باب 11 تیسری قسم کے شیلپکار شیلندر

پراہلاد اگروال
سن 1947

بھارت کی آزادی کے سال مدھیہ پردیش کے جبل پور شہر میں پیدا ہونے والے پراہلاد اگروال نے ہندی سے ایم اے تک تعلیم حاصل کی۔ انہیں کِشور وی سے ہی ہندی فلموں کی تاریخ اور فلم سازوں کی زندگی اور ان کے اداکاری کے بارے میں تفصیل سے جاننے اور اس پر بحث کرنے کا شوق رہا۔ ان دنوں ستنا کے سرکاری خود مختار پوسٹ گریجویٹ کالج میں تدریس کر رہے پراہلاد اگروال فلمی میدان سے جڑے لوگوں اور فلموں پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور آگے بھی اسی میدان کو اپنے تحریر کا موضوع بنائے رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کی اہم تصانیف ہیں: ساتواں دہہ، تاناشاہ، میں خوشبو، سپر سٹار، راج کپور: آدھی حقیقت آدھا فسانہ، کوی شیلندر: زندگی کی جیت میں یقین، پیاسا: چیر اتپت گرو دت، اُتال امنگ: سبھاش گھئی کی فلم کلا، او رے مانجھی: بیمل رائے کا سنیما اور مہابازار کے مہانایک: اکیسویں صدی کا سنیما۔

متن کا تعارف

سال کے کسی مہینے کا شاید ہی کوئی جمعہ ایسا جاتا ہو جب کوئی نہ کوئی ہندی فلم سینما پردے پر نہ پہنچتی ہو۔ ان میں سے کچھ کامیاب رہتی ہیں تو کچھ ناکام۔ کچھ ناظرین کو کچھ عرصے تک یاد رہ جاتی ہیں، کچھ کو وہ سینما گھر سے باہر نکلتے ہی بھول جاتے ہیں۔ لیکن جب کوئی فلم ساز کسی ادبی تخلیق کو پوری لگن اور ایمانداری سے پردے پر اتارتا ہے تو اس کی فلم نہ صرف یادگار بن جاتی ہے بلکہ لوگوں کا تفریح کرنے کے ساتھ ہی انہیں کوئی بہتر پیغام دینے میں بھی کامیاب رہتی ہے۔

ایک گیت کار کے طور پر کئی دہائیوں تک فلمی میدان سے جڑے رہے شاعر اور گیت کار نے جب پھنیشور ناتھ رینو کی امر تخلیق ‘تیسری قسم ارف مارے گئے گلفام’ کو سینما پردے پر اتارا تو وہ سنگ میل ثابت ہوئی۔ آج بھی اس کا شمار ہندی کی کچھ امر فلموں میں کیا جاتا ہے۔ اس فلم نے نہ صرف اپنے گیت، موسیقی، کہانی کی بدولت شہرت پائی بلکہ اس میں اپنے زمانے کے سب سے بڑے شومین راج کپور نے اپنی فلمی زندگی کی سب سے بہترین اداکاری کر کے سب کو حیران کر دیا۔ فلم کی ہیروئن وحیدہ رحمان نے بھی ویسا ہی اداکاری کر دکھایا جیسا ان سے امید تھی۔

اس معنی میں ایک یادگار فلم ہونے کے باوجود ‘تیسری قسم’ کو آج اس لیے بھی یاد کیا جاتا ہے کیونکہ اس فلم کی تخلیق نے یہ بھی ظاہر کر دیا کہ ہندی فلم جہان میں ایک معنی خیز اور مقصد پرست فلم بنانا کتنا مشکل اور خطرے کا کام ہے۔

