باب 01 ہری ہر کاکا
متھلیشور
سن 1950
متھلیشور کی پیدائش 31 دسمبر 1950 کو بہار کے ضلع بھوجپور کے گاؤں ویساڈیہ میں ہوئی۔ انہوں نے ہندی میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کرنے کے بعد پیشے کے طور پر تدریسی کام کو چنا۔ ان دنوں آرا کے یونیورسٹی میں ریڈر کے عہدے پر کام کر رہے ہیں۔
متھلیشور نے اپنی کہانیوں میں دیہی زندگی کو خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔ ان کی کہانیاں موجودہ دیہی زندگی کے مختلف تضادات کو آشکار کرتی ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ آزادی کے بعد دیہی زندگی درحقیقت کس حد تک خوفناک اور پیچیدہ ہو گئی ہے۔ تبدیلی کے نام پر یہ ہوا ہے کہ عام لوگوں کے استحصال کے طریقے بدل گئے ہیں۔
متھلیشور کی اہم تصانیف ہیں- بابو جی، میگھنا کا فیصلہ، ہری ہر کاکا، چل خسرو گھر آپنے (کہانی مجموعہ)؛ جھنیا، یودھستھل، پریم نہ باری اُپجے اور انت نہیں (ناول)۔ اپنی تحریر کے لیے انہیں سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ سمیت دیگر کئی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔
ہری ہر کاکا
ہری ہر کاکا کے یہاں سے میں ابھی ابھی لوٹا ہوں۔ کل بھی ان کے یہاں گیا تھا، لیکن نہ تو وہ کل ہی کچھ کہہ سکے اور نہ آج ہی۔ دونوں دن ان کے پاس میں دیر تک بیٹھا رہا، لیکن انہوں نے کوئی بات چیت نہیں کی۔ جب ان کی طبیعت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے سر اٹھا کر ایک بار مجھے دیکھا۔ پھر سر جھکایا تو دوبارہ میری طرف نہیں دیکھا۔ حالانکہ ان کی ایک ہی نظر بہت کچھ کہہ گئی۔ جن اذیتوں کے درمیان وہ گھرے تھے اور جس ذہنی کیفیت میں جی رہے تھے، اس میں آنکھیں ہی بہت کچھ کہہ دیتی ہیں، منہ کھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ہری ہر کاکا کی زندگی سے میں بہت گہرائی سے جڑا ہوا ہوں۔ اپنے گاؤں میں جن چند لوگوں کو میں عزت دیتا ہوں، ان میں ہری ہر کاکا بھی ایک ہیں۔ ہری ہر کاکا کے تئیں میری لگاؤ کے کئی عملی اور نظریاتی اسباب ہیں۔ ان میں اہم سبب دو ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہری ہر کاکا میرے پڑوس میں رہتے ہیں اور دوسرا سبب یہ کہ میری ماں بتاتی ہیں، ہری ہر کاکا بچپن میں مجھے بہت لاڈ کرتے تھے۔ اپنے کندھے پر بٹھا کر گھمایا کرتے تھے۔ ایک باپ اپنے بچے کو جتنا پیار کرتا ہے، اس سے کہیں زیادہ پیار ہری ہر کاکا مجھے کرتے تھے۔ اور جب میں سمجھدار ہوا تو میری پہلی دوستی ہری ہر کاکا کے ساتھ ہی ہوئی۔ ہری ہر کاکا نے بھی جیسے مجھ سے دوستی کے لیے ہی اتنی عمر تک انتظار کیا تھا۔ ماں بتاتی ہیں کہ مجھ سے پہلے گاؤں میں کسی اور سے ان کی اتنی گہری دوستی نہیں ہوئی تھی۔ وہ مجھ سے کچھ بھی نہیں چھپاتے تھے۔ خوب کھل کر باتیں کرتے تھے۔ لیکن فی الحال مجھ سے بھی کچھ کہنا انہوں نے بند کر دیا ہے۔ ان کی اس حالت نے مجھے پریشان کر دیا ہے۔ جیسے کوئی کشتی درمیان سمندر میں پھنسی ہو اور اس پر سوار لوگ چلّا کر بھی اپنی حفاظت نہ کر سکتے ہوں، کیونکہ ان کی چیخ دور تک پھیلے سمندر کے درمیان اٹھتی گرتی لہروں میں گم ہو جانے کے علاوہ کر ہی کیا سکتی ہے؟ خاموش ہو کر آبی قبر لینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ لیکن دل اسے ماننے کو ہرگز تیار نہیں۔ جینے کی خواہش کی وجہ سے بے چینی اور تڑپ بڑھ گئی ہو، کچھ ایسی ہی حالت کے درمیان ہری ہر کاکا گھر گئے ہیں۔
ہری ہر کاکا کے بارے میں میں سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہ یہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ کہیں تو کیا کہیں؟ اب کوئی ایسی بات نہیں جسے کہہ کر وہ ہلکا ہو سکیں۔ کوئی ایسی بات نہیں جسے کہہ کر وہ نجات پا سکیں۔ ہری ہر کاکا کی حالت میں میں بھی ہوتا تو یقیناً اس گونگے پن کا شکار ہو جاتا۔
ہری ہر کاکا اس حالت میں کیسے آ پھنسے؟ یہ کون سی حالت ہے؟ اس کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ یہ سب بتانے سے پہلے اپنے گاؤں کا اور خاص کر اپنے گاؤں کی ٹھاکر باڑی کا مختصر تعارف میں آپ کو دے دینا مناسب سمجھتا ہوں کیونکہ اس کے بغیر تو یہ کہانی ادھوری ہی رہ جائے گی۔
میرا گاؤں قصبے کے شہر آرا سے چالیس کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ حسن بازار بس اسٹینڈ کے قریب۔ گاؤں کی کل آبادی ڈھائی تین ہزار ہو گی۔ گاؤں میں تین اہم مقامات ہیں۔ گاؤں کے مغربی کنارے کا بڑا سا تالاب۔ گاؤں کے وسط میں واقع برگد کا پرانا درخت اور گاؤں کے مشرق میں ٹھاکر جی کا وسیع مندر، جسے گاؤں کے لوگ ٹھاکر باڑی کہتے ہیں۔
گاؤں میں اس ٹھاکر باڑی کی بنیاد کب رکھی گئی، اس کی صحیح صحیح معلومات کسی کو نہیں۔ اس سلسلے میں گاؤں میں جو کہانی مشہور ہے وہ یہ کہ سالوں پہلے جب یہ گاؤں پوری طرح بسا بھی نہیں تھا، کہیں سے ایک سنت آ کر اس جگہ پر جھونپڑی بنا کر رہنے لگے تھے۔ وہ صبح شام یہاں ٹھاکر جی کی پوجا کرتے تھے۔ لوگوں سے مانگ کر کھا لیتے تھے اور پوجا پاٹ کی سوچ کو بیدار کرتے تھے۔ بعد میں لوگوں نے چندہ کر کے یہاں ٹھاکر جی کا ایک چھوٹا سا مندر بنوا دیا۔ پھر جیسے جیسے گاؤں بستا گیا اور آبادی بڑھتی گئی، مندر کے حجم میں بھی وسعت ہوتی گئی۔ لوگ ٹھاکر جی کو منت مانتے کہ بیٹا ہو، مقدمے میں فتح ہو، لڑکی کی شادی اچھے گھر میں طے ہو، لڑکے کو نوکری مل جائے۔ پھر اس میں جن کو کامیابی ملتی، وہ خوشی میں ٹھاکر جی پر روپے، زیور، اناج چڑھاتے۔ زیادہ خوشی ہوتی تو ٹھاکر جی کے نام اپنے کھیت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا لکھ دیتے۔ یہ روایت آج تک جاری ہے۔ اکثر لوگوں کو یقین ہے کہ انہیں اچھی فصل ہوتی ہے تو ٹھاکر جی کی مہربانی سے۔ مقدمے میں ان کی جیت ہوئی تو ٹھاکر جی کے چلتے۔ لڑکی کی شادی اسی لیے جلدی طے ہو گئی، کیونکہ ٹھاکر جی کو منت مانی گئی تھی۔ لوگوں کے اس یقین کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ گاؤں کی دوسری چیزوں کے مقابلے میں ٹھاکر باڑی کی ترقی ہزار گنا زیادہ ہوئی ہے۔ اب تو یہ گاؤں ٹھاکر باڑی سے ہی پہچانا جاتا ہے۔ یہ ٹھاکر باڑی نہ صرف میرے گاؤں کی ایک بڑی اور وسیع ٹھاکر باڑی ہے بلکہ پورے علاقے میں اس کی جوڑ کی دوسری ٹھاکر باڑی نہیں۔
ٹھاکر باڑی کے نام پر بیس بیگھے کھیت ہیں۔ مذہبی لوگوں کی ایک کمیٹی ہے، جو ٹھاکر باڑی کی دیکھ بھال اور چلانے کے لیے ہر تین سال بعد ایک مہنت اور ایک پجاری کی تقرری کرتی ہے۔
ٹھاکر باڑی کا کام لوگوں کے اندر ٹھاکر جی کے تئیں عقیدت کی سوچ پیدا کرنا اور مذہب سے دور ہو رہے لوگوں کو راستے پر لانا ہے۔ ٹھاکر باڑی میں بھجن کی رت کی آواز برابر گونجتی رہتی ہے۔ گاؤں جب بھی سیلاب یا خشک سالی کی زد میں آتا ہے، ٹھاکر باڑی کے احاطے میں خیمہ لگ جاتا ہے۔ لوگ اور ٹھاکر باڑی کے سادھو سنت مسلسل ہری کی رت شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ گاؤں میں کسی بھی تہوار کی شروعات ٹھاکر باڑی سے ہی ہوتی ہے۔ ہولی میں سب سے پہلے گلال ٹھاکر جی کو ہی چڑھایا جاتا ہے۔ دیوالی کا پہلا دیا ٹھاکر باڑی میں ہی جلتا ہے۔ پیدائش، شادی اور جینو کے موقع پر اناج کپڑے کی پہلی پیشکش ٹھاکر جی کے نام کی جاتی ہے۔ ٹھاکر باڑی کے برہمن سادھو روزے کی کہانیوں کے دن گھر گھر گھوم کر کتھا بیان کرتے ہیں۔ لوگوں کے کھلیان میں جب فصل کی دھنائی ہو کر اناج کی ڈھیری تیار ہو جاتی ہے، تب ٹھاکر جی کے نام ‘آگھاؤں’ نکال کر ہی لوگ اناج اپنے گھر لے جاتے ہیں۔
ٹھاکر باڑی کے ساتھ اکثر لوگوں کا تعلق بہت ہی گہرا ہے- دل اور جسم دونوں سطح پر۔ کھیتی کے کام سے اپنا بچا ہوا وقت وہ ٹھاکر باڑی میں ہی گزارتے ہیں۔ ٹھاکر باڑی میں سادھو سنتوں کا وعظ سن اور ٹھاکر جی کا درشن کر وہ اپنی یہ زندگی بامعنی سمجھنے لگتے ہیں۔ انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ٹھاکر باڑی میں داخل ہوتے ہی وہ پاک ہو جاتے ہیں۔ ان کے پچھلے سارے گناہ خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔
حالات کے تحت اب ہری ہر کاکا نے ٹھاکر باڑی میں جانا بند کر دیا ہے۔ پہلے وہ اکثر ہی ٹھاکر باڑی میں جاتے تھے۔ دل بہلانے کے لیے کبھی کبھی میں بھی ٹھاکر باڑی میں جاتا ہوں۔ لیکن وہاں کے سادھو سنت مجھے پھوٹی آنکھوں نہیں بھاتے۔ کام کاج کرنے میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں۔ ٹھاکر جی کو بھوگ لگانے کے نام پر دونوں وقت حلوہ پوری کھاتے ہیں اور آرام سے پڑے رہتے ہیں۔ انہیں اگر کچھ آتا ہے تو صرف بات بنانا آتا ہے۔
