باب 2: میرے ساتھ خواتین

میری ایک نانی تھیں۔ ظاہر ہے۔ پر میں نے انہیں کبھی دیکھا نہیں۔ میری ماں کی شادی ہونے سے پہلے ہی ان کی موت ہو گئی تھی۔ شاید نانی سے کہانی نہ سن پانے کے باعث بعد میں، ہم تین بہنوں کو خود کہانیاں کہنی پڑیں۔ نانی سے کہانی بھلے نہ سنی ہو، نانی کی کہانی ضرور سنی اور بہت بعد میں جا کر اس کا اصل مرم سمجھ میں آیا۔ پہلے اتنا ہی جانا کہ میری نانی، روایتی، ان پڑھ، پردہ نشین عورت تھیں، جن کے شوہر شادی کے فوراً بعد انہیں چھوڑ کر بیرسٹری پڑھنے ولایت چلے گئے تھے۔ کیمبرج یونیورسٹی سے ڈگری لے کر جب وہ لوٹے اور ولایتی ریت رواج کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگے تو، نانی کے اپنے رہن سہن پر، اس کا کوئی اثر نہیں پڑا، نہ انہوں نے اپنی کسی خواہش-آرزو یا پسند-ناپسند کا اظہار شوہر پر کبھی کیا۔

  1. پردہ کرنے والی عورت

پر جب کم عمری میں نانی نے خود کو موت کے قریب پایا تو، پندرہ سالہ اکلوتی بیٹی ‘میری ماں’ کی شادی کی فکر نے اتنا ڈرایا کہ وہ یکدم منہ زور ${ }^{1}$ ہو اٹھیں۔ نانا سے انہوں نے کہا کہ وہ پردے کا لحاظ چھوڑ کر ان کے دوست آزادی-سپاہی پیارے لال شرما سے ملنا چاہتی ہیں۔ سب دنگ-حیران رہ گئے۔ جس پردہ نشین عورت نے پرائے مرد سے کیا، خود اپنے مرد سے منہ کھول کر بات نہیں کی تھی، آخری وقت میں اجنبی سے کیا کہنا چاہ سکتی ہے؟ پر نانا نے وقت کی کمی اور موقع کی نزاکت کی لاج رکھی! سوال-جواب میں وقت برباد کرنے کے بجائے فوراً جا کر دوست کو لے آئے اور بی بی کے حضور میں پیش کر دیا۔

اب جو نانی نے کہا، وہ اور بھی حیرت انگیز تھا۔ انہوں نے کہا، “وچن دیجیے کہ میری لڑکی کے لیے ور آپ طے کریں گے۔ میرے شوہر تو صاحب ہیں اور میں نہیں چاہتی میری بیٹی کی شادی، صاحبوں کے فرماں بردار ${ }^{2}$ سے ہو۔ آپ اپنی طرح آزادی کا سپاہی ڈھونڈ کر اس کی شادی کرا دیجیے گا۔” کون کہہ سکتا تھا کہ اپنی آزادی سے پوری طرح بے خبر اس عورت کے دل میں ملک کی آزادی کے لیے ایسا جنون ہوگا۔ بعد میں میری سمجھ میں آیا کہ دراصل وہ ذاتی زندگی میں بھی کافی آزاد خیال رہی ہوں گی۔ ٹھیک ہے، انہوں نے نانا کی زندگی میں کوئی دخل نہیں دیا، نہ اس میں شریک ہوئیں، پر اپنی زندگی کو اپنے ڈھنگ سے جیتی ضرور رہیں۔ روایتی، گھریلو، اُباؤ اور خاموش زندگی جینے میں، آج کے حساب سے، انقلابی چاہے کچھ نہ رہا ہو دوسرے کی طرح جینے کے لیے مجبور نہ ہونے میں اصلی آزادی کچھ زیادہ ہی تھی۔

