باب 09 لکھنوی انداز
یشپال
سن 1903-1976
یشپال کی پیدائش سن 1903 میں پنجاب کے فیروز پور چھاؤنی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کانگڑا میں حاصل کرنے کے بعد لاہور کے نیشنل کالج سے انہوں نے بی اے کیا۔ وہاں ان کا تعارف بھگت سنگھ اور سکھ دیو سے ہوا۔ آزادی کی جدوجہد کی انقلابی دھارا سے وابستگی کی وجہ سے وہ جیل بھی گئے۔ ان کی وفات سن 1976 میں ہوئی۔
یشپال کی تخلیقات میں عام آدمی کی دلچسپیوں کی موجودگی ہے۔ وہ حقیقت پسندانہ اسلوب کے ممتاز تخلیق کار ہیں۔ سماجی ناہمواری، سیاسی ریاکاری اور روایات کے خلاف ان کی تخلیقات آواز بلند کرتی ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں گیاندان، ترک کا طوفان، پنجرے کی اڑان، وا دولیا، پھولو کا کرتا قابل ذکر ہیں۔ ان کا جھوٹا سچ ناول ہندوستان کی تقسیم کی المناک دستاویز ہے۔ امیتا، دیویا، پارٹی کامریڈ، دادا کامریڈ، میری تیری اس کی بات، ان کے دیگر اہم ناول ہیں۔ زبان کی فطریت اور جاندار پن ان کی تخلیقی خصوصیت ہے۔
یوں تو یشپال نے لکھنوی انداز طنز یہ ثابت کرنے کے لیے لکھا تھا کہ بغیر موضوع کے افسانہ نہیں لکھا جا سکتا لیکن ایک آزاد تخلیق کے طور پر اس تخلیق کو پڑھا جا سکتا ہے۔ یشپال اس پتھری ہوئی جاگیردارانہ طبقے پر طنز کرتے ہیں جو حقیقت سے بے خبر ایک مصنوعی طرز زندگی کا عادی ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ آج کے زمانے میں بھی ایسی طفیلی ثقافت کو دیکھا جا سکتا ہے۔
لکھنوی انداز
مُفَصِّل کی پینشنر ٹرین چل پڑنے کی جلدی میں پھنکار رہی تھی۔ آرام سے سیکنڈ کلاس میں جانے کے لیے دام زیادہ لگتے ہیں۔ دور تو جانا نہیں تھا۔ بھیڑ سے بچ کر، تنہائی میں نئی کہانی کے بارے میں سوچ سکنے اور کھڑکی سے قدرتی منظر دیکھ سکنے کے لیے ٹکٹ سیکنڈ کلاس کا ہی لے لیا۔
گاڑی چھوٹ رہی تھی۔ سیکنڈ کلاس کے ایک چھوٹے ڈبے کو خالی سمجھ کر، ذرا دوڑ کر اس میں چڑھ گئے۔ اندازے کے خلاف ڈبا ویران نہیں تھا۔ ایک برتھ پر لکھنؤ کی نوابی نسل کے ایک سفید پوش صاحب بہت سہولت سے پالتی مارے بیٹھے تھے۔ سامنے دو تازہ چکنے کھیرے تولیے پر رکھے تھے۔ ڈبے میں ہمارے اچانک کود جانے سے صاحب کی آنکھوں میں تنہائی کے غور و فکر میں خلل کا بے اطمینانی دکھائی دی۔ سوچا، ہو سکتا ہے، یہ بھی کہانی کے لیے سوجھ بوجھ کی فکر میں ہوں یا کھیرے جیسی غیر معیاری چیز کا شوق کرتے دیکھے جانے کے جھجک میں ہوں۔
نواب صاحب نے صحبت کے لیے جوش نہیں دکھایا۔ ہم نے بھی ان کے سامنے کی برتھ پر بیٹھ کر خودداری میں آنکھیں چرا لیں۔
ٹھالی بیٹھے، تصور کرتے رہنے کی پرانی عادت ہے۔ نواب صاحب کی بے سکونی اور جھجک کے سبب کا اندازہ کرنے لگے۔ ممکن ہے، نواب صاحب نے بالکل تنہا سفر کر سکنے کے اندازے میں کفایت کے خیال سے سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ خرید لیا ہو اور اب گوارا نہ ہو کہ شہر کا کوئی سفید پوش انہیں درمیانے درجے میں سفر کرتا دیکھے۔…تنہا سفر کا وقت گزارنے کے لیے ہی کھیرے خریدے ہوں گے اور اب کسی سفید پوش کے سامنے کھیرا کیسے کھائیں؟
ہم کنکھیوں سے نواب صاحب کی طرف دیکھ رہے تھے۔ نواب صاحب کچھ دیر گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھ کر صورت حال پر غور کرتے رہے۔
