باب 02 پد (نظم)

میرا
سن 1503-1546

میرا بائی کا پیدائش جودھ پور کے چوکڑی (کڑکی) گاؤں میں 1503 میں ہوا مانا جاتا ہے۔ 13 سال کی عمر میں میواڑ کے مہارانا سانگا کے کُںور بھوج راج سے ان کا نکاح ہوا۔ ان کی زندگی دکھوں کے سائے میں ہی گزری۔ بچپن میں ہی ماں کا انتقال ہو گیا تھا۔ نکاح کے کچھ ہی سال بعد پہلے شوہر، پھر باپ اور ایک جنگ کے دوران سسر کا بھی انتقال ہو گیا۔ مادی زندگی سے مایوس میرا نے گھر-خاندان چھوڑ دیا اور ورینداون میں ڈیرا ڈال کر پوری طرح گری دھر گوپال کرشن کے لیے وقف ہو گئیں۔

قرون وسطی کے بھکتی تحریک کی روحانی تحریک نے جن شاعروں کو جنم دیا ان میں میرا بائی کا خاص مقام ہے۔ ان کے پد (نظمیں) پورے شمالی ہند کے ساتھ ساتھ گجرات، بہار اور بنگال تک مقبول ہیں۔ میرا ہندی اور گجراتی دونوں کی شاعرہ مانے جاتی ہیں۔

سنت رائی داس کی شاگرد میرا کی کل سات-آٹھ تصانیف ہی دستیاب ہیں۔ میرا کی بھکتی دینت اور مادھوریہ بھاؤ کی ہے۔ ان پر یوگیوں، سنتوں اور ویشنو بھکتوں کا مشترکہ اثر پڑا ہے۔ میرا کے پدوں کی زبان میں راجستھانی، برج اور گجراتی کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ وہیں پنجابی، کھڑی بولی اور مشرقی کے استعمال بھی مل جاتے ہیں۔

متن کا تعارف

کہتے ہیں خاندانی صدمات سے نجات پانے کے لیے میرا گھر-دروازہ چھوڑ کر ورینداون میں جا بسی تھیں اور کرشن مئی ہو گئی تھیں۔ ان کی تخلیقات میں ان کے معبود کہیں نرگن نراکار برہم، کہیں سگن ساکار گوپی ولابھ شری کرشن اور کہیں نرموہی پردیشی جوگی کی صورت میں تصور کیے گئے ہیں۔ وہ گری دھر گوپال کے اننیہ اور یکساں محبت سے سرشار ہو گئی تھیں۔

پیش کردہ متن میں شامل دونوں پد میرا کے انہی معبود کو مخاطب ہیں۔ میرا اپنے معبود سے منہار بھی کرتی ہیں، لاڈ بھی لڑاتی ہیں تو موقع آنے پر گلہ کرنے سے بھی نہیں چوکتیں۔ ان کی صلاحیتوں کی تعریف، یاد کرتی ہیں تو انہیں ان کے فرائض یاد دلانے میں بھی دیر نہیں لگاتیں۔

پد (نظم)

(1)

ہری آپ ہرو جن ری بھیر۔
دروپدی ری لاج رکھی، آپ بڑھایو چیر۔
بھگت کارن روپ نرہری، دھریو آپ سری۔
بوڑھتو گجراج رکھیو، کاٹی کنجر پیر۔
داسی میراں لال گری دھر، ہرو میاری بھیر۔۔

(2)

