باب 14 کارتوس

حبیب تنویر
سن 1923-2009

حبیب تنویر 1923 میں چھتیس گڑھ کے رائے پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1944 میں ناگپور سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد برطانیہ کی ڈراما اکیڈمی سے ڈراما نگاری کی تعلیم حاصل کرنے گئے اور پھر دہلی واپس آ کر پیشہ ورانہ ڈراما اسٹیج کی بنیاد رکھی۔

ڈراما نویس، شاعر، صحافی، ڈراما ہدایت کار، اداکار جیسے کئی روپوں میں شہرت پانے والے حبیب تنویر نے لوک ڈراما کے میدان میں بھی اہم کام کیا۔ کئی انعامات، فیلوشپ اور پدم شری سے نوازے گئے حبیب تنویر کے اہم ڈرامے ہیں: آگرہ بازار، چرن داس چور، دیکھ رہے ہیں نین، ہرما کی امر کہانی۔ انہوں نے بسنتی رتو کا سپنا، شاہجہاں پور کی شانتی بائی، مٹی کی گاڑی اور مودرا رکشس ڈراموں کا جدید روپ بھی تیار کیا۔

متن کا تعارف

انگریز اس ملک میں تاجر کے بھیس میں آئے تھے۔ شروع میں صرف تجارت ہی کرتے رہے، لیکن ان کے ارادے صرف تجارت کرنے کے نہیں تھے۔ آہستہ آہستہ ان کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے ریاستوں پر قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ ان کی نیت کے ظاہر ہوتے ہی انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کی کوششیں بھی شروع ہو گئیں۔

پیش کردہ متن میں ایک ایسے ہی جری کے کارناموں کا ذکر ہے جس کا واحد مقصد تھا انگریزوں کو اس ملک سے باہر کرنا۔ کمپنی کے حکمرانوں کی نیند حرام کر دینے والا یہ دلیر اتنا بے خوف تھا کہ شیر کے بل میں پہنچ کر اس سے دو دو ہاتھ کرنے کی مانند کمپنی کی بٹالین کے کیمپ میں ہی نہیں آ پہنچا، بلکہ ان کے کرنل پر ایسا رعب غالب کیا کہ اس کے منہ سے بھی وہ الفاظ نکلے جو کسی دشمن یا مجرم کے لیے تو نہیں ہی بولے جا سکتے تھے۔

کارتوس

کردار - کرنل، لیفٹیننٹ، سپاہی، سوار

مدت -5 منٹ

زمانہ - سن 1799

وقت - رات کا

مقام - گورکھپور کے جنگل میں کرنل کالنج کے کیمپ کا اندرونی حصہ۔

(دو انگریز بیٹھے باتیں کر رہے ہیں، کرنل کالنج اور ایک لیفٹیننٹ کیمپ کے باہر ہیں، چاندنی بکھری ہوئی ہے، اندر لیمپ جل رہا ہے۔)

کرنل - جنگل کی زندگی بہت خطرناک ہوتی ہے۔

لیفٹیننٹ - ہفتے ہو گئے یہاں کیمپ ڈالے ہوئے۔ سپاہی بھی تنگ آ گئے ہیں۔ یہ وزیر علی آدمی ہے یا بھوت، ہاتھ ہی نہیں لگتا۔

کرنل - اس کے افسانے سن کے رابن ہڈ کے کارنامے یاد آ جاتے ہیں۔ انگریزوں کے خلاف اس کے دل میں کس قدر نفرت ہے۔ کوئی پانچ مہینے حکومت کی ہو گی۔ مگر اس پانچ مہینے میں وہ اودھ کے دربار کو انگریزی اثر سے بالکل پاک کر دینے میں تقریباً کامیاب ہو گیا تھا۔

لیفٹیننٹ - کرنل کالنج یہ سعادت علی کون ہے؟

کرنل - آصف الدولہ کا بھائی ہے۔ وزیر علی کا اور اس کا دشمن۔ اصل میں نواب آصف الدولہ کے ہاں لڑکے کی کوئی امید نہیں تھی۔ وزیر علی کی پیدائش کو سعادت علی نے اپنی موت خیال کیا۔