  1. بہت بولنے والی 2. فرماں بردار

خیر، اس طرح میری ماں کی شادی ایسے پڑھے لکھے ہونہار لڑکے سے ہوئی، جسے آزادی کے تحریک میں حصہ لینے کے جرم میں آئی۔سی۔ایس۔ کے امتحان میں بیٹھنے سے روک دیا گیا تھا اور جس کی جیب میں پشتینی پیسہ-دھیلا ایک نہیں تھا۔ ماں، بیچاری، اپنی ماں اور گاندھی جی کے اصولوں کے چکر میں سادہ زندگی گزارنے اور اونچے خیال رکھنے پر مجبور ہوئیں۔ حال ان کا یہ تھا کہ کھادی کی ساری انہیں اتنی بھاری لگتی تھی کہ کمر چنکا کھا جاتی۔ رات رات بھر جاگ کر وہ اسے پہننے کا مشق کرتیں، جس سے دن میں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔ وہ کچھ ایسی نازک تھیں کہ انہیں دیکھ کر ان کی ساس یعنی میری دادی نے کہا تھا، “ہماری بہو تو ایسی ہے کہ دھوئی، پونچھی اور چھینکے پر ٹانگ دی۔” غنیمت یہی تھی کہ کسی نے انہیں چھینکے پر سے اتارنے کی پیشکش نہیں کی۔

کیوں نہیں کی، اس کی دو وجوہات تھیں۔ پہلی یہی کہ ہندوستان کے تمام باشندوں کی طرح، ان کے سسرال والے بھی، صاحبوں سے خاصے متاثر تھے اور میرے نانا پکے صاحب مانے جاتے تھے۔ بس ذات سے وہ ہندوستانی تھے، باقی چہرے-موہرے، رنگ-ڈھنگ، پڑھائی-لکھائی، سب میں انگریز تھے۔ مزے کی بات یہ تھی کہ ہمارے ملک میں آزادی کی جنگ لڑنے والے ہی انگریزوں کے سب سے بڑے پرستار تھے، گاندھی-نہرو ہوں یا میرے والد صاحب کے گھر والے۔ بھلے لڑکا، آزادی کی لڑائی لڑتے، جیب خالی اور شہرت سر کرتا رہے، دبدبہ اس کے صاحبی سسر کا ہی تھا۔ ایک آن بان شان والے صاحب نے ان کے سر پھرے لڑکے کو اپنی نازک جان لڑکی سونپی، اس سے رومانچک کیا کوئی پرکھیا ہوتی! نانی کی سنک بھری آخری خواہش اور نانا کی رضامندی، وہ رومانچک ذیلی کہانیاں تھیں، جو کہانی کے تِلسم کو اور گاڑھا بنا چکی تھیں۔ دوسری وجہ ماں کی اپنی شخصیت تھی۔ ان میں خوبصورتی، نزاکت، غیر-دنیاداری کے ساتھ ایمانداری اور بے طرفی کچھ اس طرح گھلی ملی تھی کہ وہ پری زاد سے کم جادوئی نہیں معلوم پڑتی تھیں۔ ان سے ٹھوس کام کروانے کی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ہاں، ہر ٹھوس اور ہوائی کام کے لیے ان کی زبانی رائے ضرور مانگی جاتی تھی اور پتھر کی لکیر کی طرح نبھائی بھی جاتی تھی۔

میں نے اپنی دادی کو کئی بار کہتے سنا تھا، “ہم ہاتھی پر ہل نہ جوتوایا کرتے، ہم پر بیل ہیں۔” بچپن میں ہی مجھے اس جملے کا بھاوارتھ سمجھ میں آ گیا تھا، جب دیکھا تھا کہ، ہم بچوں کی ممتا لو پرورش کے معاملے میں ماں کے سوا گھر کے سب جاندار مستعد ${ }^{1}$ رہتے تھے۔ دادی اور ان کی جیٹھانیاں ہی نہیں، خود مرد جات، والد صاحب بھی۔

پر ٹھوس کام نہ کرنے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ماں کو آزادی کا جنون کم تھا۔ وہ بھرپور تھا اور اپنے طریقے سے وے اسے بھرپور نبھاتی رہی تھیں۔ ظاہر ہے کہ جب جنون آزادی کا ہو تو، اسے نبھانا بھی آزادی سے چاہیے۔ جس تیس سے پوچھ کر، اس کے طریقے سے نہیں، خود اپنے طریقے سے۔

