باب 01 گیلو
महादेवी वर्मा
सोनजुही $^{1}$ में आज एक पीली कली लगी है। इसे देखकर अनायास ${ }^{2}$ ही उस छोटे जीव का स्मरण हो आया, जो इस लता की सघन हरीतिमा ${ }^{3}$ में छिपकर बैठता था और फिर मेरे निकट पहुँचते ही कंधे पर कूदकर मुझे चौंका देता था। तब मुझे कली की खोज रहती थी, पर आज उस लघुप्राण ${ }^{4}$ की खोज है।
پرمگر وہ تو اب تک اس سونجہی کی جڑ میں مٹی ہو کر مل گیا ہوگا۔ کون جانے سونے جیسی کلی کے بہانے وہی مجھے چونکانے اوپر آ گیا ہو!
اچانک ایک دن صبح کمرے سے برآمدے میں آ کر میں نے دیکھا، دو کوا ایک گملے کے چاروں طرف چونچوں سے چھوا چھوائی ${ }^{5}$ جیسا کھیل کھیل رہے ہیں۔ یہ کاک بھوشنڈی بھی عجیب پرندہ ہے- ایک ساتھ عزت یافتہ ${ }^{6}$ بے عزت ${ }^{7}$، بہت معزز بہت ذلیل۔
ہمارے بیچارے پُرکھے نہ گروڑ کے روپ میں آ سکتے ہیں، نہ مور کے، نہ ہنس کے۔ انہیں پتّر پکش میں ہم سے کچھ پانے کے لیے کوا بن کر ہی اُترنا ${ }^{8}$ پڑتا ہے۔ اتنا ہی نہیں ہمارے دور دراز عزیزوں کو بھی اپنے آنے کا میٹھا پیغام ان کی کرخت آواز میں ہی دینا پڑتا ہے۔ دوسری طرف ہم کوا اور کاں کاں کرنے کو بے عزتی کے معنی میں ہی استعمال کرتے ہیں۔
- جُہی (پھول) کی ایک قسم جو پیلے رنگ کی ہوتی ہے 2. اچانک 3. ہریالی 4. چھوٹا جانا
- چپکے سے چھو کر چھپ جانا اور پھر چھونا 6. خاص عزت 7. عزت کا فقدان، تحقیر
- ظاہر 9. کڑوی، کانوں کو نہ بھانے والی
میرے کاک پُران کے تجزیے میں اچانک رکاوٹ آ پڑی، کیونکہ گملے اور دیوار کے سنگم میں چھپے ایک چھوٹے سے جانور پر میری نظر رک گئی۔ قریب جا کر دیکھا، گلہری کا چھوٹا سا بچہ ہے جو شاید گھونسلے سے گر پڑا ہے اور اب کوے جس میں آسان خوراک ڈھونڈ رہے ہیں۔
کاک دو ${ }^{1}$ کی چونچوں کے دو زخم اس چھوٹے جانور کے لیے بہت تھے، اس لیے وہ بے حرکت سا گملے سے چمٹا پڑا تھا۔
سب نے کہا، کوے کی چونچ کا زخم لگنے کے بعد یہ بچ نہیں سکتا، اس لیے اسے ایسے ہی رہنے دیا جائے۔
پر من نہیں مانا- اسے آہستہ سے اٹھا کر اپنے کمرے میں لائی، پھر روئی سے خون پونچھ کر زخموں پر پینسلین کا مرہم لگایا۔
روئی کی پتلی بتی دودھ سے بھگو کر جیسے جیسے اس کے ننھے سے منہ میں لگائی پر منہ کھل نہ سکا اور دودھ کی بوندیں دونوں طرف ڈھلک گئیں۔
کئی گھنٹے کے علاج کے بعد اس کے منہ میں ایک بوند پانی ٹپکایا جا سکا۔ تیسرے دن وہ اتنا اچھا اور مطمئن ${ }^{3}$ ہو گیا کہ میری انگلی اپنے دو ننھے پنجوں سے پکڑ کر، نیلے کانچ کے موتیوں جیسی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
تین چار مہینے میں اس کے چمکدار ${ }^{4}$ روئیں، جھبے دار دم اور چنچل چمکیلی آنکھیں سب کو حیران ${ }^{5}$ کرنے لگیں۔
ہم نے اس کی نوعیاتی نام کو شخصیاتی نام کا روپ دے دیا اور اس طرح ہم اسے گِلّو کہہ کر بلانے لگے۔ میں نے پھول رکھنے کی ایک ہلکی ٹوکری میں روئی بچھا کر اسے تار سے کھڑکی پر لٹکا دیا۔