لیفٹیننٹ - مگر سعادت علی کو اودھ کے تخت پر بٹھانے میں کیا مصلحت تھی؟

کرنل - سعادت علی ہمارا دوست ہے اور بہت عیش پسند آدمی ہے اس لیے ہمیں اپنی آدھی مملکت (جائیداد، دولت) دے دی اور دس لاکھ روپے نقد۔ اب وہ بھی مزے کرتا ہے اور ہم بھی۔

لیفٹیننٹ - سنا ہے یہ وزیر علی افغانستان کے بادشاہ شاہ زمان کو ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔

کرنل - افغانستان کو حملے کی دعوت سب سے پہلے اصل میں ٹیپو سلطان نے دی پھر وزیر علی نے بھی اسے دہلی بلایا اور پھر شمس الدولہ نے بھی۔

لیفٹیننٹ - کون شمس الدولہ؟

کرنل - نواب بنگال کا نسبتی (رشتے کا) بھائی۔ بہت ہی خطرناک آدمی ہے۔

لیفٹیننٹ - اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ کمپنی کے خلاف سارے ہندوستان میں ایک لہر دوڑ گئی ہے۔

کرنل - جی ہاں، اور اگر یہ کامیاب ہو گئی تو بکسر اور پلاسی کے کارنامے دھرے رہ جائیں گے اور کمپنی جو کچھ لارڈ کلائیو کے ہاتھوں حاصل کر چکی ہے، لارڈ ویلزلی کے ہاتھوں سب کھو بیٹھے گی۔

لیفٹیننٹ - وزیر علی کی آزادی بہت خطرناک ہے۔ ہمیں کسی نہ کسی طرح اس شخص کو گرفتار ہی کر لینا چاہیے۔

کرنل - پوری ایک فوج لیے اس کا پیچھا کر رہا ہوں اور برسوں سے وہ ہماری آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے اور انہیں جنگلوں میں پھر رہا ہے اور ہاتھ نہیں آتا۔ اس کے ساتھ چند جانباز ہیں۔ مٹھی بھر آدمی مگر یہ دم خم ہے۔

لیفٹیننٹ - سنا ہے وزیر علی ذاتی طور پر بھی بہت بہادر آدمی ہے۔

کرنل - بہادر نہ ہوتا تو یوں کمپنی کے وکیل کو قتل کر دیتا؟

لیفٹیننٹ - یہ قتل کا کیا قصہ ہوا تھا کرنل؟

کرنل - قصہ کیا ہوا تھا اس کو اس کے عہدے سے ہٹانے کے بعد ہم نے وزیر علی کو بنارس پہنچا دیا اور تین لاکھ روپیہ سالانہ وظیفہ مقرر کر دیا۔ کچھ مہینے بعد گورنر جنرل نے اسے کلکتہ طلب کیا۔ وزیر علی کمپنی کے وکیل کے پاس گیا جو بنارس میں رہتا تھا اور اس سے شکایت کی کہ گورنر جنرل اسے کلکتہ میں کیوں طلب کرتا ہے۔ وکیل نے شکایت کی پرواہ نہیں کی الٹا اسے برا بھلا سنا دیا۔ وزیر علی کے تو دل میں یوں بھی انگریزوں کے خلاف نفرت کٹ کٹ کر بھری ہے اس نے خنجر سے وکیل کا کام تمام کر دیا۔

لیفٹیننٹ - اور بھاگ گیا؟

کرنل - اپنے جان نثاروں سمیت آزرگڑھ کی طرف بھاگ گیا۔ آزرگڑھ کے حکمران نے ان لوگوں کو اپنی حفاظت میں گھاگرا تک پہنچا دیا۔ اب یہ قافلہ ان جنگلوں میں کئی سال سے بھٹک رہا ہے۔