ہم نے اپنی ماں کو کبھی ہندوستانی ماں جیسا نہیں پایا۔ نہ انہوں نے کبھی ہمیں لاڈ کیا، نہ ہمارے لیے کھانا پکایا اور نہ اچھی بیوی-بہو ہونے کی سکھ دی۔ کچھ اپنی بیماری کے چلتے بھی، وے گھر بار نہیں سنبھال پاتی تھیں پر اس میں زیادہ ہاتھ ان کی عدم دلچسپی کا تھا۔ ان کا زیادہ وقت کتابیں پڑھنے میں گزرتا تھا، باقی وقت ادب-چرچا میں یا موسیقی سننے میں اور وے یہ سب بستر پر لیٹے لیٹے کیا کرتی تھیں۔ پھر بھی، جیسا میں نے پہلے کہا تھا، ہمارے روایتی دادا-دادی یا ان کی سسرال کے دیگر افراد انہیں نہ نام دھرتے تھے، نہ ان سے عام عورت کی طرح ہونے کی توقع رکھتے تھے۔ ان میں سب کی اتنی عقیدت کیوں تھی، جبکہ وہ بیوی، ماں اور بہو کے کسی مشہور فرض کی پابندی نہیں کرتی تھیں؟ صاحبی خاندان کے رعب کے علاوہ میری سمجھ میں دو وجوہات آئی ہیں-(1) وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتی تھیں اور (2) وہ ایک کی راز کی بات کو دوسرے پر ظاہر نہیں ہونے دیتی تھیں۔

پہلے کے باعث انہیں گھر والوں کا احترام ملتا تھا؛ دوسرے کے باعث باہر والوں کی دوستی۔ دوست وہ ہماری بھی تھیں، ماں کا کردار ہمارے والد بخوبی نبھا دیتے تھے۔ مجھے یاد ہے، بچپن میں بھی ہمارے گھر میں کسی کی چٹھی آنے پر کوئی اس سے یہ نہیں پوچھتا تھا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ بھلے وہ ایک بہن کی

  1. تیار، چست، تیار

دوسری کے نام کیوں نہ ہو۔ اور ماں یہ جاننے کے لیے بے حال ہوں کہ بیماری سے وہ اُبھری یا نہیں۔ چھوٹے سے گھر میں چھہ بچوں کے ساتھ، ساس-سسر وغیرہ کے رہتے ہوئے بھی، ہر شخص کو اپنی انفرادیت بنائے رکھنے کی چھوٹ تھی۔ اسی انفرادیت بنائے رکھنے کی چھوٹ کا فائدہ اٹھا کر، ہم تین بہنیں اور چھوٹا بھائی تحریر کے حوالے ہو گئے۔

لیک سے کھسکے، اپنے آباؤ اجداد میں، ماں اور نانی ہی رہی ہوتیں تو غنیمت رہتی، پر اپنی ایک پردادی بھی تھیں، جنہیں قطار سے باہر چلنے کا شوق تھا۔ انہوں نے روزہ رکھا تھا کہ اگر خدا کے فضل ${ }^{1}$ سے، ان کے پاس کبھی دو سے زیادہ دھوتیاں ہو جائیں گی تو وہ تیسری دان کر دیں گی۔ جین سماج میں عدم ذخیرہ اندوزی ${ }^{2}$ کی سنک برادری باہر حرکت نہیں مانی جاتی، اس لیے وہاں تک تو ٹھیک تھا۔ پر ان کا اصل جادو تب دیکھنے کو ملا، جب میری ماں پہلی بار حاملہ ہوئیں۔ میری پردادی نے مندر میں جا کر منت مانگی کہ ان کی بہو کا پہلا بچہ لڑکی ہو۔ یہ غیر روایتی منت مانگ کر ہی انہیں چین نہیں پڑا۔ اسے بھگوان اور اپنے بیچ پوشیدہ رکھنے کے بجائے سرعام اس کا اعلان کر دیا۔ لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ ان کے فِٹور کی کوئی معقول وجہ ڈھونڈے نہ ملی۔ یہ بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ خاندان میں پشتوں سے کنیا پیدا نہیں ہوئی تھی، اس لیے ماں جی بیچاری کنیا دان کے پن کے فقدان کو پورا کرنے کے چکر میں تھیں۔ کیونکہ والد صاحب کی ہی نہیں، دادا جی کی بھی بہنیں موجود تھیں۔ ہاں، پہلا بچہ ہر بہو کا بیٹا ہوتا رہا تھا۔ خیر، ماں جی نے اپنی طرف سے کوئی صفائی نہیں دی، بلکہ بدستور ${ }^{3}$ مندر جا کر منت دہراتی رہیں۔ پورا نکوڑ گاؤں جانتا تھا کہ ماں جی کا بھگوان کے ساتھ سیدھا سیدھا تار جڑا ہوا ہے۔ بے تار کا تار۔ ادھر وہ تار کھینچتی، ادھر ٹن سے تھاتھستو بجتا۔ میری دادی تو پہلی مرتبہ میں ہی تیار ہو گئی تھیں کہ گود میں کھیلے گی، تو پوتی۔ پر ماں جی کی آرزو کس قدر رنگ لائے گی، اس کا انہیں بھی گمان نہ رہا ہوگا۔

