Chapter 01 Surdas
سورداس
سن 1478-1583
سورداس کا جنم سن 1478 میں مانا جاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق ان کا جنم متھرا کے نزدیک رُنکتا یا رینوکا علاقے میں ہوا جبکہ دوسری روایت کے مطابق ان کا جنم مقام دہلی کے پاس سیہی مانا جاتا ہے۔ مہاپربھو ولبھاچاریہ کے شاگرد سورداس اشٹ چھاپ کے شاعروں میں سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ وہ متھرا اور ورنداون کے درمیان گاؤ گھاٹ پر رہتے تھے اور شناتھ جی کے مندر میں بھجن-کرتن کرتے تھے۔ سن 1583 میں پارسولی میں ان کا انتقال ہوا۔
ان کے تین گرنتھوں سُرساگر، ساہتیہ لہری اور سُر ساراولی میں سُرساگر ہی سب سے زیادہ مقبول ہوا۔ کھیتی اور پشوپالن والے ہندوستانی معاشرے کا روزانہ اندرونی چہرہ اور انسان کی فطری خصلتوں کا نقشہ سُور کی شاعری میں ملتا ہے۔ سُور ‘وٹسلے’ (بچوں سے پیار) اور ‘شرنگار’ (رومان) کے بہترین شاعر مانے جاتے ہیں۔ کرشن اور گوپیاؤں کا پیار سہج انسانی پیار کی عظمت قائم کرتا ہے۔ سُور نے انسانی پیار کی داستانِ عظمت کے ذریعے عام انسانوں کو حقارت کے احساس سے آزاد کیا، ان میں جینے کی تڑپ پیدا کی۔
ان کی شاعری میں برج بھاشا کا نکھرا ہوا روپ ہے۔ وہ چلی آ رہی لوک گیتوں کی روایت کی ہی بہترین کڑی ہے۔
یہاں سُرساگر کے بھرمر گیت سے چار پد لیے گئے ہیں۔ کرشن نے متھرا جانے کے بعد خود نہ لوٹ کر اُدھو کے ذریعے گوپیاؤں کے پاس پیغام بھیجا تھا۔ اُدھو نے نِرگن برہم اور یوگ کا وعظ دے کر گوپیاؤں کی ویرہ ویدنا کو شانت کرنے کی کوشش کی۔ گوپیائیں گیان مارگ کی بجائے پیار مارگ کو پسند کرتی تھیں۔ اس وجہ سے انہیں اُدھو کا خشک پیغام پسند نہیں آیا۔ تبھی وہاں ایک بھونرا آ پہنچا۔ یہیں سے بھرمر گیت کا آغاز ہوتا ہے۔ گوپیاؤں نے بھونرے کے بہانے اُدھو پر طنز کے تیر چلائے۔ پہلے پد میں گوپیاؤں کی یہ شکایت واجب لگتی ہے کہ اگر اُدھو کبھی پیار کے دھاگے سے بندھے ہوتے تو وہ ویرہ کی ویدنا کو محسوس ضرور کر پاتے۔ دوسرے پد میں گوپیاؤں کی یہ اقرار ہے کہ ان کے من کی خواہشیں من میں ہی رہ گئیں، کرشن کے تئیں ان کے پیار کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ تیسرے پد میں وہ اُدھو کی یوگ سادھنا کو کڑوی ککڑی جیسی بتا کر اپنے یکسو پیار میں مضبوط یقین ظاہر کرتی ہیں۔ چوتھے پد میں اُدھو کو طعنہ مارتی ہیں کہ کرشن نے اب راج نیتی پڑھ لی ہے۔ آخر میں گوپیاؤں کے ذریعے اُدھو کو راج دھرم (پرجہ کا ہت) یاد دلایا جانا سورداس کی لوک دھرمیتا کو دکھاتا ہے۔
پد
(1)
اُدھو، تم ہو اتی بڑبھاگی۔
اپرس رہت سنےہ تگا تین، ناہین من انوراگی۔
پورینی پات رہت جل بھیتر، تا رس دےہ ن داغی۔
