باب 01 ساکھی
کبیر
سن 1398-1518
کبیر کا جنم 1398 میں کاشی میں ہوا مانا جاتا ہے۔ گرو رامانند کے شاگرد کبیر نے 120 سال کی عمر پائی۔ زندگی کے آخری کچھ سال مگہر میں گزارے اور وہیں چیرنیدرا میں لین ہو گئے۔
کبیر کا آویبھاو ایسے وقت میں ہوا تھا جب سیاسی، مذہبی اور سماجی انقلابات اپنے چریم پر تھے۔ کبیر کرنتدرشی شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں گہری سماجی چیتنا پریکت ہوتی ہے۔ ان کی شاعری سہج ہی مرم کو چھو لیتی ہے۔ ایک طرف دھرم کے بہریاڈمبروں پر انہوں نے گہری اور تیکھی چوٹ کی ہے تو دوسری طرف آتما-پرماتما کے ویرہ-ملن کے بھاوپورن گیت گائے ہیں۔ کبیر شاستریہ گیان کی اپیکشا انوبھو گیان کو زیادہ مہتو دیتے تھے۔ ان کا وشواس ست سنگ میں تھا اور وہ مانتے تھے کہ ایشور ایک ہے، وہ نیرویکار ہے، اروپ ہے۔ کبیر کی بھاشا پوربی جن پد کی بھاشا تھی۔ انہوں نے جن چیتنا اور جن بھاؤنا کو اپنے سبد اور ساکھیوں کے ذریعے جن-جن تک پہنچایا۔
پاٹھ پرورش
‘ساکھی’ شبد ‘ساکشی’ شبد کا ہی تدبھو روپ ہے۔ ساکشی شبد ساکشیہ سے بنا ہے جس کا ارتھ ہوتا ہے-پریکش گیان۔ یہ پریکش گیان گرو ششیا کو پردان کرتا ہے۔ سنت سمپردای میں انوبھو گیان کی ہی مہتا ہے، شاستریہ گیان کی نہیں۔ کبیر کا انوبھو کھیتر وستھت تھا۔ کبیر جگہ-جگہ بھرمن کر پریکش گیان پراپت کرتے تھے۔ اس لیے ان کے ذریعے رچت ساکھیوں میں اودھی، راجستھانی، بھوجپوری اور پنجابی بھاشاؤں کے شبدوں کا پر بھاو سپشٹ دکھائی پڑتا ہے۔ اسی کارن ان کی بھاشا کو ‘پچمیل کھچڑی’ کہا جاتا ہے۔ کبیر کی بھاشا کو سدھوکڑی بھی کہا جاتا ہے۔
‘ساکھی’ واستوت: دوہا چھند ہی ہے جس کا لکشن ہے 13 اور 11 کے وش رام سے 24 ماترا۔ پرستت پاٹھ کی ساکھیاں پرمان ہیں کہ ستیہ کی ساکشی دیتا ہوا ہی گرو ششیا کو جیون کے تتو گیان کی شکشا دیتا ہے۔ یہ شکشا جتنی پر بھاوپورن ہوتی ہے اتنی ہی یاد رہ جانے یوگ بھی۔
ساکھی
ایسی باننی بولیے، من کا آپا کھوئی۔
اپنا تن سیتل کرے، اورن کوں سکھ ہوئی۔۔
کستوری کنڈلی بسی، مِرگ ڈھونڈھے بن مائیں۔
ایسے گھٹی گھٹی رام ہے، دنیاں دیکھے نائیں۔۔
جب میں تھا تب ہری نہیں، اب ہری ہیں میں نائیں۔
سب اندھیارا مٹ گیا، جب دیپک دیکھیا مائیں۔۔
سکھیا سب سنسار ہے، کھائے اور سووے۔
دکھیا داس کبیر ہے، جاگے اور رووے۔۔
برہ بھونگم تن بسی، منتر ن لگے کوئی۔