  1. انعام، مہربانی 2. ذخیرہ اندوزی نہ کرنا، کسی سے کچھ قبول نہ کرنا 3. قاعدے سے

لڑکی کی غیر معقول جستجو سن، بھگوان کچھ ایسی افراتفری میں آ گئے کہ ایک نہ دو، پوری پانچ کنیائیں، ایک کے بعد ایک زمین پر اتار دیں۔ بھگوان کو کیا کہیں، ماں جی کے سامنے تو نامی چور بھی افراتفری میں آ جاتے تھے۔ ماں جی اور نامی چور کا قصہ ہوش سنبھالنے کے بعد میں نے کئی بار سنا تھا، چور کے دیدار کی خوش نصیبی بھی ہاتھ آئی تھی۔

ہوا یوں تھا کہ کسی شادی کے سلسلے میں نکوڑ کی حویلی کے تمام مرد بارات میں دوسرے گاؤں گئے ہوئے تھے۔ عورتیں سج دھج کر رات جاگ منا رہی تھیں۔ ناچ گانے اور ڈھولک کی تھاپ کے شور میں نامی چور کب سینڈھ لگا کر حویلی میں گھسا، کسی کو خبر نہ ہوئی۔ پر چور تھا بدقسمت، جس کمرے میں گھسا، اس میں ماں جی سوئی ہوئی تھیں۔ عورتوں کے شور سے بچنے کو، وے اپنا کمرہ چھوڑ دوسرے میں جا سوئی تھیں۔ چور بیچارا، تمام جغرافیہ دماغ میں بٹھلا کر اترا تھا، اسے کیا پتا تھا کہ اتنی بڑی بوڑھی پُرکھن جگہ بدل لے گی۔ خیر، بڑھاپے کی نیند ٹھہری، چور کے دبے پاؤں کی آہٹ سے ہی کھل گئی۔

“کون؟” ماں جی نے اطمینان سے پوچھا۔

“جی، میں”، چور نے یُگوں سے چلا آ رہا، روایتی، بے جوڑ جواب دیا۔

“پانی پلا”، ماں جی نے کہا۔

“جی میں…؟” چور جھجک کر رہ گیا۔

تب تک ماں جی بستر کے برابر میں ٹٹول کر دیکھ چکی تھیں، لوٹا خالی تھا۔ “ایسا کر”، انہوں نے کہا، “یہ لوٹا لے اور کنویں سے پانی بھر لا۔ پر دیکھ، کپڑا کس کر باندھے رکھیو اور طریقے سے چھانیو۔”

چور گھبرا گیا، اندھیرے میں انہوں نے کیسے جانا کہ اس کے منہ پر کپڑا بندھا ہے اور کمر میں بھنگ۔ بھگوان سے ان کا تار جڑے ہونے کی خبر اسے تھی۔ پر بڑھیا بھنگ بھی چھانتی ہوگی، یکدم یقین نہ ہوا۔ اسی سے کچھ حیران پریشان ہو اٹھا۔

“جلدی کر بھائی”، تبھی ماں جی نے کہا، “بڑی پیاس لگی ہے۔”

