Chapter 05 Nagarjun

ناگرجن

سن 1911-1998

نگرجن کا جنم بہار کے دربھنگہ ضلع کے ستلکھا گاؤں میں سن 1911 میں ہوا۔ ان کا اصل نام ویدیا ناتھ مشرا تھا۔ ابتدائی تعلیم سنسکرت پاٹھشالا میں ہوئی، پھر تعلیم کے لیے وہ بنارس اور کلکتہ (کولکاتا) گئے۔ 1936 میں وہ سری لنکا گئے، اور وہیں بدھ دھرم میں دیکشت ہوئے۔ دو سال قیام کے بعد 1938 میں واپس اپنے وطن لوٹ آئے۔ گھومنے پھرنے اور اکھڑ مزاج کے مالک نگرجن نے کئی بار پورے بھارت کا سفر کیا۔ سن 1998 میں ان کا انتقال ہو گیا۔

نگرجن کی اہم شعری تخلیقات ہیں- یگ دھارا، ست رنگے پنکھوں والی، ہزار ہزار بانہوں والی، تم نے کہا تھا، پرانی جوتیوں کا کورس، آخر ایسا کیا کہہ دیا میں نے، میں ملٹری کا بوڑھا گھوڑا۔ نگرجن نے شاعری کے ساتھ ساتھ ناول اور دیگر نثری اصناف میں بھی لکھا ہے۔ ان کا پورا کام نگرجن رچناولی کے سات جلدوں میں شائع ہے۔ ادبی خدمات کے لیے انہیں کئی انعامات سے نوازا گیا جن میں اہم ہیں ہندی اکیڈمی، دہلی کا شکر سمّان، اتر پردیش کا بھارت بھارتی انعام اور بہار کا راجندر پرساد انعام۔ میتھلی زبان میں شاعری کے لیے انہیں ساہتیہ اکیڈمی انعام دیا گیا۔

سیاسی سرگرمی کی وجہ سے انہیں کئی بار جیل جانا پڑا۔ ہندی اور میتھلی میں یکساں طور پر لکھنے والے نگرجن نے بنگالی اور سنسکرت میں بھی نظمیں لکھیں۔ اپنی مادری زبان میتھلی میں وہ ‘یاتری’ کے نام سے مشہور ہیں۔

عوامی زندگی سے گہرا تعلق رکھنے والے نگرجن بدعنوانی، سیاسی مفاد پرستی اور معاشرے کی زوال پذیر حالتوں کے بارے میں اپنے ادب میں خاص طور پر بیدار رہے۔ وہ طنز و مزاح میں ماہر ہیں،

اس لیے انہیں جدید کبیر بھی کہا جاتا ہے۔ چھایا واد کے بعد کے دور کے وہ ایسے واحد شاعر ہیں، جن کی شاعری گاؤں کی چوپالوں اور ادبی دنیا میں یکساں طور پر مقبول رہی۔ وہ حقیقی معنوں میں عوامی شاعر ہیں۔ معاصر شعور سے گہرائی سے جڑے نگرجن کی تحریکی شاعری کو وسیع مقبولیت ملی۔ نگرجن نے بحروں میں شاعری کی اور آزاد بحر میں بھی۔

اس نظم میں چھوٹے بچے کی دلکش مسکراہٹ دیکھ کر شاعر کے دل میں جو جذبات اٹھتے ہیں انہیں نظم میں کئی تصویروں کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ اس خوبصورتی میں ہی زندگی کا پیغام ہے۔ اس خوبصورتی کی وسعت ایسی ہے کہ سخت سے سخت دل بھی پگھل جائے۔ اس دانتوں والی مسکراہٹ کی دلکشی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب اس کے ساتھ آنکھوں کی چالاکی شامل ہو جاتی ہے۔

فصل کا لفظ سنتے ہی کھیتوں میں لہلہاتی فصل آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ لیکن فصل ہے کیا اور اسے پیدا کرنے میں کن کن عناصر کا حصہ ہوتا ہے، اسے بتایا ہے نگرجن نے اپنی نظم فصل میں۔ نظم یہ بھی واضح کرتی ہے کہ فطرت اور انسان کے تعاون سے ہی تخلیق ممکن ہے۔ بول چال کی زبان کی رفتار اور لے نظم کو مؤثر بناتی ہے۔

کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ نظم ہمیں صارفیت کے دور میں زرعی ثقافت کے قریب لے جاتی ہے۔

یہ دانتوریت مسکان


تمہاری یہ دانتوریت مسکان

مرتک میں بھی ڈال دے گی جان

دھولی دھسر تمہارے یے گات…

چھوڑ کر تالاب میری جھونپڑی میں کھل رہے جلجات

پرس پا کر تمہارا ہی پران،

پگھل کر جل بن گیا ہوگا کٹھن پاشان


چھو گیا تم سے کہ جھرنے لگ پڑے شیفالیکا کے پھول

بانس تھا کہ ببول؟

تم مجھے پائے نہیں پہچان؟

دیکھتے ہی رہو گے انیمیش!

تھک گئے ہو؟

آنکھ لوں میں پھیر؟

کیا ہوا اگر ہو سکے پرچت نہ پہلی بار؟

اگر تمہاری ماں نہ میڈیم بنی ہوتی آج

میں نہ سکتا دیکھ

میں نہ پاتا جان

تمہاری یہ دانتوریت مسکان

دھنیہ تم، ماں بھی تمہاری دھنیہ!

چر پرواسی میں اتر، میں انیہ!