تیسری قسم کے شیلپکار شیلندر

‘سنگم’ کی حیرت انگیز کامیابی نے راج کپور میں گہرا خود اعتمادی بھر دیا اور اس نے ایک ساتھ چار فلموں کی تخلیق کا اعلان کیا: ‘میرا نام جوکر’، ‘اجنتا’، ‘میں اور میرا دوست’ اور ‘ستیہ شیوم سندریم’۔ پر جب 1965 میں راج کپور نے ‘میرا نام جوکر’ کی تخلیق شروع کی تو شاید اس نے بھی یہ تصور نہیں کیا ہوگا کہ اس فلم کا ایک ہی حصہ بنانے میں چھ سالوں کا وقت لگ جائے گا۔

ان چھ سالوں کے درمیان راج کپور کے ذریعے ادا کی گئی کئی فلمیں پیش ہوئیں، جن میں سن 1966 میں پیش کی گئی کوی شیلندر کی ‘تیسری قسم’ بھی شامل ہے۔ یہ وہ فلم ہے جس میں راج کپور نے اپنی زندگی کی سب سے عمدہ کردار ادا کیا۔ یہی نہیں، ‘تیسری قسم’ وہ فلم ہے جس نے ہندی ادب کی ایک انتہائی دردناک تخلیق کو سیلولائیڈ پر پوری معنی خیزی سے اتارا۔ ‘تیسری قسم’ فلم نہیں، سیلولائیڈ پر لکھی ہوئی نظم تھی۔

‘تیسری قسم’ شیلندر کی زندگی کی پہلی اور آخری فلم ہے۔ ‘تیسری قسم’ کو ‘صدر گولڈ میڈل’ ملا، بنگال فلم جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے ذریعے بہترین فلم اور کئی دوسرے انعامات سے نوازا گیا۔ ماسکو فلم فیسٹیول میں بھی یہ فلم انعام یافتہ ہوئی۔ اس کی فنکارانہ خوبیوں کی لمبی چوڑی تعریفیں ہوئیں۔ اس میں شیلندر کی حساسیت پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ انہوں نے ایسی فلم بنائی تھی جسے سچا شاعر-دل ہی بنا سکتا تھا۔

شیلندر نے راج کپور کی جذبات کو الفاظ دیے ہیں۔ راج کپور نے اپنے مخصوص ساتھی کی فلم میں اتنی ہی توجہ کے ساتھ کام کیا، کسی معاوضے کی توقع کیے بغیر۔ شیلندر نے لکھا تھا کہ وہ راج کپور کے پاس ‘تیسری قسم’ کی کہانی سنانے پہنچے تو کہانی سن کر انہوں نے بڑے جوش و خروش سے کام کرنا قبول کر لیا۔ پر فوراً سنجیدگی سے بولے: “میرا معاوضہ ایڈوانس دینا ہوگا۔” شیلندر کو ایسی امید نہیں تھی کہ راج کپور زندگی بھر کی دوستی کا یہ بدلہ دیں گے۔ شیلندر کا مرجھایا ہوا چہرہ دیکھ کر راج کپور نے مسکراتے ہوئے کہا، “نکالو ایک روپیہ، میرا معاوضہ! پورا ایڈوانس۔” شیلندر راج کپور کی اس یارانہ مستی سے واقف تو تھے، لیکن ایک فلم ساز کے طور پر بڑی کاروباری سوجھ بوجھ والے بھی چکر کھا جاتے ہیں، پھر

