باب 11 نو بَت خانے میں عبادت
یتندر مشرا
سن 1977-
یتندر مشرا کا جنم سن 1977 میں ایودھیا (اتر پردیش) میں ہوا۔ انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی، لکھنؤ سے ہندی میں ایم اے کیا۔ وہ آج کل آزاد تحریر کے ساتھ نیم سالانہ سہِت رسالہ کا ادارت کر رہے ہیں۔ سن 1999 میں ادب اور فنون کی نشوونما اور مشق کے لیے ایک ثقافتی ٹرسٹ ‘ویملا دیوی فاؤنڈیشن’ کا انتظام بھی کر رہے ہیں۔
یتندر مشرا کے تین شعری مجموعے شائع ہوئے ہیں- یادا-کدا، ایودھیا اور دیگر نظمیں، ڈیوڑھی پر آلاپ۔ اس کے علاوہ کلاسیکی گائیکہ گِرِجا دیوی کی زندگی اور موسیقی کی سادھنا پر ایک کتاب گِرِجا لکھی۔ رِتی کل کے آخری نمائندہ شاعر دِویج دیو کی گرنتھاولی (2000) کی مشترکہ ادارت کی۔ کنور نارائن پر مرکوز دو کتابوں کے علاوہ سپِک میکے کے لیے وراثت-2001 کے پروگرام کے لیے روپنکر فنون پر مرکوز تھاتی کا ادارت بھی کیا۔ نوجوان تخلیق کار یتندر مشرا کو بھارت بھوشن اگروال نظم انعام، ہیمنت سمِری نظم انعام، رِتوراج انعام وغیرہ کئی انعامات حاصل ہوئے ہیں۔ نظم، موسیقی اور دیگر لطیف فنون کے ساتھ ساتھ معاشرہ اور ثقافت کے مختلف شعبوں میں بھی ان کی گہری دلچسپی ہے۔
نو بَت خانے میں عبادت مشہور شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان پر دلچسپ انداز میں لکھا گیا شخصیت-چتر ہے۔ یتندر مشرا نے بسم اللہ خان کا تعارف تو دیا ہی ہے، ساتھ ہی ان کی دلچسپیاں، ان کے اندرون کی بناوٹ، موسیقی کی سادھنا اور لگن کو حساس زبان میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ موسیقی ایک عبادت ہے۔ اس کا طریقہ کار ہے۔ اس کا شاستر ہے، اس شاستر سے واقفیت ضروری ہے، صرف واقفیت ہی نہیں اس کا مشق ضروری ہے اور مشق کے لیے گرو-شِشْیَ روایت ضروری ہے، پورے تَنْمَیَتَا ضروری ہے، صبر ضروری ہے، غور و فکر ضروری ہے۔ وہ لگن اور صبر بسم اللہ خان میں رہا ہے۔ تبھی 80 سال کی عمر میں بھی ان کی سادھنا چلتی رہی ہے۔ یتندر مشرا موسیقی کی کلاسیکی روایت کے گہرے جانکار ہیں، اس سبق میں اس کی کئی گونجیں ہیں جو سبق کو بار بار پڑھنے کے لیے دعوت دیتی ہیں۔ زبان سہج، رواں اور واقعات اور حوالوں سے بھری ہوئی ہے۔
نو بَت خانے میں عبادت
سن 1916 سے 1922 کے آس پاس کی کاشی۔ پنچ گنگا گھاٹ واقع بالا جی مندر کی ڈیوڑھی۔ ڈیوڑھی کا نو بَت خانہ اور نو بَت خانے سے نکلنے والی مَنگَل دھونی۔