اس اتیتھی سے پریا تمہارا کیا رہا سمپرک

انگلیاں ماں کی کراتی رہی ہیں مدھپرک

دیکھتے تم ادھر کنکھی مار

اور ہوتیں جب کہ آنکھیں چار

تب تمہاری دانتوریت مسکان

مجھے لگتی بڑی ہی چھومان!


فصل


ایک کے نہیں،

دو کے نہیں،

ڈھیر ساری ندّیوں کے پانی کا جادو:

ایک کے نہیں،

دو کے نہیں،

لاکھ لاکھ کروڑ کروڑ ہاتھوں کے سپرش کی گرما:

ایک کی نہیں،

دو کی نہیں،

ہزار ہزار کھیتوں کی مٹّی کا گن دھرم:

فصل کیا ہے؟

اور تو کچھ نہیں ہے وہ

ندّیوں کے پانی کا جادو ہے وہ

ہاتھوں کے سپرش کی مہما ہے

بھوری کالی سندلی مٹّی کا گن دھرم ہے

روپ انتر ہے سورج کی کرنوں کا

سمٹا ہوا سنکوچ ہے ہوا کی تھرکن کا!

سوال-مشق

یہ دانتوریت مسکان

1. بچے کی دانتوں والی مسکراہٹ کا شاعر کے دل پر کیا اثر پڑتا ہے؟

2. بچے کی مسکراہٹ اور ایک بڑے آدمی کی مسکراہٹ میں کیا فرق ہے؟

3. شاعر نے بچے کی مسکراہٹ کے حسن کو کن کن تصویروں کے ذریعے ظاہر کیا ہے؟

4. مطلب واضح کیجیے-

(ک) چھوڑ کر تالاب میری جھونپڑی میں کھل رہے جلجات۔

(کھ) چھو گیا تم سے کہ جھرنے لگ پڑے شیفالیکا کے پھول بانس تھا کہ ببول؟

تخلیق اور اظہار

5. مسکراہٹ اور غصہ مختلف جذبات ہیں۔ ان کی موجودگی سے بننے والے ماحول کی مختلفیت کا نقشہ کھینچیے۔

6. دانتوں والی مسکراہٹ سے بچے کی عمر کا اندازہ لگائیے اور دلیل کے ساتھ جواب دیجیے۔

7. بچے سے شاعر کی ملاقات کا جو لفظی نقشہ سامنے آیا ہے، اسے اپنے الفاظ میں لکھیے۔

متن سے ہٹ کر سرگرمی

  • آپ جب بھی کسی بچے سے پہلی بار ملیں تو اس کے چہرے کے تاثرات، رویے وغیرہ کو باریکی سے دیکھیے اور اس تجربے کو نظم یا پیراگراف کی شکل میں لکھیے۔

  • این سی ای آر ٹی کے ذریعے نگرجن پر بنائی گئی فلم دیکھیے۔

فصل

1. شاعر کے مطابق فصل کیا ہے؟

2. نظم میں فصل اگانے کے لیے ضروری عناصر کی بات کہی گئی ہے۔ وہ ضروری عناصر کون کون سے ہیں؟

3. فصل کو ‘ہاتھوں کے چھونے کی عظمت’ اور ‘عظمت’ کہہ کر شاعر کیا ظاہر کرنا چاہتا ہے؟

4. مطلب واضح کیجیے-

(ک) روپ انتر ہے سورج کی کرنوں کا

سمٹا ہوا سنکوچ ہے ہوا کی تھرکن کا!

تخلیق اور اظہار

5. شاعر نے فصل کو ہزار ہزار کھیتوں کی مٹی کا گن دھرم کہا ہے-

(ک) مٹی کے گن دھرم کو آپ کس طرح بیان کریں گے؟

(کھ) موجودہ طرز زندگی مٹی کے گن دھرم کو کس کس طرح متاثر کرتی ہے؟

(گ) مٹی کے اپنا گن دھرم چھوڑنے کی صورت میں کیا کسی بھی قسم کی زندگی کا تصور کیا جا سکتا ہے؟

(گھ) مٹی کے گن دھرم کو پروان چڑھانے میں ہماری کیا کردار ہو سکتی ہے؟

متن سے ہٹ کر سرگرمی

  • الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے آپ نے کسانوں کی حالت کے بارے میں بہت کچھ سنا، دیکھا اور پڑھا ہوگا۔ ایک مضبوط زرعی نظام کے لیے آپ اپنے مشورے دیتے ہوئے اخبار کے ایڈیٹر کو خط لکھیے۔

  • فصلوں کی پیداوار میں خواتین کے حصے کو ہماری معیشت میں اہمیت کیوں نہیں دی جاتی ہے؟ اس بارے میں کلاس میں بحث کیجیے۔


الفاظ کا خزانہ

دانتوریت - بچوں کے نئے نئے دانت
دھولی دھسر گات - دھول مٹی سے بھرے اعضاء
جلجات - کنول کا پھول
انیمیش - بغیر پلک جھپکائے مسلسل دیکھنا
اتر - دوسرا
مدھپرک - دہی، گھی، شہد، پانی اور دودھ کا مرکب جو دیوتا اور مہمان کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ عام لوگ اسے پنچ امرت کہتے ہیں، نظم میں اس کا استعمال بچے کو زندگی دینے والی محبت کی مٹھاس سے بھرے ماں کے پیار کے طور پر ہوا ہے
کنکھی - ترچھی نظر سے دیکھنا
چھومان - خوبصورت