شیلندر تو فلم-ساز بننے کے لیے بالکل نااہل تھے۔ راج کپور نے ایک اچھے اور سچے دوست کی حیثیت سے شیلندر کو فلم کی ناکامی کے خطرات سے آگاہ بھی کیا۔ پر وہ تو ایک آدرش وادی جذباتی شاعر تھا، جسے بے پناہ دولت اور شہرت تک کی اتنی خواہش نہیں تھی جتنی خود-اطمینان کے سکھ کی آرزو تھی۔ ‘تیسری قسم’ کتنی ہی عظیم فلم کیوں نہ رہی ہو، لیکن یہ ایک افسوسناک سچائی ہے کہ اسے پیش کرنے کے لیے بمشکل تقسیم کار ملے۔ باوجود اس کے کہ ‘تیسری قسم’ میں راج کپور اور وحیدہ رحمان جیسے نامور ستارے تھے، شنکر-جے کشن کی موسیقی تھی، جن کی مقبولیت ان دنوں ساتویں آسمان پر تھی اور اس کے گیت بھی فلم کی پیشی سے پہلے ہی بے حد مقبول ہو چکے تھے، لیکن اس فلم کو خریدنے والا کوئی نہیں تھا۔ دراصل اس فلم کی حساسیت کسی دو سے چار بنانے کا حساب جاننے والے کی سمجھ سے پرے تھی۔ اس میں رچی بسی کرونا ترازو پر تولی جا سکنے والی چیز نہیں تھی۔ اسی لیے بمشکل جب ‘تیسری قسم’ ریلیز ہوئی تو اس کا کوئی پرچار نہیں ہوا۔ فلم کب آئی، کب چلی گئی، معلوم ہی نہیں پڑا۔

ایسا نہیں ہے کہ شیلندر بیس سالوں تک فلم انڈسٹری میں رہتے ہوئے بھی وہاں کے طور طریقوں سے ناواقف تھے، پر ان میں الجھ کر وہ اپنی انسانیت نہیں کھو سکے تھے۔ ‘شری 420’ کا ایک مقبول گیت ہے: ‘پیار ہوا، اقرار ہوا ہے، پیار سے پھر کیوں ڈرتا ہے دل۔’ اس کے انترے کی ایک سطر: ‘راتوں دسوں دیشاؤں سے کہیں گی اپنی کہانیاں’ پر موسیقار جے کشن نے اعتراض کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ناظرین ‘چار دیشائیں’ تو سمجھ سکتے ہیں: ‘دس دیشائیں’ نہیں۔ لیکن شیلندر تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ ان کا پختہ ارادہ تھا کہ ناظرین کی دلچسپی کی آڑ میں ہمیں سطحیت کو ان پر نہیں تھوپنا چاہیے۔ فنکار کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ صارف کی دلچسپیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ اور ان کا یقین غلط نہیں تھا۔ یہی نہیں، وہ بہت اچھے گیت بھی جو انہوں نے لکھے بے حد مقبول ہوئے۔ شیلندر نے جھوٹی شائستگی کو کبھی نہیں اپنایا۔ ان کے گیت جذبات سے بھرپور تھے: مشکل نہیں۔ ‘میرا جوتا ہے جاپانی، یہ پتلون انگلستانی، سر پر لال ٹوپی روسی، پھر بھی دل ہے ہندوستانی’ یہ گیت شیلندر ہی لکھ سکتے تھے۔ پرسرار ندی کا بہاؤ اور سمندر کی گہرائی لیے ہوئے۔ یہی خصوصیت ان کی زندگی کی تھی اور یہی انہوں نے اپنی فلم کے ذریعے بھی ثابت کیا تھا۔

‘تیسری قسم’ اگر واحد نہیں تو چند ان فلموں میں سے ہے جنہوں نے ادبی تخلیق کے ساتھ سو فیصد انصاف کیا ہو۔ شیلندر نے راج کپور جیسے اسٹار کو ‘ہیرامن’ بنا دیا تھا۔ ہیرامن پر راج کپور حاوی نہیں ہو سکا۔ اور چھینٹ کی سستی ساڑی میں لپٹی ‘ہیرابائی’ نے وحیدہ رحمان کی مشہور بلندیوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ کجری ندی کے کنارے اُکڑوں بیٹھا ہیرامن جب گیت گاتے ہوئے ہیرابائی سے پوچھتا ہے ‘من سمجھتی ہیں ن آپ؟’ تو ہیرابائی زبان سے نہیں، آنکھوں سے بولتی

