Chapter 06 میرے بچپن کے دن
بچپن کی یادوں میں ایک عجیب سا کشش ہوتی ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے، جیسے خواب میں سب دیکھا ہو گا۔ حالات بہت بدل جاتے ہیں۔
اپنے خاندان میں میں کئی نسلوں کے بعد پیدا ہوئی۔ میرے خاندان میں عموماً دو سو سال تک کوئی لڑکی تھی ہی نہیں۔ سنا ہے، اس سے پہلے لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی پریم دھام بھیج دیتے تھے۔ پھر میرے دادا نے بہت درگا پوجا کی۔ ہماری کل دیوی درگا تھیں۔ میں پیدا ہوئی تو میری بڑی خاطر ہوئی اور مجھے وہ سب نہیں سہنا پڑا جو دوسری لڑکیوں کو سہنا پڑتا ہے۔ خاندان میں دادا فارسی اور اردو جانتے تھے۔ والد نے انگریزی پڑھی تھی۔ ہندی کا کوئی ماحول نہیں تھا۔
میری ماں جبل پور سے آئیں تو وہ اپنے ساتھ ہندی لائیں۔ وہ پوجا پاٹھ بھی بہت کرتی تھیں۔ پہلے پہل انہوں نے مجھے ‘پنچ تنتر’ پڑھنا سکھایا۔
دادا کہتے تھے، اس کو ہم ودوشی بنائیں گے۔ میرے متعلق ان کا خیال بہت اونچا رہا۔ اس لیے ‘پنچ تنتر’ بھی پڑھا میں نے، سنسکرت بھی پڑھی۔ یہ ضرور چاہتے تھے کہ میں اردو فارسی سیکھ لوں، لیکن وہ میرے بس کی نہیں تھی۔ میں نے جب ایک دن مولوی صاحب کو دیکھا تو بس، دوسرے دن میں چارپائی کے نیچے جا چھپی۔ تب پنڈت جی آئے سنسکرت پڑھانے۔ ماں تھوڑی سنسکرت جانتی تھیں۔ گیتا میں انہیں خاص دلچسپی تھی۔ پوجا پاٹھ کے وقت میں بھی بیٹھ جاتی تھی اور سنسکرت سنتی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے مشن اسکول میں رکھ دیا مجھ کو۔ مشن اسکول میں ماحول دوسرا تھا، دعا دوسری تھی۔ میرا دل نہیں لگا۔ وہاں جانا بند کر دیا۔ جانے میں رونے دھونے لگی۔ تب انہوں نے مجھ کو کراس تھویٹ گرلز کالج میں بھیجا، جہاں میں پانچویں جماعت میں
داخل ہوئی۔ یہاں کا ماحول بہت اچھا تھا اس وقت۔ ہندو لڑکیاں بھی تھیں، عیسائی لڑکیاں بھی تھیں۔ ہم لوگوں کا ایک ہی میس تھا۔ اس میس میں پیاز تک نہیں بنتا تھا۔
وہاں ہاسٹل کے
ہر ایک کمرے میں ہم چار طالبات رہتی تھیں۔ ان میں پہلی ہی ساتھن سبھدرا کمار ملیں۔ ساتویں جماعت میں وہ مجھ سے دو سال سینئر تھیں۔ وہ نظمیں لکھتی تھیں اور میں بھی بچپن سے قافیہ ملاتی آئی تھی۔ بچپن میں ماں لکھتی تھیں، بھجن بھی گاتی تھیں۔
