باب 03 ٹوپی شکلا
راہی معصوم رضا
سن 1927-1992
راہی معصوم رضا کا پیدائش 1 ستمبر 1927 کو مشرقی اتر پردیش کے گازی پور کے گنگولی گاؤں میں ہوا۔ ان کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی ہوئی۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد انہوں نے کچھ سال تک وہیں تدریسی کام کیا۔ پھر وہ ممبئی چلے گئے جہاں سینکڑوں فلموں کی پٹ کہانی، مکالمے اور گانے لکھے۔ مشہور سلسلہ وار ‘مہابھارت’ کو پٹ کہانی اور مکالمہ نگاری نے انہیں اس میدان میں سب سے زیادہ شہرت دلائی۔
راہی معصوم رضا ایک ایسے شاعر-کہانی کار تھے جن کے لیے ہندوستانیت انسانیت کا ہم معنی رہی۔ ان کی پوری تحریر میں عام ہندوستانی کی پریشانی، دکھ درد، اس کی جدوجہد کی صلاحیت کی اظہار ہے۔ راہی نے عوام کو بانٹنے والی طاقتوں، سیاسی جماعتوں، افراد، اداروں کا کھلا مخالفت کیا۔ انہوں نے تنگ نظریوں اور اندھے عقیدوں، مذہب اور سیاست کے مفاد پرست گٹھ جوڑ وغیرہ کو بھی بے نقاب کیا۔
راہی معصوم رضا کی اہم تصانیف ہیں- آدھا گاؤں، ٹوپی شکلا، حمایت جونپوری، کٹرا بی آرجو، اطمینان کے دن، نیم کا درخت (سب ہندی ناول)؛ محبت کے سوا (اردو ناول)؛ میں ایک پھیری والا (شاعری مجموعہ)؛ نیا سال، موجِ گل : موجِ صبا، رقصِ می، اجنبی شہر : اجنبی راستے (سب اردو شاعری مجموعے)، اڑسٹھ سو ستاون (ہندی-اردو مہاکاوی) اور چھوٹے آدمی کو بڑی کہانی (سوانح حیات)۔ راہی کا انتقال 15 مارچ 1992 کو ہوا۔
ٹوپی شکلا
اففن کے بارے میں کچھ جان لینا اس لیے ضروری ہے کہ اففن ٹوپی کا پہلا دوست تھا۔ اس اففن کو ٹوپی نے ہمیشہ اففن کہا۔ اففن نے اس کا برا مانا۔ پرنتو وہ اففن پکارنے پر بولتا رہا۔ اسی بولتے رہنے میں اس کی بڑائی تھی۔ یہ ناموں کا چکر بھی عجیب ہوتا ہے۔ اردو اور ہندی ایک ہی زبان، ہندوی کے دو نام ہیں۔ پرنتو آپ خود دیکھ لیجیے کہ نام بدل جانے سے کیسے کیسے گھپلے ہو رہے ہیں۔ نام کرشن ہو تو اسے اوتار کہتے ہیں اور محمد ہو تو پیغمبر۔ ناموں کے چکر میں پڑ کر لوگ یہ بھول گئے کہ دونوں ہی دودھ دینے والے جانور چرایا کرتے تھے۔ دونوں ہی پشوپتی، گوبردھن اور برج کمار تھے۔ اسی لیے تو کہتا ہوں کہ ٹوپی کے بغیر اففن اور اففن کے بغیر ٹوپی نہ صرف یہ کہ ادھورے ہیں بلکہ بے معنی ہیں۔ اس لیے اففن کے گھر جانا ضروری ہے۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس کی روح کے آنگن میں کیسی ہوائیں چل رہی ہیں اور پریریتاؤں کے درخت پر کیسے پھل آ رہے ہیں۔
اففن کی کہانی بھی بہت لمبی ہے۔ پرنتو ہم لوگ ٹوپی کی کہانی کہہ سن رہے ہیں۔ اسی لیے میں اففن کی پوری کہانی نہیں سناؤں گا بلکہ صرف اتنی ہی سناؤں گا جتنی ٹوپی کی کہانی کے لیے ضروری ہے۔