ہے۔ دنیا بھر کے الفاظ اس زبان کو اظہار نہیں دے سکتے۔ ایسی ہی باریکیوں سے پُر تھی: ‘تیسری قسم’۔ اپنی مستی میں ڈوب کر جھومتے گاتے گاڑی بان: ‘چلت مسافر موہ لیو رے پنجڑے والی منیا۔’ ٹپر گاڑی میں ہیرابائی کو جاتے ہوئے دیکھ کر ان کے پیچھے دوڑتے گاتے بچوں کا ہجوم: ‘لالی لالی ڈولیا میں لالی رے دلہنیا’، ایک نٹنکی کی بائی میں اپنائیت ڈھونڈ لینے والا سادہ دل گاڑی بان! محرومیوں کی زندگی جیتے لوگوں کے خوابوں بھرے قہقہے۔

ہماری فلموں کی سب سے بڑی کمزوری ہوتی ہے، لوک عنصر کا فقدان۔ وہ زندگی سے دور ہوتی ہیں۔ اگر المناک حالات کی تصویر کشی ہوتی ہے تو انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ دکھ کا ایسا بھیانک روپ پیش ہوتا ہے جو ناظرین کا جذباتی استحصال کر سکے۔ اور ‘تیسری قسم’ کی یہ خاص بات تھی کہ وہ دکھ کو بھی سادہ حالت میں، زندگی کے حوالے سے پیش کرتی ہے۔

میں نے شیلندر کو گیت کار نہیں، شاعر کہا ہے۔ وہ سنیما کی چکاچوند کے درمیان رہتے ہوئے شہرت اور دولت کی لالچ سے کوسوں دور تھے۔ جو بات ان کی زندگی میں تھی وہی ان کے گیتوں میں بھی۔ ان کے گیتوں میں صرف کرونا نہیں، جدوجہد کا اشارہ بھی تھا اور وہ عمل بھی موجود تھا جس کے تحت اپنی منزل تک پہنچا جاتا ہے۔ مصیبت انسان کو شکست نہیں دیتی، اسے آگے بڑھنے کا پیغام دیتی ہے۔

شیلندر نے ‘تیسری قسم’ کو اپنی جذباتیت کا بہترین ثبوت فراہم کیا۔ مکیش کی آواز میں شیلندر کا یہ گیت تو لاجواب بن گیا ہے:

سجنوا بیری ہو گئے ہمار چٹھیا ہو تو ہر کوئی بانچے بھاگ نہ بانچے کوئ…

اداکاری کے نقطہ نظر سے ‘تیسری قسم’ راج کپور کی زندگی کی سب سے خوبصورت فلم ہے۔ راج کپور جنہیں نقاد اور فن کے ماہر آنکھوں سے بات کرنے والا فنکار مانتے ہیں، ‘تیسری قسم’ میں معصومیت کی انتہا کو چھوتے ہیں۔ اداکار راج کپور جتنی طاقت کے ساتھ ‘تیسری قسم’ میں موجود ہیں، اتنا ‘جاگتے رہو’ میں بھی نہیں۔ ‘جاگتے رہو’ میں راج کپور کی اداکاری کو بہت سراہا گیا تھا، لیکن ‘تیسری قسم’ وہ فلم ہے جس میں راج کپور اداکاری نہیں کرتا۔ وہ ہیرامن کے ساتھ یکجا ہو گیا ہے۔ خالص دیہاتی بھچ گاڑی بان جو صرف دل کی زبان سمجھتا ہے، دماغ کی نہیں۔ جس کے لیے محبت کے سوا کسی دوسری چیز کا کوئی مطلب نہیں۔ بہت بڑی بات یہ ہے کہ ‘تیسری قسم’ راج کپور کی اداکاری-زندگی کا وہ مقام ہے، جب وہ ایشیا کے سب سے بڑے شومین کے طور پر قائم ہو چکے تھے۔ ان کا اپنا شخصیت ایک روایت بن چکا تھا۔ لیکن ‘تیسری قسم’ میں وہ عظیم شخصیت پوری طرح ہیرامن کی روح میں اتر گئی ہے۔ وہ کہیں ہیرامن کی اداکاری نہیں کرتا، بلکہ خود ہیرامن میں ڈھل گیا ہے۔ ہیرابائی کی پھینو گلاسی بولی پر رجھتا ہوا، اس کی ‘منوا نتوا’ جیسی بھولی صورت پر نچھاور

