باب 11 پنت گرام شری

سمترا نندن پنت

سمترا نندن پنت کا جنم اتراکھنڈ کے باگیشور ضلع کے کوسانی گاؤں میں سن 1900 میں ہوا۔ ان کی تعلیم بنارس اور الہ آباد میں ہوئی۔ آزادی کی تحریک کے دوران مہاتما گاندھی کے اہوان پر انہوں نے کالج چھوڑ دیا۔ چھایا وادی نظم کے اہم ستون رہے سمترا نندن پنت کا کاؤ کشتہ 1916 سے 1977 تک پھیلا ہے۔ سن 1977 میں ان کا دہا وسان ہو گیا۔

وہ اپنی زندگی درشٹی کے مختلف مراحل میں چھایا وادی، ترقی وادی اور اروند درشن سے متاثر ہوئے۔ وینا، گرنٹھی، گنجن، گرامیا، پلّو، یوگانت، سورن کرن، سورن دھولی، کلا اور بوڑھا چاند، لوکایتن، چدمبرا وغیرہ ان کی اہم کاؤ کریتیاں ہیں۔ انہیں ساہتیہ اکیڈمی انعام، بھارتی گیان پیٹھ انعام اور سوویت لینڈ نہرو انعام سے سمنّت کیا گیا۔

پنت کی نظم میں قدرت اور انسان کے انترنگ سمبندھوں کی پہچان ہے۔ انہوں نے جدید ہندی نظم کو ایک نویں ابهیویکشنا پدھتی اور کاؤ بھاشا سے سمودھ کیا۔ بھاؤں کی ابهیویکتی کے لیے سٹیک شبدوں کے چناؤ کے باعث انہیں شبد شلپی شاعر کہا جاتا ہے۔

گرام شری نظم میں پنت نے گاؤں کی قدرتی سشما اور سمردھی کا منوہاری ورنن کیا ہے۔ کھیتوں میں دور تک پھیلی لہلہاتی فصلیں، پھل پھولوں سے لدی پیڑوں کی ڈالیاں اور گنگا کی سندر ریتی شاعر کو رومانچت کرتی ہے۔ اسی رومانچ کی ابهیویکتی ہے یہ نظم۔

پھیلی کھیتوں میں دور تلک
$\qquad$ مخمل کی کمّل ہریالی،
لپٹیں جس سے روی کی کرنیں
$\qquad$ چاندی کی سی اجلی جالی!
تنکوں کے ہرے ہرے تن پر
$\qquad$ ہل ہرت رودھر ہے رہا جھلک،
شامل بھو تل پر جھکا ہوا
$\qquad$ نَبھ کا چر نیرمل نیل فلک!

رومانچت سی لگتی وسدھا
$\qquad$ آئی جو گیہوں میں بالی،
ارہر سنئی کی سونے کی
$\qquad$ کنکنیاں ہیں شوبھاشالی!
اڑتی بهینی تیلاکت گندھ
$\qquad$ پھولی سرسوں پیلی پیلی،
لو، ہرت دھرا سے جھانک رہی
$\qquad$ نیلم کی کلی، تیسی نیلی!

رنگ رنگ کے پھولوں میں رل مل
$\qquad$ ہنس رہی سکھیاں مٹر کھڑی،
مخملی پیٹیوں سی لٹکیں
$\qquad$ چهیمیاں، چهپائے بیج لڑی!
پهرتی ہیں رنگ رنگ کی تتلی
$\qquad$ رنگ رنگ کے پھولوں پر سندر،
پھولے پهرتے ہیں پھول سونے
$\qquad$ اڑ اڑ وریتّوں سے وریتّوں پر!

اب رجت سورن منجریوں سے
$\qquad$ لد گئی آمْر ترُ کی ڈالی،
جھر رہے ڈھاک، پیپل کے دل،
$\qquad$ ہو اٹھی کوکلا متوالی!
مهکے کٹهل، مکُلت جامن،
$\qquad$ جنگل میں جھربیری جھولی،
پھولے آڑو، نیبو، دادِم،
$\qquad$ آلو، گوبھی، بینگن، مولی!

