باب 2 لہاسہ کی طرف

यह नेपाल से तिब्बत जाने का मुख्य रास्ता ہے। जब फरी-कलिङ्पोङ् का रास्ता नहीं खुला था, तो नेपाल ही नहीं बल्कि हिंदुस्तान की चीज़ें भी इसी रास्ते तिब्बत जाया करती थीं। यह व्यापारिक ही नहीं بلکہ ایک فوجی راستہ بھی تھا، اسی لیے جگہ-جگہ فوجی چوکیاں اور قلعے بنے ہوئے ہیں، جن میں کبھی چینی پلٹن رہا کرتی تھی۔ آجکل بہت سے فوجی مکانات گر چکے ہیں۔ قلعے کے کسی حصے میں، جہاں کسانوں نے اپنا بسیرا بنا لیا ہے، وہاں گھر کچھ آباد نظر آتے ہیں۔ اسی طرح کا ایک متروک چینی قلعہ تھا۔ ہم وہاں چائے پینے کے لیے ٹھہرے۔ تبت میں مسافروں کے لیے بہت سی تکلیفیں بھی ہیں اور کچھ آرام کی باتیں بھی۔ وہاں ذات پات، چھوت چھات کا سوال ہی نہیں ہے اور نہ ہی عورتیں پردہ کرتی ہیں۔ بہت نچلے درجے کے بھکاریوں کو لوگ چوری کے ڈر سے گھر کے اندر نہیں آنے دیتے؛ ورنہ آپ بالکل گھر کے اندر چلے جا سکتے ہیں۔ چاہے آپ بالکل اجنبی ہوں، تب بھی گھر کی بہو یا ساس کو اپنی جھولی سے چائے دے سکتے ہیں۔ وہ آپ کے لیے اسے پکا دے گی۔ مکھن اور سوڈا-نمک دے دیجیے، وہ چائے چوڑی میں کوٹ کر اسے دودھ والی چائے کے رنگ کی بنا کر مٹی کے ٹونٹی دار برتن (خوٹی) میں رکھ کر آپ کو دے دے گی۔ اگر بیٹھک کی جگہ چولھے سے دور ہے اور آپ کو ڈر ہے کہ سارا مکھن آپ کی چائے میں نہیں پڑے گا، تو آپ خود جا کر چوڑی میں چائے مٹھا کر لا سکتے ہیں۔ چائے کا رنگ تیار ہو جانے کے بعد پھر نمک-مکھن ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

متروک چینی قلعے سے جب ہم چلنے لگے، تو ایک آدمی راہداری مانگنے آیا۔ ہم نے وہ دونوں چٹیں اسے دے دیں۔ شاید اسی دن ہم تھوڑلا سے پہلے کے آخری گاؤں میں پہنچ گئے۔ یہاں بھی سُمتی کے جان پہچان کے آدمی تھے اور بھکاری رہنے کے لیے بھی ٹھہرنے کی اچھی جگہ ملی۔ پانچ سال بعد ہم اسی راستے لوٹے تھے اور بھکاری نہیں، بلکہ ایک شریف مسافر کے لباس میں گھوڑوں پر سوار ہو کر آئے تھے؛ لیکن اس وقت کسی نے ہمیں رہنے کے لیے جگہ نہیں دی، اور ہم گاؤں کے ایک سب سے غریب جھونپڑے میں ٹھہرے تھے۔ بہت کچھ لوگوں کی اس وقت کی ذہنی کیفیت پر ہی منحصر ہے، خاص طور پر شام کے وقت چھڑ پی کر بہت کم ہوش و حواس کو درست رکھتے ہیں۔