ہوتا ہوا اور ہیرابائی کی تھوڑی سی نظر اندازی پر اپنے وجود سے جوجھتا ہوا سچا ہیرامن بن گیا ہے۔

‘تیسری قسم’ کی پٹ کہانی اصل کہانی کے مصنف پھنیشور ناتھ رینو نے خود تیار کی تھی۔ کہانی کا ریشہ ریشہ، اس کی چھوٹی سے چھوٹی باریکیاں فلم میں پوری طرح اتر آئیں۔

سوالات و مشق

زبانی

مندرجہ ذیل سوالات کے جواب ایک دو سطروں میں دیجیے-

1. ‘تیسری قسم’ فلم کو کون کون سے انعامات سے نوازا گیا ہے؟

2. شیلندر نے کتنی فلمیں بنائیں؟

3. راج کپور کے ذریعے ہدایت کی گئی کچھ فلموں کے نام بتائیے۔

4. ‘تیسری قسم’ فلم کے مرکزی کردار اور مرکزی اداکاراؤں کے نام بتائیے اور فلم میں انہوں نے کن کرداروں کی اداکاری کی ہے؟

5. فلم ‘تیسری قسم’ کی تخلیق کس نے کی تھی؟

6. راج کپور نے ‘میرا نام جوکر’ کی تخلیق کے وقت کس بات کا تصور بھی نہیں کیا تھا؟

7. راج کپور کی کس بات پر شیلندر کا چہرہ مرجھا گیا؟

8. فلم نقاد راج کپور کو کس طرح کا فنکار مانتے تھے؟

تحریری

(ک) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب ( 25-30 الفاظ میں ) لکھیے-

1. ‘تیسری قسم’ فلم کو ‘سیلولائیڈ پر لکھی ہوئی نظم’ کیوں کہا گیا ہے؟

2. ‘تیسری قسم’ فلم کو خریدار کیوں نہیں مل رہے تھے؟

3. شیلندر کے مطابق فنکار کا فرض کیا ہے؟

4. فلموں میں المناک حالات کی تصویر کشی بڑھا چڑھا کر کیوں کر دی جاتی ہے؟

5. ‘شیلندر نے راج کپور کی جذبات کو الفاظ دیے ہیں’–اس بیان سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟ واضح کیجیے۔

6. مصنف نے راج کپور کو ایشیا کا سب سے بڑا شومین کہا ہے۔ شومین سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟

7. فلم ‘شری 420’ کے گیت ‘راتوں دسوں دیشاؤں سے کہیں گی اپنی کہانیاں’ پر موسیقار جے کشن نے اعتراض کیوں کیا؟

(خ) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب ( 50-60 الفاظ میں ) لکھیے-

1. راج کپور کے ذریعے فلم کی ناکامی کے خطرات سے آگاہ کرنے پر بھی شیلندر نے یہ فلم کیوں بنائی؟

2. ‘تیسری قسم’ میں راج کپور کا عظیم شخصیت کس طرح ہیرامن کی روح میں اتر گیا ہے؟ واضح کیجیے۔

3. مصنف نے ایسا کیوں لکھا ہے کہ ‘تیسری قسم’ نے ادبی تخلیق کے ساتھ سو فیصد انصاف کیا ہے؟

4. شیلندر کے گیتوں کی کیا خصوصیات ہیں؟ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

5. فلم ساز کے طور پر شیلندر کی خصوصیات پر روشنی ڈالیے۔

6. شیلندر کی ذاتی زندگی کی چھاپ ان کی فلم میں جھلکتی ہے-کیسے؟ واضح کیجیے۔

7. مصنف کے اس بیان سے کہ ‘تیسری قسم’ فلم کوئی سچا شاعر-دل ہی بنا سکتا تھا، آپ کہاں تک متفق ہیں؟ واضح کیجیے۔

