باب 08 بال گوبن بھگت

رام ورکش بینی پوری

سن 1899-1968

رام ورکش بینی پوری کی پیدائش بہار کے ضلع مظفر پور کے گاؤں بینی پور میں سن 1899 میں ہوئی۔ ماں باپ کا انتقال بچپن میں ہی ہو جانے کی وجہ سے زندگی کے ابتدائی سال محرومیوں، مشکلات اور جدوجہد میں گزرے۔ دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ سن 1920 میں قومی آزادی تحریک سے فعال طور پر جڑ گئے۔ کئی بار جیل بھی گئے۔ ان کا انتقال سن 1968 میں ہوا۔

15 سال کی عمر میں بینی پوری جی کی تحریریں اخبارات و رسائل میں چھپنے لگیں۔ وہ نہایت ہی با صلاحیت صحافی تھے۔ انہوں نے متعدد روزنامہ، ہفتہ وار اور ماہانہ اخبارات و رسائل کی تدوین کی، جن میں ترن بھارت، کسان متر، بالک، یوک، یوگی، جنیتا، جنوانی اور نئی دھارا قابل ذکر ہیں۔

نثر کی مختلف اصناف میں ان کی تحریر کو وسیع مقبولیت ملی۔ ان کی پوری ادبی تخلیقات بینی پوری رچناولی کے آٹھ جلدوں میں شائع ہیں۔ ان کی تخلیقی سفر کے اہم مراحل ہیں- پتیتوں کے دیش میں (ناول)؛ چتا کے پھول (کہانی)؛ امبا پالی (ڈراما)؛ مٹی کی مورتیں (خاکہ)؛ پیروں میں پنکھ بانڈھ کر (سفرنامہ)؛ زنجیریں اور دیواریں (یادداشتیں) وغیرہ۔ ان کی تخلیقات میں آزادی کی بیداری، انسانیت کی فکر اور تاریخ کی دور کے مطابق تشریح ہے۔ منفرد اسلوب کے مالک ہونے کی وجہ سے انہیں ‘قلم کا جادوگر’ کہا جاتا ہے۔


بال گوبن بھگت خاکے کے ذریعے مصنف نے ایک ایسے غیر معمولی کردار کا انکشاف کیا ہے جو انسانیت، لوک ثقافت اور اجتماعی شعور کی علامت ہے۔ لباس یا بیرونی رسومات سے کوئی سنیاسی نہیں ہوتا، سنیاس کی بنیاد زندگی کے انسانی تعلقات ہوتے ہیں۔ بال گوبن بھگت اسی بنیاد پر مصنف کو سنیاسی لگتے ہیں۔ یہ سبق سماجی روایات پر بھی ضرب لگاتا ہے۔ اس خاکے کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ بال گوبن بھگت کے ذریعے دیہی زندگی کی جاندار جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔

بال گوبن بھگت

بال گوبن بھگت درمیانے قد کے گورے چٹے آدمی تھے۔ ساٹھ سے اوپر کے ہی ہوں گے۔ بال سفید ہو گئے تھے۔ لمبی داڑھی یا جٹا جٹ تو نہیں رکھتے تھے، لیکن ہمیشہ ان کا چہرہ سفید بالوں سے ہی جگمگ کیے رہتا۔ کپڑے بالکل کم پہنتے۔ کمر میں ایک لنگوٹی محض اور سر میں کبیر پنتیوں کی سی کنپھٹی ٹوپی۔ جب جاڑا آتا، ایک کالی کملی اوپر سے اوڑھے رہتے۔ ماتھے پر ہمیشہ چمکتا ہوا رامانندی چندن، جو ناک کے ایک سرے سے ہی، عورتوں کے ٹیکے کی طرح، شروع ہوتا۔ گلے میں تلسی کی جڑوں کی ایک بے ڈول مالا باندھے رہتے۔

