باب 04 سوریہ کانت تریپاٹھی "نِرالا

سوریہ کانت تریپاٹھی "نِرالا"

سن 1899-1961

سوریہ کانت تریپاٹھی “نِرالا” کا پیدائش بنگال کے مہیشادل میں سن 1899 میں ہوا۔ وہ بنیادی طور پر گڑھاکولا (ضلع اوناؤ)، اتر پردیش کے رہنے والے تھے۔ نِرالا کی رسمی تعلیم نویں جماعت تک مہیشادل میں ہی ہوئی۔ انہوں نے خود مطالعہ سے سنسکرت، بنگلہ اور انگریزی کا علم حاصل کیا۔ وہ موسیقی اور فلسفہ کے بھی گہرے طالب علم تھے۔ رام کرشن پرم ہنس اور وویکانند کی نظریات نے ان پر خاص اثر ڈالا۔

نِرالا کا خاندانی زندگی دکھوں اور جدوجہدوں سے بھری تھی۔ عزیزوں کے وقت سے پہلے انتقال نے انہیں اندر تک توڑ دیا۔ ادبی محاذ پر بھی انہوں نے مسلسل جدوجہد کی۔ سن 1961 میں ان کا انتقال ہو گیا۔

ان کی اہم شعری تخلیقات ہیں- انامیکا، پریمل، گیتیکا، کُکرمتا اور نئے پتے۔ ناول، کہانی، تنقید اور مضمون نگاری میں بھی ان کی شہرت ناقابل فراموش ہے۔ نِرالا رچناولی کے آٹھ جلدوں میں ان کا مکمل ادب شائع ہے۔

نِرالا وسیع تر تعلقات کے شاعر ہیں۔ فلسفیت، بغاوت، انقلاب، محبت کی نرمی اور فطرت کا وسیع اور عظیم چتر ان کی تخلیقات میں موجود ہے۔ ان کے باغیانہ مزاج نے شاعری کے جذباتی جہان اور فنکاری کے جہان میں نئے تجربات کو ممکن کیا۔ چھایا وادی تخلیق کاروں میں انہوں نے سب سے پہلے آزاد بحر کا استعمال کیا۔ استحصال زدہ، نظر انداز، پریشان اور مظلوم لوگوں کے لیے ان کی شاعری میں جہاں گہری ہمدردی کا جذبہ ملتا ہے، وہیں استحصالی طبقے اور اقتدار کے لیے شدید مزاحمت کا جذبہ بھی۔


اُتساہ ایک آہوان گیت ہے جو بادل کو مخاطب ہے۔ بادل نِرالا کا پسندیدہ موضوع ہے۔ نظم میں بادل ایک طرف پریشان-پیاسے لوگوں کی خواہش کو پورا کرنے والا ہے، تو دوسری طرف وہی بادل نئی تخیل اور نئے انکر کے لیے تباہی، انقلاب اور انقلابی شعور کو ممکن کرنے والا بھی۔ شاعر زندگی کو وسیع اور مکمل نظر سے دیکھتا ہے۔ نظم میں لطیف تخیل اور انقلابی شعور دونوں ہیں۔ سماجی انقلاب یا تبدیلی میں ادب کا کردار اہم ہوتا ہے، نِرالا اسے ‘نو جیون’ اور ‘نوتن کویتا’ کے حوالوں سے دیکھتے ہیں۔

اٹ نہیں رہی ہے نظم پھاگن کی مدہوشی کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعر پھاگن کی ہر جگہ پھیلی خوبصورتی کو کئی حوالوں میں دیکھتا ہے۔ جب دل خوش ہو تو ہر طرف پھاگن کی ہی خوبصورتی اور خوشی نظر آتی ہے۔ خوبصورت الفاظ کے انتخاب اور لے نے نظم کو بھی پھاگن کی ہی طرح خوبصورت اور لطیف بنا دیا ہے۔


اُتساہ

بادل، گرجو!-

گھیر گھیر گھور گگن، دھارادھر او!

للت للت، کالے گھن گھرالے،

بال کلپنا کے-سے پالے،

ودیت-چھبی اور میں، کوی، نو جیون والے!

وجر چھپا، نوتن کویتا

$\quad \quad \quad \quad$ پھر بھر دو-

$\quad \quad \quad \quad$ بادل، گرجو!

وکل وکل، اونمن تھے اونمن

وشو کے نیداگھ کے سکل جن،

آئے اجنات دیشا سے اننت کے گھن!

تپت دھرا، جل سے پھر

$\quad \quad \quad \quad$ شیتل کر دو-

$\quad \quad \quad \quad$ بادل، گرجو!


