باب 13 پت جھڑ میں ٹوٹی پتیاں

رویندر کیلکر
1925-2010

7 مارچ 1925 کو کونکن کے علاقے میں پیدا ہونے والے رویندر کیلکر طالب علمی کے زمانے سے ہی گوآ کی آزادی کی تحریک میں شامل ہو گئے تھے۔ گاندھیائی مفکر کے طور پر مشہور کیلکر نے اپنی تحریروں میں عوام کی زندگی کے مختلف پہلوؤں، عقائد اور ذاتی خیالات کو ملک اور معاشرے کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ ان کی تجرباتی تبصروں میں ان کے فکر کی اصلت کے ساتھ ساتھ انسانی سچ تک پہنچنے کی سادہ کوشش ہوتی ہے۔

کونکنی اور مراٹھی کے معروف مصنف اور صحافی رویندر کیلکر کی کونکنی میں پچیس، مراٹھی میں تین، ہندی اور گجراتی میں بھی کچھ کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ کیلکر نے کاکا کالیلکر کی کئی کتابوں کی تدوین اور ترجمہ بھی کیا ہے۔

گوآ آرٹ اکیڈمی کے ادبی انعام سمیت کئی انعامات سے نوازے گئے کیلکر کی اہم تصانیف ہیں- کونکنی میں اُجواڈھاچے سور، سمیدھا، سانگلی، اوتھامبے؛ مراٹھی میں کونکنیچے راجکرن، جاپان جیسا دسلا اور ہندی میں پت جھڑ میں ٹوٹی پتیاں۔

سبق کا تعارف

ایسا مانا جاتا ہے کہ تھوڑے میں بہت کچھ کہہ دینا شاعری کا وصف ہے۔ جب کبھی یہ وصف کسی نثر کی تخلیق میں بھی نظر آتا ہے تو اسے پڑھنے والے کو یہ محاورہ یاد نہیں رکھنا پڑتا کہ ‘سار سار کو گہی رہے، تھوتھا دے اُڑائے’۔ سادہ لکھنا، تھوڑے الفاظ میں لکھنا زیادہ مشکل کام ہے۔ پھر بھی یہ کام ہوتا رہا ہے۔ سُکتی کہانیاں، آگم کہانیاں، جاتک کہانیاں، پنچ تنتر کی کہانیاں اسی لکھائی کے ثبوت ہیں۔ یہی کام کونکنی میں رویندر کیلکر نے کیا ہے۔

پیش کردہ سبق کے حصے پڑھنے والوں سے تھوڑا کہا بہت سمجھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ حصے محض پڑھنے سوچنے کی نہیں، ایک بیدار اور فعال شہری بننے کی تحریک بھی دیتے ہیں۔ پہلا حصہ گنی کا سونا زندگی میں اپنے لیے سہولتیں جمع کرنے والوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے متعارف کراتا ہے جو اس دنیا کو رہنے اور بسیرا کرنے کے قابل بنائے ہوئے ہیں۔

دوسرا حصہ ژین کی دین بدھ فلسفے میں بیان کردہ مراقبے کی اس طریقے کی یاد دلاتا ہے جس کی وجہ سے جاپان کے لوگ آج بھی اپنی مصروف ترین روزمرہ کے درمیان کچھ چین بھرے لمحے پا جاتے ہیں۔

پت جھڑ میں ٹوٹی پتیاں

( I ) گنی کا سونا

خالص سونا الگ ہے اور گنی کا سونا الگ۔ گنی کے سونے میں تھوڑا سا تانبا ملا ہوا ہوتا ہے، اس لیے وہ زیادہ چمکتا ہے اور خالص سونے سے مضبوط بھی ہوتا ہے۔ عورتیں اکثر اسی سونے کے زیور بنوا لیتی ہیں۔

پھر بھی ہوتا تو وہ ہے گنی کا ہی سونا۔

خالص آدرش بھی خالص سونے کے جیسے ہی ہوتے ہیں۔ چند لوگ ان میں عملیت کا تھوڑا سا تانبا ملا دیتے ہیں اور چلا کر دکھاتے ہیں۔ تب ہم لوگ انہیں ‘پریکٹیکل آئیڈیلسٹ’ کہہ کر ان کی تعریف کرتے ہیں۔