اوپر کی تصویر سے یہ نہیں مانا جائے کہ بال گوبن بھگت سادھو تھے۔ نہیں، بالکل گھریلو! ان کی گھریلو عورت کی تو مجھے یاد نہیں، ان کے بیٹے اور بہو کو تو میں نے دیکھا تھا۔ تھوڑی کھیتی باڑی بھی تھی، ایک اچھا صاف ستھرا مکان بھی تھا۔

لیکن، کھیتی باڑی کرتے، خاندان رکھتے بھی، بال گوبن بھگت سادھو تھے- سادھو کی سب تعریفوں میں پورے اترنے والے۔ کبیر کو ‘صاحب’ مانتے تھے، اسی کے گیتوں کو گاتے، اسی کے احکامات پر چلتے۔ کبھی جھوٹ نہیں بولتے، سچا برتاؤ رکھتے۔ کسی سے بھی دو ٹوک بات کرنے میں جھجک نہیں کرتے، نہ کسی سے بلاوجہ جھگڑا مول لیتے۔ کسی کی چیز نہیں چھوتے، نہ بغیر پوچھے استعمال میں لاتے۔ اس اصول کو کبھی کبھی اتنی باریکی تک لے جاتے کہ لوگوں کو تجسس ہوتا!- کبھی وہ دوسرے کے کھیت میں قضائے حاجت کے لیے بھی نہیں بیٹھتے! وہ گھریلو تھے؛ لیکن ان کی سب چیزیں ‘صاحب’ کی تھیں۔ جو کچھ کھیت میں پیدا ہوتا، سر پر لاد کر پہلے اسے صاحب کے دربار میں لے جاتے- جو ان کے گھر سے چار کوس دور پر تھا- ایک کبیر پنتی مٹھ سے مراد! وہ دربار میں ‘بھینٹ’ کی شکل رکھ لیا جا کر ‘پرساد’ کی شکل میں جو انہیں ملتا، اسے گھر لاتے اور اسی سے گزر بسر کرتے!

ان سب کے اوپر، میں تو مسحور تھا ان کے میٹھے گانے پر- جو ہمیشہ ہی سننے کو ملتے۔ کبیر کے وہ سیدھے سادے پد، جو ان کے حلق سے نکل کر جاندار ہو اٹھتے۔

آساڑھ کی رم جھم ہے۔ سارا گاؤں کھیتوں میں اتر پڑا ہے۔ کہیں ہل چل رہے ہیں؛ کہیں رپائی ہو رہی ہے۔ دھان کے پانی بھرے کھیتوں میں بچے اچھل رہے ہیں۔ عورتیں ناشتہ لے کر مینڈ پر بیٹھی ہیں۔ آسمان بادل سے گھرا؛ دھوپ کا نام نہیں۔ ٹھنڈی پوروائی چل رہی۔ ایسے ہی وقت آپ کے کانوں میں ایک سر-ترنگ جھنکار سی کر اٹھی۔ یہ کیا ہے- یہ کون ہے! یہ پوچھنا نہ پڑے گا۔ بال گوبن بھگت سارا جسم کیچڑ میں لتھڑے، اپنے کھیت میں رپائی کر رہے ہیں۔ ان کی انگلی ایک ایک دھان کے پودے کو، قطار بند، کھیت میں بٹھا رہی ہے۔ ان کا حلق ایک ایک لفظ کو موسیقی کے جین پر چڑھا کر کچھ کو اوپر، جنت کی طرف بھیج رہا ہے اور کچھ کو اس زمین کی مٹی پر کھڑے لوگوں کے کانوں کی طرف! بچے کھیلتے ہوئے جھوم اٹھتے ہیں؛ مینڈ پر کھڑی عورتوں کے ہونٹ کانپ اٹھتے ہیں، وہ گنگنانے لگتی ہیں؛ ہل والوں کے پاؤں تال سے اٹھنے لگتے ہیں؛ رپائی کرنے والوں کی انگلیاں ایک عجیب ترتیب سے چلنے لگتی ہیں! بال گوبن بھگت کی یہ موسیقی ہے یا جادو!

