باب 06 منگلیش ڈبرال

منگلیش ڈبرال
سن 1948-2020

منگلیش ڈبرال کا جنم سن 1948 میں ٹہری گڑھوال (اتراکھنڈ) کے کافل پانی گاؤں میں ہوا اور تعلیم و تربیت ہوئی دہرادون میں۔ دہلی آ کر ہندی پیٹریاٹ، پرتی پکش اور آس پاس میں کام کرنے کے بعد وہ بھوپال میں بھارت بھون سے شائع ہونے والے پورواگرہ میں معاون مدیر ہوئے۔ الہ آباد اور لکھنؤ سے شائع امرت پربھات میں بھی کچھ دن نوکری کی۔ سن 1983 میں جن ستا اخبار میں ادب مدیر کا عہدہ سنبھالا۔ کچھ وقت سہارا سمیے میں تدوین کا کام کرنے کے بعد وہ نیشنل بک ٹرسٹ سے جڑے رہے۔ ان کا انتقال 2020 میں ہوا۔

منگلیش ڈبرال کے چار شعری مجموعے شائع ہوئے ہیں- پہاڑ پر لالٹین، گھر کا راستہ، ہم جو دیکھتے ہیں اور آواز بھی ایک جگہ ہے۔ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، پہل سمّان سے معزز منگلیش کی شہرت مترجم کے طور پر بھی ہے۔ منگلیش کی نظموں کے ہندوستانی زبانوں کے علاوہ انگریزی، روسی، جرمن، ہسپانوی، پولش اور بلغاری زبانوں میں بھی تراجم شائع ہو چکے ہیں۔ شاعری کے علاوہ وہ ادب، سنیما، ذرائع ابلاغ اور ثقافت کے سوالات پر باقاعدہ تحریریں بھی لکھتے ہیں۔ منگلیش کی نظموں میں جاگیردارانہ شعور اور سرمایہ دارانہ دھوکہ دہی دونوں کا مقابلہ ہے۔ وہ یہ مقابلہ کسی شور شرابے کے ساتھ نہیں بلکہ مخالف سمت میں ایک خوبصورت خواب تخلیق کر کے کرتے ہیں۔ ان کا جمالیاتی شعور باریک بین ہے اور زبان شفاف۔


سنگتکار نظم گائیکی میں مرکزی گلوکار کا ساتھ دینے والے سنگتکار کے کردار کی اہمیت پر غور کرتی ہے۔ بصری ذرائع کی پیشکشوں؛ جیسے- ڈراما، فلم، موسیقی، رقص کے بارے میں تو یہ درست ہے ہی؛ ہم معاشرہ اور تاریخ میں بھی ایسے بہت سے مواقع دیکھ سکتے ہیں جہاں ہیرو کی کامیابی میں بہت سے لوگوں نے اہم کردار ادا کیا۔ نظم ہم میں یہ حساسیت پیدا کرتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی اہمیت ہے اور ان کا سامنے ن آنا ان کی کمزوری نہیں انسانیّت ہے۔ موسیقی کی باریک بین سمجھ اور نظم کی بصریّت اس نظم کو ایسی رفتار دیتی ہے گویا ہم اسے اپنے سامنے وقوع پذیر ہوتا دیکھ رہے ہوں۔