جیون جل ماہیں تیل کی گاگر، بوند ن تاکون لاگی۔
پریتی-ندی میں پاؤں ن بوریو، درشٹی ن روپ پراگی۔
‘سورداس’ ابلا ہم بھوری، گُر چانٹی جیون پاگی۔۔
( 2 )
من کی من ہی مانجھ رہی۔
کہیے جائی کون پے اُدھو، ناہیں پرت کہی۔
اوادھی ادھار آس آون کی، تن من بیتھا سہی۔
اب ان جوگ سندیسنی سنی-سنی، برہینی برہ دہی۔
چاہتی ہوتیں گوہاری جتہیں تین، اُت تین دھار بہی۔
‘سورداس’ اب دھیر دہرہیں کیوں، مرجادا ن لہی۔۔
( 3 )
ہمارین ہری ہارل کی لکری۔
من کرمن بچن نند-نندن اُر، یہ درڑھ کری پکری۔
جاگت سووت سوپن دیوس-نیسی، کانہ-کانہ جک ری۔
سونت جوگ لاگت ہے ایسو، جیون کروئی ککری۔
سو تو بیادھی ہمکون لے آئے، دیکھی سنی ن کری۔
یہ تو ‘سور’ تنہیں لے سونپو، جنکے من چکری۔۔
( 4 )
ہری ہیں راج نیتی پڑھی آئے۔
سمجھی بات کہت مدھوکر کے، سماچار سب پائے۔
ایک اتی چتور ہوتی پہلین ہی، اب گرو گرنتھ پڑھائے۔
بڑھی بدھی جانی جو انکی، جوگ-سندیس پٹھائے۔
اُدھو بھلے لوگ آگے کے، پر ہت ڈولت دھائے۔
اب اپنے من پھیر پائیہین، چلت جو ہوتی چرائے۔
تے کیوں انیتی کرین آپن، جے اور انیتی چھڑائے۔
راج دھرم تو یہی ‘سور’، جو پرجا ن جائیں ستائے۔۔
سوال-مشق
1. گوپیاؤں کے ذریعے اُدھو کو بھاگیہ وان کہنے میں کیا طنز پوشیدہ ہے؟
2. اُدھو کے رویے کی تقابل کس-کس سے کی گئی ہے؟
3. گوپیاؤں نے کن-کن مثالوں کے ذریعے اُدھو کو طعنے دیے ہیں؟
4. اُدھو کے ذریعے دیے گئے یوگ کے پیغام نے گوپیاؤں کی ویرہ آگ میں گھی کا کام کیسے کیا؟
5. ‘مرجادا ن لہی’ کے ذریعے کون-سی مریادا نہ رہنے کی بات کی جا رہی ہے؟
6. کرشن کے تئیں اپنے یکسو پیار کو گوپیاؤں نے کس طرح ظاہر کیا ہے؟
7. گوپیاؤں نے اُدھو سے یوگ کی تعلیم کیسے لوگوں کو دینے کی بات کہی ہے؟
8. پیش کردہ پدوں کی بنیاد پر گوپیاؤں کا یوگ-سادھنا کے تئیں نقطہ نظر واضح کریں۔
9. گوپیاؤں کے مطابق راجہ کا دھرم کیا ہونا چاہیے؟
10. گوپیاؤں کو کرشن میں ایسے کون-سے تبدیلیاں دکھائی دیں جن کی وجہ سے وہ اپنا من واپس پا لینے کی بات کہتی ہیں؟
11. گوپیاؤں نے اپنے واک چاتوریہ کی بنیاد پر گیانی اُدھو کو پرسست کر دیا، ان کے واک چاتوریہ کی خصوصیات لکھیے؟
12. مجموعہ پدوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے سُور کے بھرمر گیت کی اہم خصوصیات بتائیے؟
تخلیق اور اظہار
13. گوپیاؤں نے اُدھو کے سامنے طرح طرح کے دلائل دیے ہیں، آپ اپنی تخیل سے اور دلائل دیجیے۔
14. اُدھو گیانی تھے، نیتی کی باتیں جانتے تھے؛ گوپیاؤں کے پاس ایسی کون-سی طاقت تھی جو ان کے واک چاتوریہ میں ظاہر ہو گئی؟
