باب 01 دو بیلوں کی کہانی

جانوروں میں گدھا سب سے زیادہ بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔ ہم جب کسی آدمی کو انتہائی درجے کا بیوقوف کہنا چاہتے ہیں، تو اسے گدھا کہتے ہیں۔ گدھا واقعی بیوقوف ہے، یا اس کی سیدھی پن، اس کی بے ضرر برداشت نے اسے یہ خطاب دے دیا ہے، اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ گائیں سینگ مارتی ہیں، بچہ دینے والی گائے تو بلاوجہ ہی شیرنی کا روپ دھار لیتی ہے۔ کتا بھی بہت غریب جانور ہے، لیکن کبھی کبھی اسے بھی غصہ آ ہی جاتا ہے؛ لیکن گدھے کو کبھی غصہ کرتے نہیں سنا، نہ دیکھا۔ جتنا چاہو غریب کو مارو، چاہے جیسی خراب، سڑی ہوئی گھاس سامنے ڈال دو، اس کے چہرے پر کبھی ناراضی کا سایہ بھی نہ دکھائی دے گا۔ بیساکھ میں چاہے ایک بار کھیل کود کر لیتا ہو؛ پر ہم نے تو اسے کبھی خوش ہوتے نہیں دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک اداسی مستقل طور پر چھائی رہتی ہے۔ سکھ دکھ، نقصان نفع، کسی بھی حالت میں اسے بدلتے نہیں دیکھا۔ رشیوں منیوں کے جتنے گن ہیں وہ سب اس میں انتہا کو پہنچ گئے ہیں؛ پر آدمی اسے بیوقوف کہتا ہے۔ نیک صفات کا اتنا بے قدری کہیں نہیں دیکھا۔ شاید سیدھا پن دنیا کے لیے موزوں نہیں ہے۔ دیکھیے نہ، بھارتی باشندوں کی افریقہ میں کیا بری حالت ہو رہی ہے؟ کیوں امریکہ میں انہیں گھسنے نہیں دیا جاتا؟ بیچارے شراب نہیں پیتے، چار پیسے مشکل وقت کے لیے بچا کر رکھتے ہیں، جان توڑ کر کام کرتے ہیں، کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں کرتے، چار باتیں سن کر غم کھا جاتے ہیں پھر بھی بدنام ہیں۔ کہا جاتا ہے، وہ زندگی کے آدرش کو نیچا کرتے ہیں۔ اگر وہ بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینا سیکھ جاتے تو شاید

مہذب کہلانے لگتے۔ جاپان کی مثال سامنے ہے۔ ایک ہی فتح نے اسے دنیا کی مہذب قوموں میں شمار کر دیا۔

لیکن گدھے کا ایک چھوٹا بھائی اور بھی ہے، جو اس سے کم ہی گدھا ہے، اور وہ ہے ‘بیل’۔ جس معنی میں ہم گدھے کا استعمال کرتے ہیں، کچھ اسی سے ملتے جلتے معنی میں ‘بچھیا کے تاؤ’ کا بھی استعمال کرتے ہیں۔ کچھ لوگ بیل کو شاید بیوقوفوں میں سب سے بہتر کہیں گے؛ مگر ہمارا خیال ایسا نہیں ہے۔ بیل کبھی کبھی مارتا بھی ہے، کبھی کبھی اڑیل بیل بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ اور بھی کئی طریقوں سے اپنی ناراضی ظاہر کر دیتا ہے؛ اس لیے اس کا مقام گدھے سے نیچا ہے۔