اب ہمیں سب سے مشکل ڈانڈا تھوڑلا پار کرنا تھا۔ ڈانڈے تبت میں سب سے خطرناک جگہیں ہیں۔ سولہ-سترہ ہزار فٹ کی اونچائی ہونے کی وجہ سے ان کے دونوں طرف میلون تک کوئی گاؤں نہیں ہوتے۔ ندیاں کے موڑ اور پہاڑوں کے کونوں کی وجہ سے بہت دور تک آدمی کو دیکھا نہیں جا سکتا۔ ڈاکوؤں کے لیے یہی سب سے اچھی جگہ ہے۔ تبت میں گاؤں میں آ کر خون ہو جائے، تب تو قاتل کو سزا بھی مل سکتی ہے، لیکن ان سنسان جگہوں میں مرے ہوئے آدمیوں کے لیے کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ حکومت خفیہ محکمہ اور پولیس پر اتنا خرچ نہیں کرتی اور وہاں گواہ بھی تو کوئی نہیں مل سکتا۔ ڈاکو پہلے آدمی کو مار ڈالتے ہیں، اس کے بعد دیکھتے ہیں کہ کچھ پیسہ ہے کہ نہیں۔ ہتھیار کا قانون نہ ہونے کی وجہ سے یہاں لاٹھی کی طرح لوگ پستول، بندوق لیے پھرتے ہیں۔ ڈاکو اگر جان سے نہ مارے تو خود اسے اپنی جانوں کا خطرہ ہے۔ گاؤں میں ہمیں معلوم ہوا کہ پچھلے ہی سال تھوڑلا کے پاس خون ہو گیا۔ شاید خون کی ہم اتنی پرواہ نہیں کرتے، کیونکہ ہم بھکاری تھے اور جہاں کہیں ایسی صورت دیکھتے، ٹوپی اتار زبان نکال، “کُچی-کُچی (رحم-رحم) ایک پیسہ” کہہ کر بھیک مانگنے لگتے۔ لیکن پہاڑ کی اونچی چڑھائی تھی، پیٹھ پر سامان لاد کر کیسے چلتے؟ اور اگلا پڑاؤ 16-17 میل سے کم نہیں تھا۔ میں نے سُمتی سے کہا کہ یہاں سے لنگکور تک کے لیے دو گھوڑے کر لو، سامان بھی رکھ لیں گے اور چڑھے چلیں گے۔

دوسرے دن ہم گھوڑوں پر سوار ہو کر اوپر کی طرف چلے۔ ڈانڈے سے پہلے ایک جگہ چائے پی اور دوپہر کے وقت ڈانڈے کے اوپر جا پہنچے۔ ہم سطح سمندر سے 17-18 ہزار فٹ اونچے کھڑے تھے۔ ہماری دائیں طرف مشرق سے مغرب کی طرف ہمالیہ کے ہزاروں سفید چوٹیاں چلی گئی تھیں۔ بھیٹے کی طرف نظر آنے والے پہاڑ بالکل ننگے تھے، نہ وہاں برف کی سفیدی تھی، نہ کسی طرح کی ہریالی۔ شمال کی طرف بہت کم برف والی چوٹیاں نظر آتی تھیں۔ سب سے اونچی جگہ پر ڈانڈے کے دیوتا کا مقام تھا، جو پتھروں کے ڈھیر، جانوروں کے سینگوں اور رنگ برنگے کپڑے کے جھنڈوں سے سجایا گیا تھا۔ اب ہمیں برابر اترائی پر چلنا تھا۔ چڑھائی تو کچھ دور تھوڑی مشکل تھی، لیکن اترائی بالکل نہیں۔ شاید دو-ایک اور سوار ساتھی ہمارے ساتھ چل رہے تھے۔ میرا گھوڑا کچھ دھیمے چلنے لگا۔ میں نے سمجھا کہ چڑھائی کی تھکاوٹ کی وجہ سے ایسا کر رہا ہے، اور اسے مارنا نہیں چاہتا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ بہت پیچھے رہ گیا اور میں دون کویکسٹو کی طرح اپنے گھوڑے پر جھومتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ گھوڑا آگے جا رہا ہے یا پیچھے۔ جب میں زور دینے لگتا، تو وہ اور سست پڑ جاتا۔ ایک جگہ دو راستے پھوٹ رہے تھے، میں بائیں کا راستہ لے کر میل-ڈیڑھ میل چلا گیا۔ آگے ایک گھر میں پوچھنے سے پتہ چلا کہ لنگکور کا راستہ دائیں والا تھا۔ پھر لوٹ کر اسی کو پکڑا۔ چار-پانچ بجے کے قریب میں گاؤں سے میل بھر پر تھا، تو سُمتی انتظار کرتے ہوئے ملے۔ منگولوں کا منہ ویسے ہی لال ہوتا ہے اور اب تو وہ پورے غصے میں تھے۔ انہوں نے کہا-“میں نے دو ٹوکری کانڈے پھونک ڈالے، تین-تین بار چائے کو گرم کیا۔” میں نے بہت نرمی سے جواب دیا-“لیکن میرا قصور نہیں ہے دوست! دیکھ نہیں رہے ہو، کیسا گھوڑا مجھے ملا ہے! میں تو رات تک پہنچنے کی امید رکھتا تھا۔” خیر، سُمتی کو جتنی جلدی غصہ آتا تھا، اتنی ہی جلدی وہ ٹھنڈا بھی ہو جاتا تھا۔ لنگکور میں وہ ایک اچھی جگہ پر ٹھہرے تھے۔ یہاں بھی ان کے اچھے یجمان تھے۔ پہلے چائے-ستو کھایا گیا، رات کو گرم گرم تھوکپا ملا۔