شیام میہانے چاکر رکھو جی،
گری دھاری لالا میہانے چاکر رکھو جی۔
چاکر رہسیوں باگ لگاسیوں نت اٹھ درشن پاسیوں۔
بندراوَن ری کنج گلی میں، گووند لیلا گاسیوں۔
چاکری میں درشن پاسیوں، سمرن پاسیوں خرچی۔
بھاؤ بھگتی جاگیری پاسیوں، تینوں باتاں سرسی۔
مور مُگٹ پیتامبر ساوہے، گل ویجنتی مالا۔
بندراوَن میں دھینو چراوے، موہن مرلی والا۔
اونچا اونچا محل بناؤں وچ وچ رکھوں باری۔
سانوریا را درشن پاسیوں، پہر کسمبی ساڑی۔
آدھی رات پر بھو درشن، دیجیو جمناجی ری تیراں۔
میراں را پر بھو گری دھر ناگر، ہیوڑو گھنو ادھیرا۔۔

سوال-مشق

(ک) مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے-

1. پہلے پد میں میرا نے ہری سے اپنی پریشانی دور کرنے کی التجا کس طرح کی ہے؟

2. دوسرے پد میں میرا بائی شیام کی خدمت کیوں کرنا چاہتی ہیں؟ واضح کیجیے۔

3. میرا بائی نے شری کرشن کی صورت-حسن کا بیان کیسے کیا ہے؟

4. میرا بائی کی زبان و اسلوب پر روشنی ڈالیے۔

5. وہ شری کرشن کو پانے کے لیے کیا کیا کام کرنے کو تیار ہیں؟

(خ) مندرجہ ذیل سطروں کا شعری حسن واضح کیجیے-

1. ہری آپ ہرو جن ری بھیر۔

دروپدی ری لاج رکھی، آپ بڑھایو چیر۔

بھگت کارن روپ نرہری، دھریو آپ سری۔

2. بوڑھتو گجراج رکھیو، کاٹی کنجر پیر۔

داسی میراں لال گری دھر، ہرو میاری بھیر۔

3. چاکری میں درشن پاسیوں، سمرن پاسیوں خرچی۔

بھاؤ بھگتی جاگیری پاسیوں، تینوں باتاں سرسی۔

زبان کا مطالعہ

1. مثال کی بنیاد پر متن میں آئے مندرجہ ذیل الفاظ کے رائج روپ لکھیے-

مثال-بھیر - پریشانی / کَشٹ / دکھ؛ ری - کی

چیر ____________ بوڑھتا ____________

دھریو ____________ لگاسیوں ____________

کنجر ____________ گھنا ____________

بندراوَن ____________ سرسی ____________

رہسیوں ____________ ہیوڑا ____________

رکھو ____________ کسمبی ____________

قابلیت کی توسیع

1. میرا کے دیگر پدوں کو یاد کر کے کلاس میں سنائیے۔

2. اگر آپ کو میرا کے پدوں کی کیسٹ مل سکیں تو موقع ملنے پر انہیں سنیے۔

منصوبہ

1. میرا کے پدوں کا مجموعہ کر کے ان پدوں کو چارٹ پر لکھ کر دیوار اخبار پر لگائیے۔

2. پہلے ہمارے یہاں دس اوتار مانے جاتے تھے۔ وشنو کے اوتار رام اور کرشن اہم ہیں۔ دیگر اوتاروں کے بارے میں معلومات حاصل کر کے ایک چارٹ بنائیے۔

الفاظ کے معنی اور تشریحات

بڑھایو - بڑھانا
گجراج - ایاراوت (ایک سفید ہاتھی)
کنجر - ہاتھی
پاسیوں - پانا
لیلا - مختلف روپ
سمرن - یاد کرنا / یاد
جاگیری - جاگیر / سلطنت
پیتامبر - پیلا کپڑا
ویجنتی - ایک پھول
تیراں - کنارہ
ادھیراں ( ادھیر ) - بے چین ہونا
دروپدی ری لاج رکھی - دریاودھن کے ذریعے دروپدی کا چیرہرن کروانے پر شری کرشن نے چیر کو بڑھاتے بڑھاتے
اتنا بڑھا دیا کہ دُشاسن کا ہاتھ تھک گیا
کاٹی کنجر پیر - کنجر (ہاتھی) کا کَشٹ دور کرنے کے لیے مگرمچھ کو مارا