پر بات نہ بھولیں کہ تعریف آدرشوں کی نہیں ہوتی، بلکہ عملیت کی ہوتی ہے۔ اور جب عملیت کی تعریف ہونے لگتی ہے تب ‘پریکٹیکل آئیڈیلسٹوں’ کی زندگی سے آدرش آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگتے ہیں اور ان کی عملی سوجھ بوجھ ہی آگے آنے لگتی ہے۔

سونا پیچھے رہ کر تانبا ہی آگے آتا ہے۔

چند لوگ کہتے ہیں، گاندھی جی ‘پریکٹیکل آئیڈیلسٹ’ تھے۔ عملیت کو پہچانتے تھے۔ اس کی قیمت جانتے تھے۔ اسی لیے وہ اپنے غیر معمولی آدرش چلا سکے۔ ورنہ ہوا میں ہی اڑتے رہتے۔ ملک ان کے پیچھے نہ جاتا۔

ہاں، پر گاندھی جی کبھی آدرشوں کو عملیت کے معیار پر اترنے نہیں دیتے تھے۔ بلکہ عملیت کو آدرشوں کے معیار پر چڑھاتے تھے۔ وہ سونے میں تانبا نہیں بلکہ تانبے میں سونا ملا کر اس کی قیمت بڑھاتے تھے۔

اس لیے سونا ہی ہمیشہ آگے آتا رہتا تھا۔

عملیت پسند لوگ ہمیشہ چوکنا رہتے ہیں۔ نفع نقصان کا حساب لگا کر ہی قدم اٹھاتے ہیں۔ وہ زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں، دوسروں سے آگے بھی جاتے ہیں پر کیا وہ اوپر چڑھتے ہیں۔ خود اوپر چڑھیں اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی اوپر لے چلیں، یہی اہم بات ہے۔ یہ کام تو ہمیشہ آدرش پسند لوگوں نے ہی کیا ہے۔ معاشرے کے پاس اگر ابدی اقدار جیسی کوئی چیز ہے تو وہ آدرش پسند لوگوں کا ہی دیا ہوا ہے۔ عملیت پسند لوگوں نے تو معاشرے کو گرایا ہی ہے۔

(II) ژین کی دین

جاپان میں میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا، “یہاں کے لوگوں کو کون سی بیماریاں زیادہ ہوتی ہیں؟” “ذہنی”، انہوں نے جواب دیا، “یہاں کے اسی فیصد لوگ ذہنی مریض ہیں۔”

“اس کی کیا وجہ ہے؟”

کہنے لگے، “ہماری زندگی کی رفتار بڑھ گئی ہے۔ یہاں کوئی چلتا نہیں، بلکہ دوڑتا ہے۔ کوئی بولتا نہیں، بکتا ہے۔ ہم جب اکیلے پڑتے ہیں تو اپنے آپ سے لگاتار بڑبڑاتے رہتے ہیں۔ …امریکہ سے ہم مقابلہ کرنے لگے۔ ایک مہینے میں پورا ہونے والا کام ایک دن میں ہی پورا کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ ویسے بھی دماغ کی رفتار ہمیشہ تیز ہی رہتی ہے۔ اسے ‘اسپیڈ’ کا انجن لگانے پر وہ ہزار گنا زیادہ رفتار سے دوڑنے لگتا ہے۔ پھر ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب دماغ کا تناؤ بڑھ جاتا ہے اور پورا انجن ٹوٹ جاتا ہے۔ …یہی وجہ ہے جس سے ذہنی بیماریاں یہاں بڑھ گئی ہیں۔…”

شام کو وہ مجھے ایک ‘ٹی سیریمنی’ میں لے گئے۔ چائے پینے کا یہ ایک طریقہ ہے۔ جاپانی میں اسے چا نو یو کہتے ہیں۔