بھادوں کی وہ اندھیری آدھی رات۔ ابھی، تھوڑی ہی دیر پہلے موسلا دھار بارش ختم ہوئی ہے۔ بادلوں کی گرج، بجلی کی تڑپ میں آپ نے کچھ نہیں سنا ہو، لیکن اب جھیلوں کی جھنکار یا مینڈکوں کی ٹر ٹر بال گوبن بھگت کی موسیقی کو اپنے شور میں ڈبو نہیں سکتیں۔ ان کی کھنجڑی دمک دمک بج رہی ہے اور وہ گا رہے ہیں-“گودی میں پیاوا، چمک


اٹھے سکھیا، چہونک اٹھے نا!” ہاں، پیا تو گود میں ہی ہے، لیکن وہ سمجھتی ہے، وہ اکیلے ہے، چمک اٹھتی ہے، چہونک اٹھتی ہے۔ اسی بھرے بادلوں والے بھادوں کی آدھی رات میں ان کا یہ گانا اندھیرے میں اچانک کوندھ اٹھنے والی بجلی کی طرح کسے نہ چونکا دے؟ ارے، اب سارا جہان سناٹے میں سویا ہے، بال گوبن بھگت کی موسیقی جاگ رہی ہے، جگا رہی ہے!- تیری گٹھری میں لگا چور، مسافر جاگ ذرا!

کاتک آیا نہیں کہ بال گوبن بھگت کی پربھاتیاں شروع ہوئیں، جو پھاگن تک چلا کرتیں۔ ان دنوں وہ صبح ہی اٹھتے۔ نہ جانے کس وقت جاگ کر وہ ندی-نہان کو جاتے- گاؤں سے دو میل دور! وہاں سے نہا دھو کر لوٹتے اور گاؤں کے باہر ہی، پوکھرے کے اونچے بھنڈے پر، اپنی کھنجڑی لے کر جا بیٹھتے اور اپنے گانے ٹیرنے لگتے۔ میں شروع سے ہی دیر تک سونے والا ہوں، لیکن، ایک دن، ماگھ کی اس دانت کٹکٹانے والی صبح میں بھی، ان کی موسیقی مجھے پوکھرے پر لے گئی تھی۔ ابھی آسمان کے تاروں کے دیپک بجھے نہیں تھے۔ ہاں، مشرق میں لوہی لگ گئی تھی جس کی لالی کو شکر تارہ اور بڑھا رہا تھا۔ کھیت، باغیچہ، گھر- سب پر کہر چھا رہا تھا۔ سارا ماحول عجیب راز سے ڈھکا معلوم پڑتا تھا۔ اس راز بھرے ماحول میں ایک کُش کی چٹائی پر مشرق منہ، کالی کملی اوڑھے، بال گوبن بھگت اپنی کھنجڑی لیے بیٹھے تھے۔ ان کے منہ سے لفظوں کا تانتا لگا تھا، ان کی انگلیاں کھنجڑی پر مسلسل چل رہی تھیں۔ گاتے گاتے اتنا مست ہو جاتے، اتنی سرور میں آتے، جوش میں آ اٹھتے کہ معلوم ہوتا، اب کھڑے ہو جائیں گے۔ کملی تو بار بار سر سے نیچے سرک جاتی۔ میں جاڑے سے کپکپا رہا تھا، لیکن تارے کی چھاؤں میں بھی ان کے ماتھے کے شرم بندو، جب تب، چمک ہی پڑتے۔

گرمیوں میں ان کی ‘سنجھا’ کتنی امس بھری شام کو نہ ٹھنڈک پہنچاتی! اپنے گھر کے آنگن میں آسن جما بیٹھتے۔ گاؤں کے ان کے کچھ پریمی بھی جمع ہو جاتے۔ کھنجڑیوں اور کرتالوں کی بھرمار ہو جاتی۔ ایک پد بال گوبن بھگت کہہ جاتے، ان کی پریمی منڈلی اسے دہراتی، تہراتی۔ آہستہ آہستہ سر اونچا ہونے لگتا- ایک مقررہ تال، ایک مقررہ رفتار سے۔ اس تال-سر کے چڑھاؤ کے ساتھ سامعین کے دل بھی اوپر اٹھنے لگتے۔ آہستہ آہستہ دل جسم پر حاوی ہو جاتا۔ ہوتے ہوتے، ایک لمحہ ایسا آتا کہ بیچ میں کھنجڑی لیے بال گوبن بھگت ناچ رہے ہیں اور ان کے ساتھ ہی سب کے جسم اور دل رقص کرنے لگتے ہیں۔ سارا آنگن ناچ اور موسیقی سے لبریز ہے!