اب ہم تینگری کے وسیع میدان میں تھے، جو پہاڑوں سے گھرا ہوا ٹاپو سا معلوم ہوتا تھا، جس میں دور ایک چھوٹی سی پہاڑی میدان کے اندر نظر آتی ہے۔ اسی پہاڑی کا نام ہے تینگری-سمادھی-گیری۔ آس پاس کے گاؤں میں بھی سُمتی کے کتنے ہی یجمان تھے، کپڑے کی پتلی پتلی چیری بتیوں کے گنڈے ختم نہیں ہو سکتے تھے، کیونکہ بودھ گیا سے لائے کپڑے کے ختم ہو جانے پر کسی کپڑے سے بودھ گیا کا گنڈا بنا لیتے تھے۔ وہ اپنے یجمانوں کے پاس جانا چاہتے تھے۔ میں نے سوچا، یہ تو ہفتہ بھر ادھر ہی لگا دیں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ جس گاؤں میں ٹھہرنا ہو، اس میں بھلے ہی گنڈے بانٹ دو، مگر آس پاس کے گاؤں میں مت جاؤ؛ اس کے لیے میں تمہیں لہاسا پہنچ کر روپے دے دوں گا۔ سُمتی نے قبول کیا۔ دوسرے دن ہم نے بھاریا ڈھونڈنے کی کوشش کی، لیکن کوئی نہ ملا۔ صبح ہی چل دیتے تو اچھا تھا، لیکن اب 10-11 بجے کی تیز دھوپ میں چلنا پڑ رہا تھا۔ تبت کی دھوپ بھی بہت تیز معلوم ہوتی ہے، اگرچہ تھوڑے سے بھی موٹے کپڑے سے سر کو ڈھانک لیں، تو گرمی ختم ہو جاتی ہے۔ آپ 2 بجے سورج کی طرف منہ کر کے چل رہے ہیں، پیشانی دھوپ سے جل رہی ہے اور پیچھے کا کندھا برف ہو رہا ہے۔ پھر ہم نے پیٹھ پر اپنی اپنی چیزیں لادی، ڈنڈا ہاتھ میں لیا اور چل پڑے۔ اگرچہ سُمتی کے شناسا تینگری میں بھی تھے، لیکن وہ ایک اور یجمان سے ملنا چاہتے تھے، اس لیے آدمی ملنے کا بہانہ کر کے شیکر ویہار کی طرف چلنے کے لیے کہا۔ تبت کی زمین بہت زیادہ چھوٹے بڑے جاگیرداروں میں بٹی ہے۔ ان جاگیروں کا بہت زیادہ حصہ مٹھوں (ویہاروں) کے ہاتھ میں ہے۔ اپنی اپنی جاگیر میں ہر ایک جاگیردار کچھ کھیتی خود بھی کراتا ہے، جس کے لیے مزدور بیگار میں مل جاتے ہیں۔ کھیتی کا انتظام دیکھنے کے لیے وہاں کوئی بھکشو بھیجا جاتا ہے، جو جاگیر کے آدمیوں کے لیے راجا سے کم نہیں ہوتا۔ شیکر کی کھیتی کے مُکھیا بھکشو (نمسی) بڑے شریف آدمی تھے۔ وہ بہت پیار سے ملے، حالانکہ اس وقت میرا بھیس ایسا نہیں تھا کہ انہیں کچھ بھی خیال کرنا چاہیے تھا۔ یہاں ایک اچھا مندر تھا؛ جس میں کنجر (بدھ وچن-ترجمہ) کی ہاتھ سے لکھی ہوئی 103 پوتھیاں رکھی ہوئی تھیں، میرا آسن بھی وہیں لگا۔ وہ بڑے موٹے کاغذ پر اچھے حروف میں لکھی ہوئی تھیں، ایک ایک پوتھی 15-15 سیر سے کم نہیں رہی ہو گی۔ سُمتی نے پھر آس پاس اپنے یجمانوں کے پاس جانے کے بارے میں پوچھا، میں اب کتابوں کے اندر تھا، اس لیے میں نے انہیں جانے کے لیے کہہ دیا۔ دوسرے دن وہ گئے۔ میں نے سمجھا تھا 2-3 دن لگیں گے، لیکن وہ اسی دن دوپہر کے بعد چلے آئے۔ تینگری گاؤں وہاں سے بہت دور نہیں تھا۔ ہم نے اپنا اپنا سامان پیٹھ پر اٹھایا اور بھکشو نمسی سے وداع لے کر چل پڑے۔