اٹ نہیں رہی ہے

اٹ نہیں رہی ہے

آبھا پھاگن کی تن

سٹ نہیں رہی ہے۔

کہیں سانس لیتے ہو، گھر-گھر بھر دیتے ہو، اڑنے کو نَبھ میں تم پر-پر کر دیتے ہو، آنکھ ہٹاتا ہوں تو ہٹ نہیں رہی ہے۔ پتوں سے لدے ڈال کہیں ہری، کہیں لال، کہیں پڑی ہے اور میں منڈ-گندھ-پشپ-مال، پاٹ-پاٹ شوبھا-شری پٹ نہیں رہی ہے۔


سوال-مشق

اُتساہ

1. شاعر بادل سے پھوار، رِم جھِم یا برسنے کی جگہ ‘گرجنے’ کے لیے کہتا ہے، کیوں؟

2. نظم کا عنوان اُتساہ کیوں رکھا گیا ہے؟

3. نظم میں بادل کن کن معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے؟

4. الفاظ کا ایسا استعمال جس سے نظم کے کسی خاص جذبے یا منظر میں صوتی اثر پیدا ہو، ناد-ساوندریہ کہلاتا ہے۔ اُتساہ نظم میں ایسے کون سے الفاظ ہیں جن میں ناد-ساوندریہ موجود ہے، چن کر لکھیں۔

تخلیق اور اظہار

5. جیسے بادل امڈ-گھمڈ کر بارش کرتے ہیں ویسے ہی شاعر کے اندرونی دل میں بھی جذبوں کے بادل امڈ-گھمڈ کر نظم کی شکل میں اظہار ہوتے ہیں۔ ایسے ہی کسی قدرتی خوبصورتی کو دیکھ کر اپنے امڈتے جذبوں کو نظم میں اتاریے۔

متن سے باہر سرگرمی

  • بادلوں پر کئی نظمیں ہیں۔ کچھ نظموں کا مجموعہ کریں اور ان کی تصویر کشی بھی کیجیے۔

اٹ نہیں رہی ہے

1. چھایا واد کی ایک خاص خصوصیت ہے اندرونی دل کے جذبوں کا باہر کی دنیا سے ہم آہنگی پیدا کرنا۔ نظم کی کن سطروں کو پڑھ کر یہ تصور مضبوط ہوتا ہے؟ لکھیے۔

2. شاعر کی آنکھ پھاگن کی خوبصورتی سے کیوں نہیں ہٹ رہی ہے؟

3. پیش کردہ نظم میں شاعر نے فطرت کی وسعت کا ذکر کن روپوں میں کیا ہے؟

4. پھاگن میں ایسا کیا ہوتا ہے جو باقی موسموں سے مختلف ہوتا ہے؟

5. ان نظموں کی بنیاد پر نِرالا کے شعری فنکاری کی خصوصیات لکھیے۔

تخلیق اور اظہار

6. ہولی کے آس پاس فطرت میں جو تبدیلیاں نظر آتی ہیں، انہیں لکھیے۔

متن سے باہر سرگرمی

  • پھاگن میں گائے جانے والے گیت جیسے ہوری، پھاگ وغیرہ گیتوں کے بارے میں جانیے۔

لفظی خزانہ

دھارادھر - بادل
اونمن - کہیں دل نہ ٹکنے کی حالت، بے دلی
نیداگھ - گرمی
سکل - سب، سارے
آبھا - چمک
وجر - سخت، بھیانک
اٹ - سما جانا، داخل ہونا
پاٹ-پاٹ - جگہ جگہ
شوبھا-شری - خوبصورتی سے بھرپور
پٹ - سما نہیں رہی ہے

اس نظم میں بھی نِرالا پھاگن کی خوبصورتی میں ڈوب گئے ہیں۔ ان میں پھاگن کی آبھا رچ گئی ہے، ایسی آبھا جسے نہ الفاظ سے الگ کیا جا سکتا ہے، نہ پھاگن سے۔

پھوٹے ہیں آم میں بَوَر بھونر بن-بن ٹوٹے ہیں۔ ہولی مچی ٹھور-ٹھور، سب بندھن چھوٹے ہیں۔

پھاگن کے رنگ راگ، باگ-بن پھاگ مچا ہے، بھر گئے موتی کے جھاگ، جنوں کے من لوٹے ہیں۔

ماتھے ابیر سے لال، گال سندور کے دیکھے، آنکھیں ہوئی ہیں گلال، گیرو کے ڈھیلے کوٹے ہیں۔