میرا کے بھجن خصوصاً گاتی تھیں۔ صبح ‘جاگیے کریپا نِدھان پنچھی بن بولے’ یہی سنا جاتا تھا۔ صبح کا گیت گاتی تھیں۔ شام کو میرے کا کوئی بھجن گاتی تھیں۔ سن سن کر میں نے بھی برج بھاشا میں لکھنا شروع کیا۔ یہاں آ کر دیکھا کہ سبھدرا کمار جی کھڑی بولی میں لکھتی تھیں۔ میں بھی ویسا ہی لکھنے لگی۔ لیکن سبھدرا جی بڑی تھیں، معزز ہو چکی تھیں۔ ان سے چھپا چھپا کر لکھتی تھی میں۔ ایک دن انہوں نے کہا، ‘مہادیوی، تم نظم لکھتی ہو؟’ تو میں نے ڈر کے مارے کہا، ‘نہیں۔’ آخر میں انہوں نے میری ڈیسک کی کتابوں کی تلاشی لی اور بہت سا نکل پڑا اس میں سے۔ تب جیسے کسی مجرم کو پکڑتے ہیں، ایسے انہوں نے ایک ہاتھ میں کاغذ لیے اور ایک ہاتھ سے مجھ کو پکڑا اور پورے ہاسٹل میں دکھا آئیں کہ یہ نظم لکھتی ہے۔ پھر ہم دونوں کی دوستی ہو گئی۔ کراس تھویٹ میں ایک درخت کی ڈال نیچی تھی۔ اس ڈال پر ہم لوگ بیٹھ جاتے تھے۔ جب اور لڑکیاں کھیلتی تھیں تب ہم
لوگ قافیہ ملاتے تھے۔ اس وقت ایک رسالہ نکلتا تھا-‘ستری درپن’-اسی میں بھیج دیتے تھے۔ اپنی قافیہ بندی چھپ بھی جاتی تھی۔ پھر یہاں مشاعرے ہونے لگے تو ہم لوگ بھی ان میں جانے لگے۔ ہندی کا اس وقت پرچار پرسار تھا۔ میں سن 1917 میں یہاں آئی تھی۔ اس کے بعد گاندھی جی کا ستیہ گرہ شروع ہو گیا اور آنند بھون آزادی کے جدوجہد کا مرکز ہو گیا۔ جہاں تہاں ہندی کا بھی پرچار چلتا تھا۔ مشاعرے ہوتے تھے تو کراس تھویٹ سے میڈم ہم کو ساتھ لے کر جاتی تھیں۔ ہم نظم سناتے تھے۔ کبھی ہری اودھ جی صدر ہوتے تھے، کبھی سری دھر پاٹھک ہوتے تھے، کبھی رتناکر جی ہوتے تھے، کبھی کوئی ہوتا تھا۔ کب ہمارا نام پکارا جائے، بے چینی سے سنتے رہتے تھے۔ مجھے عموماً پہلا انعام ملتا تھا۔ سو سے کم تمغے نہیں ملے ہوں گے اس میں۔
ایک بار کی بات یاد آتی ہے کہ ایک نظم پر مجھے چاندی کا ایک کٹورا ملا۔ بڑا کندہ کاری والا، خوبصورت۔ اس دن سبھدرا نہیں گئی تھیں۔ سبھدرا عموماً نہیں جاتی تھیں مشاعرے میں۔ میں نے ان سے آ کر کہا، ‘دیکھو، یہ ملا۔’
سبھدرا نے کہا، ‘ٹھیک ہے، اب تم ایک دن کھیر بناؤ اور مجھ کو اس کٹورے میں کھلاؤ۔
اسی درمیان آنند بھون میں باپو آئے۔ ہم لوگ تب اپنی جیب خرچ میں سے ہمیشہ ایک ایک، دو دو آنے ملک کے لیے بچاتے تھے اور جب باپو آتے تھے تو وہ پیسہ انہیں دے دیتے تھے۔ اس دن جب باپو کے پاس میں گئی تو اپنا کٹورا بھی لیتی گئی۔ میں نے نکال کر باپو کو دکھایا۔ میں نے کہا، ‘نظم سنانے پر مجھ کو یہ کٹورا ملا ہے۔’ کہنے لگے، ‘اچھا، دکھا تو مجھ کو۔’ میں نے کٹورا ان کی طرف بڑھا دیا تو اسے ہاتھ میں لے کر بولے، ‘تو دیتی ہے اسے؟’ اب میں کیا کہتی؟ میں نے دے دیا اور لوٹ آئی۔ دکھ یہ ہوا کہ کٹورا لے کر کہتے، نظم کیا ہے؟ پر نظم سنانے کو انہوں نے نہیں کہا۔ لوٹ کر اب میں نے سبھدرا جی سے کہا کہ کٹورا تو چلا گیا۔ سبھدرا جی نے کہا، ‘اور جاؤ دکھانے!’ پھر بولیں، ‘دیکھو بھائی، کھیر تو تم کو بنانی ہو گی۔ اب تم چاہے پیتل کی کٹوری میں کھلاؤ،