1. تھوڑلا سے پہلے کے آخری گاؤں پہنچنے پر بھکاری کے بھیس میں ہونے کے باوجود مصنف کو ٹھہرنے کے لیے مناسب جگہ ملی جبکہ دوسرے سفر کے وقت شریف لباس بھی انہیں مناسب جگہ نہیں دلا سکا۔ کیوں؟

2. اس وقت کے تبت میں ہتھیار کا قانون نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو کس قسم کا خوف رہتا تھا؟

3. مصنف لنگکور کے راستے میں اپنے ساتھیوں سے کس وجہ سے پیچھے رہ گئے؟

4. مصنف نے شیکر ویہار میں سُمتی کو ان کے یجمانوں کے پاس جانے سے روکا، لیکن دوسری بار روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟

5. اپنے سفر کے دوران مصنف کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟

6. پیش کردہ سفر نامے کی بنیاد پر بتائیے کہ اس وقت کا تبتی معاشرہ کیسا تھا؟

7. ‘میں اب کتابوں کے اندر تھا۔’ نیچے دیے گئے اختیارات میں سے کون سا اس جملے کا مطلب بتاتا ہے-

(ک) مصنف کتابیں پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔

(خ) مصنف کتابوں کی الماری کے اندر چلے گئے۔

(گ) مصنف کے چاروں طرف کتابیں ہی تھیں۔

(گھ) کتاب میں مصنف کا تعارف اور تصویر چھپی تھی۔

تخلیق اور اظہار

8. سُمتی کے یجمان اور دیگر شناسا لوگ تقریباً ہر گاؤں میں ملے۔ اس بنیاد پر آپ سُمتی کے شخصیت کی کن خصوصیات کا نقشہ کھینچ سکتے ہیں؟

9. ‘حالانکہ اس وقت میرا بھیس ایسا نہیں تھا کہ انہیں کچھ بھی خیال کرنا چاہیے تھا۔’ مذکورہ بیان کے مطابق ہمارے اخلاق و برتاؤ کے طریقے لباس کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ آپ کی سمجھ میں یہ مناسب ہے یا نامناسب، رائے ظاہر کریں۔

10. سفر نامے کی بنیاد پر تبت کی جغرافیائی صورت حال کا لفظی نقشہ پیش کریں۔ وہاں کی صورت حال آپ کے صوبے/شہر سے کس طرح مختلف ہے؟

11. آپ نے بھی کسی جگہ کا سفر ضرور کیا ہوگا؟ سفر کے دوران ہوئے تجربات کو لکھ کر پیش کریں۔

