مرکزی-ریاستی تعلقات
قانون سازی کے تعلقات
آئینی دفعات
- دفعہ 246: مرکز اور ریاستوں کے درمیان قانون سازی کے اختیارات کی تقسیم کا تعین کرتی ہے۔
- فہرست اول (یونین لسٹ): 100 موضوعات جن پر پارلیمنٹ قانون سازی کر سکتی ہے۔
- فہرست دوم (اسٹیٹ لسٹ): 61 موضوعات جن پر ریاستی مقننہ قانون سازی کر سکتی ہے۔
- فہرست سوم (کانکرنٹ لسٹ): 47 موضوعات جن پر پارلیمنٹ اور ریاستی مقننہ دونوں قانون سازی کر سکتی ہیں۔
- دفعہ 254: اگر ریاستی قوانین یونین قوانین سے متصادم ہوں تو پارلیمنٹ انہیں کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
اہم ایکٹ اور ترمیمیں
- 73ویں اور 74ویں آئینی ترمیمیں (1992): پنچایتی راج اور میونسپلٹیز کو کانکرنٹ لسٹ کا حصہ بنایا۔
- گیارہویں شیڈول (1952): پنچایتوں کے لیے 29 موضوعات کی فہرست دیتا ہے۔
- بارہویں شیڈول (1952): میونسپلٹیز کے لیے 18 موضوعات کی فہرست دیتا ہے۔
- دسواں شیڈول (1955): ایم ایل اے کی پارٹی بدلی پر پابندی لگاتا ہے۔
اہم مقدمات
- ایس آر بمّئی بمقابلہ یونین آف انڈیا (1994): “بنیادی ڈھانچے” کے نظریے کو قائم کیا اور مرکزی-ریاستی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔
- کیساونند بھارتی بمقابلہ ریاست کیرالہ (1973): آئین میں ترمیم کرنے کی پارلیمنٹ کی طاقت کے دائرہ کار کو واضح کیا۔
امتحانات کے لیے اہم حقائق
- دوہری سیاسی نظام: بھارت مرکز اور ریاستوں کے درمیان طاقت کے توازن کے ساتھ دوہری سیاسی نظام کی پیروی کرتا ہے۔
- باقی ماندہ اختیارات: دفعہ 248 کے تحت مرکز کے پاس رہتے ہیں۔
- بین ریاستی تنازعات: بین ریاستی کونسل کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں جو دفعہ 263 کے تحت قائم کی گئی ہے۔
انتظامی تعلقات
آئینی دفعات
- دفعہ 255: کہتی ہے کہ مرکز کسی ریاست کے معاملے میں ایگزیکٹو پاور استعمال نہیں کرے گا سوائے ہنگامی حالات یا ریاست کی رضامندی کے۔
- دفعہ 256: ریاست کی ایگزیکٹو پاور کو آئین کے مطابق استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
- دفعہ 257: مرکز کو ریاستوں کو اندرونی انتظامیہ کے معاملات میں ہدایات دینے سے منع کرتی ہے۔
اہم ادارے
- ریاستی حکومتیں: اپنی اپنی ریاستوں کے اندر ایگزیکٹو پاور استعمال کرتی ہیں۔
- یونین علاقے: مرکز کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، کچھ کے پاس قانون ساز اسمبلی ہوتی ہے (مثلاً دہلی، پانڈیچری)۔
- صدر کی حکمرانی: کسی ریاست میں آئینی مشینری ناکام ہونے کی صورت میں دفعہ 356 کے تحت نافذ کی جاتی ہے۔
اہم تاریخیں
- 1950: آئین نافذ ہوا، جس نے مرکزی-ریاستی تعلقات کا فریم ورک قائم کیا۔
- 1952: ساتویں ترمیم نے کانکرنٹ لسٹ متعارف کرائی۔
- 1992: 73ویں اور 74ویں ترمیموں نے پنچایتی راج اور میونسپلٹیز متعارف کرائے۔
امتحانات کے لیے اہم حقائق