امیر الدین ابھی صرف چھ سال کا ہے اور بڑا بھائی شمس الدین نو سال کا۔ امیر الدین کو پتہ نہیں ہے کہ راگ کس چڑیا کو کہتے ہیں۔ اور یہ لوگ ہیں مامو جان وغیرہ جو بات بات پر بھیم پلاسی اور مُلتانی کہتے رہتے ہیں۔ کیا واجب مطلب ہو سکتا ہے ان الفاظ کا، اس لحاظ سے ابھی عمر نہیں ہے امیر الدین کی، جان سکے ان بھاری الفاظ کا وزن کتنا ہوگا۔ گویا اتنا ضرور ہے کہ امیر الدین و شمس الدین کے ماما دو سادق حسین اور علی بخش ملک کے جانے مانے شہنائی نواز ہیں۔ مختلف ریاستوں کے دربار میں بجانے جاتے رہتے ہیں۔ روزنامچے میں بالا جی کا مندر سب سے اوپر آتا ہے۔ ہر دن کی شروعات وہیں ڈیوڑھی پر ہوتی ہے۔ مُرتیوں کو پتہ نہیں کتنی سمجھ ہے، جو روز بدل بدل کر مُلتانی، کَلْیَان، لالِت اور کبھی بھیرَو راگوں کو سنتے رہتے ہیں۔ یہ خاندانی پیشہ ہے علی بخش کے گھر کا۔ ان کے ابّا جان (بھی یہیں ڈیوڑھی پر شہنائی بجاتے رہتے ہیں۔
امیر الدین کا جنم ڈُمراؤں، بہار کے ایک موسیقی پرست گھرانے میں ہوا ہے۔ 5-6 سال ڈمراؤں میں گزار کر وہ نانا کے گھر، ننھیال کاشی میں آ گیا ہے۔ ڈمراؤں کا تاریخ میں کوئی مقام بنتا ہو، ایسا نہیں لگا کبھی بھی۔ پر یہ ضرور ہے کہ شہنائی اور ڈمراؤں ایک دوسرے کے لیے مفید ہیں۔ شہنائی بجانے کے لیے رِیڈ کا استعمال ہوتا ہے۔ رِیڈ اندر سے کھوکھلی ہوتی ہے جس کے سہارے شہنائی کو پھونکا جاتا ہے۔ رِیڈ، نَرکَٹ (ایک قسم کی گھاس) سے بنائی جاتی ہے جو ڈمراؤں میں بنیادی طور پر سون ندی کے کناروں پر پائی جاتی ہے۔ اتنی ہی اہمیت ہے اس وقت ڈمراؤں کی جس کے باعث شہنائی جیسا ساز بجتا ہے۔ پھر امیر الدین جو ہم سب کے پیارے ہیں، اپنے استاد بسم اللہ خان صاحب ہیں۔ ان کا جنم-مقام بھی ڈمراؤں ہی ہے۔ ان کے پردادا استاد سالار حسین خان ڈمراؤں رہائشی تھے۔ بسم اللہ خان استاد پیغمبر بخش خان اور مِٹھن کے چھوٹے صاحبزادے ہیں۔
امیر الدین کی عمر ابھی 14 سال ہے۔ یعنی بسم اللہ خان کی عمر ابھی 14 سال ہے۔ وہی کاشی ہے۔ وہی پرانا بالا جی کا مندر جہاں بسم اللہ خان کو نو بَت خانے ریاض کے لیے جانا پڑتا ہے۔ مگر ایک راستہ ہے بالا جی مندر تک جانے کا۔ یہ راستہ رسولن بائی اور بتولن بائی کے یہاں سے ہو کر جاتا ہے۔ اس راستے سے امیر الدین کو جانا اچھا لگتا ہے۔ اس راستے نہ جانے کتنے طرح کے بول-بناؤ کبھی ٹھمری، کبھی ٹپے، کبھی دادرے کے ذریعے ڈیوڑھی تک پہنچتے رہتے ہیں۔ رسولن اور بتولن جب گاتی ہیں تب امیر الدین کو خوشی ملتی ہے۔ اپنے ڈیروں انٹرویوز میں بسم اللہ خان صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ انہیں اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں میں موسیقی کے لیے لگن انہیں گائیکہ بہنوں کو سن کر ملی ہے۔ ایک طرح سے ان کی ناسمجھ عمر میں تجربے کی سلیٹ پر موسیقی کی تحریک کی حروفِ تہجی رسولن بائی اور بتولن بائی نے کھینچی ہے۔