وہ ایک چھ منزلہ عمارت تھی جس کی چھت پر دیواروں والا اور تاتامی (چٹائی) کی زمین والا ایک خوبصورت کمرہ تھا۔ باہر بے ڈھنگا سا ایک مٹی کا برتن تھا۔ اس میں پانی بھرا ہوا تھا۔ ہم نے اپنے ہاتھ پاؤں اس پانی سے دھوئے۔ تولیے سے پونچھے اور اندر گئے۔ اندر ‘چاجین’ بیٹھا تھا۔ ہمیں دیکھ کر وہ کھڑا ہوا۔ کمر جھکا کر اس نے ہمیں سلام کیا۔ دو… جو… (آئیے، تشریف لائیے) کہہ کر استقبال کیا۔ بیٹھنے کی جگہ ہمیں دکھائی۔ انگیٹھی سلگائی۔ اس پر چائے دانی رکھی۔ بغل کے کمرے میں جا کر کچھ برتن لے آیا۔ تولیے سے برتن صاف کیے۔ سبھی حرکتیں اتنی وقار کے ساتھ کیں کہ اس کی ہر انداز سے لگتا تھا گویا جے جے ونتی کے سر گونج رہے ہوں۔ وہاں کا ماحول اتنا پرسکون تھا کہ چائے دانی کے پانی کا ابلنا بھی سنائی دے رہا تھا۔


چائے تیار ہوئی۔ اس نے وہ پیالوں میں بھری۔ پھر وہ پیالے ہمارے سامنے رکھ دیے گئے۔ وہاں ہم تین دوست ہی تھے۔ اس طریقے میں سکون اہم بات ہوتی ہے۔ اس لیے وہاں تین سے زیادہ آدمیوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔ پیالے میں دو گھونٹ سے زیادہ چائے نہیں تھی۔ ہم ہونٹوں سے پیالا لگا کر ایک ایک بوند چائے پیتے رہے۔ قریب ڈیڑھ گھنٹے تک چسکیوں کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔

پہلے دس پندرہ منٹ تو میں الجھن میں پڑا۔ پھر دیکھا، دماغ کی رفتار آہستہ آہستہ سست پڑتی جا رہی ہے۔ تھوڑی دیر میں بالکل بند بھی ہو گئی۔ مجھے لگا، گویا لامحدود زمانے میں میں جی رہا ہوں۔ یہاں تک کہ خاموشی بھی مجھے سنائی دینے لگی۔

اکثر ہم یا تو گزرے ہوئے دنوں کی کھٹی میٹھی یادوں میں الجھے رہتے ہیں یا مستقبل کے رنگین سپنے دیکھتے رہتے ہیں۔ ہم یا تو ماضی میں رہتے ہیں یا مستقبل میں۔ دراصل دونوں زمانے باطل ہیں۔ ایک چلا گیا ہے، دوسرا آیا نہیں ہے۔ ہمارے سامنے جو موجودہ لمحہ ہے، وہی سچ ہے۔ اسی میں جینا چاہیے۔ چائے پیتے پیتے اس دن میرے دماغ سے ماضی اور مستقبل دونوں زمانے اڑ گئے تھے۔ صرف موجودہ لمحہ سامنے تھا۔ اور وہ لامحدود زمانے جتنا وسیع تھا۔

جینا کسے کہتے ہیں، اس دن معلوم ہوا۔

ژین روایت کی یہ بڑی دین ملی ہے جاپانیوں کو!$ \qquad $

سوال مشق

زبانی

درج ذیل سوالات کے جواب ایک دو سطروں میں دیجیے-

I 1. خالص سونا اور گنی کا سونا الگ کیوں ہوتا ہے؟

2. پریکٹیکل آئیڈیلسٹ کسے کہتے ہیں؟

3. سبق کے حوالے سے خالص آدرش کیا ہے؟

II 4. مصنف نے جاپانیوں کے دماغ میں ‘اسپیڈ’ کا انجن لگنے کی بات کیوں کہی ہے؟

5. جاپانی میں چائے پینے کے طریقے کو کیا کہتے ہیں؟

6. جاپان میں جہاں چائے پلائی جاتی ہے، اس جگہ کی کیا خصوصیت ہے؟

تحریری

(ک) درج ذیل سوالات کے جواب ( 25-30 الفاظ میں ) لکھیے-

I 1. خالص آدرش کی نسبت سونے سے اور عملیت کی نسبت تانبے سے کیوں کی گئی ہے؟

II 2. چاجین نے کون سی حرکتیں وقار کے ساتھ پوری کیں؟

3. ‘ٹی سیریمنی’ میں کتنے آدمیوں کو داخلہ دیا جاتا تھا اور کیوں؟

4. چائے پینے کے بعد مصنف نے خود میں کیا تبدیلی محسوس کی؟

(خ) درج ذیل سوالات کے جواب (50-60 الفاظ میں) لکھیے-

I 1. گاندھی جی میں قیادت کی حیرت انگیز صلاحیت تھی؛ مثال کے ساتھ اس بات کی تصدیق کیجیے۔