وہی دو سال گِلّو کا گھر رہا۔ وہ خود ہلا کر اپنے گھر میں جھولتا اور اپنی کانچ کے منکوں سی آنکھوں سے کمرے کے اندر اور کھڑکی سے باہر نہ جانے کیا دیکھتا سمجھتا رہتا تھا۔ پر اس کی سمجھداری اور کارکردگی پر سب کو حیرت ہوتی تھی۔
- دو کوے 2. بغیر کسی حرکت کے 3. پُراعتماد 4. چکنا 5. حیران
جب میں لکھنے بیٹھتی تو اپنی طرف میرا دھیان کھینچنے کی اسے اتنی تیز خواہش ہوتی تھی کہ اس نے ایک اچھا طریقہ ڈھونڈ نکالا۔
وہ میرے پاؤں تک آ کر سرر سے پردے پر چڑھ جاتا اور پھر اسی تیزی سے اترتا۔ اس کا یہ دوڑنے کا سلسلہ تب تک چلتا جب تک میں اسے پکڑنے کے لیے نہ اٹھتی۔
کبھی میں گِلّو کو پکڑ کر ایک لمبے لفافے میں اس طرح رکھ دیتی کہ اس کے اگلے دو پنجوں اور سر کے علاوہ سارا چھوٹا جسم ${ }^{1}$ لفافے کے اندر بند رہتا۔ اس عجیب حالت میں کبھی کبھی گھنٹوں میز پر دیوار کے سہارے کھڑا رہ کر وہ اپنی چمکیلی آنکھوں سے میری کارکردگی دیکھا کرتا۔
بھوک لگنے پر چِک چِک کر کے گویا وہ مجھے اطلاع دیتا اور کاجو یا بسکٹ مل جانے پر اسی حالت میں لفافے سے باہر والے پنجوں سے پکڑ کر اسے کترتا۔
پھر گِلّو کی زندگی کا پہلا بہار آیا۔ نیم چمبی کی خوشبو میرے کمرے میں آہستہ آہستہ آنے لگی۔ باہر کی گلہریاں کھڑکی کی جالی کے پاس آ کر چِک چِک کر کے نہ جانے کیا کہنے لگیں؟
گِلّو کو جالی کے پاس بیٹھ کر اپنائیت سے باہر جھانکتے دیکھ کر مجھے لگا کہ اسے آزاد کرنا ضروری ہے۔
میں نے میخیں نکال کر جالی کا ایک کونا کھول دیا اور اس راستے سے گِلّو نے باہر جانے پر سچ مچ ہی آزادی کی سانس لی۔ اتنا چھوٹا جانور گھر میں پلے کتوں، بلیوں سے بچانا بھی ایک مسئلہ ہی تھا۔
ضروری کاغذات کے سبب میرے باہر جانے پر کمرہ بند ہی رہتا ہے۔ میرے کالج سے لوٹنے پر جیسے ہی کمرہ کھولا گیا اور میں نے اندر پاؤں رکھا، ویسے ہی گِلّو اپنی جالی کے دروازے سے اندر آ کر میرے پاؤں سے سر اور سر سے پاؤں تک دوڑ لگانے لگا۔ تب سے یہ روز کا معمول ہو گیا۔
- چھوٹا جسم
میرے کمرے سے باہر جانے پر گِلّو بھی کھڑکی کی کھلی جالی کی راہ باہر چلا جاتا اور دن بھر گلہریوں کے جھنڈ کا لیڈر بنا ہر ڈال پر اچھلتا کودتا رہتا اور ٹھیک چار بجے وہ کھڑکی سے اندر آ کر اپنے جھولے میں جھولنے لگتا۔
مجھے چونکانے کی خواہش اس میں نہ جانے کب اور کیسے پیدا ہو گئی تھی۔ کبھی گلدان کے پھولوں میں چھپ جاتا، کبھی پردے کی چنٹ میں اور کبھی سونجہی کی پتیوں میں۔
میرے پاس بہت سے جانور پرندے ہیں اور ان کا مجھ سے لگاؤ بھی کم نہیں ہے، پر ان میں سے کسی کو میرے ساتھ میری تھالی میں کھانے کی ہمت ہوئی ہے، ایسا مجھے یاد نہیں آتا۔
گِلّو ان میں استثنا ${ }^{1}$ تھا۔ میں جیسے ہی کھانے کے کمرے میں پہنچتی، وہ کھڑکی سے نکل کر آنگن کی دیوار، برآمدہ پار کر کے میز پر پہنچ جاتا اور میری تھالی میں بیٹھ جانا چاہتا۔ بڑی مشکل سے میں نے اسے تھالی کے پاس بیٹھنا سکھایا جہاں بیٹھ کر وہ میری تھالی میں سے ایک ایک چاول اٹھا کر بڑی صفائی سے کھاتا رہتا۔ کاجو اس کا پسندیدہ خوراک ${ }^{2}$ تھا اور کئی دن کاجو نہ ملنے پر وہ دوسری کھانے کی چیزیں یا تو لینا بند کر دیتا یا جھولے سے نیچے پھینک دیتا تھا۔