جھوری کاچھی کے دونوں بیلوں کے نام تھے ہیرا اور موتی۔ دونوں پچھائیں نسل کے تھے-دیکھنے میں خوبصورت، کام میں چوکس، ڈیل میں اونچے۔ بہت دنوں ساتھ رہتے رہتے دونوں میں بھائی چارہ ہو گیا تھا۔ دونوں آمنے سامنے یا آس پاس بیٹھے ہوئے ایک دوسرے سے خاموش زبان میں خیالات کا تبادلہ کرتے تھے۔ ایک، دوسرے کے دل کی بات کیسے سمجھ جاتا تھا، ہم نہیں کہہ سکتے۔ ضرور ہی ان میں کوئی ایسی خفیہ طاقت تھی، جس سے جانوروں میں برتری کا دعویٰ کرنے والا انسان محروم ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو چاٹ کر اور سونگھ کر اپنا پیار ظاہر کرتے، کبھی کبھی دونوں سینگ بھی ملا لیا کرتے تھے-جھگڑے کے ناتے سے نہیں، صرف دل لگی کے بھاؤ سے، قربت کے بھاؤ سے، جیسے دوستوں میں گہرائی ہوتے ہی دھول دھپا ہونے لگتا ہے۔ اس کے بغیر دوستی کچھ پھسپھسی، کچھ ہلکی سی رہتی ہے، جس پر زیادہ بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ جس وقت یہ دونوں بیل ہل یا گاڑی میں جوت دیے جاتے اور گردن ہلا ہلا کر چلتے، اس وقت ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ بوجھ میری ہی گردن پر رہے۔ دن بھر کے بعد دوپہر یا شام کو دونوں کھلتے، تو ایک دوسرے کو چاٹ چاٹ کر اپنی تھکن مٹا لیا کرتے۔ نانڈ میں کھلی بھوسا پڑ جانے کے بعد دونوں ساتھ اٹھتے، ساتھ نانڈ میں منہ ڈالتے اور ساتھ ہی بیٹھتے تھے۔ ایک منہ ہٹا لیتا، تو دوسرا بھی ہٹا لیتا تھا۔

اتفاق کی بات، جھوری نے ایک بار گویں کو سسرال بھیج دیا۔ بیلوں کو کیا معلوم، وہ کیوں بھیجے جا رہے ہیں۔ سمجھے، مالک نے ہمیں بیچ دیا۔ اپنا اس طرح بیچا جانا انہیں

اچھا لگا یا برا، کون جانے، پر جھوری کے سالے گیا کو گھر تک گورں لے جانے میں دانتوں پسینہ آ گیا۔ پیچھے سے ہانکتا تو دونوں دائیں بائیں بھاگتے، پگہیا پکڑ کر آگے سے کھینچتا، تو دونوں پیچھے کو زور لگاتے۔ مارتا تو دونوں سینگ نیچے کر کے ہنکارتے۔ اگر خدا نے انہیں زبان دی ہوتی، تو جھوری سے پوچھتے-تم ہم غریبوں کو کیوں نکال رہے ہو؟ ہم نے تو تمہاری خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اگر اتنی محنت سے کام نہ چلتا تھا تو اور کام لے لیتے۔ ہمیں تو تمہاری چاکری میں مر جانا منظور تھا۔ ہم نے کبھی دانے چارے کی شکایت نہیں کی۔ تم نے جو کچھ کھلایا، وہ سر جھکا کر کھا لیا، پھر تم نے ہمیں اس ظالم کے ہاتھ کیوں بیچ دیا؟

شام کے وقت دونوں بیل اپنے نئے مقام پر پہنچے۔ دن بھر کے بھوکے تھے، لیکن جب نانڈ میں لگائے گئے، تو ایک نے بھی اس میں منہ نہ ڈالا۔ دل بھاری ہو رہا تھا۔ جسے انہوں نے اپنا گھر سمجھ رکھا تھا، وہ آج ان سے چھوٹ گیا تھا۔ یہ نیا گھر، نیا گاؤں، نئے آدمی، انہیں اجنبیوں سے لگتے تھے۔

دونوں نے اپنی خاموش زبان میں صلاح کی، ایک دوسرے کو کنکھیوں سے دیکھا اور لیٹ گئے۔ جب گاؤں میں سوتا پڑ گیا، تو دونوں نے زور مار کر پگھے توڑ ڈالے اور گھر کی طرف چلے۔ پگھے بہت مضبوط تھے۔ اندازہ نہ ہو سکتا تھا کہ کوئی بیل انہیں توڑ سکے گا؛ پر ان دونوں میں اس وقت دوگنی طاقت آ گئی تھی۔ ایک ایک جھٹکے میں رسیاں ٹوٹ گئیں۔

جھوری صبح سو کر اٹھا، تو دیکھا کہ دونوں بیل چرنی پر کھڑے ہیں۔ دونوں کی گردنوں میں آدھا آدھا گراؤں لٹک رہا ہے۔ گھٹنے تک پاؤں کیچڑ سے بھرے ہیں اور دونوں کی آنکھوں میں بغاوت آمیز پیار چمک رہا ہے۔