چاہے پھول کے کٹورے میں-پھر بھی مجھے من ہی من خوشی ہو رہی تھی کہ انعام میں ملا اپنا کٹورا میں نے باپو کو دے دیا۔
سبھدرا جی ہاسٹل چھوڑ کر چلی گئیں۔ تب ان کی جگہ ایک مراٹھی لڑکی زیب النساء ہمارے کمرے میں آ کر رہی۔ وہ کولھاپور سے آئی تھی۔ زیب میرا بہت سا کام کر دیتی تھی۔ وہ میری ڈیسک صاف کر دیتی تھی، کتابیں ٹھیک سے رکھ دیتی تھی اور اس طرح مجھے نظم کے لیے کچھ اور فرصت مل جاتی تھی۔ زیب مراٹھی الفاظ سے ملی جلی ہندی بولتی تھی۔ میں بھی اس سے کچھ کچھ مراٹھی سیکھنے لگی تھی۔ وہاں ایک استانی جی تھیں-زینت بیگم۔ زیب جب ‘ایکڑے تِکڑے’ یا ‘لوکر لوکر’ جیسے مراٹھی الفاظ کو ملا کر کچھ کہتی تو استانی جی سے ٹوکے بنا نہ رہا جاتا تھا-‘واہ! دیسی کوا، مراٹھی بولی!’ زیب کہتی تھی، ‘نہیں استانی جی، یہ مراٹھی کوا مراٹھی بولتا ہے۔’ زیب مراٹھی عورتوں کی طرح کناری دار ساڑی اور ویسا ہی بلاؤز پہنتی تھی۔ کہتی تھی، ‘ہم مراٹھی ہیں تو مراٹھی بولیں گے!’
اس وقت یہ دیکھا میں نے کہ فرقہ واریت نہیں تھی۔ جو اودھ کی لڑکیاں تھیں، وہ آپس میں اودھی بولتی تھیں؛ بندیل کھنڈ کی آتی تھیں، وہ بندیلی میں بولتی تھیں۔ کوئی فرق نہیں آتا تھا اور
ہم پڑھتے ہندی تھے۔ اردو بھی ہم کو پڑھائی جاتی تھی، پر آپس میں ہم اپنی زبان میں ہی بولتی تھیں۔ یہ بہت بڑی بات تھی۔ ہم ایک میس میں کھاتے تھے، ایک دعا میں کھڑے ہوتے تھے؛ کوئی جھگڑا نہیں ہوتا تھا۔
میں جب ودیا پیٹھ آئی، تب تک میرے بچپن کا
وہی سلسلہ چلا جو آج تک چلتا آ رہا ہے۔ کبھی کبھی بچپن کی تربیت ایسی ہوتی ہے کہ ہم بڑے ہو جاتے ہیں، تب تک چلتی ہے۔ بچپن کی ایک اور بھی تربیت تھی کہ ہم جہاں رہتے تھے وہاں جوارا کے نواب رہتے تھے۔ ان کی نوابی چھن گئی تھی۔ وہ بیچارے ایک بنگلے میں رہتے تھے۔ اسی کمپاؤنڈ میں ہم لوگ رہتے تھے۔ بیگم صاحبہ کہتی تھیں-‘ہم کو تائی کہو!’ ہم لوگ ان کو ‘تائی صاحبہ’ کہتے تھے۔ ان کے بچے ہماری ماں کو چچی جان کہتے تھے۔ ہمارے جنم دن وہاں منائے جاتے تھے۔ ان کے جنم دن ہمارے یہاں منائے جاتے تھے۔ ان کا ایک لڑکا تھا۔ اس کو رکھی باندھنے کے لیے وہ کہتی تھیں۔ بہنوں کو رکھی باندھنی چاہیے۔ رکھی کے دن صبح سے اس کو پانی بھی نہیں دیتی تھیں۔ کہتی تھیں، رکھی کے دن بہنیں رکھی باندھ جائیں تب تک بھائی کو بھوکا رہنا چاہیے۔ بار بار کہلاتی تھیں-‘بھائی بھوکا بیٹھا ہے، رکھی بندھوانے کے لیے۔’ پھر ہم لوگ جاتے تھے۔ ہم کو لہریا یا کچھ ملتے تھے۔ اسی طرح محرم میں ہرے کپڑے ان کے بنتے تھے تو ہمارے بھی بنتے تھے۔ پھر ایک ہمارا چھوٹا بھائی ہوا وہاں، تو تائی صاحبہ نے والد صاحب سے کہا، ‘دیور صاحب سے کہو، وہ میرا نیگ ٹھیک کر کے رکھیں۔ میں شام کو آؤں گی۔’ وہ کپڑے وپڑے لے کر آئیں۔ ہماری ماں کو وہ دلہن کہتی تھیں۔ کہنے لگیں، ‘دلہن، جن کے تائی چاچی نہیں ہوتی ہیں وو اپنی ماں کے کپڑے پہنتے ہیں، نہیں تو چھہ مہینے تک چاچی تائی پہناتی ہیں۔ میں اس بچے کے لیے کپڑے لائی ہوں۔ یہ بڑا خوبصورت ہے۔ میں اپنی طرف سے اس کا نام ‘من موہن’ رکھتی ہوں۔
وہی پروفیسر من موہن ورما آگے چل کر جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے، گورکھپور یونیورسٹی کے بھی رہے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ میرے چھوٹے بھائی کا نام وہی چلا جو تائی صاحبہ نے دیا۔ ان کے یہاں بھی ہندی چلتی تھی، اردو بھی چلتی تھی۔ ویسے، اپنے گھر میں وہ اودھی بولتے تھے۔ ماحول ایسا تھا اس وقت کہ ہم لوگ بہت قریب تھے۔ آج کی حالت دیکھ کر لگتا ہے، جیسے وہ خواب ہی تھا۔ آج وہ خواب کھو گیا۔
شاید وہ خواب سچ ہو جاتا تو بھارت کی کہانی کچھ اور ہوتی۔
1. ‘میں پیدا ہوئی تو میری بڑی خاطر ہوئی اور مجھے وہ سب نہیں سہنا پڑا جو دوسری لڑکیوں کو سہنا پڑتا ہے۔’ اس بیان کی روشنی میں آپ یہ پتا لگائیں کہ-
(ک) اس وقت لڑکیوں کی حالت کیسی تھی؟
(خ) لڑکیوں کی پیدائش کے متعلق آج کیسی حالات ہیں؟
2. مصنفہ اردو فارسی کیوں نہیں سیکھ پائیں؟
3. مصنفہ نے اپنی ماں کے شخصیت کی کن خصوصیات کا ذکر کیا ہے؟
4. جوارا کے نواب کے ساتھ اپنے خاندانی تعلقات کو مصنفہ نے آج کے حوالے سے خواب جیسا کیوں کہا ہے؟
تخلیق اور اظہار
5. زیب النساء مہادیوی ورما کے لیے بہت کام کرتی تھی۔ زیب النساء کی جگہ اگر آپ ہوتیں/ہوتے تو مہادیوی سے آپ کی کیا توقع ہوتی؟
6. مہادیوی ورما کو مشاعرے میں چاندی کا کٹورا ملا تھا۔ اندازہ لگائیے کہ آپ کو اس طرح کا کوئی انعام ملا ہو اور وہ ملک کی بھلائی میں یا کسی آفت کے کام میں دینا پڑے تو آپ کیسا تجربہ کریں گے/کریں گی؟
