باب 02 ایورسٹ : میری چوٹی کی سفر
ایورسٹ مہم کا دستہ 7 مارچ کو دہلی سے کاٹھمنڈو کے لیے ہوائی جہاز سے چل پڑا۔ ایک مضبوط اگواڑا دستہ بہت پہلے ہی چلا گیا تھا تاکہ وہ ہمارے ‘بیس کیمپ’ پہنچنے سے پہلے ناقابل رسائی برفباری کے راستے کو صاف کر سکے۔
نامچے بازار، شیرپالینڈ کا ایک سب سے اہم شہری علاقہ ہے۔ زیادہ تر شیرپا اسی جگہ اور یہیں کے آس پاس کے گاؤں کے ہوتے ہیں۔ یہ نامچے بازار ہی تھا، جہاں سے میں نے سب سے پہلے ایورسٹ کو دیکھا، جو نیپالیوں میں ‘ساگرماتھا’ کے نام سے مشہور ہے۔ مجھے یہ نام اچھا لگا۔
ایورسٹ کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے، میں نے ایک بھاری برف کا بڑا پلوم دیکھا، جو پہاڑ کی چوٹی پر لہراتا ایک جھنڈا سا لگ رہا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ منظر چوٹی کی اوپری سطح کے آس پاس 150 کلومیٹر یا اس سے بھی زیادہ کی رفتار سے ہوا چلنے کی وجہ سے بنتا تھا، کیونکہ تیز ہوا سے خشک برف پہاڑ پر اڑتی رہتی تھی۔ برف کا یہ جھنڈا 10 کلومیٹر یا اس سے بھی لمبا ہو سکتا تھا۔ چوٹی پر جانے والے ہر شخص کو جنوب مشرقی پہاڑی پر ان طوفانوں کو جھیلنا پڑتا تھا، خاص طور پر خراب موسم میں۔ یہ مجھے ڈرانے کے لیے کافی تھا، پھر بھی میں ایورسٹ کے لیے عجیب طور پر متوجہ تھی اور اس کی مشکل ترین چیلنجوں کا سامنا کرنا چاہتی تھی۔
جب ہم 26 مارچ کو پیریچ پہنچے، ہمیں برف کے پھسلنے کی وجہ سے ہوئی ایک شیرپا کولی کی موت کا غمگین خبر ملی۔ کھمبو برفباری پر جانے والے مہم کے دستے کے راستے کے بائیں طرف سیدھی پہاڑی کے دھنسنے سے، لہوتسے کی طرف سے ایک بہت بڑی برف کی چٹان
نیچے کھسک آئی تھی۔ سولہ شیرپا کولیوں کے دستے میں سے ایک کی موت ہو گئی اور چار زخمی ہو گئے تھے۔
اس خبر کی وجہ سے مہم کے دستے کے اراکین کے چہروں پر چھائے افسردگی کو دیکھ کر ہمارے لیڈر کرنل کھلر نے واضح کیا کہ ایورسٹ جیسی عظیم مہم میں خطرات کو اور کبھی کبھی تو موت بھی آدمی کو سہج بھاؤ سے قبول کرنی چاہیے۔
نائب لیڈر پریم چند، جو اگواڑا دستے کی قیادت کر رہے تھے، 26 مارچ کو پیریچ واپس آ گئے۔ انہوں نے ہماری پہلی بڑی رکاوٹ کھمبو برفباری کی صورت حال سے ہمیں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دستے نے کیمپ-ایک (6000 میٹر)، جو برفباری کے بالکل اوپر ہے، وہاں تک کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پل بنا کر، رسیاں باندھ کر اور جھنڈیوں سے راستہ نشان زد کر، سب بڑی مشکلات کا جائزہ لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے اس پر بھی توجہ دلائی کہ گلیشیئر برف کی ندی ہے اور برف کا گرنا ابھی جاری ہے۔ برفباری میں بے قاعدہ اور غیر یقینی تبدیلی کی وجہ سے ابھی تک کیے گئے سب کام بے کار ہو سکتے ہیں اور ہمیں راستہ کھولنے کا کام دوبارہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