“پر میں تو چور ہوں”، مارے گھبراہٹ اور دھرم سنکٹ کے چور سچ کہ گیا۔

“ہوا کرے”، ماں جی نے کہا، “پیاسے کو پانی تو پلا۔ پر دیکھ، میرا دھرم نہ بگاڑیو، لوٹے کے منہ سے کپڑا نہ ہٹائیو، ہاتھ رگڑ کر دھو لیو اور پانی کپڑے سے چھان کر بھریو۔”

“آپ چور کے ہاتھ کا پی لو گی؟”

“کہا نہ، رگڑ کر دھو لیو، سب ناچ گانے میں لگے ہیں، تیرے اور بھگوان کے سوا کون دھرا ہے، جو پلائے گا۔”

بھگوان وہیں کہیں اس کے برابر میں دھرے ہیں، سن کر چور کچھ ایسا اکبکایا ${ }^{1}$ کہ لوٹا اٹھا کر چل دیا۔ پوری احتیاط کے ساتھ پانی بھر کر لوٹا تو، پہریدار نے دھر دبوچا۔ کنویں پر دیکھ لیا گیا تھا۔

تب ماں جی نے لوٹے کا آدھا پانی خود پی کر، باقی چور کو پلا دیا اور کہا، “ایک لوٹے سے پانی پی کر ہم ماں-بیٹے ہوئے۔ اب بیٹا، چاہے تو تو چوری کر، چاہے کھیتی۔”

بیٹا بیچارا کس لائق رہ گیا ہوگا۔ سو رومانچک دھندہ چھوڑ کھیتی سے لگا۔ سالوں سال لگا رہا۔ جب میں نے اسے دیکھا تو بڑا بھلامانس بوڑھا لگا مجھے، ڈرا ڈرا، حیران سا۔

اب خاندانی وراثت کہیے یا جراثیم کا پرکھاؤ، ان دو سنکی بڑھیوں کے بیچ میں اچھی پھنسی! ایک طرف، ماں جی کے چلتے، اپنے لڑکی ہونے پر کوئی ہیں بھاونا من میں نہیں اُپجی۔ دوسری طرف، نانی کے چلتے، ملک کی آزادی کو لے کر ناحق رومانی ہی رہی۔

  1. گھبرایا

15 اگست 1947 کو، جب ملک کو آزادی ملی یا کہنا چاہیے، جب آزادی پانے کا جشن منایا گیا تو بدقسمتی سے میں بیمار تھی۔ ان دنوں، ٹائیفائیڈ خاصا جان لیوا مرض مانا جاتا تھا۔ اس لیے میرے تمام رونے دھونے کے باوجود ڈاکٹر نے مجھے انڈیا گیٹ جا کر، جشن میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔ چونکہ ڈاکٹر اپنے نانا کے پریم دوست، ان سے زیادہ نانا تھے اس لیے ہمارے والد صاحب، جو بات بات پر حکمرانوں سے لڑتے بھڑتے پھرتے تھے، چپ سادھ گئے۔ میں بدستور روتی کَلپتی رہی، کیا کوئی بچہ اکلوتی گڑیا کے ٹوٹ جانے پر رویا ہوگا! میری عمر تب نو برس کی تھی۔ اتنی چھوٹی نہیں کہ گڑیا سے بہلتی اور اتنی بڑی نہیں کہ ڈاکٹری دلیل سمجھتی۔ تنگ آ کر والد صاحب مجھے ‘برادرز کارامازوف’ ناول پکڑا گئے۔ کتابیں پڑھنے کا مجھے مریض ${ }^{2}$ تھا۔ سو، جب کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ والد صاحب کو چھوڑ کر، گھر کے باقی سب جاندار فرار ہو چکے تھے اور والد صاحب دوسرے کمرے میں بیٹھے اپنی کتاب پڑھ رہے تھے تو، رونا دھونا چھوڑ کر میں نے بھی کتاب کھول لی۔ ایک بار شروع کر لینے پر، اس نے مجھے اتنی مہلت ${ }^{3}$ نہیں دی کہ دوبارہ رونا شروع کروں یا کوئی اور کام پکڑوں۔ اس وقت ‘برادرز کارامازوف’ مجھے دینے میں کیا تھا، تب میری سمجھ میں نہیں آیا۔ کتاب کتنی سمجھ میں آئی، وہ اب تک نہیں جانتی، کیونکہ اس کے بعد اتنی بار پڑھی کہ سبھی پاٹ آپس میں گڈ مڈ ہو گئے۔ کتنا پہلی بار میں پلے پڑا، کتنا بعد میں، کہنا مشکل ہے۔ پر اتنا یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ اس کا ایک باب، جو بچوں پر ہونے والے زیادتی-ظلم پر تھا، مجھے پہلی بار میں ہی تقریباً زبانی یاد ہو گیا تھا۔ عمر کے ہر پڑاؤ پر وہ میرے ساتھ رہا اور میرے تحریر کے ایک اہم حصے کو متاثر کرتا رہا۔ جیسے ‘جادو کا قالین’ میرا ڈرامہ، ‘نہیں’ و ‘تین کلو کی چھوڑی’، جیسی کہانیاں و ‘کٹھ گلاب’ ناول کے کئی حصے۔