ویدک تاریخ میں شہنائی کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اسے موسیقی شاستر کے تحت ‘سُشِر-وادیوں’ میں گنا جاتا ہے۔ عرب ملک میں پھونک کر بجائے جانے والے ساز جس میں ناڑی (نرکٹ یا رِیڈ) ہوتی ہے، کو ‘نے’ بولتے ہیں۔ شہنائی کو ‘شاہِ نے’ یعنی ‘سُشِر وادیوں میں شاہ’ کی خطاب دی گئی ہے۔ سولہویں صدی کے دوسرے نصف میں تان سین کے ذریعے بنائی بندش، جو موسیقی راگ کلپ درم سے حاصل ہوتی ہے، میں شہنائی، مُرلی، بانسری، شِرنگی اور مُرچنگ وغیرہ کا ذکر آیا ہے۔
اودھی روایتی لوک گیتوں اور چیتی میں شہنائی کا ذکر بار بار ملتا ہے۔ مَنگَل کا ماحول قائم کرنے والا یہ ساز ان جگہوں پر مَنگَلک طریقہ کار کے مواقع پر ہی استعمال ہوا ہے۔ جنوبی ہند کے مَنگَل ساز ‘ناگسورم’ کی طرح شہنائی، پربھاتی کی مَنگَل دھونی کا مکمل ہے۔
شہنائی کی اسی مَنگَل دھونی کے نائک بسم اللہ خان صاحب اسی برس سے سر مانگ رہے ہیں۔ سچے سر کی نعمت۔ اسی برس کی پانچوں وقت والی نماز اسی سر کو پانے کی دعا میں خرچ ہو جاتی ہے۔ لاکھوں سجدے، اسی ایک سچے سر کی عبادت میں خدا کے آگے جھکتے ہیں۔ وہ نماز کے بعد سجدے میں گڑگڑاتے ہیں-‘میرے مالک ایک سر بخش دے۔ سر میں وہ تاثیر پیدا کر کہ آنکھوں سے سچے موتی کی طرح بے تراش آنسو نکل آئیں۔’ ان کو یقین ہے، کبھی خدا یوں ہی ان پر مہربان ہوگا اور اپنی جھولی سے سر کا پھل نکال کر ان کی طرف اچھالے گا، پھر کہے گا، لے جا امیر الدین اس کو کھا لے اور کر لے اپنی مراد پوری۔
اپنے الجھنوں سے بچنے کے لیے ہم خود کسی پناہ، کسی غار کو ڈھونڈتے ہیں جہاں اپنی پریشانیوں، کمزوریوں کو چھوڑ سکیں اور وہاں سے پھر اپنے لیے ایک نیا جادو گڑھ سکیں۔ ہرن اپنی ہی مہک سے پریشان پورے جنگل میں اس وردان کو ڈھونڈتا ہے جس کی
خوشبو اسی میں سمائی ہے۔ اسی برس سے بسم اللہ خان یہی سوچتے آئے ہیں کہ ساتوں سروں کو برتنے کی تمیز انہیں سلیقے سے اب تک کیوں نہیں آئی۔
