باب 9
रसखान
راسخان کا سن 1548 میں پیدا ہونا مانا جاتا ہے۔ ان کا اصلی نام سید ابراہیم تھا اور وہ دہلی کے آس پاس کے رہنے والے تھے۔ کرشن بھکتی نے انہیں ایسا مسحور کر دیا کہ گوسوامی وٹھل ناتھ سے دیكشا لی اور برج بھومی میں جا بسے۔ سن 1628 کے لگ بھگ ان کی موت ہوئی۔
سجان راسخان اور پرم واتیکا ان کی دستیاب کُتیاں ہیں۔ راسخان رچناولی کے نام سے ان کی رچناؤں کا مجموعہ ملتا ہے۔ اہم کرشن بھکتی شاعر راسخان کی انورکتی نہ صرف کرشن کے لیے ظاہر ہوئی ہے بلکہ کرشن بھومی کے لیے بھی ان کا اننیہ انوراگ ظاہر ہوا ہے۔ ان کے کاوے میں کرشن کی روپ مادھری، برج مہیما، رادھا کرشن کی پرم لیلاؤں کا منوہر ورنن ملتا ہے۔ وہ اپنی پرم کی تنمیتا، بھاو وہل پن اور آسکتی کے الاش کے لیے جتنے مشہور ہیں اتنا ہی اپنی بھاشا کی مارمکتا، شبد چین اور وینجک شلی کے لیے۔ ان کے یہاں برج بھاشا کا اتینت سرس اور منورم پریوگ ملتا ہے، جس میں ذرا بھی شبدا ڈنبر نہیں ہے۔
یہاں سنکلت پہلے اور دوسرے سواۓ میں کرشن اور کرشن بھومی کے لیے شاعر کا اننیہ سمپن بھاو ظاہر ہوا ہے۔ تیسرے چھند میں کرشن کے روپ سوندریہ کے لیے گوپیوں کی اس مُگدتا کا چترن ہے جس میں وہ خود کرشن کا روپ دھارن کر لینا چاہتی ہیں۔ چوتھے چھند میں کرشن کی مُرلی کی دھن اور ان کی مُسکان کے اچوک پربھاو اور گوپیوں کی ووشتتا کا ورنن ہے۔
مَنُش ہوں تو وہی راسخانی بسوں برج گوکل گاؤں کے گوارن۔
جو پَسُو ہوں تو کہا بس میرو چروں نت نند کی دھینو میں جھارن۔۔
پاہن ہوں تو وہی گری کو جو کیو ہری چھتر پرندر دھارن۔
جو کھگ ہوں تو بسیرو کروں ملی کالندی کول کدمب کی ڈارن۔
یا لکُٹی ارو کامریا پر راج تِہوں پُر کو تَجی ڈاروں۔
آٹھوں سدھی نَوو نِدھی کے سُکھ نند کی گائی چرائی بُساروں۔۔
راسخان کبَوں ان آنکھوں سَوں، برج کے بن باغ تڑاگ نِہاروں۔
کوٹک اے کل دھوت کے دھام کرِیل کے کُنجن اوپر واروں۔۔
مور پکھا سر اوپر رکھیوں، گُنج کی مال گرے پہروں گی۔
اوڑھی پِتامبر لے لکُٹی بن گودھن گوارنی سنگ پھروں گی۔۔
بھاوتو وہی میرو راسخانی سَوں تیرے کہے سب سوانگ کروں گی۔
یا مُرلی مُرلی دھر کی اَدران دھری اَدرا نہ دھروں گی۔۔
کارنی دے انگُری رہیبو جب ہی مُرلی دھُنی مند بجی ہے۔
موہنی تانن سَوں راسخانی اٹا چڑھی گودھن گَی ہے تو گَی ہے۔۔
ٹیری کہوں سِگرے برج لوگنی کالھی کوئی کتنو سمجھی ہے۔
مائی ری وا مُکھ کی مُسکانی سمہاری نہ جی ہے، نہ جی ہے، نہ جی ہے۔۔
سوال-ابھیاس
1. برج بھومی کے لیے شاعر کا پرم کن کن روپوں میں ابھیوکت ہوا ہے؟
2. شاعر کا برج کے بن، باغ اور تالاب کو نہارنے کے پیچھے کیا کارن ہیں؟
3. ایک لکُٹی اور کامریا پر شاعر سب کچھ نیوچھاور کرنے کو کیوں تیار ہے؟
4. سخی نے گوپی سے کرشن کا کیسا روپ دھارن کرنے کا آگرہ کیا تھا؟ اپنے شبدوں میں ورنن کیجیے۔
5. آپ کے وچار سے شاعر پشو، پکشی اور پہاڑ کے روپ میں بھی کرشن کا سانیڈھیو کیوں پراپت کرنا چاہتا ہے؟
6. چوتھے سواۓ کے انوسار گوپیائیں اپنے آپ کو کیوں ووشت پاتی ہیں؟
7. بھاو سپشٹ کیجیے-
(ک) کوٹک اے کل دھوت کے دھام کرِیل کے کُنجن اوپر واروں۔
(کھ) مائی ری وا مُکھ کی مُسکانی سمہاری نہ جی ہے، نہ جی ہے، نہ جی ہے۔
8. ‘کالندی کول کدمب کی ڈارن’ میں کون سا النکار ہے؟
9. کاوی-سوندریہ سپشٹ کیجیے-
یا مُرلی مُرلی دھر کی اَدران دھری اَدرا نہ دھروں گی۔
رچنا اور ابھیوکتی
10. پرشتت سواۓوں میں جس طرح برج بھومی کے لیے پرم ابھیوکت ہوا ہے، اسی طرح آپ اپنی ماتری بھومی کے لیے اپنے منوبھاؤں کو ابھیوکت کیجیے۔
11. راسخان کے ان سواۓوں کا شکشک کی سہائتا سے کلاس میں آدرش واچن کیجیے۔ ساتھ ہی کِنہیں دو سواۓوں کو کنٹھست کیجیے۔ $84 /$ کھتیج
پاٹھیتر سکریتا
- سُرداس دوارا رچت کرشن کے روپ-سوندریہ سنبندھی پدوں کو پڑھیے۔ $ \qquad $ شبد-سمپدا$ \qquad $
| بسوں | - | بسنا، رہنا |
|---|---|---|
| کہا بس | - | وش میں نہ ہونا |
| میں جھارن | - | بیچ میں |
| گری | - | پہاڑ |
| پرندر | - | اندر |
| کالندی | - | یمنا |
| کامریا | - | کمبل |
| تڑاگ | - | تالاب |
| کل دھوت کے دھام | - | سونے-چاندی کے محل |
| کرِیل | - | کانٹے دار جھاڑی |
| واروں | - | نیوچھاور کرنا |
| بھاوتو | - | اچھا لگنا |
| اٹا | - | کوٹھا، اٹالیکا |
| ٹیری | - | پُکار کر بُلانا |
یہ بھی جانیں
سواۓا چھند - یہ ایک ورنک چھند ہے جس میں 22 سے 26 ورن ہوتے ہیں۔ یہ برج بھاشا کا بہو پریلت چھند رہا ہے۔
آٹھ سدھیاں - انیما، مہیما، گریما، لگھیما، پراپتی، پراکامے، اشیتو اور وشیتو - یہ آٹھ الاوکک شکتیاں آٹھ سدھیاں کہلاتی ہیں۔
نَو (نو) ندھیاں - پدم، مہا پدم، شنکھ، مکر، کچھپ، مکند، کند، نیل اور کھرو - یہ کُبیر کی نو ندھیاں کہلاتی ہیں۔