باب 09 آگنی پتھ (آتش راہ)

ہری ونش رائے بچن (1907-2003)

ہری ونش رائے بچن کی پیدائش اتر پردیش کے شہر الہ آباد میں 27 نومبر 1907 کو ہوئی۔ ‘بچن’ ان کا والدین کی طرف سے پیار سے لیا جانے والا نام تھا، جسے انہوں نے اپنا تخلص بنا لیا تھا۔ بچن کچھ عرصے تک یونیورسٹی میں پروفیسر رہنے کے بعد بھارتی خارجہ سروس میں چلے گئے تھے۔ اس دوران انہوں نے کئی ممالک کا سفر کیا اور اسٹیج پر پرجوش آواز میں کلام پڑھنے کے لیے مشہور ہوئے۔ بچن کی نظمیں سادہ اور حساس ہیں۔ ان کی تخلیقات میں فرد کی تکلیف، قومی بیداری اور فلسفۂ زندگی کے سُر ملتے ہیں۔ انہوں نے خود احتسابی والی نظمیں بھی لکھی ہیں۔ سیاسی زندگی کے دکھاوے، سماجی ناانصافی اور رسوم پر طنز کیا ہے۔ نظم کے علاوہ بچن نے اپنی آپ بیتی بھی لکھی، جو ہندی نثر کا بے مثال شاہکار مانا جاتا ہے۔

بچن کی اہم تخلیقات ہیں : مدھوشالا، نِشا نِمَنتَرَن، ایکانت سنگیت، میلن یامینی، آرتی اور انگارے، ٹوٹتی چٹٹانیں، روپ ترنگنی (سبھی نظم مجموعے) اور آپ بیتی کے چار حصے : کیا بھولوں کیا یاد کروں، نیڑ کا نِرمان پھر، بسیے سے دور، دشدوار سے سوپان تک۔

بچن ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ، سوویت بھومی نہرو ایوارڈ اور سرسوتی سمان سے نوازے گئے۔

پیش کردہ نظم میں شاعر نے جدوجہد سے بھری زندگی کو ‘آگنی پتھ’ کہتے ہوئے انسان کو یہ پیغام دیا ہے کہ راستے میں سکھ روپ چھاؤں کی خواہش نہ کر اپنی منزل کی طرف محنتی طریقے سے بغیر تھکاوٹ محسوس کیے بڑھتے ہی جانا چاہیے۔ نظم میں الفاظ کی تکرار کس طرح انسان کو آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے، یہ دیکھنے کے قابل ہے۔

آگنی پتھ (آتش راہ)

آگنی پتھ! آگنی پتھ! آگنی پتھ!

ورکش ہوں بھلے کھڑے، ہوں گھنے، ہوں بڑے، ایک پتر-چھاؤں بھی مانگ مت، مانگ مت، مانگ مت! آگنی پتھ! آگنی پتھ! آگنی پتھ!

تو نہ تھکے گا کبھی! تو نہ تھمے گا کبھی! تو نہ مڑے گا کبھی! کر شپتھ، کر شپتھ، کر شپتھ! آگنی پتھ! آگنی پتھ! آگنی پتھ!

یہ مہان درش ہے چل رہا منُش ہے اشرو-سوید-رکت سے لتھ پتھ، لتھ پتھ، لتھ پتھ! آگنی پتھ! آگنی پتھ! آگنی پتھ!

سوال-مشق

1. مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دیجیے-

(ک) شاعر نے ‘آگنی پتھ’ کس کے علامتی روپ میں استعمال کیا ہے؟

(خ) ‘مانگ مت’، ‘کر شپتھ’، ‘لتھ پتھ’ ان الفاظ کا بار بار استعمال کر کے شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟

(گ) ‘ایک پتر-چھاؤں بھی مانگ مت’ اس سطر کا مطلب واضح کیجیے۔

2. مندرجہ ذیل کا مطلب واضح کیجیے-

(ک) تو نہ تھمے گا کبھی تو نہ مڑے گا کبھی

(خ) چل رہا منُش ہے اشرو-سوید-رکت سے لتھ پتھ، لتھ پتھ، لتھ پتھ

3. اس نظم کا بنیادی مضمون کیا ہے؟ واضح کیجیے۔ قابلیت-توسیع

قابلیت-توسیع

‘زندگی جدوجہد کا ہی نام ہے’ اس موضوع پر کلاس میں مباحثے کا اہتمام کیجیے۔ پروجیکٹ کام

پروجیکٹ کام

‘زندگی جدوجہد سے بھری ہے، اس سے گھبرا کر رکنا نہیں چاہیے’ اس سے متعلق دیگر شعرا کی نظموں کو جمع کر کے ایک البم بنائیے۔

لفظی معنی اور تشریحات

لفظ معنی
آگنی پتھ مشکلات سے بھرا ہوا راستہ، آگ والا راستہ
پتر پتا
شپتھ قسم، سونٹھ
اشرو آنسو
سوید پسینہ
رکت خون
لتھ پتھ لت پت، بھیگا ہوا