Chapter 04 سانولے سپنوں کی یاد
سنہری پرندوں کے خوبصورت پروں پر سوار سانولے سپنوں کا ایک ہجوم موت کی خاموش وادی کی طرف عازم ہے۔ کوئی روک ٹوک سکے، کہاں ممکن ہے۔
اس ہجوم میں آگے آگے چل رہے ہیں، سالم علی۔ اپنے کندھوں پر، سیاحوں کی طرح اپنے لامتناہی سفر کا بوجھ اٹھائے۔ لیکن یہ سفر پچھلے تمام سفر سے مختلف ہے۔ بھیڑ بھاڑ کی زندگی اور تناؤ کے ماحول سے سالم علی کا یہ آخری فرار ہے۔ اب تو وہ اس جنگل-پرندے کی طرح فطرت میں گم ہو رہے ہیں، جو زندگی کا آخری گانا گانے کے بعد موت کی گود میں جا بسا ہو۔ کوئی اپنے جسم کی حرارت اور دل کی دھڑکن دے کر بھی اسے واپس لانا چاہے تو وہ پرندہ اپنے سپنوں کے گیت دوبارہ کیسے گا سکے گا!
مجھے نہیں لگتا، کوئی اس سویے ہوئے پرندے کو جگانا چاہے گا۔ برسوں پہلے، خود سالم علی نے کہا تھا کہ لوگ پرندوں کو آدمی کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی بھول ہے، ٹھیک اسی طرح، جیسے جنگلوں اور پہاڑوں، جھرنوں اور آبشاروں کو وہ فطرت کی نظر سے نہیں، آدمی کی نظر سے دیکھنے کو بے تاب رہتے ہیں۔ بھلا کوئی آدمی اپنے کانوں سے پرندوں کی آواز کا میٹھا سنگیت سن کر اپنے اندر رومانچ کا سوتا پھوٹتا محسوس کر سکتا ہے؟
احساس کی ایسی ہی ایک اونچ نیچ زمین پر جنمے اساطیر کا نام ہے، سالم علی۔
پتا نہیں، تاریخ میں کب کرشن نے برندابن میں راسلیلا رچی تھی اور شوخ گوپیاؤں کو اپنی شرارتوں کا نشانہ بنایا تھا۔ کب مکھن بھرے بھانڈے پھوڑے تھے اور
دودھ-چھالی سے اپنے منہ بھرے تھے۔ کب باغیچے میں، چھوٹے چھوٹے مگر گھنے درختوں کی چھاؤں میں آرام کیا تھا۔ کب دل کی دھڑکنوں کو ایک دم سے تیز کرنے والے انداز میں بانسری بجائی تھی۔ اور، پتا نہیں، کب برندابن کی پوری دنیا سنگیتمئی ہو گئی تھی۔ پتا نہیں، یہ سب کب ہوا تھا۔ لیکن کوئی آج بھی برندابن جائے تو دریا کا سانولا پانی اسے پورے واقعہ-کرام کی یاد دلا دے گا۔ ہر صبح، سورج نکلنے سے پہلے، جب پتلی گلیوں سے ولولہ بھری بھیڑ دریا کی طرف بڑھتی ہے، تو لگتا ہے جیسے اس بھیڑ کو چیر کر اچانک کوئی سامنے آئے گا اور بانسری کی آواز پر سب کسی کے قدم تھم جائیں گے۔ ہر شام سورج ڈھلنے سے پہلے، جب باغیچے کا مالی سیاحوں کو ہدایت دے گا تو لگتا ہے جیسے بس کچھ ہی لمحوں میں وہ کہیں سے آ ٹپکے گا اور سنگیت کا جادو باغیچے کے بھرے پورے ماحول پر چھا جائے گا۔ برندابن کبھی کرشن کی بانسری کے جادو سے خالی ہوا ہے کیا!
