باب 07 دوہے

رحیم (1556-1626)

رحیم کی پیدائش لاہور (اب پاکستان) میں 1556ء میں ہوئی۔ ان کا پورا نام عبدالرحیم خانخانا تھا۔ رحیم عربی، فارسی، سنسکرت اور ہندی کے ماہر تھے۔ ان کی اخلاقی باتوں پر سنسکرت شاعروں کی واضح چھاپ نظر آتی ہے۔ رحیم قرون وسطیٰ کی درباری ثقافت کے نمائندہ شاعر مانے جاتے ہیں۔ اکبر کے دربار میں ہندی شاعروں میں ان کی اہمیت تھی۔ رحیم اکبر کے نو رتنوں میں سے ایک تھے۔

رحیم کے کلام کا مرکزی موضوع شنگار، اخلاقیات اور بھگتی ہے۔ رحیم بہت مقبول شاعر تھے۔ ان کے دوہے عام لوگوں کو آسانی سے یاد ہو جاتے ہیں۔ ان کے اخلاقی دوہے زیادہ مشہور ہیں، جن میں روزمرہ زندگی کی مثالیں دے کر شاعر نے انہیں سہل، سادہ اور قابل فہم بنا دیا ہے۔ رحیم کو اودھی اور برج دونوں زبانوں پر یکساں عبور تھا۔ انہوں نے اپنے کلام میں مؤثر زبان کا استعمال کیا ہے۔

رحیم کی اہم تصانیف ہیں: رحیم ستسائی، شنگار ستسائی، مدن اشٹک، راس پنج ادھیائی، رحیم رتناولی، بروائی، بھاشک بھید ورنن۔ یہ تمام تصانیف ‘رحیم گرنتھاولی’ میں شامل ہیں۔

پیش کردہ سبق میں رحیم کے اخلاقی دوہے دیے گئے ہیں۔ یہ دوہے جہاں ایک طرف قاری کو دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے، اس کی تعلیم دیتے ہیں، وہیں انسان کو کرنے اور نہ کرنے کے کاموں کی بھی نصیحت کرتے ہیں۔ انہیں ایک بار پڑھ لینے کے بعد بھولنا ممکن نہیں ہے اور ان حالات کا سامنا ہوتے ہی ان کا یاد آنا لازمی ہے، جن کا ان میں نقشہ کھینچا گیا ہے۔

دوہے

رحیمن دھاگا پریم کا، مت توڑو چٹکائے۔
ٹوٹے سے پھر نہ ملے، ملے گانٹھ پڑ جائے۔۔

رحیمن نِج من کی بِتھا، من ہی رکھو گوئے۔
سُنّی اٹھلائیں لوگ سب، بانٹی نہ لیہیں کوئے۔۔

ایکے سادھے سب سدھے، سب سادھے سب جائے۔
رحیمن مولہیں سینچیبو، پھولے پھلے اگھائے۔۔

چترکوٹ میں رمی رہے، رحیمن اودھ نریش۔
جا پر بپدا پڑت ہے، سو آوت یہ دیس۔۔

دیرگ دوہا ارتھ کے، آکھر تھورے آہیں۔
جیوں رحیم نٹ کنڈلی، سمٹی کُودی چڑھی جائیں۔۔

دھنی رحیم جل پنک کو لگھو جی پیت اگھائے۔
اُدھد بڑائی کون ہے، جگت پیاسو جائے۔۔

ناد ریجھی تن دیت مرگ، نر دھن ہیت سمیت۔
تے رحیم پشو سے ادھک، ریجھیہو کچھو نہ دیت۔۔

بگڑی بات بنے نہیں، لاکھ کرو کن کوئے۔
رحیمن پھاٹے دودھ کو، متھے نہ ماکھن ہوئے۔۔

رحیمن دیکھی بڑین کو، لگھو نہ دیجیے ڈاری۔
جہاں کام آوے سُوئی، کہا کرے تروری۔۔

رحیمن نِج سمپتی بنا، کوؤ نہ بپتی سہائے۔
بنو پانی جیوں جلج کو، نہیں روی سکے بچائے۔۔

رحیمن پانی رکھیے، بنو پانی سب سون۔
پانی گئے نہ اُوبرے، موتی، مانش، چون۔۔

سوال-مشق

1. درج ذیل سوالات کے جواب دیجیے-

(ک) محبت کا دھاگہ ٹوٹنے پر پہلے کی طرح کیوں نہیں ہو پاتا؟

(خ) ہمیں اپنا دکھ دوسروں پر کیوں ظاہر نہیں کرنا چاہیے؟ اپنے دل کی تکلیف دوسروں سے کہنے پر ان کا رویہ کیسا ہو جاتا ہے؟