  1. اس کے مصنف مشہور روسی ناول نگار دستوئیفسکی ہیں 2. ذہنی مرض 3. فرصت، موقع

ماں جی کی منت کا اثر رہا ہوگا کہ میں ہی نہیں، میری چاروں بہنیں بھی لڑکی ہونے کے ناتے کسی ہیں بھاونا کا شکار نہیں ہوئیں۔ نانی، ماں اور پردادی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے، لیک پر چلنے سے بھی انکار کرتی رہیں۔

پہلی لڑکی، جس کے لیے منت مانگی گئی تھی، وہ میں نہیں، میری بڑی بہن، منجول بھگت تھی۔ گھر کا نام تھا-رانی، باہر کا منجول؛ مصنفہ اوتار ہوئی، منجول بھگت۔ کیونکہ لکھنا شادی کے بعد شروع کیا اور اپنا نام بدل کر شوہر کا قبول کرنے میں کوئی ہیں بھاونا آڑے نہیں آئی، اس لیے پیدائشی جین نام چھوڑ بھگت بنیں۔ دوسرے نمبر پر میں تھی، گھر کا نام اما، باہر کا مِرْدُلا۔ میں نے بھی شادی کے بعد لکھنا شروع کیا سو بطور مصنفہ نام چلا مِرْدُلا گَرگ۔ مجھے یاد ہے، جب ہم نے لکھنا شروع کیا، اس سے کچھ پہلے نسوانیت کا چلن ہوا تھا۔ شادی کے بعد نام نہ بدلنے کا رواج اسی نے چلایا تھا۔ منّو بھنڈاری کا حوالہ دے کر، ہم سے پوچھا بھی جاتا تھا کہ آپ لوگ اتنی پونگاپنتی، گھر گھسو کیوں ہو؟ نام کیوں بدلا؟ ہمارے پاس اس کا کوئی ڈھنگ کا جواب نہیں ہوتا تھا۔ اب بھی نہیں ہے۔ پر نام بدلنے سے، اپنی شخصیت کا کوئی نقصان ہوتے، میں نے نہیں دیکھا۔ پوچھنے کو تو والد صاحب سے لوگ یہ بھی پوچھتے تھے، پانچ بیٹیوں سے آپ کا من نہیں بھرا جو ہر بیٹی کے دو دو نام رکھ چھوڑے ہیں۔ مجھ سے چھوٹی بہن کا گھر کا نام ہے گوری اور باہر کا چترا۔ وہ نہیں لکھتی۔ اس کا کہنا ہے، وہ اس لیے نہیں لکھتی کیونکہ گھر میں کوئی پڑھنے والا بھی تو چاہیے۔ خیر، اس کے بعد جب چوتھی-پانچویں بیٹیاں پیدا ہوئیں تو، والد صاحب نے اتنی بات زمانے کی سنی کہ ان کا ایک ایک نام ہی رکھا۔ رینو اور اچلا۔ پانچ بہنوں کے بعد ایک بھائی ہوا، راجیو۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بیچ کی دو بہنیں ہی تحریر سے بچی رہیں۔ اچلا اور راجیو پھر اس میں جا پھنسی۔ اچلا مجھ سے آٹھ سال چھوٹی ہے اور وقت کے بدلاؤ کی لاج رکھتے ہوئے، انگریزی میں لکھتی ہے۔ پر راجیو پھر ہندی کے حوالے۔

