
زمین - زمین
لکیر - لکیر