‘بیس کیمپ’ میں پہنچنے سے پہلے ہمیں ایک اور موت کی خبر ملی۔ موسمی حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے ایک باورچی کے مددگار کی موت ہو گئی تھی۔ یقیناً ہم امید افزا صورت حال میں نہیں چل رہے تھے۔
ایورسٹ چوٹی کو میں نے پہلے دو بار دیکھا تھا، لیکن ایک دوری سے۔ بیس کیمپ پہنچنے پر دوسرے دن میں نے ایورسٹ پہاڑ اور اس کی دوسری سلسلوں کو دیکھا۔ میں حیران ہو کر کھڑی رہ گئی اور ایورسٹ، لہوتسے اور نوتسے کی بلندیوں سے گھری، برفیلی ٹیڑھی میڑھی ندی کو دیکھتی رہی۔
برفباری اپنے آپ میں ایک طرح سے برف کے ٹکڑوں کا بے ترتیب طریقے سے گرنا ہی تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ گلیشیئر کے بہنے سے اکثر برف میں ہلچل ہو جاتی تھی، جس سے بڑی بڑی برف کی چٹانیں فوراً گر جایا کرتی تھیں اور دوسری وجوہات سے بھی اچانک عموماً خطرناک صورت حال اختیار کر لیتی تھیں۔ سیدھے سطح زمین پر$ \qquad $ درار پڑنے کا خیال اور اس درار کے گہرے چوڑے برف کے درار میں بدل جانے کا محض خیال ہی بہت ڈراؤنا تھا۔ اس سے بھی زیادہ خوفناک اس بات کی معلومات تھی کہ ہمارے پورے قیام کے دوران برفباری تقریباً ایک درجن چڑھنے والوں اور کولیوں کو روزانہ چھوتی رہے گی۔
دوسرے دن نئے آنے والے اپنے زیادہ تر سامان کو ہم برفباری کے آدھے راستے تک لے گئے۔ ڈاکٹر مینو مہتا نے ہمیں ایلومینیم کی سیڑھیوں سے عارضی پلوں کا بنانا، لٹکاؤں اور رسیوں کا استعمال، برف کی آڑی ترچھی دیواروں پر رسیوں کو باندھنا اور ہمارے اگواڑے دستے کے انجینئرنگ کاموں کے بارے میں ہمیں تفصیلی معلومات دی۔
تیسرا دن برفباری سے کیمپ-ایک تک سامان ڈھو کر چڑھائی کا مشق کرنے کے لیے مقرر تھا۔ ریتا گومبو اور میں ساتھ ساتھ چڑھ رہے تھے۔ ہمارے پاس ایک واکی ٹاکی تھا، جس سے ہم اپنے ہر قدم کی معلومات بیس کیمپ پر دے رہے تھے۔ کرنل کھلر اس وقت خوش ہوئے، جب ہم نے انہیں اپنے پہنچنے کی اطلاع دی کیونکہ کیمپ-ایک پر پہنچنے والی صرف ہم دو ہی خواتین تھیں۔
انگدورجی، لوپسانگ اور گگن بسا آخرکار ساؤتھ کول پہنچ گئے اور 29 اپریل کو 7900 میٹر پر انہوں نے کیمپ-چار لگایا۔ یہ تسلی بخش پیش رفت تھی۔
جب اپریل میں میں بیس کیمپ میں تھی، تنزنگ اپنی سب سے چھوٹی بیٹی ڈیکی کے ساتھ ہمارے پاس آئے تھے۔ انہوں نے اس بات پر خاص اہمیت دی کہ دستے کے ہر رکن اور ہر شیرپا کولی سے بات چیت کی جائے۔ جب میری باری آئی، میں نے اپنا تعارف یہ کہہ کر دیا کہ میں بالکل ہی نوآموز ہوں اور ایورسٹ میری پہلی مہم ہے۔ تنزنگ ہنسے اور مجھ سے کہا کہ ایورسٹ ان کے لیے بھی پہلی مہم ہے، لیکن یہ بھی واضح کیا کہ چوٹی پر پہنچنے سے پہلے انہیں سات بار ایورسٹ پر جانا پڑا تھا۔ پھر اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھتے ہوئے انہوں نے کہا، “تم ایک پکی پہاڑی لڑکی لگتی ہو۔ تمہیں تو چوٹی پر پہلے ہی کوشش میں پہنچ جانا چاہیے۔”