بال گوبن بھگت کی موسیقی-سادھنا کا عروج اس دن دیکھا گیا جس دن ان کا بیٹا مرا۔ اکلوتا بیٹا تھا وہ! کچھ سست اور بے وقوف سا تھا، لیکن اسی وجہ سے بال گوبن بھگت اسے اور بھی مانتے۔ ان کی سمجھ میں ایسے آدمیوں پر ہی زیادہ نظر رکھنی چاہیے یا پیار کرنا چاہیے، کیونکہ یے نگرانی اور محبت کے زیادہ حقدار ہوتے ہیں۔ بڑی سادھ سے اس کی شادی کرائی تھی، بہو بڑی ہی خوبصورت اور شائستہ ملی تھی۔ گھر کی پوری منتظمہ بن کر بھگت کو بہت کچھ دنیا داری سے بے نیاز کر دیا تھا اس نے۔ ان کا بیٹا بیمار ہے، اس کی خبر رکھنے کی لوگوں کو کہاں فرصت! لیکن موت تو اپنی طرف سب کا دھیان کھینچ کر ہی رہتی ہے۔ ہم نے سنا، بال گوبن بھگت کا بیٹا مر گیا۔ تجسس سے ان کے گھر گیا۔ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ بیٹے کو آنگن میں ایک چٹائی پر لٹا کر ایک سفید کپڑے سے ڈھانک رکھا ہے۔ وہ کچھ پھول تو ہمیشہ ہی لگاتے رہتے، ان پھولوں میں سے کچھ توڑ کر اس پر بکھیر دیے ہیں؛ پھول اور تلسی کے پتے بھی۔ سرہانے ایک چراغ جلا رکھا ہے۔ اور، اس کے سامنے زمین پر ہی آسن جما گیت گائے چلے جا رہے ہیں! وہی پرانا سر، وہی پرانی توجہ۔ گھر میں بہو رو رہی ہے جسے گاؤں کی عورتیں چپ کرانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن، بال گوبن بھگت گائے جا رہے ہیں! ہاں، گاتے گاتے کبھی کبھی بہو کے نزدیک بھی جاتے اور اسے رونے کے بجائے جشن منانے کو کہتے۔ روح خدا کے پاس چلی گئی، محبوبہ اپنے محبوب سے جا ملی، بھلا اس سے بڑھ کر خوشی کی کون سی بات؟ میں کبھی کبھی سوچتا، یہ پاگل تو نہیں ہو گئے۔ لیکن نہیں، وہ جو کچھ کہہ رہے تھے اس میں ان کا یقین بول رہا تھا- وہ آخری یقین جو ہمیشہ ہی موت پر فاتح ہوتا آیا ہے۔

بیٹے کے کریا کرموں میں تاخیر نہیں کی؛ بہو سے ہی آگ دلائی اس کی۔ لیکن جیسے ہی شرادھ کی مدت پوری ہو گئی، بہو کے بھائی کو بلا کر اس کے ساتھ کر دیا، یہ حکم دیتے ہوئے کہ اس کی دوسری شادی کر دینا۔ ادھر بہو رو رو کر کہتی- میں چلی جاؤں گی تو بڑھاپے میں کون آپ کے لیے کھانا بنائے گا، بیمار پڑے، تو کون ایک چلو پانی بھی دے گا؟ میں پاؤں پڑتی ہوں، مجھے اپنے چرنوں سے جدا نہ کیجیے! لیکن بھگت کا فیصلہ اٹل تھا۔ تو جا، نہیں تو میں ہی اس گھر کو چھوڑ کر چل دوں گا- یہ تھی ان کی آخری دلیل اور اس دلیل کے آگے بے چاری کی کیا چلتی؟