12. سفر نامہ نثر ادب کی ایک صنف ہے۔ آپ کی اس درسی کتاب میں کون کون سی اصناف ہیں؟ پیش کردہ صنف ان سے کن معنوں میں الگ ہے؟

زبان کا مطالعہ

13. کسی بھی بات کو کئی طریقوں سے کہا جا سکتا ہے، جیسے-

صبح ہونے سے پہلے ہم گاؤں میں تھے۔

پو پھٹنے والی تھی کہ ہم گاؤں میں تھے۔

ستاروں کی چھاؤں رہتے رہتے ہم گاؤں پہنچ گئے۔

نیچے دیے گئے جملے کو الگ الگ طریقے سے لکھیے-

‘پتہ نہیں چل رہا تھا کہ گھوڑا آگے جا رہا ہے یا پیچھے۔’

14. ایسے الفاظ جو کسی ‘علاقے’ یعنی خطے خاص میں استعمال ہوتے ہیں انہیں علاقائی الفاظ کہا جاتا ہے۔ پیش کردہ سبق میں سے علاقائی الفاظ ڈھونڈ کر لکھیے۔

15. سبق میں کاغذ، حروف، میدان کے آگے بالترتیب موٹے، اچھے اور وسیع الفاظ کا استعمال ہوا ہے۔ ان الفاظ سے ان کی خصوصیت ابھر کر آتی ہے۔ سبق میں سے کچھ ایسے ہی اور الفاظ چنئے جو کسی کی خصوصیت بتا رہے ہوں۔

سبق سے باہر سرگرمی

  • یہ سفر راہول جی نے 1930 میں کیا تھا۔ آج کے وقت اگر تبت کا سفر کیا جائے تو راہول جی کے سفر سے کیسے مختلف ہوگا؟

  • کیا آپ کے کسی شناسا کو گھومنے پھرنے/سیاحت کا شوق ہے؟ اس کے اس شوق کا اس کی پڑھائی/کام وغیرہ پر کیا اثر پڑتا ہوگا، لکھیں۔

  • غیر پڑھے ہوئے نثر کے حصے کو پڑھ کر دیے گئے سوالات کے جواب دیجیے-

عام دنوں میں سمندر کنارے کے علاقے بے حد خوبصورت لگتے ہیں۔ سمندر لاکھوں لوگوں کو خوراک دیتا ہے اور لاکھوں اس سے جڑے دوسرے کاروباروں میں لگے ہیں۔ دسمبر 2004 کو سونامی یا سمندری زلزلے سے اٹھنے والی طوفانی لہروں کے حملے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ قدرت کی یہ دین سب سے بڑے تباہی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

فطرت کب اپنے ہی تانے بانے کو الٹ کر رکھ دے گی، کہنا مشکل ہے۔ ہم اس کے بدلتے مزاج کو اس کا قہر کہہ لیں یا کچھ اور، مگر یہ بوجھ پہیلی اکثر ہمارے یقین کے چیتھڑے کر دیتی ہے اور ہمیں یہ احساس دلا جاتی ہے کہ ہم ایک قدم آگے نہیں، چار قدم پیچھے ہیں۔ ایشیا کے ایک بڑے حصے میں آنے والے اس زلزلے نے کئی جزیروں کو ادھر ادھر سرکا کر ایشیا کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ فطرت نے پہلے بھی اپنی ہی دی ہوئی کئی حیرت انگیز چیزیں انسان سے واپس لے لی ہیں جس کی کسک اب تک ہے۔