15-16 مئی 1984 کو بدھ پورنما کے دن میں لہوتسے کی برفیلی سیدھی ڈھلان پر لگائے گئے خوبصورت رنگین نائلون کے بنے خیمے کے کیمپ-تین میں تھی۔ کیمپ میں 10 اور افراد تھے۔ لوپسانگ، تشیرنگ میرے خیمے میں تھے، این ڈی شیرپا اور
آٹھ دوسرے جسم سے مضبوط اور بلندیوں میں رہنے والے شیرپا دوسرے خیموں میں تھے۔ میں گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی کہ رات میں 12.30 بجے کے لگ بھگ میرے سر کے پچھلے حصے میں کسی ایک سخت چیز کے ٹکرانے سے میری نیند اچانک کھل گئی اور ساتھ ہی ایک زوردار دھماکا بھی ہوا۔ تبھی مجھے محسوس ہوا کہ ایک ٹھنڈی، بہت بھاری کوئی چیز میرے جسم پر سے مجھے کچلتی ہوئی چل رہی ہے۔ مجھے سانس لینے میں بھی دشواری ہو رہی تھی۔
یہ کیا ہو گیا تھا؟ ایک لمبا برف کا پنڈ ہمارے کیمپ کے بالکل اوپر لہوتسے گلیشیئر سے ٹوٹ کر نیچے آ گرا تھا اور اس کا وسیع برف کا ڈھیر بن گیا تھا۔ برف کے ٹکڑوں، برف کے پارچوں اور جمی ہوئی برف کے اس عظیم الجثہ ڈھیر نے، ایک ایکسپریس ریل گاڑی کی تیز رفتار اور ہیبت ناک گرج کے ساتھ، سیدھی ڈھلان سے نیچے آتے ہوئے ہمارے کیمپ کو تباہ و برباد کر دیا۔ درحقیقت ہر شخص کو چوٹ لگی تھی۔ یہ ایک حیرت تھی کہ کسی کی موت نہیں ہوئی تھی۔
لوپسانگ اپنی سوئس چھری کی مدد سے ہمارے خیمے کا راستہ صاف کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے اور فوراً ہی انتہائی تیزی سے مجھے بچانے کی کوشش میں لگ گئے۔ تھوڑی سی بھی دیر کا سیدھا مطلب تھا موت۔ بڑے بڑے برف کے ڈھیروں کو مشکل سے ہٹاتے ہوئے انہوں نے میرے چاروں طرف کی کڑے جمے برف کی کھدائی کی اور مجھے اس برف کی قبر سے نکال باہر کھینچ لانے میں کامیاب ہو گئے۔
صبح تک سارے بچاؤ دستے آ گئے تھے اور 16 مئی کو صبح 8 بجے تک ہم تقریباً سب کیمپ-دو پر پہنچ گئے تھے۔ جس شیرپا کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، اسے ایک خود کے بنائے اسٹریچر پر لٹا کر نیچے لائے۔ ہمارے لیڈر کرنل کھلر کے الفاظ میں، “یہ اتنی بلندی پر بچاؤ کام کا ایک زبردست جرات مندانہ کارنامہ تھا۔”
سب نو مرد اراکین کو چوٹوں یا ٹوٹی ہڈیوں وغیرہ کی وجہ سے بیس کیمپ میں بھیجنا پڑا۔ تبھی کرنل کھلر میری طرف مڑ کر کہنے لگے، “کیا تم ڈری ہوئی تھیں؟”
“جی ہاں۔”
“کیا تم واپس جانا چاہو گی؟”
“نہیں”، میں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیا۔