بال گوبن بھگت کی موت انہی کے مطابق ہوئی۔ وہ ہر سال گنگا-نہان کرنے جاتے۔ نہان پر اتنا اعتقاد نہیں رکھتے، جتنا سنت-سماجم اور لوک-درشن پر۔ پیدل ہی جاتے۔ قریب تیس کوس پر گنگا تھی۔ سادھو کو سہارا لینے کا کیا حق؟ اور، گھریلو کسی سے بھیکھشا کیوں مانگے؟ اس لیے، گھر سے کھا کر چلتے، تو پھر گھر پر ہی لوٹ کر کھاتے۔ راستہ بھر کھنجڑی بجاتے، گاتے جہاں پیاس لگتی، پانی پی لیتے۔ چار پانچ دن آنے جانے میں لگتے؛ لیکن اس لمبے روزے میں بھی وہی مستی! اب بڑھاپا آ گیا تھا، لیکن ٹیک وہی جوانی والی۔ اس بار لوٹے تو طبیعت کچھ سست تھی۔ کھانے پینے کے بعد بھی طبیعت نہیں سنبھلی، تھوڑا بخار آنے لگا۔ لیکن نیم-ورت تو چھوڑنے والے نہیں تھے۔ وہی دونوں وقت گیت، نہان دھیان، کھیتی باڑی دیکھنا۔ دن دن کمزور ہونے لگے۔ لوگوں نے نہانے دھونے سے منع کیا، آرام کرنے کو کہا۔ لیکن، ہنس کر ٹال دیتے رہے۔ اس دن بھی شام میں گیت گائے، لیکن معلوم ہوتا جیسے تاگا ٹوٹ گیا ہو، مالا کا ایک ایک دانہ بکھرا ہوا۔ صبح لوگوں نے گیت نہیں سنا، جا کر دیکھا تو بال گوبن بھگت نہیں رہے صرف ان کا پنجر پڑا ہے!

سوال-مشق

1. کھیتی باڑی سے جڑے گھریلو بال گوبن بھگت اپنی کن کرداری خصوصیات کی وجہ سے سادھو کہلاتے تھے؟

2. بھگت کی بہو انہیں اکیلے کیوں نہیں چھوڑنا چاہتی تھی؟

3. بھگت نے اپنے بیٹے کی موت پر اپنے جذبات کس طرح ظاہر کیے؟

4. بھگت کے شخصیت اور ان کی پوشاک کا اپنے الفاظ میں خاکہ پیش کیجیے۔

5. بال گوبن بھگت کی روزمرہ زندگی لوگوں کے حیرت کا سبب کیوں تھی؟

6. سبق کے مطابق بال گوبن بھگت کے میٹھے گانے کی خصوصیات لکھیے۔

7. کچھ مؤثر واقعات کے مطابق یہ دکھائی دیتا ہے کہ بال گوبن بھگت رائج سماجی عقائد کو نہیں مانتے تھے۔ سبق کے مطابق ان واقعات کا ذکر کیجیے۔

8. دھان کی رپائی کے وقت سارے ماحول کو بھگت کی سر لہریں کس طرح حیرت زدہ کر دیتی تھیں؟ اس ماحول کا لفظی خاکہ پیش کیجیے۔

تخلیق اور اظہار

9. سبق کے مطابق بتائیں کہ بال گوبن بھگت کی کبیر پر عقیدت کن کن صورتوں میں ظاہر ہوئی ہے؟

10. آپ کی نظر میں بھگت کی کبیر پر بے پناہ عقیدت کے کیا اسباب رہے ہوں گے؟

11. گاؤں کا سماجی-ثقافتی ماحول آساڑھ چڑھتے ہی خوشی سے کیوں بھر جاتا ہے؟

12. “اوپر کی تصویر سے یہ نہیں مانا جائے کہ بال گوبن بھگت سادھو تھے۔” کیا ‘سادھو’ کی پہچان پہناوے کے مطابق کی جانی چاہیے؟ آپ کن بنیادوں پر یہ یقین کریں گے کہ فلاں شخص ‘سادھو’ ہے؟

