ریاضی

نظامِ اعداد
  • دو مشہور نظامِ اعداد ہیں:
    • عربی نظام
    • رومی نظام
عربی اعداد
  • وہ اعداد جنہیں ہم آج کل حساب میں استعمال کرتے ہیں، ہند-عربی اعداد کہلاتے ہیں۔
صفر اور ہند-عربی اعداد کی ایجاد
  • قدیم ہندو ریاضی دانوں نے عربی اعداد ایجاد کیے مانے جاتے ہیں، جنہیں بعد میں عربوں نے اپنایا۔ عربی نظامِ اعداد کی پانچویں یا چھٹی صدی قبل مسیح میں ہی استعمال ہو رہا تھا، لیکن اُس وقت ان اعداد کے ساتھ صفر استعمال نہیں ہوتا تھا۔

یہ نظام یورپ میں دسویں صدی کے لگ بھگ عربوں کے ذریعے پہنچا اور رومی نظام کی جگہ لے لیا۔ ان اعداد کو عربی اعداد کہا گیا۔

صفر کو ہندوؤں نے 874 عیسوی کے لگ بھگ ایجاد کیا۔ اسے ایک چھوٹے دائرے ‘شونیہ’ سے ظاہر کیا جاتا تھا، جس کا مطلب سنسکرت میں ‘خالی’ ہے۔

اٹالوی ریاضی دان لیونارڈو فبونیکی (1170-1240) نے 1202 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ‘کتابِ الگورزم’ میں عربی نظامِ اعداد کو مقبول بنایا۔

لفظ ‘ڈیجٹ’ لاطینی لفظ ‘ڈیجیٹس’ سے آیا ہے، جس کا مطلب ہے ‘انگلی’۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں لوگ گنتی کے لیے اپنی انگلیاں استعمال کرتے تھے۔

اعشاریہ نظام، جو دس کی طاقتوں پر مبنی ہے، بھی بھارت میں 1000 قبل مسیح کے لگ بھگ وجود میں آیا۔ بعد میں اسے سولہویں صدی میں ایک فلیمش ریاضی دان سائمن اسٹیون نے مقبول بنایا۔ 1585 میں سائمن اسٹیون (1548-1620) نامی ریاضی دان نے “ڈے تھیینڈے” (دسواں) نامی کتاب لکھی۔ اس کتاب سے پہلے ایک سے کم اعداد کسری صورت میں لکھے جاتے تھے۔

رومیوں نے تقریباً 2000 سال پہلے رومی عدد (Roman numerals) کے نام سے ایک مختلف نظام استعمال کیا۔ یہ نظام انگریزی حروفِ تہجی کے حروف سے اعداد کی نمائندگی کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اس میں سات بنیادی علامات تھیں:

  1. I = 1
  2. V = 5
  3. X = 10
  4. L = 50
  5. C = 100
  6. D = 500
  7. M = 1000

رومی عدد کے نظام میں صفر نہیں تھا۔ یہ نظام درج ذیل اصولوں پر مبنی تھا:

  • کسی حرف کو دہرانے سے اس کی قیمت دہرا دی جاتی تھی۔ مثال کے طور پر، XX = 20 (10 + 10)۔
  • اگر کوئی حرف کسی بڑے قیمت والے حرف کے بعد آئے تو اس کی قیمت میں جمع ہو جاتی۔ مثال کے طور پر، VI = 5 + 1 = 6۔
  • اگر کوئی حرف کسی بڑے قیمت والے حرف سے پہلے آئے تو اس کی قیمت میں منہا ہو جاتی۔ مثال کے طور پر، IV = 5 - 1 = 4۔
  • کسی عدد پر ڈیش (dash) لگانے سے اس کی قیمت 1000 سے ضرب ہو جاتی۔ مثال کے طور پر، X = 10 × 1000 = 10,000۔

یہاں کچھ مثالیں دی گئی ہیں کہ رومی عدد کیسے کام کرتے ہیں:

1 = I
2 = II
3 = III
4 = IV
5 = V
6 = VI
7 = VII
8 = VIII
9 = IX
10 = X
11 = XI
12 = XII
13 = XIII
14 = XIV
15 = XV
16 = XVI
17 = XVII
18 = XVIII
19 = XIX
20 = XX