(گ) مندرجہ ذیل کے مطلب واضح کیجیے-

1. …وہ تو ایک آدرش وادی جذباتی شاعر تھا، جسے بے پناہ دولت اور شہرت تک کی اتنی خواہش نہیں تھی جتنی خود-اطمینان کے سکھ کی آرزو تھی۔

2. ان کا یہ پختہ ارادہ تھا کہ ناظرین کی دلچسپی کی آڑ میں ہمیں سطحیت کو ان پر نہیں تھوپنا چاہیے۔ فنکار کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ صارف کی دلچسپیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔

3. مصیبت انسان کو شکست نہیں دیتی، اسے آگے بڑھنے کا پیغام دیتی ہے۔

4. دراصل اس فلم کی حساسیت کسی دو سے چار بنانے والے کی سمجھ سے پرے ہے۔

5. ان کے گیت جذبات سے بھرپور تھے: مشکل نہیں۔

زبان کا مطالعہ

1. متن میں آئے ‘سے’ کے مختلف استعمالات سے جملے کی ساخت کو سمجھیے۔

(ک) راج کپور نے ایک اچھے اور سچے دوست کی حیثیت سے شیلندر کو فلم کی ناکامی کے خطرات سے آگاہ بھی کیا۔

(خ) راتیں دسوں دیشاؤں سے کہیں گی اپنی کہانیاں۔

(گ) فلم انڈسٹری میں رہتے ہوئے بھی وہاں کے طور طریقوں سے ناواقف تھے۔

(گھ) دراصل اس فلم کی حساسیت کسی دو سے چار بنانے کے حساب جاننے والے کی سمجھ سے پرے تھی۔

(ڈ) شیلندر راج کپور کی اس یارانہ دوستی سے واقف تو تھے۔

2. اس متن میں آئے مندرجہ ذیل جملوں کی ساخت پر توجہ دیجیے-

(ک) ‘تیسری قسم’ فلم نہیں، سیلولائیڈ پر لکھی ہوئی نظم تھی۔

(خ) انہوں نے ایسی فلم بنائی تھی جسے سچا شاعر-دل ہی بنا سکتا تھا۔

(گ) فلم کب آئی، کب چلی گئی، معلوم ہی نہیں پڑا۔

(گھ) خالص دیہاتی بھچ گاڑی بان جو صرف دل کی زبان سمجھتا ہے، دماغ کی نہیں۔

3. متن میں آئے مندرجہ ذیل محاوروں سے جملے بنائیے-

چہرہ مرجھانا، چکر کھا جانا، دو سے چار بنانا، آنکھوں سے بولنا

4. مندرجہ ذیل الفاظ کے ہندی مترادف دیجیے-

(ک) شدت _____________ (ڈ) ناواقف _____________

(خ) یارانہ _____________ (چ) یقین _____________

(گ) بمشکل _____________ (چھ) حاوی _____________

(گھ) خالص _____________ (ج) ریشہ _____________

5. مندرجہ ذیل کا سندھی وِچھید کیجیے-

(ک) چترانکن $\quad$ $-$ $\quad$ _____________ $+$ _____________

(خ) سروکتکرشت $\quad$ $-$ $\quad$ _____________ $+$ _____________

(گ) چرمتکرش $\quad$ $-$ $\quad$ _____________ $+$ _____________

(گھ) روپانترن $\quad$ $-$ $\quad$ _____________ $+$ _____________

(ڈ) گھنانند $\quad$ $-$ $\quad$ _____________ $+$ _____________

6. مندرجہ ذیل کا سماس وگرہ کیجیے اور سماس کا نام بھی لکھیے-

(ک) کلا-مرمجن __________________

(خ) لوکپری __________________

(گ) راشٹرپتی __________________

قابلیت کی توسیع

1. پھنیشور ناتھ رینو کی کس کہانی پر ‘تیسری قسم’ فلم مبنی ہے، معلومات حاصل کیجیے اور اصل تخلیق پڑھیے۔