13. مہ اور محبت میں فرق ہوتا ہے۔ بھگت کی زندگی کے کس واقعے کے مطابق اس قول کی سچائی ثابت کریں گے؟

زبان-مطالعہ

14. اس سبق میں آئے کوئی دس فعل کی صفات چن کر لکھیے اور ان کے اقسام بھی بتائیے۔

سبق سے باہر سرگرمی

  • سبق میں موسموں کے بہت ہی خوبصورت لفظی خاکے بنائے گئے ہیں۔ بدلتے ہوئے موسم کو ظاہر کرتے ہوئے تصویر/فوٹو کا مجموعہ کر کے ایک البم تیار کیجیے۔

  • سبق میں آساڑھ، بھادوں، ماگھ وغیرہ میں وکرم سنوت کیلنڈر کے مہینوں کے نام آئے ہیں۔ یہ کیلنڈر کس مہینے سے شروع ہوتا ہے؟ مہینوں کی فہرست تیار کیجیے۔

  • کارتک کے آتے ہی بھگت ‘پربھاتی’ گایا کرتے تھے۔ پربھاتی صبح کے وقت گائے جانے والے گیتوں کو کہتے ہیں۔ پربھاتی گان کا مجموعہ کیجیے اور اس کی موسیقی والی پیشکش کیجیے۔

  • اس سبق میں جو دیہاتی ثقافت کی جھلک ملتی ہے وہ آپ کے آس پاس کے ماحول سے کیسے مختلف ہے؟

لفظی ذخیرہ

مںجھولا - نہ بہت بڑا نہ بہت چھوٹا
کملی - کمبل
پتوهو - بہو / بیٹے کی عورت
روپنی - دھان کی رپائی
کلیوا - صبح کا ناشتہ
پوروائی - مشرق کی طرف سے چلنے والی ہوا
ادھرتیا - آدھی رات
کھنجڑی - ڈھپلی کے ڈھنگ کا لیکن سائز میں اس سے چھوٹا ایک ساز
نستبھدتا - سناٹا
لوہی - صبح کی لالی
کہر - دھند
آورت - ڈھکا ہوا، چھپا ہوا
کش - ایک قسم کی نوکیلی گھاس
بودا - کم عقل والا
سمبل - سہارا

یہ بھی جانیں

پربھاتیاں بنیادی طور پر بچوں کو جگانے کے لیے گائی جاتی ہیں۔ پربھاتی میں سورج نکلنے سے کچھ وقت پہلے سے لے کر کچھ وقت بعد تک کا بیان ہوتا ہے۔ پربھاتیوں کا جذباتی دائرہ وسیع اور حقیقت کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ پربھاتیوں یا جاگرن گیتوں میں صرف نرم جذبات ہی نہیں بلکہ بہادری، ہمت اور جوش کی باتیں بھی کہی جاتی ہیں۔ کچھ شاعروں نے پربھاتیوں میں قومی بیداری اور ترقی کے جذبے کو پروسنے کی کوشش کی ہے۔

شری شمبھو دیال سکسینا کی لکھی ہوئی ایک پربھاتی-

پلکیں، کھولو، رین سرانی۔
بابا چلے کھیت کو ہل لے سکھیاں بھرتے پانی۔۔
بہوئیں گھر گھر چھاچ بلوتوں گاتیں گیت متھانی۔
چرخے کے سنگ گن گن کرتی سوت کاتتی نانی۔
منگل گاتی چیل چڑیا آسمان پہرانی۔
روم روم میں رمی لاڈلی زندگی جیوت سہانی۔۔
آلس چھوڑو، اٹھو نہ سکھدے! میں تب مول بیکانی۔۔
پلکیں کھولو ہے کلیانی۔۔