پیلا میٹھے امرودوں میں
$\qquad$ اب لال لال چتّیاں پڑی،
پک گئے سنہلے مدھر بیر،
$\qquad$ انولی سے ترُ کی ڈال جڑی!
لہلہ پالک، مہمہ دھنیا،
$\qquad$ لوکی او’ سیم پھلیں، پھیلیں
مخملی ٹماٹر ہوئے لال،
$\qquad$ مرچوں کی بڑی ہری تھیلی!

بالو کے سانپوں سے انکت
$\qquad$ گنگا کی ست رنگی ریتی
سندر لگتی سرپت چهائی
$\qquad$ ٹٹ پر تربوزوں کی کھیتی;
انگلی کی کنگھی سے بگلے
$\qquad$ کلگی سوارتے ہیں کوئی،
تیرتے جل میں سرخاب، پُلن پر
$\qquad$ مگراوٹھی رہتی سوئی!

ہنس مکھ ہریالی ہم-آتپ
$\qquad$ سکھ سے السائے-سے سوئے،
بهیگی اندھیالی میں نشی کی
$\qquad$ تارک سونوں میں-سے کھوئے-
مرکت ڈبے سا کھلا گرام-
$\qquad$ جس پر نیلم نَبھ آچھادن-
نرپم ہمنت میں سنگدھ شانت
$\qquad$ نِج شوبھا سے ہرتا جن من!

سوال-ابیاس

1. شاعر نے گاؤں کو ‘ہرتا جن من’ کیوں کہا ہے؟

2. نظم میں کس موسم کے سوندریہ کا ورنن ہے؟

3. گاؤں کو ‘مرکت ڈبے سا کھلا’ کیوں کہا گیا ہے؟

4. ارہر اور سنئی کے کھیت شاعر کو کیسے دکھائی دیتے ہیں؟

5. بھاؤ سپشٹ کیجیے-

(ک) بالو کے سانپوں سے انکت

گنگا کی ست رنگی ریتی

(کھ) ہنس مکھ ہریالی ہم-آتپ سکھ سے السائے-سے سوئے

6. نیچے پنکتیوں میں کون-سا النکار ہے؟

تنکوں کے ہرے ہرے تن پر

ہل ہرت رودھر ہے رہا جھلک

7. اس نظم میں جس گاؤں کا چترن ہوا ہے وہ بھارت کے کس بھو-بھاگ پر ستھت ہے؟

رچنا اور ابهیویکتی

8. بھاؤ اور بھاشا کی درشٹی سے آپ کو یہ نظم کیسی لگی؟ اس کا ورنن اپنے شبدوں میں کیجیے۔ 9. آپ جہاں رہتے ہیں اس علاقے کے کسی موسم خاص کے سوندریہ کو نظم یا گد میں ورنت کیجیے۔

پاٹھیتر سکریتا

  • سمترا نندن پنت نے یہ نظم چوتھے دشک میں لکھی تھی۔ اس وقت کے گاؤں میں اور آج کے گاؤں میں آپ کو کیا پریورتن نظر آتے ہیں؟- اس پر کلاس میں سمُوهک چرچا کیجیے۔

  • اپنے ادھیاپک کے ساتھ گاؤں کی یاترا کریں اور جن فصلوں اور پیڑ-پودوں کا چترن پرستُوت نظم میں ہوا ہے، ان کے بارے میں جانکاری پراپت کریں۔

شبد-سمپدا

سنئی - ایک پودا جس کی چھال کے ریشے سے رسی بنائی جاتی ہے
کنکنی - کر دھنی
وریت - ڈنٹھل
مکُلت - اد کهلا
انولی - چهوٹا آں ولا
سرپت - گھاس-پات، تنکے
سرخاب - چکر واک پکشی
ہم-آتپ - سردی کی دھوپ
مرکت - پننا نامک رتن
ہرنا - آکرشت کرنا