جیسے ہی میں ساؤتھ کول کیمپ پہنچی، میں نے اگلے دن کی اپنی اہم چڑھائی کی تیاری شروع کر دی۔ میں نے کھانا، ککنگ گیس اور کچھ آکسیجن سلنڈر جمع کیے۔ جب دوپہر ڈیڑھ بجے بسا آیا، اس نے مجھے چائے کے لیے پانی گرم کرتے دیکھا۔ کی، جے اور مینو ابھی بہت پیچھے تھے۔ میں پریشان تھی کیونکہ مجھے اگلے دن ان کے ساتھ ہی چڑھائی کرنی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ آ رہے تھے کیونکہ وہ بھاری بوجھ لے کر اور بغیر آکسیجن کے چل رہے تھے۔
دوپہر کے بعد میں نے اپنے دستے کے دوسرے اراکین کی مدد کرنے اور اپنے ایک تھرمس کو جوس سے اور دوسرے کو گرم چائے سے بھرنے کے لیے نیچے جانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے برفلی ہوا میں ہی خیمے سے باہر قدم رکھا۔ جیسے ہی میں کیمپ علاقے سے باہر آ رہی تھی میری ملاقات مینو سے ہوئی۔ کی اور جے ابھی کچھ پیچھے تھے۔ مجھے جے جنیوا سپر کی چوٹی کے بالکل نیچے ملا۔ اس نے شکرگزاری سے چائے وغیرہ پی لیکن مجھے اور آگے جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ مگر مجھے کی سے بھی ملنا تھا۔ تھوڑا سا اور آگے نیچے اترنے پر میں نے کی کو دیکھا۔ وہ مجھے دیکھ کر حیران رہ گیا۔
“تم نے اتنی بڑی خطرہ مول کیوں لی بچندری؟”
میں نے اسے مضبوطی سے کہا، “میں بھی دوسروں کی طرح ایک کوہ پیما ہوں، اسی لیے اس دستے میں آئی ہوں۔ جسمانی طور پر میں ٹھیک ہوں۔ اس لیے مجھے اپنے دستے کے اراکین کی مدد کیوں نہیں کرنی چاہیے۔” کی ہنسا اور اس نے مشروب سے پیاس بجھائی، لیکن اس نے مجھے اپنا کٹ لے جانے نہیں دیا۔
تھوڑی دیر بعد ساؤتھ کول کیمپ سے لہاتو اور بسا ہمیں ملنے نیچے اتر آئے۔ اور ہم سب ساؤتھ کول پر جیسی بھی حفاظت اور آرام کی جگہ دستیاب تھی، اس پر واپس آ گئے۔ ساؤتھ کول ‘زمین پر بہت زیادہ سخت’ جگہ کے نام سے مشہور ہے۔
اگلے دن میں صبح چار بجے اٹھ گئی۔ برف پگھلایا اور چائے بنائی، کچھ بسکٹ اور آدھی چاکلیٹ کا ہلکا ناشتہ کرنے کے بعد میں تقریباً ساڑھے پانچ بجے اپنے خیمے سے نکل پڑی۔ انگدورجی باہر کھڑا تھا اور کوئی آس پاس نہیں تھا۔
انگدورجی بغیر آکسیجن کے ہی چڑھائی کرنے والا تھا۔ لیکن اس کی وجہ سے اس کے پاؤں ٹھنڈے پڑ جاتے تھے۔ اس لیے وہ بلندی پر لمبے وقت تک کھلے میں اور رات میں چوٹی کیمپ پر نہیں جانا چاہتا تھا۔ اس لیے اسے یا تو اسی دن چوٹی تک چڑھ کر ساؤتھ کول پر واپس آ جانا تھا یا اپنی کوشش کو چھوڑ دینا تھا۔
وہ فوراً ہی چڑھائی شروع کرنا چاہتا تھا… اور اس نے مجھ سے پوچھا، کیا میں اس کے ساتھ جانا چاہوں گی؟ ایک ہی دن میں ساؤتھ کول سے چوٹی تک جانا اور واپس آنا بہت مشکل اور محنت طلب ہوگا! اس کے علاوہ اگر انگدورجی کے پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے تو اس کے واپس آنے کا بھی خطرہ تھا۔ مجھے پھر بھی انگدورجی پر اعتماد تھا اور ساتھ ساتھ میں چڑھائی کی صلاحیت اور محنت کے بارے میں بھی مطمئن تھی۔ کوئی دوسرا شخص اس وقت ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