‘اوہ’، نواب صاحب نے اچانک ہمیں مخاطب کیا، ‘آداب عرض’، جناب، کھیرے کا شوق فرمائیں گے؟
نواب صاحب کا اچانک رویہ تبدیلی اچھا نہیں لگا۔ بھانپ لیا، آپ شائستگی کا گمان بنائے رکھنے کے لیے ہمیں بھی عام لوگوں کی حرکت میں لتھیڑ لینا چاہتے ہیں۔ جواب دیا، ‘شکریہ، قبلہ شوق فرمائیں۔’
نواب صاحب نے پھر ایک پل کھڑکی سے باہر دیکھ کر غور کیا اور پختہ فیصلے سے کھیروں کے نیچے رکھا تولیہ جھاڑ کر سامنے بچھا لیا۔ سیٹ کے نیچے سے لوٹا اٹھا کر دونوں کھیروں کو کھڑکی سے باہر دھویا اور تولیے سے پونچھ لیا۔ جیب سے چاقو نکالا۔ دونوں کھیروں کے سر کاٹے اور انہیں گھوڑ کر جھاگ نکالا۔ پھر کھیروں کو بہت احتیاط سے چھیل کر قاشوں کو قرینے سے تولیے پر سجاتے گئے۔
لکھنؤ اسٹیشن پر کھیرا بیچنے والے کھیرے کے استعمال کا طریقہ جانتے ہیں۔ گاہک کے لیے زیرہ ملا نمک اور پیسی ہوئی لال مرچ کی پڑیا بھی حاضر کر دیتے ہیں۔
نواب صاحب نے بہت قرینے سے کھیرے کی قاشوں پر زیرہ ملا نمک اور لال مرچ کی سرخی بھرک دی۔ ان کی ہر ایک کیفیت اور جبڑوں کے پھڑکنے سے واضح تھا کہ اس عمل میں ان کا منہ کھیرے کے رس کے ذائقے کی تصور سے لبریز ہو رہا تھا۔
ہم کنکھیوں سے دیکھ کر سوچ رہے تھے، میاں رئیس بنتے ہیں، لیکن لوگوں کی نظروں سے بچ سکنے کے خیال میں اپنی اصلیت پر اتر آئے ہیں۔
نواب صاحب نے پھر ایک بار ہماری طرف دیکھ لیا، ‘واللہ، شوق کیجیے، لکھنؤ کا بالَم کھیرا ہے!’
نمک مرچ چھڑک دیے جانے سے تازہ کھیرے کی پانی بھری قاشیں دیکھ کر پانی منہ میں ضرور آ رہا تھا، لیکن انکار کر چکے تھے۔ خودداری نبھانا ہی مناسب سمجھا، جواب دیا، ‘شکریہ، اس وقت طلب محسوس نہیں ہو رہی، معدہ بھی ذرا کمزور ہے، قبلہ شوق فرمائیں۔’
نواب صاحب نے تشنہ آنکھوں سے نمک مرچ کے امتزاج سے چمکتے کھیرے کی قاشوں کی طرف دیکھا۔ کھڑکی کے باہر دیکھ کر لمبی سانس لی۔ کھیرے کی ایک قاش اٹھا کر ہونٹوں تک لے گئے۔ قاش کو سونگھا۔ ذائقے کے لطف میں پلکیں موند گئیں۔ منہ میں بھر آئے پانی کا گھونٹ گلے سے اتر گیا۔ تب نواب صاحب نے قاش کو کھڑکی سے باہر چھوڑ دیا۔ نواب صاحب کھیرے کی قاشوں کو ناک کے پاس لے جا کر، خواہش سے رس کا ذائقہ لے کر کھڑکی کے باہر پھینکتے گئے۔
نواب صاحب نے کھیرے کی سب قاشوں کو کھڑکی کے باہر پھینک کر تولیے سے ہاتھ اور ہونٹ پونچھ لیے اور فخر سے گلابی آنکھوں سے ہماری طرف دیکھ لیا، گویا کہہ رہے ہوں- یہ ہے خاندانی رئیسوں کا طریقہ!
نواب صاحب کھیرے کی تیاری اور استعمال سے تھک کر لیٹ گئے۔ ہمیں تسلیم میں سر خم کر لینا پڑا- یہ ہے خاندانی تہذیب، نفاست اور نزاکت!
ہم غور کر رہے تھے، کھیرا استعمال کرنے کے اس طریقے کو کھیرے کی خوشبو اور ذائقے کی تصور سے مطمئن ہونے کا باریک، نفیس یا ایبسٹریکٹ طریقہ ضرور کہا جا سکتا ہے لیکن کیا ایسے طریقے سے پیٹ کی تسلی بھی ہو سکتی ہے؟
نواب صاحب کی طرف سے بھرے پیٹ کے اونچے ڈکار کی آواز سنائی دی اور نواب صاحب نے ہماری طرف دیکھ کر کہہ دیا، ‘کھیرا لذیذ ہوتا ہے لیکن ہوتا ہے ثقیل، نامراد معدے پر بوجھ ڈال دیتا ہے۔
علم کی آنکھیں کھل گئیں! پہچانا- یہ ہیں نئی کہانی کے لکھاری!