جھوری بیلوں کو دیکھ کر پیار سے بھر گیا۔ دوڑ کر انہیں گلے لگا لیا۔ پیار سے لپٹنے اور چومنے کا وہ منظر بہت ہی دلکش تھا۔

گھر اور گاؤں کے لڑکے جمع ہو گئے اور تالیاں بجا بجا کر ان کا استقبال کرنے لگے۔ گاؤں کے تاریخ میں یہ واقعہ انوکھا نہ ہونے پر بھی اہم تھا۔ بچوں کی مجلس نے فیصلہ کیا، دونوں جانور بہادروں کو مبارکباد نامہ دینا چاہیے۔ کوئی اپنے گھر سے روٹیاں لایا، کوئی گڑ، کوئی چوکر، کوئی بھوسی۔

ایک بچے نے کہا-ایسے بیل کسی کے پاس نہ ہوں گے۔

دوسرے نے حمایت کی-اتنی دور سے دونوں اکیلے چلے آئے۔

تیسرے نے کہا-بیل نہیں ہیں وہ، اس جنم کے آدمی ہیں۔

اس کا رد کرنے کا کسی کو ہمت نہ ہوئی۔

جھوری کی عورت نے بیلوں کو دروازے پر دیکھا، تو جل اٹھی۔ بولی-کیسے نمک حرام بیل ہیں کہ ایک دن وہاں کام نہ کیا؛ بھاگ کھڑے ہوئے۔

جھوری اپنے بیلوں پر یہ الزام نہ سن سکا-نمک حرام کیوں ہیں؟ چارہ دانہ نہ دیا ہوگا، تو کیا کرتے؟

عورت نے رعب کے ساتھ کہا-بس، تم ہی تو بیلوں کو کھلانا جانتے ہو، اور تو سب پانی پلا پلا کر رکھتے ہیں۔

جھوری نے چڑھایا-چارہ ملتا تو کیوں بھاگتے؟

عورت چڑھی-بھاگے اس لیے کہ وہ لوگ تم جیسے بے وقوفوں کی طرح بیلوں کو سہلاتے نہیں۔ کھلاتے ہیں، تو رگڑ کر جوتتے بھی ہیں۔ یہ دونوں ٹھہرے کام چور، بھاگ نکلے۔ اب دیکھوں، کہاں سے کھلی اور چوکر ملتا ہے! سوکھے بھوسے کے سوا کچھ نہ دوں گی، کھائیں چاہیں مریں۔

وہی ہوا۔ مزدور کو سخت تاکید کر دی گئی کہ بیلوں کو خالی سوکھا بھوسا دیا جائے۔

بیلوں نے نانڈ میں منہ ڈالا، تو پھیکا پھیکا۔ نہ کوئی چکنائی، نہ کوئی رس! کیا کھائیں؟ امید بھری آنکھوں سے دروازے کی طرف دیکھنے لگے۔

جھوری نے مزدور سے کہا-تھوڑی سی کھلی کیوں نہیں ڈال دیتا بے؟

‘مالکن مجھے مار ہی ڈالیں گی۔’

‘چرا کر ڈال آ۔’

‘نہ دادا، پیچھے سے تم بھی انہیں کی سی کہو گے۔’

دوسرے دن جھوری کا سالا پھر آیا اور بیلوں کو لے چلا۔ اس بار اس نے دونوں کو گاڑی میں جوتا۔

دو چار بار موتی نے گاڑی کو سڑک کی کھائی میں گرانا چاہا؛ پر ہیرا نے سنبھال لیا۔ وہ زیادہ صبر کرنے والا تھا۔

شام کے وقت گھر پہنچ کر اس نے دونوں کو موٹی رسیوں سے باندھا اور کل کی شرارت کا مزہ چکھایا۔ پھر وہی سوکھا بھوسا ڈال دیا۔ اپنے دونوں بیلوں کو کھلی، چونی سب کچھ دی۔

دونوں بیلوں کا ایسا بے عزتی کبھی نہ ہوئی تھی۔ جھوری انہیں پھول کی چھڑی سے بھی نہ چھوتا تھا۔ اس کی ٹٹکار پر دونوں اڑنے لگتے تھے۔ یہاں مار پڑی۔ زخم خوردہ وقار کی تکلیف تو تھی ہی، اس پر ملا سوکھا بھوسا!