میں نے اسے ضروری جانا کہ اففن کے بارے میں آپ کو کچھ بتا دوں کیونکہ اففن آپ کو اس کہانی میں جگہ جگہ دکھائی دے گا۔ نہ ٹوپی اففن کی پرچھائی ہے اور نہ اففن ٹوپی کی۔ یہ دونوں دو آزاد افراد ہیں۔ ان دونوں افراد کا ڈویلپمنٹ ${ }^{2}$ ایک دوسرے سے آزاد طور پر ہوا۔ ان دونوں کو دو طرح کی گھریلو پریریتائیں ملیں۔ ان دونوں نے زندگی کے بارے میں الگ الگ سوچا۔ پھر بھی اففن ٹوپی کی کہانی کا ایک اٹوٹ ${ }^{3}$ حصہ ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ اففن ٹوپی کی کہانی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔
میں ہندو مسلم بھائی بھائی کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ میں یہ بیوقوفی کیوں کروں! کیا میں روز اپنے بڑے یا چھوٹے بھائی سے یہ کہتا ہوں کہ ہم دونوں بھائی بھائی ہیں؟ اگر میں نہیں کہتا تو کیا آپ کہتے ہیں؟ ہندو مسلمان اگر بھائی بھائی ہیں تو کہنے کی ضرورت نہیں۔ اگر نہیں ہیں تو کہنے سے کیا فرق پڑے گا۔ مجھے کوئی انتخاب تو لڑنا نہیں ہے۔
میں تو ایک کہانی کار ہوں اور ایک کہانی سنا رہا ہوں۔ میں ٹوپی اور اففن کی بات کر رہا ہوں۔ یہ اس کہانی کے دو کردار ہیں۔ ایک کا نام بلبھدر نارائن شکلا ہے اور دوسرے کا نام سید زرگام مرتضیٰ۔ ایک کو ٹوپی کہا گیا اور دوسرے کو اففن۔
اففن کے دادا اور پردادا بہت مشہور مولوی تھے۔ کافروں کے ملک میں پیدا ہوئے۔ کافروں کے ملک میں مرے۔ پرنتو وصیت ${ }^{4}$ کر کے مرے کہ لاش کربلا ${ }^{5}$ لے جائی جائے۔ ان کی روح نے اس ملک میں ایک سانس تک نہ لی۔ اس خاندان میں جو پہلا ہندوستانی بچہ پیدا ہوا وہ بڑھ کر اففن کا باپ ہوا۔
جب اففن کے والد سید مرتضیٰ حسین مرے تو انہوں نے یہ وصیت نہیں کی کہ ان کی لاش کربلا لے جائی جائے۔ وہ ایک ہندوستانی قبرستان میں دفن کیے گئے۔
اففن کی پردادی بھی بڑی نمازی بی بی تھیں۔ کربلا، نجف، خراسان، کاظمین اور جانے کہاں کی سفر کر آئی تھیں۔ پرنتو جب کوئی گھر سے جانے لگتا تو وہ دروازے پر پانی کا ایک گھڑا ضرور رکھواتیں اور ماش کا صدقہ ${ }^{7}$ بھی ضرور اتارواتیں۔
اففن کی دادی بھی نماز روزے کی پابند تھیں پرنتو جب اکلوتے بیٹے کو چیچک ${ }^{8}$ نکلی تو وہ چارپائی کے پاس ایک ٹانگ پر کھڑی ہوئیں اور بولیں، “ماتا مورے بچے کو معاف کر دیو۔” پورب کی رہنے والی تھیں۔ نو یا دس برس کی تھیں جب بیاہ کر لکھنؤ آئیں، پرنتو جب تک زندہ رہیں پوربی بولتی رہیں۔ لکھنؤ کی اردو سسرالی تھی۔ وہ تو ماں کے گھر کی زبان کو گلے لگائے رہیں کیونکہ اس زبان کے سوا ادھر ادھر کوئی ایسا نہیں تھا جو ان کے دل کی بات سمجھتا۔ جب بیٹے کی شادی کے دن آئے تو گانے بجانے کے لیے ان کا دل پھڑکا پرنتو مولوی کے گھر گانا بجانا بھلا کیسے ہو سکتا تھا! بیچاری دل مسوس کر رہ گئیں۔ ہاں اففن کی چھٹی ${ }^{10}$… پر انہوں نے جی بھر کر جشن ${ }^{11}$ منا لیا۔