کھیرے کی خوشبو اور ذائقے کی تصور سے پیٹ بھر جانے کا ڈکار آ سکتا ہے تو بغیر خیال، واقعہ اور کرداروں کے، لکھاری کی خواہش محض سے ‘نئی کہانی’ کیوں
سوال-مشق
1. لکھاری کو نواب صاحب کے کن اوہام و بہاو سے محسوس ہوا کہ وہ ان سے بات چیت کرنے کے لیے ذرا بھی مشتاق نہیں ہیں؟
2. نواب صاحب نے بہت ہی کوشش سے کھیرا کاٹا، نمک مرچ بھرکا، بالآخر سونگھ کر ہی کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ انہوں نے ایسا کیوں کیا ہوگا؟ ان کا ایسا کرنا ان کے کیسے مزاج کی طرف اشارہ کرتا ہے؟
3۔ بغیر خیال، واقعہ اور کرداروں کے بھی کیا کہانی لکھی جا سکتی ہے۔ یشپال کے اس خیال سے آپ کہاں تک متفق ہیں؟
4۔ آپ اس مضمون کو اور کیا نام دینا چاہیں گے؟
تخلیق اور اظہار
5۔ (ک) نواب صاحب کے ذریعے کھیرا کھانے کی تیاری کرنے کا ایک نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ اس پورے عمل کو اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔
(کھ) کن کن چیزوں کا رس کا ذائقہ لینے کے لیے آپ کس قسم کی تیاری کرتے ہیں؟
6۔ کھیرے کے بارے میں نواب صاحب کے رویے کو ان کی خبط کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے نوابوں کی اور بھی خبطوں اور شوق کے بارے میں پڑھا سنا ہوگا۔ کسی ایک کے بارے میں لکھیے۔
7۔ کیا خبط کا کوئی مثبت روپ ہو سکتا ہے؟ اگر ہاں تو ایسی خبطوں کا ذکر کیجیے۔
زبان-مطالعہ
8۔ مندرجہ ذیل جملوں میں سے فعل چن کر فعل کی قسم بھی لکھیے-
(ک) ایک سفید پوش صاحب بہت سہولت سے پالتی مارے بیٹھے تھے۔
(کھ) نواب صاحب نے صحبت کے لیے جوش نہیں دکھایا۔
(گ) ٹھالی بیٹھے، تصور کرتے رہنے کی پرانی عادت ہے۔
(گھ) تنہا سفر کا وقت گزارنے کے لیے ہی کھیرے خریدے ہوں گے۔
(ڑ) دونوں کھیروں کے سر کاٹے اور انہیں گھوڑ کر جھاگ نکالا۔
(چ) نواب صاحب نے تشنہ آنکھوں سے نمک مرچ کے امتزاج سے چمکتے کھیرے کی قاشوں کی طرف دیکھا۔
(چھ) نواب صاحب کھیرے کی تیاری اور استعمال سے تھک کر لیٹ گئے۔
(ج) جیب سے چاقو نکالا۔
متن سے ہٹ کر سرگرمی
-
‘قبلہ شوق فرمائیں"، ‘آداب عرض…شوق فرمائیں گے’ جیسے فقرے آداب سے جڑے ہیں۔ اپنی مادری زبان کے آداب اشارہ کرنے والے فقروں کی ایک فہرست تیار کیجیے۔
-
‘کھیرا…معدے پر بوجھ ڈال دیتا ہے’ کیا واقعی کھیرا ہضم نہیں ہوتا؟ کسی بھی خوراک کا ہضم نہ ہونا کئی وجوہات پر منحصر ہوتا ہے۔ بڑوں سے بات چیت کر وجوہات کا پتہ لگائیے۔
-
خوراک کے بارے میں بہت سی مانتیاں ہیں جو آپ کے علاقے میں رائج ہوں گی، ان کے بارے میں گفتگو کیجیے۔
-
پتھری ہوئی جاگیردارانہ طبقے کی تصویر کشی پریم چند نے اپنی ایک مشہور کہانی ‘شطرنج کے کھلاڑی’ میں کی تھی اور پھر بعد میں ستیہ جیت رائے نے اس پر اسی نام سے ایک فلم بھی بنائی تھی۔ یہ کہانی ڈھونڈ کر پڑھیے اور ممکن ہو تو فلم بھی دیکھیے۔
لفظی خزانہ
| مُفَصِّل | - مرکزی شہر کے ارد گرد کے مقامات |
| سفید پوش | - شریف آدمی |
| کفایت | - معقولیت، سمجھداری سے استعمال کرنا |
| آداب عرض | - سلام کا ایک انداز |
| گمان | - وہم |
| احتیاط | - ہوشیاری |
| بھرک دینا | - چھڑک دینا |
| پھڑکنا | - ہلنا، حرکت کرنا |
| لبریز | - پانی بھر جانا |
| پانی بھری | - رسیلی |
| معدہ | - پیٹ |
| تسلیم | - احترام میں |
| سر خم کرنا | - سر جھکانا |
| تہذیب | - شائستگی |
| نفاست | - صفائی |
| نزاکت | - نرمی |
| نفیس | - عمدہ |
| ایبسٹریکٹ | - باریک، جس کا مادی وجود نہ ہو، مجرد |
| ثقیل | - آسانی سے نہ ہضم ہونے والا |