باب 7: سخیاں

वैष्णव जन तो तेने कहीये …

वैष्णव जन तो तेने कहीये जे पीड़ पराई जाणे रे। पर दु:खे उपकार करे तोये मन अभिमाण न आणे रे।

सकल लोकमां सहुने वंदे, निंदा न करे केनी रे। वाच काछ मन-निश्छल राखे, धन-धन जननी तेरी रे।

समदृष्टी ने तृष्णा त्यागी, परस्त्री जेने मात रे। जिल्बा थकी असत्य न बोले, परथन नव झाले हाथ रे।

मोह माया व्यापे नहि जेने, दृढ़ वैराग्य जेना मनमां रे, रामनामशुं ताळी लागी, सकल तीरथ तेना तनमां रे।

वणलोभी ने कपट रहित छे, काम क्रोध निवार्या रे, भणे नरसैयो तेनुं दरसन करतां कुळ एकोतेर तार्या रे।

-नरसी मेहता नरसी मेहता (1414-1478) گجرات کے مشہور سنت شاعر تھے۔ ان کا یہ بھجن گاندھی جی کے آشرم میں دعا کے وقت گایا جاتا تھا۔

کبیر

کبیر کی پیدائش اور موت کے بارے میں بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سن 1398 میں کاشی میں ان کی پیدائش ہوئی اور سن 1518 کے آس پاس مگہر میں انتقال ہوا۔ کبیر نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی لیکن صحبتِ صالح، سفر اور تجربے سے انہوں نے علم حاصل کیا تھا۔

بھکتی دور کے نیرگن سنت روایت کے اہم شاعر کبیر کی تخلیقات بنیادی طور پر کبیر گرنتھاولی میں جمع ہیں، لیکن کبیر پنتھ میں ان کی تخلیقات کا مجموعہ بیجک ہی معتبر مانا جاتا ہے۔ کچھ تخلیقات گرو گرنتھ صاحب میں بھی شامل ہیں۔

کبیر انتہائی فراخ دل، بے خوف اور اچھے گھر والے سنت تھے۔ رام اور رحیم کی وحدت پر یقین رکھنے والے کبیر نے خدا کے نام پر چلنے والے ہر قسم کے بناوٹ، امتیاز اور رسم و رواج کی مخالفت کی۔ انہوں نے اپنی شاعری میں مذہبی اور سماجی امتیاز سے پاک انسان کا تصور کیا۔ خدا کی محبت، علم اور بے رغبتی، گرو کی بھکتی، صحبتِ صالح اور سنتوں کی عظمت کے ساتھ خود شناسی اور دنیا کی حقیقت کا اظہار ان کی شاعری میں ہوا ہے۔ کبیر کی زبان کی سادگی ہی ان کی شاعرانہ طاقت ہے۔ عوامی زبان کے قریب ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری کی زبان میں فلسفیانہ سوچ کو آسان طریقے سے بیان کرنے کی طاقت ہے۔

یہاں شامل ساکھیوں میں محبت کی اہمیت، سنت کی نشانیاں، علم کی عظمت، ظاہری دکھاوے کی مخالفت وغیرہ جذبات کا ذکر ہوا ہے۔ پہلے سبد (پد) میں ظاہری دکھاوے کی مخالفت اور اپنے اندر ہی خدا کی موجودگی کا اشارہ ہے تو دوسرے سبد میں علم کی آندھی کے استعارے کے ذریعے علم کی اہمیت کا بیان ہے۔ کبیر کہتے ہیں کہ علم کی مدد سے انسان اپنی کمزوریوں سے آزاد ہوتا ہے۔

ساکھیاں

مانسروور صُبھر جل، ہنسا کیلی کراہیں۔ مکتافل مکتا چُگے، اب اُڑی انت ن جاہیں۔ 1۔

پریمی ڈھونڈھت میں پھروں، پریمی ملے ن کوئی۔ پریمی کون پریمی ملے، سب وش امرت ہوئی۔ 2۔

ہستی چڑھیے گیان کا، سہج دولیچا ڈاری۔ سوان روپ سنسار ہے، بھونکن دے جھک ماری۔ 3۔

پکھاپکھی کے کارنے، سب جگ رہا بھولان۔ نیرپکھ ہوئی کے ہری بھجے، سوئی سنت سُجان۔ 4۔

ہندو مُوا رام کہی، مسلمان خداۓ۔ کہے کبیر سو جیوتا، جو دُہوں کے نکٹ ن جائے۔5۔

کعبہ پھری کاشی بھیا، رامہیں بھیا رحیم۔ موٹ چُون میدا بھیا، بیٹھی کبیرا جیم۔ 6۔

اونچے کل کا جنمیا، جے کرنی اونچ ن ہوئی۔ سُبرن کلَس سُرا بھرا، سادھو نندا سوئی۔7۔

سبد ( پد )