بات یہ تھی کہ اففن اپنے دادا کے مرنے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ مردوں اور عورتوں کے اس فرق کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کیونکہ اس بات کو ذہن میں رکھے بغیر اففن کی روح کا ناک نقشہ ${ }^{12}$ سمجھ میں نہیں آ سکتا۔
اففن کی دادی کسی مولوی کی بیٹی نہیں تھیں بلکہ ایک زمیندار کی بیٹی تھیں۔ دودھ گھی کھاتی ہوئی آئی تھیں پرنتو لکھنؤ آ کر وہ اس دہی کے لیے ترس گئیں جو گھی پلائی ہوئی کالی ہانڈیوں میں آسامیوں کے یہاں سے آیا کرتا تھا۔ بس ماں کے گھر جاتیں تو لپڑ شپڑ جی بھر کے کھا لیتیں۔ لکھنؤ آتے ہی انہیں پھر مولوی بن جانا پڑتا۔ اپنے میاں سے انہیں یہی تو ایک شکایت تھی کہ وقت دیکھیں ن موقع، بس مولوی ہی بنے رہتے ہیں۔
سسرال میں ان کی روح ہمیشہ بے چین رہی۔ جب مرنے لگیں تو بیٹے نے پوچھا کہ لاش کربلا جائے گی یا نجف، تو بگڑ گئیں۔ بولیں، “اے بیٹا جیون توں سے ہماری لاش نہ سنبھالی جائے تو ہمارے گھر بھیج دیو۔”
موت سر پر تھی اس لیے انہیں یہ یاد نہیں رہ گیا کہ اب گھر کہاں ہے۔ گھر والے کراچی میں ہیں اور گھر کسٹوڈین ${ }^{13}$ کا ہو چکا ہے۔ مرتے وقت کسی کو ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں بھلا کیسے یاد رہ سکتی ہیں۔ اس وقت تو انسان اپنے سب سے زیادہ خوبصورت خواب دیکھتا ہے (یہ کہانی کار کا خیال ہے، کیونکہ وہ اب تک مرا نہیں ہے!) اففن کی دادی کو بھی اپنا گھر یاد آیا۔ اس گھر کا نام کچی حویلی تھا۔ کچی اس لیے کہ وہ مٹی کی بنی تھی۔ انہیں دسہری آم کا وہ بیجو درخت ${ }^{14}$ یاد آیا جو انہوں نے اپنے ہاتھ سے لگایا تھا اور جو انہیں کی طرح بوڑھا ہو چکا تھا۔ ایسی ہی چھوٹی چھوٹی اور میٹھی میٹھی بیشمار ${ }^{15}$ چیزیں یاد آئیں۔ وہ ان چیزوں کو چھوڑ کر بھلا کربلا یا نجف کیسے جا سکتی تھیں!
وہ بنارس کے ‘فاطمین’ میں دفن کی گئیں کیونکہ مرتضیٰ حسین کی پوسٹنگ ان دنوں وہیں تھی۔ اففن اسکول گیا ہوا تھا۔ نوکر نے آ کر خبر دی کہ بی بی کا انتقال ہو گیا۔ اففن کی دادی بی بی کہی جاتی تھیں۔
اففن تب چوتھے میں پڑھتا تھا اور ٹوپی سے اس کی ملاقات ہو چکی تھی۔
اففن کو اپنی دادی سے بڑا پیار تھا۔ پیار تو اسے اپنے اببو، اپنی امی، اپنی باجی $^{16}$ اور چھوٹی بہن نزہت سے بھی تھا پرنتو دادی سے وہ ذرا زیادہ پیار کیا کرتا تھا۔ امی تو کبھی کبھار ڈانٹ مار لیا کرتی تھیں۔ باجی کا بھی یہی حال تھا۔ اببو بھی کبھی کبھار گھر کو کچہری ${ }^{17}$ سمجھ کر فیصلہ سنانے لگتے تھے۔ نزہت کو جب موقع ملتا اس کی کاپیوں پر تصویریں بنانے لگتی تھی۔ بس ایک دادی تھیں جنہوں نے کبھی اس کا دل نہیں دکھایا۔ وہ رات کو بھی اسے بہرام ڈاکو، انار پری، بارہ برج، امیر حمزہ، گلبکاؤلی، حاتم طائی، پنچ پھلا رانی کی کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔
“سوتا ہے سانسار جاگتا ہے پاک ${ }^{18}$ پروردگار۔ آنکھوں کی دیکھی نہیں کہتی۔ کانوں کی سنی کہتی ہوں کہ ایک ملک ${ }^{19}$ میں ایک بادشاہ رہا….”