لیفٹیننٹ - مگر وزیر علی کی اسکیم کیا ہے؟

کرنل - اسکیم یہ ہے کہ کسی طرح نیپال پہنچ جائے۔ افغانی حملے کا انتظار کرے، اپنی طاقت بڑھائے، سعادت علی کو اس کے عہدے سے ہٹا کر خود اودھ پر قبضہ کرے اور انگریزوں کو ہندوستان سے نکال دے۔

لیفٹیننٹ - نیپال پہنچنا تو کوئی ایسا مشکل نہیں، ممکن ہے کہ پہنچ گیا ہو۔

کرنل - ہماری فوجیں اور نواب سعادت علی خاں کے سپاہی بڑی سختی سے اس کا پیچھا کر رہے ہیں۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ انہیں جنگلوں میں ہے۔ (ایک سپاہی تیزی سے داخل ہوتا ہے)

کرنل - (اٹھ کر) کیا بات ہے؟

گورا - دور سے گرد اٹھتی دکھائی دے رہی ہے۔

کرنل - سپاہیوں سے کہ دو کہ تیار رہیں (سپاہی سلام کر کے چلا جاتا ہے)

لیفٹیننٹ - (جو کھڑکی سے باہر دیکھنے میں مصروف تھا) گرد تو ایسی اڑ رہی ہے جیسے کہ پورا ایک قافلہ چلا آ رہا ہو مگر مجھے تو ایک ہی سوار نظر آتا ہے۔

کرنل - (کھڑکی کے پاس جا کر) ہاں ایک ہی سوار ہے۔ سرپٹ گھوڑا دوڑائے چلا آ رہا ہے۔ لیفٹیننٹ - اور سیدھا ہماری طرف آتا معلوم ہوتا ہے (کرنل تالی بجا کر سپاہی کو بلاتا ہے) کرنل - (سپاہی سے) سپاہیوں سے کہو، اس سوار پر نظر رکھیں کہ یہ کس طرف جا رہا ہے (سپاہی سلام کر کے چلا جاتا ہے)

لیفٹیننٹ - شبہے کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں تیزی سے اسی طرف آ رہا ہے (ٹاپوں کی آواز بہت قریب آ کر رک جاتی ہے)

سوار - (باہر سے) مجھے کرنل سے ملنا ہے۔

گورا - (چللا کر) بہت خوب۔

سوار - (باہر سے) سی۔

گورا - (اندر آ کر) حضور سوار آپ سے ملنا چاہتا ہے۔

کرنل - بھیج دو۔

لیفٹیننٹ - وزیر علی کا کوئی آدمی ہو گا ہم سے مل کر اسے گرفتار کروانا چاہتا ہو گا۔

کرنل - خاموش رہو (سوار سپاہی کے ساتھ اندر آتا ہے)

سوار - (آتے ہی پکار اٹھتا ہے) تنہائی! تنہائی!

کرنل - صاحب یہاں کوئی غیر آدمی نہیں ہے آپ راز دِل کہہ دیں۔

سوار - دیوار ہم گوش دارد، تنہائی۔

(کرنل، لیفٹیننٹ اور سپاہی کو اشارہ کرتا ہے۔ دونوں باہر چلے جاتے ہیں۔ جب کرنل اور سوار کیمپ میں تنہا رہ جاتے ہیں تو ذرا وقفے کے بعد چاروں طرف دیکھ کر سوار کہتا ہے)

سوار - آپ نے اس مقام پر کیوں کیمپ ڈالا ہے؟

کرنل - کمپنی کا حکم ہے کہ وزیر علی کو گرفتار کیا جائے۔

سوار - لیکن اتنا لاؤ لشکر کیا معنی؟

کرنل - گرفتاری میں مدد دینے کے لیے۔

سوار - وزیر علی کی گرفتاری بہت مشکل ہے صاحب۔

کرنل - کیوں؟

سوار - وہ ایک جانباز سپاہی ہے۔

کرنل - میں نے بھی یہ سُن رکھا ہے۔ آپ کیا چاہتے ہیں؟

سوار - چند کارتوس۔

کرنل - کس لیے؟

سوار - وزیر علی کو گرفتار کرنے کے لیے۔

کرنل - یہ لو دس کارتوس


سوار - (مسکراتے ہوئے) شکریہ۔

کرنل - آپ کا نام؟

سوار - وزیر علی۔ آپ نے مجھے کارتوس دیے اس لیے آپ کی جان بخشی کرتا ہوں۔ (یہ کہہ کر باہر چلا جاتا ہے، ٹاپوں کا شور سنائی دیتا ہے۔ کرنل ایک سناٹے میں ہے۔ حیرت زدہ کھڑا ہے کہ لیفٹیننٹ اندر آتا ہے)