بسم اللہ خان اور شہنائی کے ساتھ جس ایک مسلمان تہوار کا نام جڑا ہوا ہے، وہ محرم ہے۔ محرم کا مہینہ وہ ہوتا ہے جس میں شیعہ مسلمان حضرت امام حسین اور ان کے کچھ خاندان والوں کے لیے عزاداری (غم منانا) مناتے ہیں۔ پورے دس دنوں کا غم۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے خاندان کا کوئی شخص محرم کے دنوں میں نہ تو شہنائی بجاتا ہے، نہ ہی کسی موسیقی کے پروگرام میں شرکت ہی کرتا ہے۔ آٹھویں تاریخ ان کے لیے خاص اہمیت کی ہے۔ اس دن خان صاحب کھڑے ہو کر شہنائی بجاتے ہیں و دال منڈی میں فاطمہ کے قریب آٹھ کلومیٹر کی دوری تک پیدل روتے ہوئے، نوحہ بجاتے جاتے ہیں۔ اس دن کوئی راگ نہیں بجتا۔ راگ-راگنیوں کی ادائیگی کی ممانعت ہے اس دن۔
ان کی آنکھیں امام حسین اور ان کے خاندان والوں کی شہادت میں نم رہتی ہیں۔ عزاداری ہوتی ہے۔ ہزاروں آنکھیں نم۔ ہزار برس کی روایت دوبارہ زندہ۔ محرم مکمل ہوتا ہے۔ ایک بڑے فنکار کا سہج انسانی روپ ایسے موقع پر آسانی سے دکھ جاتا ہے۔
محرم کے غمزدہ ماحول سے الگ، کبھی کبھی سکون کے لمحوں میں وہ اپنی جوانی کے دنوں کو یاد کرتے ہیں۔ وہ اپنے ریاض کو کم، ان دنوں کے اپنے جنون کو زیادہ یاد کرتے ہیں۔ اپنے ابّا جان اور استاد کو کم، پکّا محل کی کُلثُم حلوائی کی کچوری والی دکان و گیتا بالی اور سلوچنا کو زیادہ یاد کرتے ہیں۔ کیسے سلوچنا ان کی پسندیدہ ہیروئن رہی تھیں، بڑی راز بھری مسکراہٹ کے ساتھ گالوں پر چمک آ جاتی ہے۔ خان صاحب کی تجربہ کار آنکھیں اور جلدی ہی کھِس سے ہنس دینے کی خدائی مہربان آج بھی برقرار قائم ہے۔
اسی بچگانہ ہنسی میں کئی یادیں بند ہیں۔ وہ جب ان کا ذکر کرتے ہیں تب پھر اسی فطری آنند میں آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔ امیر الدین تب صرف چار سال کا رہا ہوگا۔ چھپ کر نانا کو شہنائی بجاتے ہوئے سنتا تھا، ریاض کے بعد جب اپنی جگہ سے اٹھ کر چلے جائیں تب جا کر ڈیروں چھوٹی بڑی شہنائیوں کی بھیڑ سے اپنے نانا والی شہنائی ڈھونڈتا اور ایک ایک شہنائی کو پھینک کر خارج کرتا جاتا، سوچتا-‘لگتا ہے میٹھی والی شہنائی دادا کہیں اور رکھتے ہیں۔’ جب مامو علی بخش خان (جو استاد بھی تھے) شہنائی بجاتے ہوئے سم پر آئیں، تب دھڑ سے ایک پتھر زمین پر مارتا تھا۔ سم پر آنے کی تمیز انہیں بچپن میں ہی آ گئی تھی، مگر بچے کو یہ نہیں معلوم تھا کہ داد واہ کر کے دی جاتی ہے، سر ہلا کر دی جاتی ہے، پتھر پٹک کر نہیں۔ اور بچپن کے وقت فلموں کے بخار کے بارے میں تو پوچھنا ہی کیا؟ اس وقت تھرڈ کلاس کے لیے چھ پیسے کا ٹکٹ ملتا تھا۔ امیر الدین دو پیسے مامو سے، دو پیسے ماسی سے اور دو پیسے نانی سے لیتا تھا پھر گھنٹوں لائن میں لگ کر ٹکٹ حاصل کرتا تھا۔