دادی کی زبان پر وہ کبھی نہیں مسکرایا۔ اسے تو اچھی بھلی لگتی تھی۔ پرنتو اببو نہیں بولنے دیتے تھے۔ اور جب وہ دادی سے اس کی شکایت کرتا تو وہ ہنس پڑتیں، “اے مرا کا ہے بیٹا! ان پڑھ گنواروں کی بولی توں کاہے کو بولے لگیو۔ توں اپنے اببا ہی کی بولی بول۔” بات ختم ہو جاتی اور کہانی شروع ہو جاتی-
“تو او بادشا کا کہیس کہ ترنتیں ایک ٹھو ہرن مار لیاوا…۔”
یہی بولی ٹوپی کے دل میں اتر گئی تھی۔ اففن کی دادی اسے اپنی ماں کی پارٹی کی دکھائی دیں۔ اپنی دادی سے تو اسے نفرت تھی، نفرت۔ جانے کیسی زبان بولتی تھیں۔ اففن کے اببو اور اس کی زبان ایک تھی۔
وہ جب اففن کے گھر جاتا تو اس کی دادی ہی کے پاس بیٹھنے کی کوشش کرتا۔ اففن کی امی اور باجی سے وہ بات چیت کرنے کی کبھی کوشش ہی نہ کرتا۔ وہ دونوں البتہ ${ }^{20}$ اس کی بولی پر ہنسنے کے لیے اسے چھیڑتیں پرنتو جب بات بڑھنے لگتی تو دادی بیچ بچاؤ کرا دیتیں-
“توں کاہے کو جاتھے ان سبھن کے پاس منہ پٹاوے کو جھاڑو مارے۔ چل ادھر آ…” وہ ڈانٹ کر کہتیں۔ پرنتو ہر لفظ شکر کا کھلونا بن جاتا۔ اماوت ${ }^{21}$ بن جاتا۔ تلوا ${ }^{22}$ بن جاتا…اور وہ چپ چاپ ان کے پاس چلا جاتا۔
“توری اماں کا کر رہیں…” دادی ہمیشہ یہیں سے بات شروع کرتیں۔ پہلے تو وہ چکرا جاتا کہ یہ اماں کیا ہوتا ہے۔ پھر وہ سمجھ گیا کہ ماں جی کو کہتے ہیں۔
یہ لفظ اسے اچھا لگا۔ اماں۔ وہ اس لفظ کو گڑ کی ڈلی کی طرح چبھلاتا رہا۔ اماں۔ اببو۔ باجی۔
پھر ایک دن عجیب ہو گیا۔
ڈاکٹر بھرگو نارائن شکلا نیلے تیل والے کے گھر میں بھی بیسویں صدی داخل ہو چکی تھی۔ یعنی کھانا میز کرسی پر ہوتا تھا۔ لگتی تو تھالیاں ہی تھیں پرنتو چوکے پر نہیں۔
اس دن ایسا ہوا کہ بینگن کا بھرتہ اسے ذرا زیادہ اچھا لگا۔ رامدولاری کھانا پاروس رہی تھی۔ ٹوپی نے کہا-
“امی، ذرا بینگن کا بھرتہ۔”
امی!