2. اخبارات میں فلموں کی تنقید دی جاتی ہے۔ کسی تین فلموں کی تنقید پڑھیے اور ‘تیسری قسم’ فلم کو دیکھ کر اس فلم کی تنقید خود لکھنے کی کوشش کیجیے۔

پراجیکٹ کام

1. فلموں کے حوالے سے آپ نے اکثر یہ سنا ہوگا: ‘جو بات پہلے کی فلموں میں تھی، وہ اب کہاں۔ موجودہ دور کی فلموں اور پہلے کی فلموں میں کیا مماثلت اور فرق ہے؟ کلاس میں بحث کیجیے۔

2. ‘تیسری قسم’ جیسی اور بھی فلمیں ہیں جو کسی نہ کسی زبان کی ادبی تخلیق پر بنی ہیں۔ ایسی فلموں کی فہرست مندرجہ ذیل فارم کے بنیاد پر تیار کریں۔

کرم سنکھیا فلم کا نام ادبی تخلیق زبان تخلیق کار
1. دیوداس دیوداس بنگلہ شرت چندر
2. _______ _______ _______ _______
3. _______ _______ _______ _______
4. _______ _______ _______ _______

3. لوک گیت ہمیں اپنی ثقافت سے جوڑتے ہیں۔ ‘تیسری قسم’ فلم میں لوک گیتوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ آپ بھی اپنے علاقے کے رائج دو تین لوک گیتوں کو جمع کر پراجیکٹ کاپی پر لکھیے۔

الفاظ کے معنی اور نوٹس

انترال - کے بعد
ابھینیت - اداکاری کی گئی
سروتکرشت - سب سے اچھا
سیلولائیڈ - کیمرے کی ریل میں اتارے گئے تصویر پر پیش کرنا
سارتھکتا - کامیابی کے ساتھ
کلانکتا - فن سے بھرپور
سنویدنشیلتا - جذباتیت
شدت - تیزی
انن - پریم / انتہائی
تنمیتا - توجہ
پاریشرامک - محنتانہ
یارانہ مستی - دوستانہ انداز
آگاہ - چوکس
آتم-سنتوشتی - اپنی تسکین
بمشکل - بہت مشکل سے
وترک - پھیلانے والے لوگ
نامزد - مشہور
ناواقف - انجان
اقرار - اتفاق
  • منتو | - خواہش | | اتھلاپن | - سطحی / نیچا | | ابھیجات | - پاکیزہ |
  • بھاو-پرون | - جذبات سے بھرا ہوا | | دروہ | - مشکل | | اکڑو | - گھٹنے موڑ کر پیر کے تلووں کے سہارے بیٹھنا | | سوکشمتا | - باریکی | | سپندت | - چلانا / متحرک | | للایت | - خواہش مند | | ٹپر گاڑی | - نیم گول چھپر والی بیل گاڑی |
  • ہجوم | - بھیڑ | | پرتروپ | - سایہ | | روپانترن | - کسی ایک روپ سے دوسرے روپ میں تبدیل کرنا | | لوک-تتو | - لوک سے متعلق | | تراسد | - دکھ دینے والا | | گلوریفائی | - تعریف / بڑھا چڑھا کر پیش کرنا | | ویبھتس | - خوفناک |
  • جیون-ساپکش | - زندگی کے حوالے سے |
  • دھن-لپسا | - دولت کی انتہائی خواہش |
  • پرکریا | - طریقہ کار |
  • بانچے | - پڑھنا |
  • بھاگ | - قسمت |
  • بھرمائے | - بھرم ہونا / جھوٹا یقین دلانا |
  • سمیکشک | - تنقید کرنے والا |
  • کلا-مرمجن | - فن کی پہچان کرنے والا |
  • چرمتکرش | - بلندی کے عروج پر |
  • خالص | - خالص |
  • بھچ | - محض / بالکل |
  • کنودنتی | - کہاوت |