(گ) رحیم نے سمندر کے مقابلے میں کیچڑ کے پانی کو مبارک کیوں کہا ہے؟

(گھ) ایک کو سدھانے سے سب کیسے سدھ جاتے ہیں؟

(ڑ) پانی کے بغیر کنول کی حفاظت سورج بھی کیوں نہیں کر پاتا؟

(چ) اودھ کے بادشاہ کو چترکوٹ کیوں جانا پڑا؟

(چھ) ‘نٹ’ کس فن میں ماہر ہونے کی وجہ سے اوپر چڑھ جاتا ہے؟

(ج) ‘موتی، انسان، آٹا’ کے حوالے سے پانی کی اہمیت کو واضح کیجیے۔

2. درج ذیل کا مطلب واضح کیجیے-

(ک) ٹوٹے سے پھر نہ ملے، ملے گانٹھ پڑ جائے۔

(خ) سُنّی اٹھلائیں لوگ سب، بانٹی نہ لیہیں کوئے۔

(گ) رحیمن مولہیں سینچیبو، پھولے پھلے اگھائے۔

(گھ) دیرگ دوہا ارتھ کے، آکھر تھورے آہیں۔

(ڑ) ناد ریجھی تن دیت مرگ، نر دھن ہیت سمیت۔

(چ) جہاں کام آوے سُوئی، کہا کرے تروری۔

(چھ) پانی گئے نہ اُوبرے، موتی، مانش، چون۔

3. درج ذیل مطلب کو سبق میں کن سطروں کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے

(ک) جس پر مصیبت پڑتی ہے وہی اس ملک میں آتا ہے۔

(خ) کوئی لاکھ کوشش کرے پر بگڑی بات پھر بن نہیں سکتی۔

(گ) پانی کے بغیر سب سونا ہے اس لیے پانی ضرور رکھنا چاہیے۔

4.مثال کی بنیاد پر سبق میں آئے ہوئے درج ذیل الفاظ کے رائج روپ لکھیے -

مثال: کوئے - کوئی، $\qquad$ جے - جو

جیوں $\qquad$………. کچھو $\qquad$……….

نہیں $\qquad$………. کوئے $\qquad$……….

دھنی $\qquad$………. آکھر $\qquad$……….

جی $\qquad$………. تھورے $\qquad$……….

ہوئے $\qquad$………. ماکھن $\qquad$……….

تروری $\qquad$………. سینچیبو $\qquad$………

مولہیں $\qquad$………. پیت $\qquad$……….

پیاسو $\qquad$………. بگڑی $\qquad$……….

آوے $\qquad$………. سہائے $\qquad$……….

اُوبرے $\qquad$………. بنو $\qquad$……….

بتھا $\qquad$………. اٹھلائیں $\qquad$……….

پڑ جائے $\qquad$……….

قابلیت-وسعت

1. ‘سوئی کی جگہ تلوار کام نہیں آتی’ اور ‘بنا پانی سب سونا ہے’ ان موضوعات پر کلاس میں مباحثہ کا اہتمام کیجیے۔

2. ‘چترکوٹ’ کس ریاست میں واقع ہے، معلومات حاصل کیجیے۔

پروجیکٹ کام

اخلاقیات سے متعلق دیگر شاعروں کے دوہے/نظمیں جمع کیجیے اور ان دوہوں/نظموں کو چارٹ پر لکھ کر دیوار اخبار پر لگائیے۔

لفظی معنی اور تشریحات

چٹکائے - چٹکا کر
بتھا - تکلیف، دکھ، درد
گوئے - چھپا کر
اٹھلائیں - اٹھلانا، مذاق اڑانا
سینچیبو - آبپاشی کرنا، پودوں میں پانی دینا
اگھائے - سیر
ارتھ (ارتھ) - معنی، مطلب
تھورے - تھوڑا، کم
پنک - کیچڑ
اُدھد - سمندر
ناد - آواز
ریجھی - محبت میں آ کر
بگڑی - بگڑی ہوئی
پھاٹے دودھ - پھٹا ہوا دودھ
متھے - بلونا، متھنا
آوے - آنا
نِج - اپنا
بپتی - مصیبت، آفت
پیاسو - پیاسا
چترکوٹ - جنگل میں رہنے کے وقت شری رام چندر جی سیتا اور لکشمن کے ساتھ کچھ وقت تک چترکوٹ میں رہے تھے