ہم چار لکھتے ہیں اور تمام خاندان ہمیں پڑھتا ہے۔ میری سسرال میں مجھے کوئی نہیں پڑھتا۔ اس حقیقت کو ہضم کرنے میں مجھے کافی وقت لگا۔ پھر اس کے فوائد بھی نظر آنے لگے۔ کم سے کم، گھر کے اندر تو مجھے ہندی تنقید-ذہن سے دوچار نہیں ہونا پڑتا۔

خیر، میں اپنی نہیں، ان غیر دیویوں کی بات کہنا چاہتی ہوں، جو پردادی کی منت کے نتیجے میں زمین پر آئیں اور مصنفہ نہیں بنیں۔ جو بنیں، انہیں سانس لینے کی ضرورت کچھ زیادہ ہو، سمجھ میں آتا ہے، جیسے میرے والد صاحب نے ایک بار منجول سے کہا تھا۔ کوئی دم نہیں گھٹتا، سانس لینے کی ضرورت ہی زیادہ ہے۔ پر یہاں تو، ہم سیر تو غیر مصنفہ بہنیں سوا سیر۔ چوتھے نمبر والی رینو کا عالم یہ تھا کہ گرمی کی دوپہری میں اسکول سے واپسی پر، جب گاڑی اسے اور اس سے چھوٹی بہن اچلا کو بس اڈے سے لینے جاتی، تو رینو اس میں بیٹھنے سے انکار کر دیتی۔ اس کا کہنا تھا کہ یوں تھوڑا سا راستہ گاڑی میں بیٹھ کر طے کرنا، سامراجیت کا نشان تھا۔ جو شاید تھا۔ پر ساتھ ہی والد کے اضافی لاڈ کا بھی۔ اور باورچی کو کھانا کھلا کر جلدی فارغ ${ }^{1}$ کرنے کی لاچار کا بھی۔ ماں تو سب چیزوں سے بے پروا رہتی تھیں پر والد کافی کڑھتے بھنتے، جب دیکھتے کہ اچلا گاڑی میں بیٹھی چلی آ رہی ہے اور رینو، پیچھے پیچھے، پسینے میں تر بتر، خرامہ خرامہ²۔ بچپن میں ایک بار چیلنج دیے جانے پر اس نے جنرل تھیمایا کو خط لکھ کر، ان کا چتر منگوا لیا تھا، جو ایک موٹرسائیکل سوار جوان آ کر، اس کے ہاتھ میں دے گیا تھا۔ پڑوس میں اس کا رتبہ کافی بڑھ گیا تھا۔ گاڑی میں بیٹھنے کے ساتھ، اسے امتحان دینے سے بھی پرہیز تھا۔ اسکول تو جیسے تیسے پاس کر لیا پر جب بی۔اے۔ کا امتحان دینے کی باری آئی تو، وہ اڑ گئی۔ پہلے مجھے سمجھاؤ کہ بی۔اے۔ کرنا کیوں ضروری ہے، تب میں امتحان دوں گی، اگر مجھے یقین آ گیا کہ ہاں، کوئی فائدہ ہے، ورنہ نہیں۔ ہم نے طرح طرح کے دلائل دیے، ماں نے کہا، والد صاحب سے پوچھو۔

  1. کام سے فارغ، طے 2. آہستہ آہستہ

والد صاحب نے کہا، نوکری کر پاؤ گی، شادی کر پاؤ گی، لوگ عزت سے دیکھیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ کوئی دلیل قابل اعتماد نہیں لگی، نہ رینو کو، نہ خود انہیں۔ آخر انہوں نے اسی کُت دلیل کا سہارا لیا جو، یُگوں سے، ماں باپ کے کام آتا رہا ہے۔ کہا، بی۔اے۔ کرو، کیونکہ میں کہہ رہا ہوں، کرو۔ رینو نے بی۔اے۔ کر تو لیا پر صرف والد کی خوشی کے لیے، یعنی پاس ہونے لائق نمبر لا کر۔ سچ بولنے میں وہ ماں سے بھی دو قدم آگے ہے۔ غنیمت یہ ہے کہ آدھا وقت اس کے سچ سن کر لوگ سوچتے ہیں، وہ مذاق کر رہی ہ