اساطیر کی دنیا میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ایک نظر کمزور کایا والے اس شخص پر ڈالی جائے جسے ہم سالم علی کے نام سے جانتے ہیں۔ عمر کو صدی تک پہنچنے میں تھوڑے ہی دن تو باقی رہے تھے۔ ممکن ہے، لمبے سفر کی تھکن نے ان کے جسم کو کمزور کر دیا ہو، اور کینسر جیسی جان لیوا بیماری ان کی موت کا سبب بنی ہو۔ لیکن آخری وقت تک موت ان کی آنکھوں سے وہ روشنی چھیننے میں کامیاب نہیں ہوئی جو پرندوں کی تلاش اور ان کی حفاظت کے لیے وقف تھی۔ سالم علی کی آنکھوں پر چڑھی دوربین ان کی موت کے بعد ہی تو اتری تھی۔
ان جیسا ‘برڈ واچر’ شاید ہی کوئی ہوا ہو۔ لیکین اکیلا لمحوں میں سالم علی بغیر دوربین بھی دیکھے گئے ہیں۔ دور افق تک پھیلی زمین اور جھکے آسمان کو چھونے والی ان کی نگاہوں میں کچھ کچھ ویسا ہی جادو تھا، جو فطرت کو اپنے گھیرے میں باندھ لیتا ہے۔ سالم علی ان لوگوں میں تھے جو فطرت کے اثر میں آنے کی بجائے فطرت کو اپنے اثر میں لانے کے قائل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے فطرت میں ہر طرف ایک ہنستی کھیلتی راز بھری دنیا پھیلی تھی۔ یہ دنیا انہوں نے بڑی محنت سے اپنے لیے گڑھی تھی۔ اس کے گڑھن میں
ان کی زندگی-ساتھی تہمینہ نے کافی مدد پہنچائی تھی۔ تہمینہ اسکول کے دنوں میں ان کی ہم جماعت رہی تھیں۔
اپنے لمبے رومانچ کاری زندگی میں ڈھیر سارے تجربوں کے مالک سالم علی ایک دن کیرلا کی ‘سائلنٹ ویلی’ کو ریگستانی ہوا کے جھونکوں سے بچانے کی درخواست لے کر چودھری چرن سنگھ سے ملے تھے۔ وہ وزیر اعظم تھے۔ چودھری صاحب گاؤں کی مٹی پر پڑنے والے پانی کی پہلی بوند کا اثر جاننے والے لیڈر تھے۔ ماحولیات کے ممکنہ خطرات کا جو نقش سالم علی نے ان کے سامنے رکھا، اس نے ان کی آنکھیں نم کر دی تھیں۔
آج سالم علی نہیں ہیں۔ چودھری صاحب بھی نہیں ہیں۔ کون بچا ہے، جو اب سوندھی مٹی پر اگی فصلوں کے بیچ ایک نئے بھارت کی بنیاد رکھنے کا عہد لے گا؟ کون بچا ہے، جو اب ہمالیہ اور لداخ کی برفیلی زمینوں پر جینے والے پرندوں کی وکالت کرے گا؟
سالم علی نے اپنی آپ بیتی کا نام رکھا تھا ‘فال آف اے سپیرو’ (Fall of a Sparrow)۔ مجھے یاد آ گیا، ڈی ایچ لارنس کی موت کے بعد لوگوں نے ان کی بیوی فریڈا لارنس سے درخواست کی کہ وہ اپنے شوہر کے بارے میں کچھ لکھے۔ فریڈا چاہتی تو ڈھیر ساری باتیں لارنس کے بارے میں لکھ سکتی تھی۔ لیکن اس نے کہا- میرے لیے لارنس کے بارے میں کچھ لکھنا ناممکن سا ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے، میری چھت پر بیٹھنے والی گوریا لارنس کے بارے میں ڈھیر ساری باتیں جانتی ہے۔ مجھ سے
بھی زیادہ جانتی ہے۔ وہ سچ میں اتنا کھلا کھلا اور سادہ دل آدمی تھا۔ ممکن ہے، لارنس میری رگوں میں، میری ہڈیوں میں سما ہو۔ لیکن میرے لیے کتنا مشکل ہے، اس کے بارے میں اپنے تجربوں کو الفاظ کا جامہ پہنانا۔ مجھے یقین ہے، میری چھت پر بیٹھی گوریا اس کے بارے میں، اور ہم دونوں ہی کے بارے میں، مجھ سے زیادہ معلومات رکھتی ہے۔
پیچیدہ جانداروں کے لیے سالم علی ہمیشہ ایک پہیلی بنے رہیں گے۔ بچپن کے دنوں میں، ان کی ایئرگن سے زخمی ہو کر گرنے والی، نیلے کنٹھ کی وہ گوریا ساری زندگی انہیں تلاش کے نئے نئے راستوں کی طرف لے جاتی رہی۔ زندگی کی بلندیوں میں ان کا یقین ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ڈگمگایا۔ وہ لارنس کی طرح، فطری زندگی کا نمونہ بن گئے تھے۔
سالم علی فطرت کی دنیا میں ایک ٹاپو بننے کی بجائے بے پایاں سمندر بن کر ابھرے تھے۔ جو لوگ ان کے گھومنے پھرنے والے مزاج اور ان کی آوارگی سے واقف ہیں، انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ آج بھی پرندوں کے سراغ میں ہی نکلے ہیں، اور بس ابھی گلے میں لمبی دوربین لٹکائے اپنے کھوجی نتائج کے ساتھ لوٹ آئیں گے۔ جب تک وہ نہیں لوٹتے، کیا انہیں گیا ہوا مان لیا جائے! میری آنکھیں نم ہیں، سالم علی، تم لوٹو گے نا!
1. کس واقعے نے سالم علی کی زندگی کی سمت کو بدل دیا اور انہیں پرندہ پریم بنادیا؟
2. سالم علی نے سابق وزیر اعظم کے سامنے ماحولیات سے متعلق کس طرح کے ممکنہ خطرات کا نقش کھینچا ہوگا کہ جس سے ان کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں؟
3. لارنس کی بیوی فریڈا نے ایسا کیوں کہا ہوگا کہ “میری چھت پر بیٹھنے والی گوریا لارنس کے بارے میں ڈھیر ساری باتیں جانتی ہے؟”
4. مطلب واضح کیجیے-
(ک) وہ لارنس کی طرح، فطری زندگی کا نمونہ بن گئے تھے۔
(خ) کوئی اپنے جسم کی حرارت اور دل کی دھڑکن دے کر بھی اسے واپس لانا چاہے تو وہ پرندہ اپنے سپنوں کے گیت دوبارہ کیسے گا سکے گا!