لیفٹیننٹ - کون تھا؟

کرنل - (دبی زبان سے اپنے آپ سے کہتا ہے) ایک جانباز سپاہی۔

سوال-مشق

زبانی

درج ذیل سوالات کے جواب ایک دو سطروں میں دیجیے-

1. کرنل کالنج کا کیمپ جنگل میں کیوں لگا ہوا تھا؟

2. وزیر علی سے سپاہی کیوں تنگ آ چکے تھے؟

3. کرنل نے سوار پر نظر رکھنے کے لیے کیوں کہا؟

4. سوار نے کیوں کہا کہ وزیر علی کی گرفتاری بہت مشکل ہے؟

تحریری

(ک) درج ذیل سوالات کے جواب ( 25-30 الفاظ میں ) لکھیے-

1. وزیر علی کے افسانے سن کر کرنل کو رابن ہڈ کی یاد کیوں آ جاتی تھی؟

2. سعادت علی کون تھا؟ اس نے وزیر علی کی پیدائش کو اپنی موت کیوں سمجھا؟

3. سعادت علی کو اودھ کے تخت پر بٹھانے کے پیچھے کرنل کا کیا مقصد تھا؟

4. کمپنی کے وکیل کا قتل کرنے کے بعد وزیر علی نے اپنی حفاظت کیسے کی؟

5. سوار کے جانے کے بعد کرنل کیوں حیرت زدہ رہ گیا؟

(خ) درج ذیل سوالات کے جواب ( 50-60 الفاظ میں ) لکھیے-

1. لیفٹیننٹ کو ایسا کیوں لگا کہ کمپنی کے خلاف سارے ہندوستان میں ایک لہر دوڑ گئی ہے؟

2. وزیر علی نے کمپنی کے وکیل کا قتل کیوں کیا؟

3. سوار نے کرنل سے کارتوس کیسے حاصل کیے؟

4. وزیر علی ایک جانباز سپاہی تھا، کیسے؟ واضح کیجیے۔

(گ) درج ذیل کے اشارے واضح کیجیے-

1. مٹھی بھر آدمی اور یہ دم خم۔

2. گرد تو ایسی اڑ رہی ہے جیسے کہ پورا ایک قافلہ چلا آ رہا ہو مگر مجھے تو ایک ہی سوار نظر آتا ہے۔

زبان کا مطالعہ

1. درج ذیل الفاظ کا ایک ایک مترادف لکھیے -

خلاف، پاک، امید، حاصل، کامیاب، وظیفہ، نفرت، حملہ، انتظار، ممکن

2. درج ذیل محاوروں کا اپنے جملوں میں استعمال کیجیے-

آنکھوں میں دھول جھونکنا، کٹ کٹ کر بھرنا، کام تمام کر دینا، جان بخش دینا، حیرت زدہ رہ جانا۔

3. عامل جملے میں اسم یا ضمیر کا فعل کے ساتھ تعلق بتاتا ہے۔ درج ذیل جملوں میں عوامل کو خط کشیدہ کر کے ان کے نام لکھیے-

(ک) جنگل کی زندگی بہت خطرناک ہوتی ہے۔

(خ) کمپنی کے خلاف سارے ہندوستان میں ایک لہر دوڑ گئی۔

(گ) وزیر کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

(گھ) فوج کے لیے کارتوس کی ضرورت تھی۔

(ں) سپاہی گھوڑے پر سوار تھا۔

4. فعل کا لنگ اور عدد عموماً فاعل اور مفعول کے لنگ اور عدد کے مطابق متعین ہوتا ہے۔ جملے میں فاعل اور مفعول کے لنگ، عدد اور شخص کے مطابق جب فعل کے لنگ، عدد وغیرہ میں تبدیلی ہوتی ہے تو اسے مطابقت کہتے ہیں۔