اسی درمیان مجھے موٹر حادثے میں زخمی ہو کر کچھ دن ہسپتال میں رہنا پڑا۔ ان دنوں جب میرے کمرے کا دروازہ کھولا جاتا گِلّو اپنے جھولے سے اتر کر دوڑتا اور پھر کسی دوسرے کو دیکھ کر اسی تیزی سے اپنے گھونسلے ${ }^{3}$ میں جا بیٹھتا۔ سب اسے کاجو دے آتے، پر ہسپتال سے لوٹ کر جب میں نے اس کے جھولے کی صفائی کی تو اس میں کاجو بھرے ملے، جن سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ ان دنوں اپنا پسندیدہ خوراک کتنا کم کھاتا رہا۔
میری بیماری میں وہ تکیے پر سرہانے بیٹھ کر اپنے ننھے ننھے پنجوں سے میرے سر اور بالوں کو اتنی آہستہ آہستہ سہلاتا رہتا کہ اس کا ہٹنا ایک خدمت گار ${ }^{4}$ کے ہٹنے کے مانند لگتا۔
- عام قاعدے کا رکاوٹ یا حد سے تجاوز کرنے والا 2. خوراک 3. گھونسلا، رہنے کی جگہ 4. خدمت گار
گرمیوں میں جب میں دوپہر میں کام کرتی رہتی تو گِلّو نہ باہر جاتا نہ اپنے جھولے میں بیٹھتا۔ اس نے میرے قریب رہنے کے ساتھ گرمی سے بچنے کا ایک بالکل نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا تھا۔ وہ میرے پاس رکھی صراحی پر لیٹ جاتا اور اس طرح قریب بھی رہتا اور ٹھنڈک میں بھی رہتا۔
گلہریوں کی زندگی کی مدت دو سال سے زیادہ نہیں ہوتی، اس لیے گِلّو کی زندگی کی سفر کا اختتام آ ہی گیا۔ دن بھر اس نے نہ کچھ کھایا نہ باہر گیا۔ رات میں اختتام کی تکلیف میں بھی وہ اپنے جھولے سے اتر کر میرے بستر پر آیا اور ٹھنڈے پنجوں سے میری وہی انگلی پکڑ کر ہاتھ سے چمٹ گیا، جسے اس نے اپنے بچپن کی موت کے قریب ${ }^{1}$ حالت میں پکڑا تھا۔
پنجے اتنا ٹھنڈے ہو رہے تھے کہ میں نے جاگ کر ہیٹر جلایا اور اسے حرارت ${ }^{2}$ دینے کی کوشش کی۔ پر صبح کی پہلی کرن کے چھونے کے ساتھ ہی وہ کسی اور زندگی میں جاگنے کے لیے سو گیا۔
اس کا جھولا اتار کر رکھ دیا گیا ہے اور کھڑکی کی جالی بند کر دی گئی ہے، پر گلہریوں کی نئی نسل جالی کے اس پار چِک چِک کرتی ہی رہتی ہے اور سونجہی پر بہار آتا ہی رہتا ہے۔
سونجہی کی بیل کے نیچے گِلّو کو قبر دی گئی ہے- اس لیے بھی کہ اسے وہ بیل سب سے زیادہ پسند تھی- اس لیے بھی کہ اس چھوٹے جسم کا، کسی بہار کے دن، جُہی کے پیلاہٹ مائل ${ }^{3}$ چھوٹے پھول میں کھل جانے کا یقین، مجھے تسلی دیتا ہے۔
سوالات
1. سونجہی میں لگی پیلے کلی کو دیکھ کر مصنفہ کے دل میں کون سے خیالات امنڈنے لگے؟
2. سبق کے مطابق کوے کو ایک ساتھ عزت یافتہ اور بے عزت جانور کیوں کہا گیا ہے؟
3. گلہری کے زخمی بچے کا علاج کس طرح کیا گیا؟
4. مصنفہ کا دھیان کھینچنے کے لیے گِلّو کیا کرتا تھا؟
5. گِلّو کو آزاد کرنے کی ضرورت کیوں سمجھی گئی اور اس کے لیے مصنفہ نے کیا کیا؟
6. گِلّو کس معنی میں خدمت گار کا کردار ادا کر رہا تھا؟
7. گِلّو کی کن حرکات سے یہ احساس ہونے لگا تھا کہ اب اس کا اختتام قریب ہے؟
8. ‘صبح کی پہلی کرن کے چھونے کے ساتھ ہی وہ کسی اور زندگی میں جاگنے کے لیے سو گیا ‘- کا مطلب واضح کریں۔
9. سونجہی کی بیل کے نیچے بنی گِلّو کی قبر سے مصنفہ کے دل میں کس یقین کا جنم ہوتا ہے؟