ادھر سلوچنا کی نئی فلم سینما ہال میں آئی اور ادھر امیر الدین اپنی کمائی لے کر چلا فلم دیکھنے جو بالا جی مندر پر روز شہنائی بجانے سے اسے ملتی تھی۔ ایک اٹھنی محنتانہ۔ اس پر یہ شوق زبردست کہ سلوچنا کی کوئی نئی فلم نہ چھوٹے اور کُلثُم کی دیسی گھی والی دکان۔ وہاں کی موسیقیمئی کچوری۔ موسیقیمئی کچوری اس
طرح کیونکہ کُلثُم جب کَلکَلاتے گھی میں کچوری ڈالتی تھی، اس وقت چھن سے اٹھنے والی آواز میں انہیں سارے آروہ-اواروہ دکھ جاتے تھے۔ رام جانے، کتنوں نے ایسی کچوری کھائی ہوں گی۔ مگر اتنا طے ہے کہ اپنے خان صاحب ریاضی اور ذائقہ دار دونوں رہے ہیں اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دادا کی میٹھی شہنائی ان کے ہاتھ لگ چکی ہے۔
کاشی میں موسیقی کے انعقاد کی ایک قدیم اور حیرت انگیز روایت ہے۔ یہ انعقاد پچھلے کئی برسوں سے سنکٹ موچن مندر میں ہوتا آیا ہے۔ یہ مندر شہر کے جنوب میں لنکا پر واقع ہے و ہنومان جینتی کے موقع پر یہاں پانچ دنوں تک کلاسیکی اور نیم کلاسیکی گائیکی-باجے کی عمدہ محفل ہوتی ہے۔ اس میں بسم اللہ خان ضرور رہتے ہیں۔ اپنے مذہب کے لیے انتہائی سرشار استاد بسم اللہ خان کی عقیدت کاشی وشوناتھ جی کے لیے بھی بے پناہ ہے۔ وہ جب بھی کاشی سے باہر رہتے ہیں تب وشوناتھ و بالا جی مندر کی سمت کی طرف منہ کر کے بیٹھتے ہیں، تھوڑی دیر ہی سہی، مگر اسی طرف شہنائی کا پیالہ گھما دیا جاتا ہے اور اندر کی عقیدت رِیڈ کے ذریعے بجتی ہے۔ خان صاحب کی ایک رِیڈ 15 سے 20 منٹ کے اندر گیلی ہو جاتی ہے تب وہ دوسری رِیڈ کا استعمال کر لیا کرتے ہیں۔
اکثر کہتے ہیں-‘کیا کریں میاں، یہ کاشی چھوڑ کر کہاں جائیں، گنگا میاں یہاں، بابا وشوناتھ یہاں، بالا جی کا مندر یہاں، یہاں ہمارے خاندان کی کئی پشتوں نے شہنائی بجائی ہے، ہمارے نانا تو وہیں بالا جی مندر میں بڑے معزز شہنائی نواز رہ چکے ہیں۔ اب ہم کیا کریں، مرتے دم تک نہ یہ شہنائی چھوٹے گی نہ کاشی۔ جس زمین نے ہمیں تعلیم دی، جہاں سے ادب پایا، وہ کہاں اور ملے گی؟ شہنائی اور کاشی سے بڑھ کر کوئی جنت نہیں اس زمین پر ہمارے لیے۔’