ہری ہر کاکا چار بھائی ہیں۔ سب کی شادی ہو چکی ہے۔ ہری ہر کاکا کے علاوہ سب کے بچے ہیں۔ بڑے اور چھوٹے بھائی کے لڑکے کافی سمجھدار ہو گئے ہیں۔ دو کی شادیاں ہو گئی ہیں۔ ان میں سے ایک پڑھ لکھ کر شہر کے کسی دفتر میں کلرکی کرنے لگا ہے۔ لیکن ہری ہر کاکا کی اپنی جسم سے کوئی اولاد نہیں۔ بھائیوں میں ہری ہر کاکا کا نمبر دوسرا ہے۔ اولاد کے لیے انہوں نے دو شادیاں کیں۔ لمبے عرصے تک انتظار کرتے رہے۔ لیکن بغیر بچہ جنے ان کی دونوں بیویاں جنت سدھار گئیں۔ لوگوں نے تیسری شادی کرنے کی صلاح دی لیکن اپنی گرتی ہوئی عمر اور مذہبی روایات کی وجہ سے ہری ہر کاکا نے انکار کر دیا۔ وہ اطمینان اور محبت سے اپنے بھائیوں کے خاندان کے ساتھ رہنے لگے۔
ہری ہر کاکا کے خاندان کے پاس کل ساٹھ بیگھے کھیت ہیں۔ ہر بھائی کے حصے میں پندرہ بیگھے پڑیں گے۔ کھیتی کے کام پر یہ لوگ انحصار ہیں۔ شاید اسی لیے اب تک متحدہ خاندان کی شکل میں ہی رہتے آ رہے ہیں۔
ہری ہر کاکا کے تینوں بھائیوں نے اپنی بیویوں کو یہ سکھ دی تھی کہ ہری ہر کاکا کی اچھی طرح خدمت کریں۔ وقت پر انہیں ناشتہ کھانا دیں۔ کسی بات کی تکلیف نہ ہونے دیں۔ کچھ دنوں تک وہ ہری ہر کاکا کی خبر گیری کرتی رہیں۔ پھر انہیں کون پوچھنے والا؟ ‘ٹھہر چوکا’ لگا کر پنکھا جھلتے ہوئے اپنے مردوں کو اچھے اچھے پکوان کھلاتیں۔ ہری ہر کاکا کے آگے تو بچی کھچی چیزیں آتیں۔ کبھی کبھی تو ہری ہر کاکا کو روکھا سوکھا کھا کر ہی قناعت کرنا پڑتا۔
اگر کبھی ہری ہر کاکا کی طبیعت خراب ہو جاتی تو وہ مصیبت میں پڑ جاتے۔ اتنے بڑے خاندان کے رہتے ہوئے بھی کوئی انہیں پانی دینے والا تک نہیں۔ سب اپنے کاموں میں مصروف ${ }^{14}$۔ بچے یا تو پڑھ لکھ رہے ہوتے یا شور مچاتے۔ مرد کھیتوں پر گئے رہتے۔ اور عورتیں حال پوچھنے بھی نہیں آتیں۔ ڈیوڑھی کے کمرے میں اکیلے پڑے ہری ہر کاکا کو خود اٹھ کر اپنی ضروریات کی تکمیل کرنی پڑتی۔ ایسے وقت اپنی بیویوں کو یاد کر کر کے ہری ہر کاکا کی آنکھیں بھر آتیں۔ بھائیوں کے خاندان کے تئیں محبت ٹوٹنے کی شروعات انہی لمحات میں ہوئی تھی۔ اور پھر، ایک دن تو دھماکہ ہی ہو گیا۔ اس دن ہری ہر کاکا کی برداشت کی طاقت جواب دے گئی۔ اس دن شہر میں کلرکی کرنے والے بھتیجے کا ایک دوست گاؤں آیا تھا۔ اسی کے آنے کے موقع پر دو تین قسم کی سبزی، بجکے، چٹنی، رائتہ وغیرہ بنے تھے۔ بیماری سے اٹھے ہری ہر کاکا کا دل لذیذ کھانے کے لیے بے چین تھا۔ دل ہی دل میں انہوں نے اپنے بھتیجے کے دوست کی تعریف کی، جس کے بہانے انہیں اچھی چیزیں کھانے کو ملنے والی تھیں۔ لیکن باتیں بالکل الٹ ہوئیں۔ سب نے کھانا کھا لیا، ان کو کوئی پوچھنے تک نہیں آیا۔ ان کے تینوں بھائی کھانا کھا کر کھلیان میں چلے گئے۔ دھنائی ہو رہی تھی۔ وہ اس بات کے بارے میں یقین رکھتے تھے کہ ہری ہر کاکا کو تو پہلے ہی کھلا دیا گیا ہوگا۔
