باب 10 قیدی اور کوئل

مکھن لال چترویدی

مکھن لال چترویدی کا جنم مدھیہ پردیش کے ہوشنگ آباد ضلع کے بابئی گاؤں میں سن 1889 میں ہوا۔ محض 16 سال کی عمر میں وہ استاد بن گئے۔ بعد میں تدریسی کام چھوڑ کر انہوں نے پربھا رسالے کی تدوین شروع کی۔ وہ محب وطن شاعر اور تیز طرار صحافی تھے۔ انہوں نے کرماویر اور پرتاپ کا بھی تدوین کیا۔ سن 1968 میں ان کا انتقال ہو گیا۔

ہم کرینی، ادب دیوتا، ہم ترنگنی، وینو لو گونجے دھرا ان کی اہم تصانیف ہیں۔ انہیں پدم بھوشن اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

مکھن لال چترویدی کی تخلیقات قومی جذبے سے لبریز ہیں۔ ان میں آزادی کی بیداری کے ساتھ ملک کے لیے قربانی اور جان نثاری کا جذبہ ملتا ہے۔ اسی لیے انہیں ایک ہندوستانی روح کہا جاتا ہے۔ اس عرفیت سے انہوں نے نظمیں بھی لکھی ہیں۔ وہ ایک شاعر-کارکن تھے اور آزادی کی تحریک کے دوران کئی بار جیل گئے۔ انہوں نے بھکتی، محبت اور فطرت سے متعلق نظمیں بھی لکھی ہیں۔

چترویدی جی شاعری میں فنکاری کے مقابلے میں جذبے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے روایتی بحر و قافیہ کے مطابق تخلیق کے لیے موزوں الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔

برطانوی سامراج کے استحصالی نظام کا باریک بینی سے تجزیہ کرتی نظم ‘قیدی اور کوئل’ بہت مقبول رہی ہے۔ یہ نظم ہندوستانی آزادی پسندوں کے ساتھ جیل میں کیے گئے برے سلوک اور اذیتوں کا دردناک ثبوت پیش کرتی ہے۔

شاعر جیل میں تنہا اور افسردہ ہے۔ کوئل سے اپنے دل کا دکھ، بے چینی اور برطانوی حکومت کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتا ہے کہ یہ وقت میٹھے گیت گانے کا نہیں بلکہ آزادی کا گیت سنانے کا ہے۔ شاعر کو لگتا ہے کہ کوئل بھی پورے ملک کو ایک قید خانے کے طور پر دیکھنے لگی ہے اسی لیے آدھی رات کو چلّا اٹھی ہے۔

قیدی اور کوئل
کیا گاتی ہو؟
کیوں رہ رہ جاتی ہو؟
کوئل بولو تو!
کیا لاتی ہو؟
پیغام کس کا ہے؟
کوئل بولو تو!

اونچی کالی دیواروں کے گھیرے میں،
ڈاکوؤں، چوروں، ڈاکوؤں کے ڈیرے میں،
جینے کو دیتے نہیں پیٹ بھر کھانا،
مرنے بھی دیتے نہیں، تڑپ رہ جانا!
زندگی پر اب دن رات کڑی پہرہ ہے،
حکومت ہے، یا اندھیرے کا اثر گہرا ہے؟
چاند مایوس کر کے چلا رات بھی کالی،
اس وقت سیاہی مائل جاگی کیوں آلی؟

کیوں ہوک پڑی؟
دکھ کا بوجھ والی سی؛
کوئل بولو تو!
کیا لوٹا؟

نرم و نازک دولت کی
رکھوالی سی،
کوئل بولو تو!

کیا ہوئی دیوانی؟
آدھی رات کو چیخی،
کوئل بولو تو!
کس جنگل کی آگ کی
شعلے ہیں دکھائی دیے؟
کوئل بولو تو!

کیا؟-دیکھ نہیں سکتی زنجیروں کا گہنا؟
ہتھکڑیاں کیوں؟ یہ برطانوی راج کا گہنا،
کولھو کا چرچر؟-زندگی کا راگ،
پتھر پر انگلیوں نے لکھے گان!
ہوں موٹ کھینچتا لگا پیٹ پر جوا،
خالی کرتا ہوں برطانوی اکڑ کا کنواں۔
دن میں رحم کیوں جاگے، رلانے والی،
اسی لیے رات میں عذاب ڈھا رہی آلی؟

اس خاموش وقت میں،
اندھیرے کو چیر، رو رہی کیوں ہو؟
کوئل بولو تو!
چپ چاپ، میٹھا بغاوت کا بیج
اس طرح بو رہی کیوں ہو؟
کوئل بولو تو!