کاشی ثقافت کی درسگاہ ہے۔ شاستروں میں آنند کنن کے نام سے معزز۔ کاشی میں کلادھر ہنومان و نرت-وشوناتھ ہیں۔ کاشی میں بسم اللہ خان ہیں۔ کاشی میں ہزاروں سالوں کی تاریخ ہے جس میں پنڈت کنٹھے مہاراج ہیں، ودیا دھری ہیں، بڑے رام داس جی ہیں، موج الدین خان ہیں و ان رسیکوں سے فیض یاب ہونے والا بے پناہ عوام ہے۔ یہ ایک الگ کاشی ہے جس کی الگ تہذیب ہے، اپنی بولی اور اپنے خاص لوگ ہیں۔ ان کے اپنے تہوار ہیں، اپنا غم۔ اپنا سہرا-بننا اور اپنا نوحہ۔ آپ یہاں موسیقی کو بھکتی سے، بھکتی کو کسی بھی مذہب کے فنکار سے، کجری کو چیتی سے، وشوناتھ کو وشالاکشی سے، بسم اللہ خان کو گنگا دوار سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے۔
اکثر تقریبات اور تہواروں میں دنیا کہتی ہے یہ بسم اللہ خان ہیں۔ بسم اللہ خان کا مطلب-بسم اللہ خان کی شہنائی۔ شہنائی کا مطلب-بسم اللہ خان کا ہاتھ۔ ہاتھ سے مراد اتنا بھر کہ بسم اللہ خان کی پھونک اور شہنائی کی جادوئی آواز کا اثر ہمارے سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے۔ شہنائی میں سرگم بھرا ہے۔ خان صاحب کو تال معلوم ہے، راگ معلوم ہے۔ ایسا نہیں کہ بے تالے جائیں گے۔ شہنائی میں سات سر لے کر نکل پڑے۔ شہنائی میں پروردگار، گنگا میاں، استاد کی نصیحت لے کر اتر پڑے۔ دنیا کہتی-سبحان اللہ، اس پر بسم اللہ خان کہتے ہیں-الحمد للہ۔ چھوٹی چھوٹی پیداوار سے مل کر ایک بڑا شکل بنتا ہے۔ شہنائی کا کرتب شروع ہونے لگتا ہے۔ بسم اللہ خان کا عالم سریلا ہونا شروع ہوا۔ پھونک میں اذان کی تاثیر اترتی چلی آئی۔ دیکھتے دیکھتے شہنائی ڈیڑھ سو کے ساز سے دو سو کا ساز بن، سازوں کی قطار میں سرتاج ہو گئی۔ امیر الدین کی شہنائی گونج اٹھی۔ اس فقیر کی دعا لگی جس نے امیر الدین سے کہا تھا-“بجا، بجا۔”
کسی دن ایک شاگردہ نے ڈرتے ڈرتے خان صاحب کو ٹوکا، “بابا! آپ یہ کیا کرتے ہیں، اتنی عزت ہے آپ کی۔ اب تو آپ کو بھارت رتن بھی مل چکا ہے، یہ پھٹی تہمد نہ پہنا کریں۔ اچھا نہیں لگتا، جب بھی کوئی آتا ہے آپ اسی پھٹی تہمد میں سب سے ملتے ہیں۔” خان صاحب مسکرائے۔ لاڈ سے بھر کر بولے، “دھت! پاگل یہ بھارت رتن ہم کو شہنائی پر ملا ہے، لنگوٹے پر نہیں۔ تم لوگوں کی طرح بناؤ سنگھار دیکھتے رہتے، تو عمر ہی بیت جاتی، ہو چکتی شہنائی۔” تب کیا خاک ریاض ہو پاتا۔ ٹھیک ہے بیٹی، آگے سے نہیں پہنیں گے، مگر
اتنا بتا دیتے ہیں کہ مالک سے یہی دعا ہے، “پھٹا سر نہ بخشیں۔ لنگوٹے کا کیا ہے، آج پھٹی ہے، تو کل سی جائے گی۔”