آخر میں ہری ہر کاکا نے خود ڈیوڑھی کے کمرے سے نکل ہوائی میں داخل ہوئے۔ تب ان کے چھوٹے بھائی کی بیوی نے روکھا سوکھا کھانا لا کر ان کے سامنے پیش کر دیا- چاول، لسی اور اچار۔ بس، ہری ہر کاکا کے جسم میں تو جیسے آگ لگ گئی۔ انہوں نے تھالی اٹھا کر بیچ آنگن میں پھینک دی۔ جھن کی تیز آواز کے ساتھ آنگن میں تھالی گری۔ چاول بکھر گئے۔ مختلف گھروں میں بیٹھی لڑکیاں، بہوئیں سب ایک ہی ساتھ باہر نکل آئیں۔ ہری ہر کاکا گرجتے ہوئے ہوائی سے ڈیوڑھی کی طرف چل پڑے-“سمجھ رہی ہو کہ مفت میں کھلاتی ہو، تو اپنے دل سے یہ بات نکال دینا۔ میرے حصے کے کھیت کی پیداوار اسی گھر میں آتی ہے۔ اس میں تو میں دو چار نوکر رکھ لوں، آرام سے کھاؤں، تب بھی کمی نہیں ہوگی۔ میں یتیم اور بے سہارا نہیں ہوں۔ میرے مال پر تو تم سب عیش کر رہی ہو۔ لیکن اب میں تم سب کو بتاؤں گا…وغیرہ۔”
ہری ہر کاکا جس وقت یہ سب بول رہے تھے، اس وقت ٹھاکر باڑی کے پجاری جی ان کی ڈیوڑھی پر ہی موجود تھے۔ سالانہ ہومادھ ${ }^{15}$ کے لیے وہ گھی اور شکّر لینے آئے تھے۔ لوٹ کر انہوں نے مہنت جی کو تفصیل کے ساتھ ساری بات بتائی۔ ان کے کان کھڑے ہو گئے۔ وہ دن انہیں بہت مبارک محسوس ہوا۔ اس دن کو انہوں نے ایسے ہی گزر جانے دینا مناسب نہیں سمجھا۔ فوراً ${ }^{16}$ ٹیکا تلک لگا، کندھے پر رام نامی لکھی چادر ڈال ٹھاکر باڑی سے چل پڑے۔ اتفاق اچھا تھا۔ ہری ہر کی ڈیوڑھی تک نہیں جانا پڑا۔ راستے میں ہی ہری ہر مل گئے۔ غصے میں گھر سے نکل وہ کھلیان کی طرف جا رہے تھے۔ لیکن مہنت جی نے انہیں کھلیان کی طرف نہیں جانے دیا۔ اپنے ساتھ ٹھاکر باڑی پر لے آئے۔ پھر تنہا کمرے میں انہیں بٹھا، خوب محبت سے سمجھانے لگے-“ہری ہر! یہاں کوئی کسی کا نہیں ہے۔ سب مایا کا بندھن ہے۔ تو تو مذہبی رجحان کا آدمی ہے۔ میں سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ تم اس بندھن میں کیسے پھنس گئے؟ خدا میں عقیدت لگاؤ۔ اس کے سوا کوئی تمہارا اپنا نہیں۔ بیوی، بیٹے، بھائی بندھو سب مفاد کے ساتھی ہیں۔ جس دن انہیں لگے گا کہ تم سے ان کا مفاد پورا ہونے والا نہیں، اس دن وہ تمہیں پوچھیں گے تک نہیں۔ اسی لیے دانا، سنت، مہاتما خدا کے سوا کسی اور میں محبت نہیں لگاتے۔ …تمہارے حصے میں پندرہ بیگھے کھیت ہیں۔ اسی کے چلتے تمہارے بھائی کا خاندان تمہیں پکڑے ہوئے ہے۔ تم ایک دن کہہ کر تو دیکھ لو کہ اپنا کھیت انہیں نہ دے کر دوسرے کو لکھ دو گے، وہ تم سے بولنا بند کر دیں گے۔ خون کا رشتہ ختم ہو جائے گا۔ تمہارے بھلے کے لیے میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا لیکن شرم کی وجہ سے نہیں کہہ رہا تھا۔ آج کہہ دیتا ہوں، تم اپنے حصے کا کھیت ٹھاکر جی کے نام پر لکھ دو۔ سیدھے بیکنتھ کو پاؤ گے۔ تینوں لوکوں میں تمہاری شہرت جگمگا اٹھے گی۔ جب تک چاند سورج رہیں گے، تب تک لوگ تمہیں یاد کریں گے۔ ٹھاکر جی کے نام پر زمین لکھ دینا، تمہاری زندگی کا عظیم دان ہوگا۔ سادھو سنت تمہارے پاؤں دھوئیں گے۔ سب تمہاری تعریف کریں گے۔ تمہاری یہ زندگی بامعنی ہو جائے گی۔ اپنی باقی زندگی تم اسی ٹھاکر باڑی میں گزارنا، تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی۔ ایک مانگو گے تو چار حاضر کیے جائیں گے۔ ہم تمہیں سر آنکھوں پر اٹھا کر رکھیں گے۔ ٹھاکر جی کے ساتھ ساتھ تمہاری آرتی بھی لگائیں گے۔ بھائی کا خاندان تمہارے لیے کچھ نہیں کرے گا۔ پتہ نہیں پچھلے جنم میں تم نے کون سا گناہ کیا تھا کہ تمہاری دونوں بیویاں قبل از وقت موت کو پہنچیں۔ تم نے اولاد کا منہ تک نہیں دیکھا۔ اپنا یہ جنم تم بے کار ${ }^{17}$ نہ جانے دو۔ خدا کو ایک دو گے تو دس پاؤ گے۔ میں اپنے لیے تو تم سے مانگ نہیں رہا ہوں۔ تمہارا یہ دنیا اور پرلوک دونوں بن جائیں، اس کی راہ میں تمہیں بتا رہا ہوں..۔”
ہری ہر دیر تک مہنت جی کی باتیں سنتے رہے۔ مہنت جی کی باتیں ان کے دل میں بیٹھتی جا رہی تھیں۔ ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں مہنت جی۔ کون کس کا ہے؟ پندرہ بیگھے کھیت کی فصل بھائیوں کے خاندان کو دیتے ہیں، تب تو کوئی پوچھتا نہیں، اگر کچھ نہ دیں تب کیا حالت ہوگی؟ ان کی زندگی میں تو یہ حالت ہے، مرنے کے بعد کون انہیں یاد کرے گا؟ سیدھے سیدھے ان کے کھیت ہتھیا لیں گے۔ ٹھاکر جی کے نام لکھ دیں گے تو نسلوں تک لوگ انہیں یاد کریں گے۔ اب تک کی زندگی میں تو خدا کے لیے انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ آخری وقت تو یہ بڑا پن کما لیں۔ لیکن یہ سوچتے ہوئے بھی ہری ہر کاکا کا منہ کھل نہیں رہا تھا۔ بھائی کا خاندان تو اپنا ہی ہوتا ہے۔ ان کو نہ دے کر ٹھاکر باڑی میں دے دینا ان کے ساتھ دھوکہ اور بے وفائی ہوگا…۔
اپنی بات ختم کر مہنت جی رد عمل جاننے کے لیے ہری ہر کی طرف دیکھنے لگے۔ انہوں نے منہ سے تو کچھ نہیں کہا، لیکن ان کے چہرے کے بدلے ہوئے تاثرات مہنت جی کی تجربہ کار آنکھوں سے چھپے نہ رہ سکے۔ اپنی کامیابی پر مہنت جی کو بہت خوشی ہوئی۔ انہوں نے صحیح جگہ وار کیا ہے۔ اس کے بعد اسی وقت ٹھاکر باڑی کے دو خدمت گاروں کو بلا کر حکم دیا کہ ایک صاف ستھرے کمرے میں پلنگ پر بستر لگا کر ان کے آرام کا انتظام کریں۔ پھر تو مہنت جی کے کہنے میں جتنا وقت لگا تھا، اس سے کم وقت میں ہی، خدمت گاروں نے ہری ہر کاکا کے انکار کرنے کے باوجود انہیں ایک خوبصورت کمرے میں پلنگ پر جا لٹایا۔ اور مہنت جی! انہوں نے پجاری جی کو یہ سمجھا دیا کہ ہری ہر کے لیے خصوصی طور پر کھانے کا انتظام کریں۔ ہری ہر کاکا کو مہنت جی ایک خاص مقصد سے لے گئے تھے، اسی لیے ٹھاکر باڑی میں چہل پہل شروع ہو گئی۔