نانڈ کی طرف آنکھیں تک نہ اٹھائیں۔

دوسرے دن گیا نے بیلوں کو ہل میں جوتا، پر ان دونوں نے جیسے پاؤں نہ اٹھانے کی قسم کھا لی تھی۔ وہ مارتے مارتے تھک گیا؛ پر دونوں نے پاؤں نہ اٹھایا۔ ایک بار جب اس بے رحم نے ہیرا کی ناک پر خوب ڈنڈے جمائے، تو موتی کا غصہ قابو سے باہر ہو گیا۔ ہل لے کر بھاگا۔ ہل، رسی، جوآ، جوت، سب ٹوٹ پھوٹ کر برابر ہو گیا۔ گلے میں بڑی بڑی رسیاں نہ ہوتیں، تو دونوں پکڑائی میں نہ آتے۔

ہیرا نے خاموش زبان میں کہا-بھاگنا بے فائدہ ہے۔

موتی نے جواب دیا-تمہاری تو اس نے جان ہی لے لی تھی۔

‘اب بار بڑی مار پڑے گی۔’

‘پڑنے دو، بیل کا جنم لیا ہے، تو مار سے کہاں تک بچیں گے؟’

‘گیا دو آدمیوں کے ساتھ دوڑا آ رہا ہے۔ دونوں کے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہیں۔’ موتی بولا-کہو تو دکھا دوں کچھ مزہ میں بھی۔ لاٹھی لے کر آ رہا ہے۔

ہیرا نے سمجھایا-نہیں بھائی! کھڑے ہو جاؤ۔

‘مجھے مارے گا، تو میں بھی ایک دو کو گرا دوں گا!’

‘نہیں۔ ہماری ذات کا یہ دھرم نہیں ہے۔’

موتی دل میں اٹھکھیلیاں کر کے رہ گیا۔ گیا آ پہنچا اور دونوں کو پکڑ کر لے چلا۔ خیر ہوئی کہ اس نے اس وقت مار پیٹ نہ کی، نہیں تو موتی بھی پلٹ پڑتا۔ اس کے انداز دیکھ کر گیا اور اس کے ساتھی سمجھ گئے کہ اس وقت ٹال جانا ہی مصلحت ہے۔

آج دونوں کے سامنے پھر وہی سوکھا بھوسا لایا گیا۔ دونوں چپ چاپ کھڑے رہے۔ گھر کے لوگ کھانا کھانے لگے۔ اس وقت چھوٹی سی لڑکی دو روٹیاں لیے نکلی، اور دونوں کے منہ میں دے کر چلی گئی۔ اس ایک روٹی سے ان کی بھوک تو کیا شانت ہوتی؛ پر دونوں کے دل کو گویا کھانا مل گیا۔ یہاں بھی کسی شریف کا رہائش ہے۔ لڑکی بھیرو کی تھی۔ اس کی ماں مر چکی تھی۔ سوتیلی ماں اسے مارتی رہتی تھی، اس لیے ان بیلوں سے اسے ایک قسم کی قربت ہو گئی تھی۔

دونوں دن بھر جوتے جاتے، ڈنڈے کھاتے، اڑتے۔ شام کو تھان پر باندھ دیے جاتے اور رات کو وہی بچی انہیں دو روٹیاں کھلا جاتی۔

پیار کے اس پرساد کی یہ برکت تھی کہ دو دو گال سوکھا بھوسا کھا کر بھی دونوں کمزور نہ ہوتے تھے، مگر دونوں کی آنکھوں میں، رو رو میں بغاوت بھری ہوئی تھی۔

ایک دن موتی نے خاموش زبان میں کہا-اب تو نہیں سہا جاتا، ہیرا!