سنگتکار


مرکزی گلوکار کے چٹان جیسے بھاری لہجے کا ساتھ دیتی

وہ آواز خوبصورت کمزور کانپتی ہوئی تھی

وہ مرکزی گلوکار کا چھوٹا بھائی ہے

یا اس کا شاگرد

یا پیدل چل کر سیکھنے آنے والا دور کا کوئی رشتہ دار

مرکزی گلوکار کی گرج میں

وہ اپنی گونج ملاتا آیا ہے قدیم زمانے سے

گلوکار جب انترے کی پیچیدہ تانوں کے جنگل میں

کھو چکا ہوتا ہے

یا اپنے ہی سرگم کو لانگھ کر

چلا جاتا ہے بھٹکتا ہوا ایک انہد میں

تب سنگتکار ہی استھائی کو سنبھالے رہتا ہے

جیسے سمیٹتا ہو مرکزی گلوکار کا پیچھے چھوٹا ہوا سامان

جیسے اسے یاد دلاتا ہو اس کا بچپن

جب وہ نو سیکھیا تھا

تار سپتک میں جب بیٹھنے لگتا ہے اس کا گلا

پریرنا ساتھ چھوڑتی ہوئی جوش غروب ہوتا ہوا

آواز سے راکھ جیسا کچھ گرتا ہوا

تبھی مرکزی گلوکار کو ڈھارس بندھاتا

کہیں سے چلا آتا ہے سنگتکار کا لہجہ

کبھی کبھی وہ یوں ہی دے دیتا ہے اس کا ساتھ

یہ بتانے کے لیے کہ وہ اکیلا نہیں ہے

اور یہ کہ پھر سے گایا جا سکتا ہے

گایا جا چکا راگ

اور اس کی آواز میں جو ایک ہچک صاف سنائی دیتی ہے

یا اپنے لہجے کو اونچا نہ اٹھانے کی جو کوشش ہے

اسے ناکامی نہیں

اس کی انسانیت سمجھی جانا چاہیے۔

سوال-مشق

1. سنگتکار کے ذریعے شاعر کس قسم کے افراد کی طرف اشارہ کرنا چاہ رہا ہے؟

2. سنگتکار جیسے افراد موسیقی کے علاوہ اور کن کن شعبوں میں نظر آتے ہیں؟

3. سنگتکار کن کن صورتوں میں مرکزی گلوکار-گلوکاراؤں کی مدد کرتے ہیں؟

4. مطلب واضح کیجیے-

اور اس کی آواز میں جو ایک ہچک صاف سنائی دیتی ہے
یا اپنے لہجے کو اونچا نہ اٹھانے کی جو کوشش ہے
اسے ناکامی نہیں
اس کی انسانیت سمجھی جانا چاہیے۔

5. کسی بھی شعبے میں شہرت پانے والے لوگوں کو بہت سے لوگ طرح طرح سے اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ کوئی ایک مثال دے کر اس بیان پر اپنے خیالات لکھیے۔

6. کبھی کبھی تار سپتک کی بلندی پر پہنچ کر مرکزی گلوکار کا لہجہ بکھرتا نظر آتا ہے اس وقت سنگتکار اسے بکھرنے سے بچا لیتا ہے۔ اس بیان کے تناظر میں سنگتکار کی خاص کردار کو واضح کیجیے۔

7. کامیابی کے عروج پر پہنچنے کے دوران اگر شخص لڑکھڑاتا ہے تب اسے ساتھی کس طرح سنبھالتے ہیں؟

تخلیق اور اظہار

8. تصور کیجیے کہ آپ کو کسی موسیقی یا رقص پروگرام کا پروگرام پیش کرنا ہے لیکن آپ کے ساتھی فنکار کسی وجہ سے نہیں پہنچ پائیں-

(ک) ایسے میں اپنی صورت حال کا بیان کیجیے۔

(خ) ایسی صورت حال کا آپ کیسے مقابلہ کریں گے؟

9. آپ کے اسکول میں منائے جانے والے ثقافتی پروگرام میں اسٹیج کے پیچھے کام کرنے والے ساتھیوں کے کردار پر ایک پیراگراف لکھیے۔

10. کسی بھی شعبے میں سنگتکار کی قطار والے لوگ صلاحیت مند ہوتے ہوئے بھی مرکزی یا اعلیٰ مقام پر کیوں نہیں پہنچ پاتے ہوں گے؟

متن سے باہر سرگرمی

$\bullet$ آپ فلمیں تو دیکھتے ہی ہوں گے۔ اپنی پسند کی کسی ایک فلم کی بنیاد پر لکھیے کہ اس فلم کی کامیابی میں اداکاری کرنے والے فنکاروں کے علاوہ اور کن کن لوگوں کا حصہ رہا۔

$\bullet$ آپ کے اسکول میں کسی مشہور گلوکارہ کی گیت پیشکش کا انعقاد ہے-

(ک) اس تعلق سے معلوماتی بورڈ کے لیے ایک نوٹس تیار کیجیے۔

(خ) گلوکارہ اور اس کے سنگتکاروں کا تعارف دینے کے لیے اسکرپٹ تیار کیجیے۔

الفاظ کا خزانہ

سنگتکار - مرکزی گلوکار کے ساتھ گائیکی کرنے والا یا کوئی ساز بجانے والا فنکار، ساتھی
گرج - اونچی گمبھیر آواز
انترا - استھائی یا ٹیک کو چھوڑ کر گیت کا حصہ
پیچیدہ - مشکل
تان - موسیقی میں سر کا پھیلاؤ
نو سیکھیا - جس نے ابھی سیکھنا شروع کیا ہو
راکھ جیسا کچھ گرتا ہوا - بجھتا ہوا لہجہ
ڈھارس بندھانا - تسلی دینا، سانٹھنا دینا

یہ بھی جانیں

سرگم - موسیقی کے لیے سات سر مقرر کیے گئے ہیں۔ وہ ہیں- شڈج، رِشبھ، گندھار، مدھیم، پنچم، دھیوت اور نِشاد۔ انہی ناموں کے پہلے حروف لے کر انہیں سا، رے، گ، م، پ، دھ اور نی کہا گیا ہے۔

سپتک - سپتک کا مطلب ہے سات کا مجموعہ۔ سات خالص سر ہیں اسی لیے یہ نام پڑا۔ لیکن آواز کی بلندی اور پستی کی بنیاد پر موسیقی میں تین قسم کے سپتک مانے گئے ہیں۔ اگر عام آواز ہے تو اسے ‘مدھ سپتک’ کہیں گے اور آواز مدھ سپتک سے اوپر ہے تو اسے ‘تار سپتک’ کہیں گے اور آواز مدھ سپتک سے نیچے ہے تو اسے ‘مندر سپتک’ کہتے ہیں۔