رام بیوگی نا جیوے، جیوے تو بورا ہوئی۔۔
نندک نیڑا رکھیے، آنگنی کٹی بندھائی۔
بن سابن پانوں بنا، نیرمل کرے سبھائی۔۔
پوتھی پڑھی پڑھی جگ مُوا، پنڈت بھیا ن کوئی۔
ایکے اشیر پیو کا، پڑھے سو پنڈت ہوئی۔۔
ہم گھر جالیا آپناں، لیا مُراڑا ہاتھی۔
اب گھر جالوں تاس کا، جے چلے ہمارے ساتھی۔۔
پرشن-ابھیاس
(ک) نیمن لکھت پرشناں کے اتر دیجیے-
1. میٹھی وانی بولنے سے اوروں کو سکھ اور اپنے تن کو شیتلتا کیسے پراپت ہوتی ہے؟
2. دیپک دکھائی دینے پر اندھیارا کیسے مٹ جاتا ہے؟ ساکھی کے سندر بھ میں سپشٹ کیجیے۔
3. ایشور کن-کن میں ویاپت ہے، پر ہم اسے کیوں نہیں دیکھ پاتے؟
4. سنسار میں سکھی ویکتی کون ہے اور دکھی کون؟ یہاں ‘سونا’ اور ‘جاگنا’ کس کے پرتیک ہیں؟ اس کا پر یوگ یہاں کیوں کیا گیا ہے؟ سپشٹ کیجیے۔
5. اپنے سبھاؤ کو نیرمل رکھنے کے لیے کبیر نے کیا اپائے سجھایا ہے؟
6. ‘ایکے اشیر پیو کا، پڑھے سو پنڈت ہوئی’-اس پنکتی دوارا کوی کیا کہنا چاہتا ہے؟
7. کبیر کی ادھت ساکھیوں کی بھاشا کی وشیشتا سپشٹ کیجیے۔
(کھ) نیمن لکھت کا بھاو سپشٹ کیجیے-
1. برہ بھونگم تن بسی، منتر ن لگے کوئی۔
2. کستوری کنڈلی بسی، مِرگ ڈھونڈھے بن مائیں۔
3. جب میں تھا تب ہری نہیں، اب ہری ہیں میں نائیں۔
4. پوتھی پڑھی پڑھی جگ مُوا، پنڈت بھیا ن کوئی۔
بھاشا ادھیائے
1. پاٹھ میں آئے نیمن لکھت شبدوں کے پرچلت روپ ادھارن کے انوسار لکھیےادھارن- جیوے - جینا اورن، مائیں، دیکھیا، بھونگم، نیڑا، آنگنی، سابن، مُوا، پیو، جالوں، تاس۔
یوگیتا وستھار
1. ‘سادھو میں نندا سہن کرنے سے وینیشیلتا آتی ہے’ تھا ‘ویکتی کو میٹھی اور کلینکار وانی بولنی چاہیے’-ان وشوں پر کلاس میں پریچارچا آیوجت کیجیے۔
2. کستوری کے وشے میں جانکاری پراپت کیجیے۔
پریوجنا کارج
1. میٹھی وانی / بولی سنبندھی اور ایشور پریم سنبندھی دوہوں کا سنکلن کر چارٹ پر لکھ کر بھیتی پتریکا پر لگائیے۔
2. کبیر کی ساکھیوں کو یاد کیجیے اور کلاس میں انتاکشری میں ان کا پر یوگ کیجیے۔
شبدارتھ اور ٹپپنیاں
| باننی | - | بولی |
| آپا | - | اہم (اہنکار) |
| کنڈلی | - | نابھی |
| گھٹی گھٹی | - | گھٹ-گھٹ میں / کن-کن میں |
| بھونگم | - | بھوجنگ / سانپ |
| بورا | - | پاگل |
| نیڑا | - | نزدیک |
| آنگنی | - | آنگن |
| سابن | - | صابن |
| اشیر | - | اکشر |
| پیو | - | پری |
| مُراڑا | - | جلتی ہوئی لکڑی |