میز پر جتنے ہاتھ تھے رک گئے۔ جتنی آنکھیں تھیں وہ ٹوپی کے چہرے پر جم گئیں۔ امی! یہ لفظ اس گھر میں کیسے آیا۔ امی! پریریتاؤں کی دیوار ڈولنے لگی۔ “یہ لفظ ${ }^{23}$ تم نے کہاں سیکھا؟” سُبھدرا دیوی نے سوال کیا۔
“لفظ؟” ٹوپی نے آنکھیں نچائیں۔ “لفظ کا ہوتا ہے ماں؟”
“یہ امی کہنا تم کو کس نے سکھایا ہے؟” دادی گرجیں۔
“ای ہم اففن سے سیکھا ہے۔”
“اس کا پورا نام کیا ہے؟”
“ای ہم نہ جانتے۔”
“توں کونو میاں کے لئیکا سے دوستی کر لہلے بای کا رے؟”
رامدولاری کی روح گنگنا گئی۔
“بہو، تم سے کتنی بار کہوں کہ میرے سامنے گنواروں کی یہ زبان نہ بولا کرو۔” سُبھدرا دیوی رامدولاری پر برس پڑیں۔
لڑائی کا مورچہ بدل گیا۔
دوسری لڑائی کے دن تھے۔ اس لیے جب ڈاکٹر بھرگو نارائن نیلے تیل والے کو یہ پتہ چلا کہ ٹوپی نے کلیکٹر صاحب کے لڑکے سے دوستی گانٹھ لی ہے تو وہ اپنا غصہ پی گئے اور تیسرے ہی دن کپڑے اور شکر کے پر میٹ لے آئے۔
پرنتو اس دن ٹوپی کی بڑی بدحالی ${ }^{24}$ بنی۔ سُبھدرا دیوی تو اسی وقت کھانے کی میز سے اٹھ گئیں اور رامدولاری نے ٹوپی کو پھر بہت مارا۔
“توں پھر جائیبے اوکرا گھرے؟”
“ہاں۔”
“ارے تہرا ہاں میں لُکارا آگے مٹی ملاو۔”
…رامدولاری مارتے مارتے تھک گئی۔ پرنتو ٹوپی نے یہ نہیں کہا کہ وہ اففن کے گھر نہیں جائے گا۔ منّی بابو اور بھیرو اس کی کُٹائی 25 کا تماشہ دیکھتے رہے۔
“ہم ایک دن اکو رحیم کبابچی ${ }^{26}$ کی دکان پر کبابو کھاتے دیکھا رہا۔” منّی بابو نے ٹکڑا لگایا۔
کباب!
“رام رام رام!” رامدولاری گھن کے دو قدم پیچھے ہٹ گئیں۔ ٹوپی منّی کی طرف دیکھنے لگا۔ کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ ٹوپی نے منّی بابو کو کباب کھاتے دیکھ لیا تھا اور منّی بابو نے اسے ایک اکنی رشوت کی دی تھی۔ ٹوپی کو یہ معلوم تھا پرنتو وہ چغل خور نہیں تھا۔ اس نے اب تک منّی بابو کی کوئی بات اففن کے سوا کسی اور کو نہیں بتائی تھی۔
“توں ہمیں کباب کھاتے دیکھے رہیو؟”
“نا دیکھا رہا اوہ دن؟” منّی بابو نے کہا۔
“تو تم نے اسی دن کیوں نہیں بتایا؟” سُبھدرا دیوی نے سوال کیا۔
“ای جھوٹھا ہے دادی!” ٹوپی نے کہا۔
اس دن ٹوپی بہت اداس رہا۔ وہ ابھی اتنا بڑا نہیں ہوا تھا کہ جھوٹ اور سچ کے قصے میں پڑتا-اور سچی بات تو یہ ہے کہ وہ اتنا بڑا کبھی نہیں ہو سکا۔ اس دن تو وہ اتنا پِٹ گیا تھا کہ اس کا سارا بدن دکھ رہا تھا۔ وہ بس لگاتار ایک ہی بات سوچتا رہا کہ اگر ایک دن کے واسطے وہ منّی بابو سے بڑا ہو جاتا تو سمجھ لیتا ان سے۔ پرنتو منّی بابو سے بڑا ہو جانا اس کے بس میں تو تھا نہیں۔ وہ منّی بابو سے چھوٹا پیدا ہوا تھا اور ان سے چھوٹا ہی رہا۔ دوسرے دن وہ جب اسکول میں اففن سے ملا تو اس نے اسے ساری باتیں بتا دیں۔ دونوں جغرافیہ ${ }^{27}$ کا گھنٹہ چھوڑ کر سرک گئے۔ پنجم کی دکان سے اففن نے کیلیں خریدیں۔ بات یہ ہے کہ ٹوپی پھل کے علاوہ اور کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتا تھا۔
“ایسا نہ ہو سکتا کا کہ ہم لوگ دادی بدل لیں،” ٹوپی نے کہا۔ “تہری دادی ہمارے گھر آ جائیں اور ہماری تہرے گھر چلی جائیں۔ ہماری دادی تو بولیو توں ہی لوگن کو ب-و-ل-تھیں۔”