1

موکوں کہاں ڈھونڈھے بندے، میں تو تیرے پاس میں۔

نا میں دیول نا میں مسجد، نا کعبے کیلاش میں۔

نا تو کونے کریا-کرَم میں،

نہیں یوگ بے راگ میں۔

کھوجی ہوئے تو تُرتی ملِہوں، پل بھر کی تالاش میں۔

کہیں کبیر سنو بھئی سادھو، سب سوانسوں کی سوانس میں۔

2

سنتوں بھائی آئی گیان کی آندھی رے۔

بھرم کی ٹاٹی سبے اُڑانی، مایا رہے ن بانڈھی۔۔

ہِتی چتّ کی دوئے تھونی گرانی، موہ بلِندا ٹوٹا۔ ترِسناں چھان پری گھر اوپری، کُبدھی کا بھانڈا پھوٹا۔۔

یوگ یُگتی کرِ سنتوں بانڈھی، نیرچو چُوئے ن پانی۔ کُوڑ کپٹ کایا کا نکسیا، ہری کی گتی جب جانی۔

آندھی پِچھے جو جل بُوٹھا، پریم ہری جن بھینا۔ کہے کبیر بھان کے پرگٹے اُدت بھیا تَم کھینا۔

ساکھیاں

1. ‘مانسروور’ سے شاعر کا کیا مطلب ہے؟

2. شاعر نے سچے پریمی کی کیا کسوٹی بتائی ہے؟

3. تیسرے دوہے میں شاعر نے کس قسم کے علم کو اہمیت دی ہے؟

4. اس سنسار میں سچا سنت کون کہلاتا ہے؟

5. آخری دو دوہوں کے ذریعے کبیر نے کس طرح کی تنگ نظریوں کی طرف اشارہ کیا ہے؟

6. کسی بھی شخص کی پہچان اس کے خاندان سے ہوتی ہے یا اس کے اعمال سے؟ دلیل کے ساتھ جواب دیجیے۔

7. شعری حسن واضح کیجیے-

ہستی چڑھیے گیان کا، سہج دولیچا ڈاری۔ سوان روپ سنسار ہے، بھونکن دے جھک ماری۔

سبد

8. انسان خدا کو کہاں کہاں ڈھونڈتا پھرتا ہے؟

9. کبیر نے خدا کی حصول کے لیے کون سے رائج عقیدوں کی مخالفت کی ہے؟

10. کبیر نے خدا کو ‘سب سوانسوں کی سوانس میں’ کیوں کہا ہے؟

11. کبیر نے علم کے آنے کی تشبیہ عام ہوا سے نہ دے کر آندھی سے کیوں دی؟

12. علم کی آندھی کا بھکت کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے؟

13. مطلب واضح کیجیے-

(ک) ہِتی چتّ کی دوئے تھونی گرانی، موہ بلِندا ٹوٹا۔

(کھ) آندھی پِچھے جو جل بُوٹھا، پریم ہری جن بھینا۔

تخلیق اور اظہار

14. شامل ساکھیوں اور پدوں کی بنیاد پر کبیر کے مذہبی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے متعلق خیالات پر روشنی ڈالیے۔

زبان-مطالعہ

15. نیچے لکھے الفاظ کے تَتْسَم روپ لکھیےپکھاپکھی، انت، یوگ، یُگتی، بے راگ، نیرپکھ

پاٹھیتر سرگرمی

  • کبیر کی ساکھیوں کو یاد کر کے کلاس میں انتیاکشری کا انعقاد کیجیے۔
  • این۔سی۔ای۔آر۔ٹی۔ کے ذریعے کبیر پر بنائی گئی فلم دیکھیں۔

لفظ-خزانہ

صُبھر - اچھی طرح بھرا ہوا
کیلی - کھیل
مُکتافل - موتی
دولیچا - قالین، چھوٹا بچھونا
سوان (شوان) - کتا
جھک مارنا - مجبور ہونا، وقت ضائع کرنا
پکھاپکھی - پکش-ویپکش (طرف داری)
کارنے - وجہ
سُجان - ہوشیار، عالم
نکٹ - قریب، نزدیک
کعبہ - مسلمانوں کا مقدس زیارت گاہ
موٹ چُون - موٹا آٹا
جنمیا - پیدا ہو کر
سُرا - شراب
ٹاٹی - ٹٹی، پردے کے لیے لگائے ہوئے بانس وغیرہ کی پٹیوں کا پلّا
تھونی - ستون، ٹیک
بلِندا - چھپر کی مضبوط موٹی لکڑی
چھان - چھپر
بھانڈا پھوٹا - بھید کھلا
نیرچو - تھوڑا بھی
چُوئے - چُوتا ہے، رستا ہے
بُوٹھا - برسا
کھینا - کمزور ہوا
بُوٹھا، پریم ہری جن بھینا۔ کہے کبیر بھان کے پرگٹے اُدت بھیا تَم کھینا۔۔