سن 2000 کی بات ہے۔ پکّا محل (کاشی وشوناتھ سے لگا ہوا زیادہ تر علاقہ) سے ملائی برف بیچنے والے جا چکے ہیں۔ خان صاحب کو اس کی کمی کھلتی ہے۔ اب دیسی گھی میں وہ بات کہاں اور کہاں وہ کچوری-جلیبی۔ خان صاحب کو بڑی شدت سے کمی کھلتی ہے۔ اب سنگتیوں کے لیے گائکوں کے دل میں کوئی احترام نہیں رہا۔ خان صاحب افسوس ظاہر کرتے ہیں۔ اب گھنٹوں ریاض کو کون پوچھتا ہے؟ حیران ہیں بسم اللہ خان۔ کہاں وہ کجری، چیتی اور ادب کا زمانہ؟
سچ مچ حیران کرتی ہے کاشی-پکّا محل سے جیسے ملائی برف گیا، موسیقی، ادب اور ادب کی بہت ساری روایات غائب ہو گئیں۔ ایک سچے سر سادھک اور سماجی کی طرح بسم اللہ خان صاحب کو ان سب کی کمی کھلتی ہے۔ کاشی میں جس طرح بابا وشوناتھ اور بسم اللہ خان ایک دوسرے کے مکمل رہے ہیں، اسی طرح محرم-تعزیہ اور ہولی-ابیر، گُلال کی گنگا-جمُنی ثقافت بھی ایک دوسرے کے مکمل رہے ہیں۔ ابھی جلدی ہی بہت کچھ تاریخ بن چکا ہے۔ ابھی آگے بہت کچھ تاریخ بن جائے گا۔ پھر بھی کچھ بچا ہے جو صرف کاشی میں ہے۔ کاشی آج بھی موسیقی کے سر پر جگتی اور اسی کی تھاپوں پر سوتی ہے۔ کاشی میں مرنا بھی مَنگَل مانا گیا ہے۔ کاشی آنند کنن ہے۔ سب سے بڑی بات ہے کہ کاشی کے پاس استاد بسم اللہ خان جیسا لے اور سر کی تمیز سکھانے والا نایاب ہیرا رہا ہے جو ہمیشہ سے دو قوموں کو ایک ہونے اور آپس میں بھائی چارے کے ساتھ رہنے کی تحریک دیتا رہا۔
بھارت رتن سے لے کر اس ملک کے ڈیروں یونیورسٹیوں کی اعزازی ڈگریوں سے آراستہ و موسیقی ناٹک اکیڈمی انعام اور پدم وبھوشن جیسے اعزازات سے نہیں، بلکہ اپنی ناقابل شکست موسیقی کی سفر کے لیے بسم اللہ خان صاحب مستقبل میں ہمیشہ موسیقی کے نائک بنے رہیں گے۔ نوے سال کی بھری پوری عمر میں 21 اگست 2006 کو موسیقی رسیکوں کی دلی محفل سے رخصت ہوئے خان صاحب کی سب سے بڑی دین ہمیں یہی ہے کہ پورے اسی برس انہوں نے موسیقی کو مکمل طور پر اور انفرادیت سے سیکھنے کی جی جیوشا کو اپنے اندر زندہ رکھا۔
سوال-مشق
1. شہنائی کی دنیا میں ڈمراؤں کو کیوں یاد کیا جاتا ہے؟
2. بسم اللہ خان کو شہنائی کی مَنگَل دھونی کا نائک کیوں کہا گیا ہے؟
3. سُشِر-وادیوں سے کیا مراد ہے؟ شہنائی کو ‘سُشِر وادیوں میں شاہ’ کی خطاب کیوں دی گئی ہوگی؟
4. مطلب واضح کیجیے-
(ک) ‘پھٹا سر نہ بخشیں۔ لنگوٹے کا کیا ہے، آج پھٹی ہے، تو کل سی جائے گی۔’
(خ) ‘میرے مالک سر بخش دے۔ سر میں وہ تاثیر پیدا کر کہ آنکھوں سے سچے موتی کی طرح بے تراش آنسو نکل آئیں۔
5. کاشی میں ہو رہے کون سے تبدیلیاں بسم اللہ خان کو رنجیدہ کرتے تھے؟
6. سبق میں آئے کن واقعات کی بنیاد پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ-