15. گوپیاؤں نے یہ کیوں کہا کہ ہری اب راج نیتی پڑھ آئے ہیں؟ کیا آپ کو گوپیاؤں کے اس قول کا پھیلاؤ موجودہ دور کی راج نیتی میں نظر آتا ہے، واضح کیجیے۔
متن سے باہر سرگرمی
-
پیش کردہ پدوں کی سب سے بڑی خصوصیت ہے گوپیاؤں کی ‘واگویدگدھتا’۔ آپ نے ایسے اور کرداروں کے بارے میں پڑھا یا سنا ہوگا جنہوں نے اپنے واک چاتوریہ کی بنیاد پر اپنی ایک خاص پہچان بنائی؛ جیسے- بیربل، تینالی رام، گوپال بھانڈ، ملا نصیرالدین وغیرہ۔ اپنے کسی پسندیدہ کردار کے کچھ قصے جمع کر کے ایک البم تیار کریں۔
-
سُور کی تخلیق اپنے پسندیدہ پدوں کو لے اور تال کے ساتھ گائیں۔
لفظی خزانہ
| بڑبھاگی | - | خوش قسمت |
| اپرس | - | الگ تھلگ، بے لطف، اچھوتا |
| تگا | - | دھاگا، بندھن |
| پورینی پات | - | کنول کا پتا |
| داغی | - | داغ، دھبہ |
| ماہیں | - | میں |
| پریتی-ندی | - | پیار کی ندی |
| پاؤں | - | پیر |
| بوریو | - | ڈبویا |
| پراگی | - | محو ہونا |
| گُر چانٹی جیون پاگی | - | جس طرح چیونٹی گڑ میں چپکتی ہے، اسی طرح ہم بھی کرشن کے پیار میں لگے ہوئے ہیں |
| ادھار | - | سہارا |
| آون | - | آمد |
| بیتھا | - | تکلیف |
| برہینی | - | جدائی میں جینے والی |
| برہ دہی | - | ویرہ کی آگ میں جل رہی ہیں |
| ہوتیں | - | تھیں |
| گوہاری | - | حفاظت کے لیے پکارنا |
| جتہیں تین | - | جہاں سے |
| اُت | - | ادھر، وہاں |
| دھار | - | یوگ کی تیز دھار |
| دھیر | - | صبر |
| مرجادا | - | مریادا، عزت |
| ن لہی | - | نہیں رہی، نہیں رکھی |
| ہارل | - | ہارل ایک پرندہ ہے جو اپنے پیروں میں ہمیشہ ایک لکڑی لیے رہتا ہے، اسے چھوڑتا نہیں ہے |
| نند-نندن اُر…پکری | - | نند کے نندن کرشن کو ہم نے بھی اپنے دل میں بسا کر مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے |
| جک ری | - | رٹتی رہتی ہیں |
| سو | - | وہ |
| بیادھی | - | بیماری، تکلیف پہنچانے والی چیز |
| کری | - | بھوگا |
| تنہیں | - | ان کو |
| من چکری | - | جن کا من مستقل نہیں رہتا |
| مدھوکر | - | بھونرا، اُدھو کے لیے گوپیاؤں کے ذریعے استعمال کیا گیا خطاب |
| ہوتی | - | تھے |
| پٹھائے | - | بھیجا |
| آگے کے | - | پہلے کے |
| پر ہت | - | دوسروں کی بھلائی کے لیے |
| ڈولت دھائے | - | گھومتے پھرتے تھے |
| پھیر | - | پھر سے |
| پائیہین | - | پا لیں گی |
| انیتی | - | ناانصافی |
یہ بھی جانیں
ہارل : یہ پیلی ٹانگوں والا ہرے رنگ کا کبوتر کی قسم کا پرندہ ہے جسے ہریل، ہاریت (سنسکرت)، کامن گرین پجین (انگریزی) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پرندہ ہندوستان میں گھنے درختوں والے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ ‘ہارل کی