فعل کے لنگ، عدد میں تبدیلی تبھی ہوتی ہے جب فاعل یا مفعول حرف جار سے خالی ہوں؛

جیسے- سوار کارتوس مانگ رہا تھا۔ (فاعل کے سبب)

سوار نے کارتوس مانگے۔ (مفعول کے سبب)

کرنل نے وزیر علی کو نہیں پہچانا۔ (یہاں فعل فاعل اور مفعول کسی کے بھی سبب متاثر نہیں ہے )

لہٰذا فاعل اور مفعول کے حرف جار سمیت ہونے پر فعل فاعل اور مفعول میں سے کسی کے بھی لنگ اور عدد سے متاثر نہیں ہوتا اور وہ واحد مذکر ہی میں مستعمل ہوتا ہے۔ نیچے دیے گئے جملوں میں ‘نے’ لگا کر انہیں دوبارہ لکھیے-

(ک) گھوڑا پانی پی رہا تھا۔

(خ) بچے دسہرے کا میلہ دیکھنے گئے۔

(گ) رابن ہڈ غریبوں کی مدد کرتا تھا۔

(گھ) ملک بھر کے لوگ اس کی تعریف کر رہے تھے۔

5. درج ذیل جملوں میں مناسب وقفے کے نشان لگائیے-

(ک) کرنل نے کہا سپاہیوں اس پر نظر رکھو یہ کس طرف جا رہا ہے

(خ) سوار نے پوچھا آپ نے اس مقام پر کیوں کیمپ ڈالا ہے اتنا لاؤ لشکر کی کیا ضرورت ہے

(گ) کیمپ کے اندر دو شخص بیٹھے باتیں کر رہے تھے چاندنی بکھری ہوئی تھی اور باہر سپاہی پہرہ دے رہے تھے ایک شخص کہہ رہا تھا دشمن کبھی بھی حملہ کر سکتا ہے

قابلیت کی توسیع

1. کتب خانے سے رابن ہڈ کے جرات مندانہ کارناموں کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔

2. وردھاون لال ورما کی کہانی ابراہیم گاردی پڑھیے اور کلاس میں سنائیے۔

منصوبہ

1. ‘کارتوس’ یک بابی ڈرامے کا اسٹیجنگ اپنے اسکول میں کیجیے۔

2. ‘یک بابی ڈراما’ اور ‘ڈراما’ میں کیا فرق ہے۔ کچھ ڈراموں اور یک بابی ڈراموں کی فہرست تیار کیجیے۔

الفاظ کے معنی اور تشریحات

کیمپ - ڈیرا / عارضی پڑاؤ
افسانے ( افسانہ ) - کہانیاں
کارنامے ( کارنامہ ) - ایسے کام جو یاد رہیں
حکومت - حکمرانی
پیدائش - جنم
تخت - مسندِ شاہی
مصلحت - راز
عیش پسند - عیش و عشرت پسند کرنے والا
جانباز - جان کی بازی لگانے والا
دم خم - طاقت اور مضبوطی
ذاتی طور پر - شخصی طور پر
وظیفہ - پرورش کے لیے دی جانے والی رقم
مقرر - طے کرنا
طلب کیا - بلایا
حکمران - فرمانروا
حفاظت - بچاؤ
گرد - دھول
قافلہ - ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جانے والے مسافروں کا گروہ
شبہ - شک
گنجائش - امکان
تنہائی - اکیلے پن
دیوار ہم گوش دارد - دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں
مقام - پڑاؤ
لاؤ لشکر - فوج کا بڑا گروہ اور جنگی ساز و سامان
کارتوس - پیتل اور گتے وغیرہ کی ایک نلی جس میں گولی اور بارود بھری رہتی ہے