(گ) سالم علی فطرت کی دنیا میں ایک ٹاپو بننے کی بجائے بے پایاں سمندر بن کر ابھرے تھے۔
5. اس سبق کی بنیاد پر مصنف کی زبان-اسلوب کی چار خصوصیات بتائیے۔
6. اس سبق میں مصنف نے سالم علی کی شخصیت کا جو نقش کھینچا ہے اسے اپنے الفاظ میں لکھیے۔
7. ‘سانولے سپنوں کی یاد’ عنوان کی معنویت پر تبصرہ کیجیے۔
تخلیق اور اظہار
8. پیش کردہ سبق سالم علی کی ماحولیات کے بارے میں فکر کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ماحولیات کو بچانے کے لیے آپ کس طرح کا حصہ دے سکتے ہیں؟
سبق سے ہٹ کر سرگرمی
-
اپنے گھر یا اسکول کے قریب آپ کو اکثر کسی پرندے کو دیکھنے کا موقع ملتا ہوگا۔ اس پرندے کا نام، خوراک، کھانے کا طریقہ، رہنے کی جگہ اور دوسرے پرندوں سے تعلق وغیرہ کی بنیاد پر ایک تصویری بیان تیار کریں۔
-
آپ کی اور آپ کے ہم جماعتوں کی مادری زبان میں پرندوں سے متعلق بہت سے لوک گیت ہوں گے۔ ان زبانوں کے لوک گیتوں کا ایک مجموعہ تیار کریں۔ آپ کی مدد کے لیے ایک لوک گیت دیا جا رہا ہے-
ارے ارے شاما چڑیا جھگوکھوے متی بولہو۔ موری چڑئی! اری موری چڑئی! سرکی بھتر بنجراوا۔ جگائی لے آؤ، منائی لے آؤ۔۔۔۔ کنے برن انکی سرکی کنے رنگ بردی۔ بہینی! کنے برن بنجراوا جگائی لے آئی منائی لے آئی۔۔ $2 ।$ زرد برن انکی سرکی اجلے رنگ بردی۔ سونور برن بنجراوا جگائی لے آؤ منائی لے آؤ۔۔ 3 !!
-
مختلف زبانوں میں حاصل پرندوں سے متعلق لوک گیتوں کا انتخاب کر کے ایک موسیقارانہ پیشکش دیں۔
-
ٹی وی کے مختلف چینلز جیسے - اینیمل کنگڈم، ڈسکوری چینل، اینیمل پلینٹ وغیرہ پر دکھائے جانے والے پروگراموں کو دیکھ کر کسی ایک پروگرام کے بارے میں اپنی رائے تحریری شکل میں ظاہر کریں۔
-
این سی ای آر ٹی کا سمعی پروگرام سنیں - ‘ڈاکٹر سالم علی’
لفظی خزانہ
| گڑھنا | - | بنانا |
|---|---|---|
| ہجوم | - | جنسموہ، بھیڑ |
| وادی | - | گھاٹی |
| سوندھی | - | خوشبودار، مٹی پر پانی پڑنے سے اٹھنے والی بو |
| فرار | - | دوسری جگہ چلے جانا، بھاگنا |
| فطری | - | سہج، طبعی |
| حرارت | - | تپش یا گرمی |
| آبشار | - | چشموں کا بہاؤ، جھرنا |
| اساطیر | - | قدیم قصوں کا عنصر، جو نئی صورتوں میں نئے معنی |
| کا حامل ہوتا ہے۔ | ||
| شوخ | - | چنچل |
| صدی | - | سو سال کا عرصہ |
یہ بھی جانیں
مشہور پرندہ سائنسدان سالم علی کی پیدائش 12 نومبر 1896 میں ہوئی اور وفات 20 جون 1987 میں۔ انہوں نے فال آف اے سپیرو نام سے اپنی آپ بیتی لکھی ہے جس میں پرندوں سے متعلق
رومانچک قصے ہیں۔ ایک گوریا کا گرنا عنوان سے اس کا ہندی ترجمہ نیشنل بک ٹرسٹ نے شائع کیا ہے۔
ڈی ایچ لارنس (1885-1930) بیسویں صدی کے انگریزی کے مشہور ناول نگار۔ انہوں نے نظمیں بھی لکھی ہیں، خاص طور پر فطرت سے متعلق نظمیں قابل ذکر ہیں۔ فطرت سے ڈی ایچ لارنس کا گہرا لگاؤ تھا اور گہرا تعلق بھی۔ وہ مانتے تھے کہ انسانیت ایک اکھڑے ہوئے عظیم درخت کی مانند ہے، جس کی جڑیں ہوا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ یہ بھی مانتے تھے کہ ہمارا فطرت کی طرف لوٹنا ضروری ہے۔