دکھ زندگی کو صیقل کرتا ہے، اسے آگے بڑھنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ وہ ہماری زندگی میں گرہن لاتا ہے، تاکہ ہم پورے روشنی کی اہمیت جان سکیں اور روشنی کو بچا کر رکھنے کے لیے کوشش کریں۔ اس کوشش سے تہذیب اور ثقافت کی تعمیر ہوتی ہے۔ سونامی کی وجہ سے جنوبی ہند اور دنیا کے دوسرے ممالک میں جو تکلیف ہم دیکھ رہے ہیں، اسے مایوسی کے شیشے سے نہ دیکھیں۔ ایسے وقت میں بھی میگھنا، ارون اور میگی جیسے بچے ہماری زندگی میں جوش، ولولہ اور طاقت بھر دیتے ہیں۔ 13 سالہ میگھنا اور ارون دو دن تنہا کھارے سمندر میں تیرتے ہوئے جانوروں سے مقابلہ کرتے ہوئے کنارے آ لگے۔ انڈونیشیا کی ریزا پڑوسی کے دو بچوں کو پیٹھ پر لاد کر پانی کے بیچ تیر رہی تھی کہ ایک عظیم الجثہ سانپ نے اسے کنارے کا راستہ دکھایا۔ ماہی گیر کی بیٹی میگی نے اتوار کو سمندر کا بھیانک شور سنا، اس کی شرارت کو سمجھا، فوراً اپنا بیڑا اٹھایا اور اپنے رشتہ داروں کو اس پر بٹھا کر اتر آئی سمندر میں، 41 لوگوں کو لے کر۔ محض 18 سال کی یہ جل پری چل پڑی پاگلے سمندر سے دو دو ہاتھ کرنے۔ دس میٹر سے زیادہ اونچی سونامی لہریں جو کوئی رکاوٹ، مزاحمت ماننے کو تیار نہیں تھیں، اس لڑکی کے بلند عزائم کے سامنے بونی ہی ثابت ہوئیں۔

جس فطرت نے ہمارے سامنے بھاری تباہی مچائی ہے، اسی نے ہمیں ایسی طاقت اور سوجھ بوجھ دے رکھی ہے کہ ہم پھر سے کھڑے ہوتے ہیں اور چیلنجوں سے لڑنے کا ایک راستہ ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ اس سانحے سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے جس طرح پوری دنیا متحد ہوئی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانیت ہار نہیں مانتی۔

(1) کون سی آفت کو سونامی کہا جاتا ہے؟

(2) ‘دکھ زندگی کو صیقل کرتا ہے، اسے آگے بڑھنے کا ہنر سکھاتا ہے’- مطلب واضح کیجیے۔

(3) میگی، میگھنا اور ارون نے سونامی جیسی آفت کا سامنا کس طرح کیا؟

(4) پیش کردہ نثر کے حصے میں ‘پختہ عزم’ اور ‘اہمیت’ کے لیے کن الفاظ کا استعمال ہوا ہے؟

(5) اس نثر کے حصے کے لیے ایک عنوان ‘ناراض سمندر’ ہو سکتا ہے۔ آپ کوئی دوسرا عنوان دیجیے۔

لفظی خزانہ

ڈانڈا - اونچی زمین
تھوڑلا - تبتی سرحد کا ایک مقام
بھیٹا - ٹیلے کی شکل سا اونچا مقام
کانڈے - گائے بھینس کے گوبر سے بنے اپلے جو ایندھن کے کام میں آتے ہیں۔
ستو - بھونے ہوئے اناج (جو، چنا) کا آٹا
تھوکپا - ستو یا چاول کے ساتھ مولی، ہڈی اور گوشت کے ساتھ پتلی لیئی کی طرح پکایا گیا کھانے کا سامان
گنڈا - منتر پڑھ کر گرہ لگایا ہوا دھاگہ یا کپڑا
چیری - پھاڑی ہوئی
بھاریا - بوجھ اٹھانے والا
سُمتی - مصنف کو سفر کے دوران ملا منگول بھکشو جس کا نام لوبننگ شیکھ تھا۔ اس کا مطلب ہے سُمتی پرگیا۔ اس لیے سہولت کے لیے مصنف نے اسے سُمتی نام سے پکارا ہے۔
دونوں چٹیں - نم گاؤں کے پاس پل سے ندی پار کرنے کے لیے جوڈپون (مجسٹریٹ) کے ہاتھ کی لکھی ہوئی لمیئک (راہداری) جو مصنف نے اپنے منگول دوست کے ذریعے حاصل کی۔
دون کویکسٹو - ہسپانوی ناول نگار سروینٹیز (17ویں صدی) کے ناول ‘ڈان کیوکسوٹ’ کا مرکزی کردار، جو گھوڑے پر چلتا تھا۔