صبح 6.20 پر جب انگدورجی اور میں ساؤتھ کول سے باہر آ نکلے تو دن اوپر چڑھ آیا تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی، لیکن ٹھنڈ بھی بہت زیادہ تھی۔ میں اپنے کوہ پیما سازوسامان میں کافی محفوظ اور گرم تھی۔ ہم نے بغیر رسی کے ہی چڑھائی کی۔ انگدورجی ایک مقررہ رفتار سے اوپر چڑھتے گئے اور مجھے بھی ان کے ساتھ چلنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔
جمے ہوئے برف کی سیدھی اور ڈھلاؤ چٹانیں اتنی سخت اور بھربھری تھیں، گویا شیشے کی چادریں بچھی ہوں۔ ہمیں برف کاٹنے کے پھاوڑے کا استعمال کرنا ہی پڑا اور مجھے اتنی سختی سے پھاوڑا چلانا پڑا تاکہ اس جمے ہوئے برف کی زمین کو پھاوڑے کے دانتے کاٹ سکیں۔ میں نے ان خطرناک مقامات پر ہر قدم اچھی طرح سوچ سمجھ کر اٹھایا۔
دو گھنٹے سے کم وقت میں ہی ہم چوٹی کیمپ پر پہنچ گئے۔ انگدورجی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور مجھ سے کہا کہ کیا میں تھک گئی ہوں۔ میں نے جواب دیا، “نہیں۔” جسے سن کر وہ بہت زیادہ حیران اور خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے والے دستے نے چوٹی کیمپ پر پہنچنے میں چار گھنٹے لگائے تھے اور اگر ہم اسی رفتار سے چلتے رہے تو ہم چوٹی پر دوپہر ایک بجے پہنچ جائیں گے۔
لہاتو ہمارے پیچھے پیچھے آ رہا تھا اور جب ہم جنوبی چوٹی کے نیچے آرام کر رہے تھے، وہ ہمارے پاس پہنچ گیا۔ تھوڑی تھوڑی چائے پینے کے بعد ہم نے پھر چڑھائی شروع کی۔ لہاتو ایک نائلون کی رسی لایا تھا۔ اس لیے انگدورجی اور میں رسی کے سہارے چڑھے، جبکہ لہاتو ایک ہاتھ سے رسی پکڑے ہوئے بیچ میں چلا۔ اس نے رسی اپنی حفاظت کی بجائے ہمارے توازن کے لیے پکڑی ہوئی تھی۔ لہاتو نے توجہ دی کہ میں ان بلندیوں کے لیے عام طور پر ضروری، چار لیٹر آکسیجن کی نسبت، تقریباً ڈھائی لیٹر آکسیجن فی منٹ کی شرح سے لے کر چڑھ رہی تھی۔ میرے ریگولیٹر پر جیسے ہی اس نے آکسیجن کی فراہمی بڑھائی، مجھے محسوس ہوا کہ ہموار اور مشکل چڑھائی بھی اب آسان لگ رہی تھی۔
جنوبی چوٹی کے اوپر ہوا کی رفتار بڑھ گئی تھی۔ اس بلندی پر تیز ہوا کے جھونکے بھربھرے برف کے ذرات کو چاروں طرف اڑا رہے تھے، جس سے نظارہ صفر تک آ گیا تھا۔ کئی بار دیکھا کہ صرف تھوڑی دور کے بعد کوئی اونچی چڑھائی نہیں ہے۔ ڈھلان یکدم سیدھا نیچے چلا گیا ہے۔