“یہ نہیں ہو سکتا۔” اففن نے کہا، “اببو یہ بات نہیں مانیں گے۔ اور مجھے کہانی کون سنائے گا؟ تمہاری دادی کو بارہ برج کی کہانی آتی ہے؟”
“توں ہمیں ایک ٹھو دادیو نہ دے سکتے؟” ٹوپی نے خود اپنے دل کے ٹوٹنے کی آواز سنی۔
“جو میری دادی ہیں وہ میرے اببو کی اماں بھی تو ہیں۔” اففن نے کہا۔
یہ بات ٹوپی کی سمجھ میں آ گئی۔
“تمہاری دادی میری دادی کی طرح بوڑھی ہوں گی؟”
“ہاں۔”
“تو فکر نہ کرو۔” اففن نے کہا، “میری دادی کہتی ہیں کہ بوڑھے لوگ مر جاتے ہیں۔” “ہماری دادی نہ مریہے۔”
“مرے گی کیسے نہیں؟ کیا میری دادی جھوٹی ہیں؟”
ٹھیک اسی وقت نوکر آیا اور پتہ چلا کہ اففن کی دادی مر گئیں۔
اففن چلا گیا۔ ٹوپی اکیلا رہ گیا۔ وہ منہ لٹکائے ہوئے جمنا زیم میں چلا گیا۔ بوڑھا چپراسی ایک طرف بیٹھا بڑی پی رہا تھا۔ وہ ایک کونے میں بیٹھ کر رونے لگا۔
شام کو وہ اففن کے گھر گیا تو وہاں سناٹا تھا۔ گھر بھرا ہوا تھا۔ روز جتنے لوگ ہوا کرتے تھے اس سے زیادہ ہی لوگ تھے۔ پرنتو ایک دادی کے نہ ہونے سے ٹوپی کے لیے گھر خالی ہو چکا تھا۔ جبکہ اسے دادی کا نام تک نہیں معلوم تھا۔ اس نے دادی کے ہزار کہنے کے بعد بھی ان کے ہاتھ کی کوئی چیز نہیں کھائی تھی۔ محبت ان باتوں کا پابند نہیں ہوتا۔ ٹوپی اور دادی میں ایک ایسا اففن ہی تعلق ہو چکا تھا۔ اففن کے دادا زندہ ہوتے تو وہ بھی اس تعلق کو بالکل اسی طرح نہ سمجھ پاتے جیسے ٹوپی کے گھر والے نہ سمجھ پائے تھے۔ دونوں الگ الگ ادھورے تھے۔ ایک نے دوسرے کو پورا کر دیا تھا۔ دونوں پیاسے تھے۔ ایک نے دوسرے کی پیاس بجھا دی تھی۔ دونوں اپنے گھروں میں اجنبی اور بھرے گھر میں اکیلی تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے کا اکیلا پن مٹا دیا تھا۔ ایک بہتر برس کی تھیں اور دوسرا آٹھ سال کا۔
“توری دادی کی جگہ ہماری دادی مر گئی ہوتیں تو ٹھیک بھیا ہوتا۔” ٹوپی نے اففن کو پرسا ${ }^{28}$ دیا۔
اففن نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسے اس بات کا جواب آتا ہی نہیں تھا۔ دونوں دوست چپ چاپ رونے لگے۔
ٹوپی نے دس اکتوبر سن پینتالیس کو قسم کھائی کہ اب وہ کسی ایسے لڑکے سے دوستی نہیں کرے گا جس کا باپ ایسی نوکری کرتا ہو جس میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔
دس اکتوبر سن پینتالیس کا یوں تو کوئی اہمیت نہیں پرنتو ٹوپی کے آپ کی تاریخ میں اس تاریخ کی بہت اہمیت ہے، کیونکہ اسی تاریخ کو اففن کے والد تبدیلی پر مراد آباد چلے گئے۔ اففن کی دادی کے مرنے کے تھوڑے ہی دنوں بعد یہ تبادلہ ${ }^{29}$ ہوا تھا، اس لیے ٹوپی اور اکیلا ہو گیا کیونکہ دوسرے کلیکٹر ٹھاکور ہری نام سنگھ کے تین لڑکوں میں سے کوئی اس کا دوست نہ بن سکا۔ ڈبّو بہت چھوٹا تھا۔ بیلو بہت بڑا تھا۔ گڈّو تھا تو برابر کا پرنتو صرف انگریزی بولتا تھا۔ اور یہ بات بھی تھی کہ ان تینوں کو اس کا احساس ${ }^{30}$ تھا کہ وہ کلیکٹر کے بیٹے ہیں۔ کسی نے ٹوپی کو منہ نہیں لگایا۔
مالی اور چپراسی ٹوپی کو پہچانتے تھے۔ اس لیے وہ بنگلے میں چلا گیا۔ بیلو، گڈّو اور ڈبّو اس وقت کرکٹ کھیل رہے تھے۔ ڈبّو نے ہٹ کیا۔ گیند سیدھی ٹوپی کے منہ پر آئی۔ اس نے گھبرا کر ہاتھ اٹھایا۔ گیند اس کے ہاتھوں میں آ گئی۔
“ہاؤز دیٹ!”