‘کیا کرنا چاہتے ہو؟’

‘ایک آدھ کو سینگوں پر اٹھا کر پھینک دوں گا۔’

“لیکن جانتے ہو، وہ پیاری لڑکی، جو ہمیں روٹیاں کھلاتی ہے، اسی کی لڑکی ہے، جو اس گھر کا مالک ہے۔ یہ بیچاری یتیم نہ ہو جائے گی؟’

‘تو مالکن کو نہ پھینک دوں۔ وہی تو اس لڑکی کو مارتی ہے۔’

‘لیکن عورت ذات پر سینگ چلانا منع ہے، یہ بھول جاتے ہو۔’

‘تم تو کسی طرح نکلنے ہی نہیں دیتے۔ بتاؤ، توڑ کر بھاگ چلیں۔’

‘ہاں، یہ میں تسلیم کرتا ہوں، لیکن اتنی موٹی رسی ٹوٹے گی کیسے؟’

‘اس کا ایک طریقہ ہے۔ پہلے رسی کو تھوڑا سا چبا لو۔ پھر ایک جھٹکے میں جاتی ہے۔’

رات کو جب بچی روٹیاں کھلا کر چلی گئی، دونوں رسیاں چبانے لگے، پر موٹی رسی منہ میں نہ آتی تھی۔ بیچارے بار بار زور لگا کر رہ جاتے تھے۔

اچانک گھر کا دروازہ کھلا اور وہی لڑکی نکلی۔ دونوں سر جھکا کر اس کا ہاتھ چاٹنے لگے۔ دونوں کی پونچھیں کھڑی ہو گئیں۔ اس نے ان کے ماتھے سہلائے اور بولی-کھولے دیتی ہوں۔ چپکے سے بھاگ جاؤ، نہیں تو یہاں لوگ مار ڈالیں گے۔ آج گھر میں صلاح ہو رہی ہے کہ ان کی ناکوں میں نتھ ڈال دی جائے۔

اس نے گراؤں کھول دیا، پر دونوں چپ چاپ کھڑے رہے۔

موتی نے اپنی زبان میں پوچھا-اب چلتے کیوں نہیں؟

ہیرا نے کہا-چلیں تو لیکن کل اس یتیم پر آفت آئے گی۔ سب اسی پر شک کریں گے۔ اچانک بچی چلائی-دونوں پھوپھی والے بیل بھاگے جا رہے ہیں۔ او دادا! دادا! دونوں بیل بھاگے جا رہے ہیں، جلدی دوڑو۔

گیا ہڑبڑا کر اندر سے نکلا اور بیلوں کو پکڑنے چلا۔ وہ دونوں بھاگے۔ گیا نے پیچھا کیا۔ اور بھی تیز ہوئے۔ گیا نے شور مچایا۔ پھر گاؤں کے کچھ آدمیوں کو بھی ساتھ لینے کے لیے لوٹا۔ دونوں دوستوں کو بھاگنے کا موقع مل گیا۔ سیدھے دوڑتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ راستے کا علم نہ رہا۔ جس واقف راستے سے آئے تھے، اس کا یہاں پتہ نہ تھا۔ نئے نئے گاؤں ملنے لگے۔ تب دونوں ایک کھیت کے کنارے کھڑے ہو کر سوچنے لگے، اب کیا کرنا چاہیے۔

ہیرا نے کہا-معلوم ہوتا ہے، راہ بھول گئے۔

‘تم بھی بے تحاشہ بھاگے۔ وہیں اسے مار گرانا تھا۔’

‘اسے مار گراتے، تو دنیا کیا کہتی؟ وہ اپنا دھرم چھوڑ دے، لیکن ہم اپنا دھرم کیوں چھوڑیں؟’

دونوں بھوک سے بے چین ہو رہے تھے۔ کھیت میں مٹھر کھڑی تھی۔ چرنے لگے۔ رہ رہ کر آہٹ لے لیتے تھے، کوئی آتا تو نہیں ہے۔

جب پیٹ بھر گیا، دونوں نے آزادی کا تجربہ کیا، تو مست ہو کر اچھلنے کودنے لگے۔ پہلے دونوں نے ڈکار لی۔ پھر سینگ ملائے اور ایک دوسرے کو دھکیلنے لگے۔ موتی نے ہیرا کو کئی قدم پیچھے ہٹا دیا، یہاں تک کہ وہ کھائی میں گر گیا۔ تب اسے بھی غصہ آیا۔ سنبھل کر اٹھا اور پھر موتی سے مل گیا۔ موتی نے دیکھا-کھیل میں جھگڑا ہوا چاہتا ہے، تو کنارے ہٹ گیا۔

ارے! یہ کیا؟ کوئی سانڈ ڈونکتا چلا آ رہا ہے۔ ہاں، سانڈ ہی ہے۔ وہ سامنے آ پہنچا۔ دونوں دوست بغل جھانک رہے ہیں۔ سانڈ پورا ہاتھی ہے۔ اس سے بھڑنا جان سے ہاتھ دھونا ہے؛ لیکن نہ بھڑنے پر بھی جان بچتی نہیں نظر آتی۔ انہیں کی طرف آ بھی رہا ہے۔ کتنی بھیانک صورت ہے!