میری سانس گویا رک گئی تھی۔ مجھے خیال آیا کہ کامیابی بہت قریب ہے۔ 23 مئی 1984 کے دن دوپہر کے ایک بج کر سات منٹ پر میں ایورسٹ کی چوٹی پر کھڑی تھی۔ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچنے والی میں پہلی ہندوستانی خاتون تھی۔$ \qquad $ ایورسٹ مخروط کی چوٹی پر اتنی جگہ نہیں تھی کہ دو افراد ساتھ ساتھ کھڑے ہو سکیں۔ چاروں طرف ہزاروں میٹر لمبی سیدھی ڈھلان کو دیکھتے ہوئے ہمارے سامنے سوال حفاظت کا تھا۔ ہم نے پہلے برف کے پھاوڑے سے برف کی کھدائی کر اپنے آپ کو محفوظ طریقے سے مستحکم کیا۔ اس کے بعد، میں اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھی، برف پر اپنی پیشانی کو لگا کر میں نے ‘ساگرماتھا’ کے تاج کا بوسہ لیا۔ بغیر اٹھے ہی میں نے اپنے تھیلے سے درگا ماتا کی تصویر اور ہنومان چالیسا نکالا۔ میں نے انہیں اپنے ساتھ لائے سرپوش میں لپیٹا، چھوٹی سی پوجا کی اور انہیں برف میں دبا دیا۔ خوشی کے اس لمحے میں مجھے اپنے والدین کا خیال آیا۔
جیسے میں اٹھی، میں نے اپنے ہاتھ جوڑے اور میں اپنے رہنما انگدورجی کے لیے احترام کے جذبے سے جھکی۔ انگدورجی جنہوں نے مجھے حوصلہ دیا اور مجھے مقصد تک پہنچایا۔ میں نے انہیں بغیر آکسیجن کے ایورسٹ کی دوسری چڑھائی چڑھنے پر مبارکباد بھی دی۔ انہوں نے مجھے گلے لگایا اور میرے کانوں میں سرگوشی کی، “دیدی، تم نے اچھی چڑھائی کی۔ میں بہت خوش ہوں!”
کچھ دیر بعد سونم پلزور پہنچے اور انہوں نے فوٹو لینے شروع کر دیے۔
اس وقت تک لہاتو نے ہمارے لیڈر کو ایورسٹ پر ہم چاروں کے ہونے کی اطلاع دے دی تھی۔ تب میرے ہاتھ میں واکی ٹاکی دیا گیا۔ کرنل کھلر ہماری کامیابی سے بہت خوش تھے۔ مجھے مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “میں تمہاری اس انوکھی کامیابی کے لیے تمہارے والدین کو مبارکباد دینا چاہوں گا!” وہ بولے کہ ملک کو تم پر فخر ہے اور اب تم ایسے دنیا میں واپس جاؤ گی، جو تمہاری اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی دنیا سے یکسر مختلف ہوگی!
سوال-مشق
#زبانی
مندرجہ ذیل سوالات کے جواب ایک دو سطروں میں دیجیے-
1. اگواڑا دستے کی قیادت کون کر رہا تھا؟
2. مصنفہ کو ساگرماتھا نام کیوں اچھا لگا؟
3. مصنفہ کو جھنڈے جیسا کیا لگا؟
4. برفانی تودے گرنے سے کتنے لوگوں کی موت ہوئی اور کتنے زخمی ہوئے؟
5. موت کے افسردگی کو دیکھ کر کرنل کھلر نے کیا کہا؟
6. باورچی کے مددگار کی موت کیسے ہوئی؟
7. کیمپ-چار کہاں اور کب لگایا گیا؟
8. مصنفہ نے شیرپا کولی کو اپنا تعارف کس طرح دیا؟
9. مصنفہ کی کامیابی پر کرنل کھلر نے اسے کن الفاظ میں مبارکباد دی؟
تحریری
(الف) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب (25-30 الفاظ میں ) لکھیے-
1. قریب سے ایورسٹ کو دیکھ کر مصنفہ کو کیسا لگا؟
2. ڈاکٹر مینو مہتا نے کیا معلومات دیں؟
3. تنزنگ نے مصنفہ کی تعریف میں کیا کہا؟
4. مصنفہ کو کن کے ساتھ چڑھائی کرنی تھی؟
5. لوپسانگ نے خیمے کا راستہ کیسے صاف کیا؟