2. آپ کے خیال سے کون سے ایسے اقدار ہیں جو ابدی ہیں؟ موجودہ زمانے میں ان اقدار کی مطابقت واضح کیجیے۔

3. اپنی زندگی کی کسی ایسی واقعہ کا ذکر کیجیے جب-

(1) خالص آدرش سے آپ کو نقصان نفع ہوا ہو۔

(2) خالص آدرش میں عملیت کا پہلو شامل کرنے سے نفع ہوا ہو۔

4. ‘خالص سونے میں تانبے کی ملاوٹ یا تانبے میں سونا’، گاندھی جی کے آدرش اور عمل کے حوالے سے یہ بات کس طرح جھلکتی ہے؟ واضح کیجیے۔

5. ‘گرگٹ’ کہانی میں آپ نے معاشرے میں پھیلی ہوئی موقع کے مطابق اپنے رویے کو لمحہ لمحہ میں بدل ڈالنے کی ایک جھلک دیکھی۔ اس سبق کے حصے ‘گنی کا سونا’ کے حوالے سے واضح کیجیے کہ ‘آدرش پسندی’ اور ‘عملیت پسندی’ ان میں سے زندگی میں کس کی اہمیت ہے؟

II 6. مصنف کے دوست نے ذہنی بیماری کے کیا کیا اسباب بتائے؟ آپ ان اسباب سے کہاں تک متفق ہیں؟

7. مصنف کے مطابق سچ صرف موجودہ ہے، اسی میں جینا چاہیے۔ مصنف نے ایسا کیوں کہا ہوگا؟ واضح کیجیے۔

(گ) درج ذیل کے مطلب واضح کیجیے-

I 1. معاشرے کے پاس اگر ابدی اقدار جیسی کوئی چیز ہے تو وہ آدرش پسند لوگوں کا ہی دیا ہوا ہے۔

2. جب عملیت کی تعریف ہونے لگتی ہے تب ‘پریکٹیکل آئیڈیلسٹوں’ کی زندگی سے آدرش آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگتے ہیں اور ان کی عملی سوجھ بوجھ ہی آگے آنے لگتی ہے۔

II 3. ہماری زندگی کی رفتار بڑھ گئی ہے۔ یہاں کوئی چلتا نہیں بلکہ دوڑتا ہے۔ کوئی بولتا نہیں، بکتا ہے۔ ہم جب اکیلے پڑتے ہیں تو اپنے آپ سے لگاتار بڑبڑاتے رہتے ہیں۔

4. سبھی حرکتیں اتنی وقار کے ساتھ کیں کہ اس کی ہر انداز سے لگتا تھا گویا جے جے ونتی کے سر گونج رہے ہوں۔

زبان کا مطالعہ

I 1. نیچے دیے گئے الفاظ کا جملے میں استعمال کیجیے-

عملیت، آدرش، سوجھ بوجھ، غیر معمولی، ابدی

2. ‘نفع نقصان’ کا الگ الگ اس طرح ہوگا- نفع اور نقصان

یہاں دووند سماس ہے جس میں دونوں الفاظ اہم ہوتے ہیں۔ دونوں الفاظ کے درمیان جوڑنے والے لفظ کے حذف کرنے کے لیے جوڑنے والی علامت لگائی جاتی ہے۔ نیچے دیے گئے دووند سماس کا الگ الگ کیجیے-