موتی نے خاموش زبان میں کہا-برے پھنسے۔ جان بچے گی؟ کوئی طریقہ سوچو۔

ہیرا نے فکر مند لہجے میں کہا-اپنے گھمنڈ میں بھولا ہوا ہے۔ التجا نہ سنے گا۔

‘بھاگ کیوں نہ چلیں؟’

‘بھاگنا بزدلی ہے۔’

‘تو پھر یہیں مرو۔ بندہ تو نو دو گیارہ ہوتا ہے۔’

‘اور جو دوڑائے؟’

‘تو پھر کوئی طریقہ سوچو جلدی!’

‘طریقہ یہی ہے کہ اس پر دونوں جنی ایک ساتھ چوٹ کریں؟ میں آگے سے رگیدتا ہوں، تم پیچھے سے رگیدو، دوہری مار پڑے گی، تو بھاگ کھڑا ہوگا۔ میری طرف جھپٹے، تم بغل سے اس کے پیٹ میں سینگ گھسیڑ دینا۔ جان خطرے میں ہے؛ پر دوسرا طریقہ نہیں ہے۔’

دونوں دوست جان ہتھیلیوں پر لے کر لپکے۔ سانڈ کو بھی منظم دشمنوں سے لڑنے کا تجربہ نہ تھا۔ وہ تو ایک دشمن سے کشتی کرنے کا عادی تھا۔ جیسے ہی ہیرا پر جھپٹا، موتی نے پیچھے سے دوڑایا۔ سانڈ اس کی طرف مڑا، تو ہیرا نے رگیدا۔ سانڈ چاہتا تھا کہ ایک ایک کر کے دونوں کو گرا لے؛ پر یہ دونوں بھی استاد تھے۔ اسے وہ موقع نہ دیتے تھے۔ ایک بار سانڈ جھلا کر ہیرا کا خاتمہ کر دینے کے لیے چلا کہ موتی نے بغل سے آ کر پیٹ میں سینگ بھونک دیا۔ سانڈ غصے میں آ کر پیچھے پھرا تو ہیرا نے دوسرے پہلو میں سینگ چبھو دیا۔ آخر بیچارہ زخمی ہو کر بھاگا اور دونوں دوستوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا۔ یہاں تک کہ سانڈ بے دم ہو کر گر پڑا۔ تب دونوں نے اسے چھوڑ دیا۔

دونوں دوست فتح کے نشے میں جھومتے چلے جاتے تھے۔

موتی نے اپنی اشاراتی زبان میں کہا-میرا جی تو چاہتا تھا کہ بچے کو مار ہی ڈالوں۔

ہیرا نے تحقیر کی-گرے ہوئے دشمن پر سینگ نہ چلانا چاہیے۔

‘یہ سب ڈھونگ ہے۔ دشمن کو ایسا مارنا چاہیے کہ پھر نہ اٹھے۔’

‘اب گھر کیسے پہنچیں گے، وہ سوچو۔’

‘پہلے کچھ کھا لیں، تو سوچیں۔’

سامنے مٹھر کا کھیت تھا ہی۔ موتی اس میں گھس گیا۔ ہیرا منع کرتا رہا، پر اس نے ایک نہ سنی۔ ابھی دو ہی چار گھاس کھائے تھے کہ دو آدمی لاٹھیاں لیے دوڑ پڑے اور دونوں دوستوں کو گھیر لیا۔ ہیرا تو میڑ پر تھا، نکل گیا۔ موتی سینچے ہوئے

کھیت میں تھا۔ اس کے کھر کیچڑ میں دھنسنے لگے۔ نہ بھاگ سکا۔ پکڑ لیا۔ ہیرا نے دیکھا، ساتھی مشکل میں ہیں، تو لوٹ پڑا۔ پھسیں گے تو دونوں پھسیں گے۔ رکھوالوں نے اسے بھی پکڑ لیا۔