ہیڈ مالی امپائر تھا۔ اس نے انگلی اٹھا دی۔ وہ بیچارہ صرف یہ سمجھ سکا کہ جب ‘ہاؤز دیٹ’ کا شور ہو تو اسے انگلی اٹھا دینی چاہیے۔
“ہو آر یو؟” ڈبّو نے سوال کیا۔
“بلبھدر نرائن۔” ٹوپی نے جواب دیا۔
“ہو از یور فادر؟” یہ سوال گڈّو نے کیا۔
“بھرگو نرائن۔”
“این۔” بیلو نے امپائر کو آواز دی، “ای بھرگو نرائن کون ای؟ اینی آف آور چپراسیز؟”
“نہیں صاحب۔” امپائر نے کہا، “شہر کے مشہور ڈاکٹر ہیں۔”
“یو مین ڈاکٹر؟” ڈبّو نے سوال کیا۔
“یس سر!” ہیڈ مالی کو اتنی انگریزی آ گئی تھی۔
“بٹ ہی لکس سو کلنجی۔” بیلو بولا۔
“ای!” ٹوپی اکڑ گیا۔ “تنی زبان سنبھال کے بولو۔ ایک لپڑ میں ناچے لگیہو۔”
“اوہ یو…” بیلو نے ہاتھ چلا دیا۔ ٹوپی لڑھک گیا۔ پھر وہ گالیاں بکتا ہوا اٹھا۔ پرنتو ہیڈ مالی بیچ میں آ گیا اور ڈبّو نے اپنے السیشن کو سُشکار ${ }^{31}$ دیا۔
پیٹ میں سات سوئیوں بھوکوں تو ٹوپی کے ہوش ٹھکانے آئے۔ اور پھر اس نے کلیکٹر صاحب کے بنگلے کا رخ نہیں کیا۔ پرنتو سوال یہ کھڑا ہو گیا کہ پھر آخر وہ کرے کیا؟ گھر میں لے دے کر بوڑھی نوکرانی سیتا تھی جو اس کا دکھ درد سمجھتی تھی۔ تو وہ اسی کے پلّو میں چلا گیا اور سیتا کی چھاؤں میں جانے کے بعد اس کی روح بھی چھوٹی ہو گئی۔ سیتا کو گھر کے سب چھوٹے بڑے ڈانٹ لیا کرتے تھے۔ ٹوپی کو بھی گھر کے سب چھوٹے بڑے ڈانٹ لیا کرتے تھے۔ اس لیے دونوں ایک دوسرے سے پیار کرنے لگے۔
“ٹیک مت کیا کرو بابو!” ایک رات جب منّی بابو اور بھیرو کا داج ${ }^{32}$ کرنے پر وہ بہت پِٹا تو سیتا نے اسے اپنی کوٹھری میں لے جا کر سمجھانا شروع کیا۔
بات یہ ہوئی کہ جاڑوں کے دن تھے۔ منّی بابو کے لیے کوٹ کا نیا کپڑا آیا۔ بھیرو کے لیے بھی نیا کوٹ