کالی تو، رات بھی کالی،
حکومت کی کرنی بھی کالی،
کالی لہر تخیل کالی،
میری کال کوٹھری کالی،
ٹوپی کالی، کملی کالی،
میری لوہے کی زنجیر کالی،
پہرے کی ہنکار کی بوالی،
اس پر ہے گالی، اے آلی!

اس کالے خطرے کے سمندر پر
مرنے کی، مدہوش!
کوئل بولو تو!
اپنے چمکیلے گیتوں کو
کیسے ہو تیراتی!
کوئل بولو تو!

تجھے ملی ہریالی ڈالی،
مجھے نصیب کوٹھری کالی!
تیرا آسمان بھر میں گھومنا
میرا دس فٹ کا جہان!
تیرے گیت کہیں واہ واہ،
رونا بھی ہے مجھے گناہ!
دیکھ ناانصافی تیری میری،
بجا رہی اس پر رن بھیری!

اس ہنکار پر،
اپنی تخلیق سے اور کہو کیا کروں؟
کوئل بولو تو!
موہن کے ورد پر،
جانوں کا رس کس میں بھروں!
کوئل بولو تو!

سوال-مشق

1. کوئل کی کوک سن کر شاعر کی کیا رد عمل تھی؟

2. شاعر نے کوئل کے بولنے کے کن وجوہات کی امکان بتائی؟

3. کس حکومت کی موازنہ اندھیرے کے اثر سے کی گئی ہے اور کیوں؟

4. نظم کی بنیاد پر غلام ہندوستان کی جیلوں میں دی جانے والی اذیتوں کا بیان کیجیے۔

5. مطلب واضح کیجیے-

(الف) نرم و نازک دولت کی رکھوالی سی، کوئل بولو تو!

(ب) ہوں موٹ کھینچتا لگا پیٹ پر جوا، خالی کرتا ہوں برطانوی اکڑ کا کنواں۔

6. آدھی رات میں کوئل کی چیخ سے شاعر کو کیا اندیشہ ہے؟

7. شاعر کو کوئل سے رشک کیوں ہو رہا ہے؟

8. شاعر کے ذہن کے پردے پر کوئل کے گیتوں کی کون سی میٹھی یادیں ثبت ہیں، جنہیں وہ اب مٹانے پر تلی ہے؟

9. ہتھکڑیوں کو گہنا کیوں کہا گیا ہے؟

10. ‘کالی تو …. اے آلی!’-ان سطروں میں ‘کالی’ لفظ کی تکرار سے پیدا ہونے والے چمکدار اثر کا تجزیہ کیجیے۔

11. شاعری کی خوبصورتی واضح کیجیے-

(الف) کس جنگل کی آگ کے شعلے ہیں دکھائی دیے؟

(ب) تیرے گیت کہیں واہ واہ، رونا بھی ہے مجھے گناہ!

دیکھ ناانصافی تیری میری، بجا رہی اس پر رن بھیری!

تخلیق اور اظہار

12. شاعر جیل کے آس پاس دوسرے پرندوں کا چہچہانا بھی سنتا ہوگا لیکن اس نے کوئل کی ہی بات کیوں کی ہے؟

13. آپ کے خیال میں آزادی کے سپاہیوں اور مجرموں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیوں کیا جاتا ہوگا؟

متن سے ہٹ کر سرگرمی

  • غلام ہندوستان کی کون کون سی جیلیں مشہور تھیں، ان میں آزادی کے سپاہیوں کو کس کس طرح کی اذیتیں دی جاتی تھیں؟ اس بارے میں معلومات حاصل کر کے جیلوں کی فہرست اور آزادی کے سپاہیوں کے ناموں کو قومی تہوار پر دیواری رسالے کی شکل میں پیش کریں۔
  • آزاد ہندوستان کی جیلوں میں مجرموں کو سدھار کر دل کی تبدیلی کے لیے آمادہ کیا جاتا ہے۔ پتہ لگائیے کہ اس سمت میں کون کون سے پروگرام چل رہے ہیں؟

لفظی خزانہ

بٹمار - راستے میں مسافروں کو لوٹ لینے والا
ہم کر - چاند
داؤ نل - جنگل کی آگ
موٹ - چمڑے کا ڈول جس سے کنویں وغیرہ سے پانی نکالا جاتا ہے۔
جوا (جوا) - بیلوں کے کندھے پر رکھی جانے والی لکڑی
ہنکار - ہنکارا
بوالی - سانپنی
موہن - موہن داس کرم چند گاندھی یعنی مہاتما گاندھی