6. ساؤتھ کول کیمپ پہنچ کر مصنفہ نے اگلے دن کی اہم چڑھائی کی تیاری کیسے شروع کی؟
(ب) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب (50-60 الفاظ میں) لکھیے-
1. نائب لیڈر پریم چند نے کن صورت حالوں سے آگاہ کیا؟
2. برفباری کس طرح ہوتی ہے اور اس سے کیا کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟
3. مصنفہ کے خیمے میں گرے برف کے پنڈ کا بیان کس طرح کیا گیا ہے؟
4. مصنفہ کو دیکھ کر ‘کی’ حیران کیوں رہ گیا؟
5. ایورسٹ پر چڑھنے کے لیے کل کتنے کیمپ بنائے گئے؟ ان کا بیان کیجیے۔
6. چڑھائی کے وقت ایورسٹ کی چوٹی کی صورت حال کیسی تھی؟
7. مشترکہ مہم میں تعاون اور مدد کے جذبے کا تعارف بچندری کے کس کام سے ملتا ہے؟
(ج) مندرجہ ذیل کے مطلب واضح کیجیے
1. ایورسٹ جیسی عظیم مہم میں خطرات کو اور کبھی کبھی تو موت بھی آدمی کو سہج بھاؤ سے قبول کرنی چاہیے۔
2. سیدھے سطح زمین پر درار پڑنے کا خیال اور اس درار کے گہرے چوڑے برف کے درار میں بدل جانے کا محض خیال ہی بہت ڈراؤنا تھا۔ اس سے بھی زیادہ خوفناک اس بات کی معلومات تھی کہ ہمارے پورے کوشش کے دوران برفباری تقریباً ایک درجن چڑھنے والوں اور کولیوں کو روزانہ چھوتی رہے گی۔
3. بغیر اٹھے ہی میں نے اپنے تھیلے سے درگا ماتا کی تصویر اور ہنومان چالیسا نکالا۔ میں نے انہیں اپنے ساتھ لائے سرپوش میں لپیٹا، چھوٹی سی پوجا کی اور انہیں برف میں دبا دیا۔ خوشی کے اس لمحے میں مجھے اپنے والدین کا خیال آیا۔
زبان-مطالعہ
1. اس سبق میں استعمال شدہ مندرجہ ذیل الفاظ کی تشریح سبق کا حوالہ دے کر کیجیے-دیکھا ہے، دھنسنا، کھسکنا، ساگرماتھا، جائزہ لینا، نوآموز
2. مندرجہ ذیل سطروں میں مناسب وقفہ کے نشانوں کا استعمال کیجیے-
(الف) انہوں نے کہا تم ایک پکی پہاڑی لڑکی لگتی ہو تمہیں تو چوٹی پر پہلے ہی کوشش میں پہنچ جانا چاہیے
(ب) کیا تم ڈری ہوئی تھیں
(ج) تم نے اتنی بڑی خطرہ مول کیوں لی بچندری
3. نیچے دیے گئے مثال کے مطابق مندرجہ ذیل الفاظ کے جوڑوں کا جملے میں استعمال کیجیے-
مثال : ہمارے پاس ایک واکی ٹاکی تھا۔
$ \begin{array}{ll} \text { ٹیڑھی میڑھی } & \text { حیران } \\ \text { گہرے چوڑے } & \text { ادھر ادھر } \\ \text { آس پاس } & \text { لمبے چوڑے } \end{array} $
4. مثال کے مطابق متضاد الفاظ بنائیے-
مثال : سازگار - ناسازگار
باقاعدہ - …………. مشہور -
چڑھنے والا - ………….. مقرر - ……………
خوبصورت
5. مندرجہ ذیل الفاظ میں مناسب سابقے لگائیے-
جیسے: بیٹا - اچھا بیٹا
رہائش منظم کول رفتار چڑھائی محفوظ
6. مندرجہ ذیل فعل کی کیفیتوں کا مناسب استعمال کرتے ہوئے خالی جگہوں کی تکمیل کیجیے-
اگلے دن، کم وقت میں، کچھ دیر بعد، صبح تک
(الف) میں ……………………. یہ کام کر لوں گا۔
(ب) بادل گھرنے کے ……………………