باب 05 توپ
ویرن ڈنگوال
سن 1947-2015
5 اگست 1947 کو اتراکھنڈ کے ٹہری گڑھوال ضلع کے کرتینگر میں پیدا ہونے والے ویرن ڈنگوال نے ابتدائی تعلیم نینی تال میں اور اعلیٰ تعلیم الہ آباد میں حاصل کی۔ پیشے کے لحاظ سے پروفیسر ڈنگوال صحافت سے بھی وابستہ رہے۔
معاشرے کے عام لوگ اور پس منظر میں رہنے والی زندگی کے غیر معمولی تفصیلات اور مناظر ویرن کی شاعری کی امتیازی خصوصیت سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایسی بہت سی چیزوں اور جانوروں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے جنہیں ہم دیکھ کر بھی نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔
ویرن کے اب تک دو شعری مجموعے ‘اسی دنیا میں’ اور ‘دش چکر میں سرشتہ’ شائع ہو چکے ہیں۔ پہلے مجموعے پر معزز سری کانت ورما ایوارڈ اور دوسرے پر ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ کے علاوہ انہیں دیگر کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ ویرن ڈنگوال نے کئی اہم شاعروں کی دوسری زبانوں میں لکھی گئی نظموں کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ 28 ستمبر 2015 کو ان کا انتقال ہوا۔
سبق کا تعارف
علامت اور ورثہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جنہیں دیکھ کر یا جن کے بارے میں جان کر ہمیں اپنے ملک اور معاشرے کی قدیم کامیابیوں کا احساس ہوتا ہے اور دوسرے وہ جو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد سے کب، کیا چوک ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں ملک کی کئی نسلوں کو شدید دکھ اور جبر برداشت کرنا پڑا تھا۔
پیش کردہ سبق میں ایسے ہی دو علامتوں کی تصویر کشی ہے۔ سبق ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کبھی ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں تجارت کرنے کے ارادے سے آئی تھی۔ ہندوستان نے اس کا استقبال ہی کیا تھا، لیکن کرتے کرتے وہ ہماری حکمران بن بیٹھی۔ اس نے کچھ باغ بنوائے تو کچھ توپیں بھی تیار کیں۔ ان توپوں نے اس ملک کو دوبارہ آزاد کرانے کا خواب سچ کرنے نکلے جانبازوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ پر ایک دن ایسا بھی آیا جب ہمارے آباؤ اجداد نے اس طاقت کو اکھاڑ پھینکا۔ توپ کو بے جان کر دیا۔ پھر بھی ہمیں ان علامتوں کے بہانے یہ یاد رکھنا ہوگا کہ مستقبل میں کوئی اور ایسی کمپنی یہاں قدم نہ جما پائے جس کے ارادے نیک نہ ہوں اور یہاں پھر وہی تباہی مچے جس کے زخم اب تک ہمارے دلوں میں تازہ ہیں۔ خواہ آخر میں ان کی توپ بھی اسی کام کیوں نہ آئے جس کام میں اس سبق کی توپ آ رہی ہے…
توپ
کمپنی باغ کے دروازے پر
رکھ دی گئی ہے یہ 1857 کی توپ
اس کی ہوتی ہے بڑی دیکھ بھال، ورثے میں ملے
کمپنی باغ کی طرح
سال میں چمکائی جاتی ہے دو بار۔
صبح شام کمپنی باغ میں آتے ہیں بہت سے سیاح
انہیں بتاتی ہے یہ توپ
کہ میں بڑی زبردست
اڑا دیے تھے میں نے
اچھے اچھے سورماؤں کے پرخے
اپنے زمانے میں
اب تو بہرحال
چھوٹے لڑکوں کی گھڑسواری سے اگر یہ فارغ ہو
تو اس کے اوپر بیٹھ کر
چڑیاں ہی اکثر کرتی ہیں گپ شپ
کبھی کبھی شرارت میں وہ اس کے اندر بھی گھس جاتی ہیں
خاص کر گوریاں
وہ بتاتی ہیں کہ دراصل کتنی ہی بڑی ہو توپ
ایک دن تو ہونا ہی ہے اس کا منہ بند۔
سوالات و مشق
(ک) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے-
1. ورثے میں ملی چیزوں کی بڑی دیکھ بھال کیوں ہوتی ہے؟ واضح کیجیے۔
2. اس نظم سے آپ کو توپ کے بارے میں کیا معلومات ملتی ہیں؟
3. کمپنی باغ میں رکھی توپ کیا سبق دیتی ہے؟
4. نظم میں توپ کو دو بار چمکانے کی بات کی گئی ہے۔ یہ دو مواقع کون سے ہوں گے؟
(خ) مندرجہ ذیل کا مطلب واضح کیجیے-
1. اب تو بہرحال
چھوٹے لڑکوں کی گھڑسواری سے اگر یہ فارغ ہو
تو اس کے اوپر بیٹھ کر
چڑیاں ہی اکثر کرتی ہیں گپ شپ۔
2. وہ بتاتی ہیں کہ دراصل کتنی ہی بڑی ہو توپ
ایک دن تو ہونا ہی ہے اس کا منہ بند۔
3. اڑا دیے تھے میں نے
اچھے اچھے سورماؤں کے پرخے۔
زبان کا مطالعہ
1. شاعر نے اس نظم میں الفاظ کا درست اور بہترین استعمال کیا ہے۔ اس کی ایک سطر دیکھیے ‘رکھ دی گئی ہے یہ 1857 کی توپ’۔ ‘رکھ’ لفظ دیسی ہے اور شاعر نے اس کا کئی معنی میں استعمال کیا ہے۔ ‘رکھنا’، ‘ورثہ’ اور ‘ذخیرہ’ کی صورت میں۔
2. ‘توپ’ عنوان نظم کا مطلب سمجھتے ہوئے اس کا نثر میں تبدیلی کیجیے۔
قابلیت کی توسیع
1. نظم تخلیق کرتے وقت مناسب الفاظ کا انتخاب اور ان کا صحیح جگہ پر استعمال انتہائی اہم ہے۔ نظم لکھنے کی کوشش کیجیے اور اسے سمجھیے۔
2. تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور گنجان آبادی والی جگہوں کے آس پاس پارکوں کا ہونا کیوں ضروری ہے؟ کلاس میں بحث کیجیے۔
پراجیکٹ کام
1. آزادی کے سپاہیوں کی داستان سے متعلق کتاب کو لائبریری سے حاصل کیجیے اور پڑھ کر کلاس میں سنائیے۔
الفاظ کے معنی اور نوٹس
| دروازے | - داخلے کے دروازے پر |
| رکھ دی | - رکھی گئی |
| دیکھ بھال | - نگہداشت |
| ورثہ | - پچھلی نسلوں سے ملنے والی چیزیں |
| سیاح | - سیر کے مقامات پر آنے والے مسافر |
| سورما | - بہادر |
| پرخے | - چیتھڑے چیتھڑے کرنا |
| فارغ | - آزاد / خالی |
| کمپنی باغ | - غلام ہندوستان میں ‘ایسٹ انڈیا کمپنی’ کے ذریعے جگہ جگہ بنوائے گئے باغوں میں سے کانپور میں بنوایا گیا ایک باغ |