(ک) بسم اللہ خان ملی جلی ثقافت کے علامت تھے۔
(خ) وہ حقیقی معنوں میں ایک سچے انسان تھے۔
7. بسم اللہ خان کی زندگی سے جڑی ان واقعات اور شخصیات کا ذکر کریں جنہوں نے ان کی موسیقی کی سادھنا کو مالا مال کیا؟
تخلیق اور اظہار
8. بسم اللہ خان کی شخصیت کی کون کون سی خصوصیات نے آپ کو متاثر کیا؟
9. محرم سے بسم اللہ خان کے تعلق کو اپنے الفاظ میں لکھیے۔
10. بسم اللہ خان فن کے انوکھے عبادت گزار تھے، دلیل کے ساتھ جواب دیجیے۔
زبان-مطالعہ
11. مندرجہ ذیل مرکب جملوں کے ضمنی جملے چن کر قسم بھی لکھیے-
(ک) یہ ضرور ہے کہ شہنائی اور ڈمراؤں ایک دوسرے کے لیے مفید ہیں۔
(خ) رِیڈ اندر سے کھوکھلی ہوتی ہے جس کے سہارے شہنائی کو پھونکا جاتا ہے۔
(گ) رِیڈ نَرکَٹ سے بنائی جاتی ہے جو ڈمراؤں میں بنیادی طور پر سون ندی کے کناروں پر پائی جاتی ہے۔
(گھ) ان کو یقین ہے، کبھی خدا یوں ہی ان پر مہربان ہوگا۔
(ڈ) ہرن اپنی ہی مہک سے پریشان پورے جنگل میں اس وردان کو ڈھونڈتا ہے جس کی خوشبو اسی میں سمائی ہے۔
(چ) خان صاحب کی سب سے بڑی دین ہمیں یہی ہے کہ پورے اسی برس انہوں نے موسیقی کو مکمل طور پر اور انفرادیت سے سیکھنے کی جی جیوشا کو اپنے اندر زندہ رکھا۔
12. مندرجہ ذیل جملوں کو مرکب جملوں میں بدلیے-
(ک) اسی بچگانہ ہنسی میں کئی یادیں بند ہیں۔
(خ) کاشی میں موسیقی کے انعقاد کی ایک قدیم اور حیرت انگیز روایت ہے۔
(گ) دھت! پاگل یہ بھارت رتن ہم کو شہنائی پر ملا ہے، لنگوٹے پر نہیں۔
(گھ) کاشی کا نایاب ہیرا ہمیشہ سے دو قوموں کو ایک ہو کر آپس میں بھائی چارے کے ساتھ رہنے کی تحریک دیتا رہا۔
سبق سے باہر سرگرمی
-
تصور کیجیے کہ آپ کے اسکول میں کسی مشہور موسیقار کے شہنائی بجانے کا پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کی اطلاع دیتے ہوئے بلٹن بورڈ کے لیے نوٹس بنائیے۔
-
آپ اپنے پسندیدہ موسیقار کے بارے میں ایک پیراگراف لکھیے۔
-
ہمارے ادب، فن، موسیقی اور رقص کو مالا مال کرنے میں کاشی (آج کے وارانسی) کے حصے پر بات کیجیے۔
-
کاشی کا نام آتے ہی ہماری آنکھوں کے سامنے کاشی کی بہت سی چیزیں ابھرنے لگتی ہیں، وہ کون کون سی ہیں؟
الفاظ - خزانہ
| ڈیوڑھی | - دہلیز |
| نو بَت خانہ | - داخلہ دروازے کے اوپر مَنگَل دھونی بجانے کی جگہ |
| ریاض | - مشق |
| ذریعے | - کے ذریعے |
| شِرنگی | - سینگ کا بنا ساز |
| مُرچنگ | - ایک قسم کا لوک ساز |
| نعمت | - خدا کی دین، سکھ، دولت |
| س |