- انتظامی خودمختاری: ریاستوں کو اندرونی انتظامیہ میں خودمختاری حاصل ہے۔
- صدر کی حکمرانی: چھ ماہ تک کے لیے نافذ کی جا سکتی ہے، قابل تجدید۔
- بین ریاستی کونسل: مرکز اور ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی کو آسان بناتی ہے۔
مالی تعلقات
آئینی دفعات
- دفعہ 268-286: مرکز اور ریاستوں کے درمیان مالی اختیارات کی تقسیم کو منظم کرتی ہیں۔
- دفعہ 280: فنانس کمیشن قائم کرتی ہے تاکہ ٹیکسوں اور گرانٹس-ان-ایڈ کی تقسیم کی سفارش کرے۔
- دفعہ 282: مرکز کو مخصوص مقاصد کے لیے ریاستوں کو گرانٹس دینے کا اختیار دیتی ہے۔
مالی آلات
| آلہ | تفصیل |
|---|---|
| ٹیکس | مرکزی ٹیکس (مثلاً انکم ٹیکس، کسٹمز)، ریاستی ٹیکس (مثلاً سیلز ٹیکس، لینڈ ریونیو)، اور کانکرنٹ ٹیکس (مثلاً ایکسائز ڈیوٹی) |
| گرانٹس-ان-ایڈ | مرکز کی طرف سے ریاستوں کو مخصوص مقاصد کے لیے دی جانے والی مالی امداد (مثلاً تعلیم، صحت) |
| قرضے | ترقیاتی منصوبوں کے لیے مرکز کی طرف سے ریاستوں کو فراہم کیے جاتے ہیں |
| ٹیکسوں میں حصہ | ریاستیں مرکزی ٹیکسوں (مثلاً انکم ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی) میں حصہ وصول کرتی ہیں |
فنانس کمیشن
- پہلا فنانس کمیشن (1951): آئین کے ذریعے قائم کیا گیا۔
- بارہواں فنانس کمیشن (2010): ریاستوں کو مرکزی ٹیکسوں کا 42% حصہ دینے کی سفارش کی۔
- تیرہواں فنانس کمیشن (2015): ریاستوں کو مرکزی ٹیکسوں کا 42.5% حصہ دینے کی سفارش کی۔
- چودہواں فنانس کمیشن (2020): ریاستوں کو مرکزی ٹیکسوں کا 42.5% حصہ دینے کی سفارش کی۔
امتحانات کے لیے اہم حقائق
- فنانس کمیشن: ہر 5 سال بعد مالی تعلقات کا جائزہ لینے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔
- ٹیکسوں میں حصہ: ریاستیں فنانس کمیشن کی سفارشات کے مطابق مرکزی ٹیکسوں میں حصہ وصول کرتی ہیں۔
- گرانٹس-ان-ایڈ: مخصوص ترقیاتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور واپس نہیں لی جا سکتیں۔
- قرضے: سود کے ساتھ واپس ادا کیے جانے والے ہوتے ہیں اور انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
خلاصہ جدول: مرکزی-ریاستی تعلقات
| پہلو | مرکز | ریاست |
|---|---|---|
| قانون سازی کے اختیارات | یونین لسٹ، کانکرنٹ لسٹ | اسٹیٹ لسٹ، کانکرنٹ لسٹ |
| انتظامی اختیارات | مرکزی حکومت، یونین علاقے | ریاستی حکومتیں، پنچایتیں، میونسپلٹیز |
| مالی اختیارات | مرکزی ٹیکس، گرانٹس-ان-ایڈ، قرضے | ریاستی ٹیکس، مرکزی ٹیکسوں میں حصہ، گرانٹس-ان-ایڈ |
| اہم ادارے | پارلیمنٹ، صدر، فنانس کمیشن | ریاستی مقننہ، ریاستی حکومتیں، پنچایتیں، میونسپلٹیز |
| اہم مقدمات | کیساونند بھارتی، ایس آر بمّئی | - |
| اہم ایکٹ | 73ویں، 74ویں ترمیمیں | - |
| اہم تاریخیں | 1950 (آئین)، 1992 (73ویں، 74ویں ترمیمیں) | - |