ادھر شام کو ہری ہر کاکا کے بھائی جب کھلیان سے لوٹے تب انہیں اس حادثے کا پتہ چلا۔ پہلے تو اپنی بیویوں پر وہ خوب برسے، پھر ایک جگہ بیٹھ کر فکر مند ہو گئے۔ حالانکہ گاؤں کے کسی شخص نے بھی ان سے کچھ نہیں کہا تھا۔ مہنت جی نے ہری ہر کاکا کو کیا کیا سمجھایا ہے، اس کی بھی معلومات انہیں نہیں تھی۔ لیکن اس کے باوجود ان کا دل شک کرنے والا اور بے چین ہو گیا۔ دراصل، بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں، جن کی معلومات بتائے بغیر ہی لوگوں کو مل جاتی ہے۔
شام گہراتے گہراتے ہری ہر کاکا کے تینوں بھائی ٹھاکر باڑی پہنچے۔ انہوں نے ہری ہر کاکا کو واپس گھر چلنے کے لیے کہا۔ اس سے پہلے کہ ہری ہر کاکا کچھ کہتے، مہنت جی بیچ میں آ گئے-" آج ہری ہر کو یہیں رہنے دو…بیماری سے اٹھا ہے۔ اس کا دل بے چین ہے۔ خدا کے دربار میں رہے گا تو سکون ملے گا…۔"
لیکن ان کے بھائی انہیں گھر لے چلنے کے لیے ضد کرنے لگے۔ اس پر ٹھاکر باڑی کے سادھو سنت انہیں سمجھانے لگے۔ وہاں موجود گاؤں کے لوگوں نے بھی کہا کہ ایک رات ٹھاکر باڑی میں رہ جائیں گے تو کیا ہو جائے گا؟ آخر کار بھائیوں کو مایوس ہو وہاں سے لوٹنا پڑا۔
رات میں ہری ہر کاکا کو بھوگ لگانے کے لیے جو مٹھائی اور پکوان ملے، ویسے انہوں نے کبھی نہیں کھائے تھے۔ گھی ٹپکتے مال پوے، رس بونیا، لڈو، چھینے کی ترکاری، دہی، کھیر…۔ پجاری جی نے خود اپنے ہاتھوں سے کھانا پیش کیا تھا۔ پاس میں بیٹھے مہنت جی مذہبی گفتگو سے دل میں سکون پہنچا رہے تھے۔ ایک ہی رات میں ٹھاکر باڑی میں جو سکھ سکون اور قناعت پایا، وہ اپنے اب تک کی زندگی میں انہوں نے نہیں پایا تھا۔
ادھر تینوں بھائی رات بھر سو نہیں سکے۔ مستقبل کی خدشات ان کے دل کو کھپاتی رہی۔ پندرہ بیگھے کھیت! اس گاؤں کی زرخیز زمین! دو لاکھ سے زیادہ کی دولت! اگر ہاتھ سے نکل گئی تو پھر وہ کہیں کے نہ رہیں گے۔
صبح سویرے ہی تینوں بھائی پھر ٹھاکر باڑی پہنچے۔ ہری ہر کاکا کے پاؤں پکڑ رونے لگے۔ اپنی بیویوں کی غلطی کے لیے معافی مانگی اور انہیں سزا دینے کی بات کہی۔ ساتھ ہی خون کے رشتے کی محبت پھیلائی۔ ہری ہر کاکا کا دل پسیج گیا۔ وہ پھر واپس گھر لوٹ آئے۔
لیکن یہ کیا؟ اس بار اپنے گھر پر جو تبدیلی انہوں نے محسوس کی، اس نے انہیں خوشگوار حیرت میں ڈال دیا۔ گھر کے چھوٹے بڑے سب انہیں سر آنکھوں پر اٹ