(ک) ماں باپ $\quad=$ ____________

(خ) گناہ ثواب $\quad=$ ____________

(گ) خوشی غمی $\quad=$ ____________

(گھ) رات دن $\quad=$ ____________

(ں) اناج پانی $\quad=$ ____________

(چ) گھر باہر $\quad=$ ____________

(چھ) ملک بیرون ملک $\quad=$ ____________

3. نیچے دیے گئے صفت الفاظ سے بھاؤ والے اسم بنائیے-

(ک) کامیاب $\quad=$ ____________

(خ) غیر معمولی $\quad=$ ____________

(گ) عملی $=$ ____________

(گھ) چوکنا $\quad=$ ____________

(ں) آدرش پسند $=$ ____________

(چ) خالص $\quad=$ ____________

4. نیچے دیے گئے جملوں میں زیرِ خط حصے پر توجہ دیجیے اور لفظ کے معنی سمجھیے-

(ک) خالص سونا الگ ہے۔

(خ) بہت رات ہو گئی اب ہمیں سونا چاہیے۔

اوپر دیے گئے جملوں میں ‘سونا’ کا کیا مطلب ہے؟ پہلے جملے میں ‘سونا’ کا مطلب ہے دھات ‘سونے’۔ دوسرے جملے میں ‘سونا’ کا مطلب ہے ‘سونے’ نامی فعل۔ الگ الگ سیاق و سباق میں یہ الفاظ الگ معنی دیتے ہیں یا ایک لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ ایسے الفاظ کثیر المعنی الفاظ کہلاتے ہیں۔ نیچے دیے گئے الفاظ کے مختلف مختلف معنی واضح کرنے کے لیے ان کا ان کا جملوں میں استعمال کیجیے-

جواب، ٹیکس، عدد، شہر

II 5. نیچے دیے گئے جملوں کو ملے ہوئے جملے میں بدل کر لکھیے-

(ک) 1. انگیٹھی سلگائی۔

  1. اس پر چائے دانی رکھی۔

(خ) 1. چائے تیار ہوئی۔

  1. اس نے وہ پیالوں میں بھری۔

(گ) 1. بغل کے کمرے سے جا کر کچھ برتن لے آیا۔

  1. تولیے سے برتن صاف کیے۔

6. نیچے دیے گئے جملوں سے مرکب جملے بنائیے-

(ک) 1. چائے پینے کا یہ ایک طریقہ ہے۔

  1. جاپانی میں اسے چا نو یو کہتے ہیں۔

(خ) 1. باہر بے ڈھنگا سا ایک مٹی کا برتن تھا۔

  1. اس میں پانی بھرا ہوا تھا۔

(گ) 1. چائے تیار ہوئی۔

  1. اس نے وہ پیالوں میں بھری۔

  2. پھر وہ پیالے ہمارے سامنے رکھ دیے۔

قابلیت کی توسیع

I 1. گاندھی جی کے آدرشوں پر مبنی کتابیں پڑھیے؛ جیسے- مہاتما گاندھی کی تحریر کردہ ‘سچ کے تجربے’ اور گریراج کشور کی تحریر کردہ ناول ‘گرمیٹیا’۔

II 2. سبق میں بیان کردہ ‘ٹی سیریمنی’ کا لفظی خاکہ پیش کیجیے۔

پراجیکٹ کام

1. بھارت کے نقشے پر وہ مقامات نشان زد کیجیے جہاں چائے کی پیداوار ہوتی ہے۔ ان مقامات سے متعلق جغرافیائی حالات اور الگ الگ جگہ کی چائے کی کیا خصوصیات ہیں، ان کا پتہ لگائیے اور پراجیکٹ بک میں لکھیے۔

الفاظ کے معنی اور تبصرے

عملیت - وقت اور موقع دیکھ کر کام کرنے کی سوجھ
پریکٹیکل آئیڈیلسٹ - عملی آدرش
تعریف - بیان کرنا / بیان کرنا
سوجھ بوجھ - کام کرنے کی سمجھ
معیار - درجہ
کے معیار - کے برابر
چوکنا - ہوشیار
ابدی - جو ہمیشہ ایک سا رہے / جو بدلا نہ جا سکے
خالص سونا -24 قیراط کا (بغیر ملاوٹ کا) سونا
گنی کا سونا - 22 قیراط (سونے میں تانبا ملا ہوا) کا سونا جس سے زیور بنائے جاتے ہیں
ذہنی - دماغ سے متعلق / دماغی
ذہنی مریض - تناؤ کی وجہ سے ذہنی طور پر بیمار
مقابلہ - ہوڑ
اسپیڈ - رفتار
ٹی سیریمنی - جاپان میں چائے پینے کا خاص انتظام
چا نو یو - جاپانی میں ٹی سیریمنی کا نام
دیواروں والا - لکڑی کی کھوکھلی سرکنے والی دیوار جس پر مصوری ہوتی ہے
کمرہ - جاپانی طریقے سے چائے پلانے والا
بے ڈھنگا سا - بے ڈول سا
وقار کے ساتھ - سلیقے سے
انداز - حالت
جے جے ونتی -ایک راگ کا نام
ابلنا - ابلنا
الجھن - پریشانی کی حالت
لامحدود زمانہ - وہ زمانہ جس کا خاتمہ نہ ہو
خاموشی - سناٹا
باطل - فریب