صبح دونوں دوست کانجی ہاؤس میں بند کر دیے گئے۔

دونوں دوستوں کو زندگی میں پہلی بار ایسا واسطہ پڑا کہ سارا دن گزر گیا اور کھانے کو ایک تنکا بھی نہ ملا۔ سمجھ ہی میں نہ آتا تھا، یہ کیسا مالک ہے۔ اس سے تو گیا پھر بھی اچھا تھا۔ یہاں کئی بھینسیں تھیں، کئی بکریاں، کئی گھوڑے، کئی گدھے؛ پر کسی کے سامنے چارہ نہ تھا، سب زمین پر مردوں کی طرح پڑے تھے۔ کئی تو اتنا کمزور ہو گئے تھے کہ کھڑے بھی نہ ہو سکتے تھے۔ سارا دن دونوں دوست پھاٹک کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھتے رہے؛ پر کوئی چارہ لے کر آتا نہ دکھائی دیا۔ تب دونوں نے دیوار کی نمکین مٹی چاٹنی شروع کی، پر اس سے کیا تسلی ہوتی؟

رات کو بھی جب کچھ کھانا نہ ملا، تو ہیرا کے دل میں بغاوت کی شعلہ بھڑک اٹھی۔ موتی سے بولا-اب تو نہیں رہا جاتا موتی!

موتی نے سر لٹکائے ہوئے جواب دیا-مجھے تو معلوم ہوتا ہے، جان نکل رہی ہے۔

‘اتنی جلدی ہمت نہ ہارو بھائی! یہاں سے بھاگنے کا کوئی طریقہ نکالنا چاہیے۔’

‘آؤ دیوار توڑ ڈالیں۔’

‘مجھ سے تو اب کچھ نہیں ہوگا۔’

‘بس اسی بوتے پر اکڑتے تھے!’

‘ساری اکڑ نکل گئی۔’

باڑے کی دیوار کچی تھی۔ ہیرا مضبوط تو تھا ہی، اپنے نوکیلے سینگ دیوار میں گاڑ دیے اور زور مارا، تو مٹی کا ایک چپڑ نکل آیا۔ پھر تو اس کا

حوصلہ بڑھا۔ اس نے دوڑ دوڑ کر دیوار پر چوٹیں کیں اور ہر چوٹ میں تھوڑی تھوڑی مٹی گرانے لگا۔

اسی وقت کانجی ہاؤس کا چوکیدار لالٹین لے کر جانوروں کی حاضری لینے آ نکلا۔ ہیرا کی بے باکی دیکھ کر اس نے اسے کئی ڈنڈے رسید کیے اور موٹی سی رسی سے باندھ دیا۔

موتی نے پڑے پڑے کہا-آخر مار کھائی، کیا ملا؟

‘اپنے بوتے بھر زور تو مار دیا۔’

‘ایسا زور مارنا کس کام کا کہ اور بندھن میں پڑ گئے۔’

‘زور تو مارتا ہی جاؤں گا، چاہے کتنے ہی بندھن پڑتے جائیں۔’

‘جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔’

‘کچھ پرواہ نہیں۔ یوں بھی تو مرنا ہی ہے۔ سوچو، دیوار کھود جاتی، تو کتنی جانیں بچ جاتیں۔ اتنا بھائی یہاں بند ہیں۔ کسی کی دہن میں جان نہیں ہے۔ دو چار دن اور یہی حال رہا، تو سب مر جائیں گے۔’

‘ہاں، یہ بات تو ہے۔ اچھا، تو لا، پھر میں بھی زور لگاتا ہوں۔’

موتی نے بھی دیوار میں اسی جگہ سینگ مارا۔ تھوڑی سی مٹی گری اور پھر ہمت بڑھی۔ پھر تو وہ دیوار میں سینگ لگا کر اس طرح زور کرنے لگا، گویا کسی حریف سے لڑ رہا ہے۔ آخر کوئی دو گھنٹے کی زور آزمائی کے بعد دیوار اوپر سے تقریباً ایک ہاتھ گر گئی۔ اس نے دوگنی طاقت سے دوسرا دھکا مارا، تو آ