7. مصنفہ نے ہاسٹل کے جس کثیر لسانی ماحول کی بات کی ہے اسے اپنی مادری زبان میں لکھیے۔
8. مہادیوی جی کے اس یادداشت کو پڑھتے ہوئے آپ کے ذہن پر بھی اپنے بچپن کی کوئی یاد ابھر کر آئی ہو گی، اسے یادداشت کی طرز پر لکھیے۔
9. مہادیوی نے مشاعروں میں نظم پڑھنے کے لیے اپنا نام پکارے جانے سے پہلے ہونے والی بے چینی کا ذکر کیا ہے۔ اپنے اسکول میں ہونے والے ثقافتی پروگراموں میں حصہ لیتے وقت آپ نے جو بے چینی محسوس کی ہو گی، اس پر ڈائری کا ایک صفحہ لکھیے۔
زبان کا مطالعہ
10. سبق سے مندرجہ ذیل الفاظ کے متضاد الفاظ ڈھونڈ کر لکھیے- ودوان، اننت، نرپرادھی، دند، شانتی۔
11. مندرجہ ذیل الفاظ سے سابقہ/لاحقہ الگ کیجیے اور اصل لفظ بتائیے-
نرہاری - نر + آہار + ای
سامپردائکتا
اپرسنتا
اپناپن
کناری دار
سوتنترتا
12. مندرجہ ذیل سابقہ-لاحقہ کی مدد سے دو دو الفاظ لکھیے-
سابقہ - ان، ا، ست، سو، در
لاحقہ - دار، ہار، والا، انیے
13. سبق میں آئے ہوئے مرکب الفاظ چن کر ان کا تجزیہ کیجیے-
پوجا پاٹھ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ پوجا اور پاٹھ
…….$ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ ………
…….$ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ ………
…….$ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ ………
…….$ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ $ \qquad $ ………
سبق سے باہر سرگرمی
-
بچپن پر مرکوز میکسم گورکی کی تخلیق ‘میرا بچپن’ لائبریری سے لے کر پڑھیے۔
-
‘ماتری بھومی: اے ولج ودآؤٹ ویمن’ (2005) فلم دیکھیں۔ منیش جھا کی ہدایت کاری میں بنی اس فلم میں لڑکی کے جنین کے قتل کی المناکی کو انتہائی باریکی سے دکھایا گیا ہے۔
-
تخیل کی بنیاد پر بتائیے کہ لڑکیوں کی تعداد کم ہونے پر بھارتی معاشرے کی شکل کیسی ہو گی؟
پریم دھام $\quad-\quad$ جنت
پرتشتھت $\quad-\quad$ معزز
نقاشی دار - بیل بوٹے کے کام سے مزین
پھول - تانبے اور رانگے کے میل سے بنی ایک مرکب دھات
نرہار - $\quad$ بنا کچھ کھائے پیے
تمغہ - (تعریفی انعام) سونے چاندی یا کسی اور دھات سے بنا ہوا گول یا چوکور ٹکڑا جو کسی خاص موقع پر انعام کے طور پر دیا جاتا ہے۔
پربھاتی $\quad$ صبح گایا جانے والا گیت
لہریا - رنگ برنگی دھاریوں والی خاص قسم کی ساڑی جو عموماً تیج، رکھا بندھن وغیرہ تہواروں پر پہنی جاتی ہے۔
وائس چانسلر $\quad-\quad$ وائس چانسلر
یہ بھی جانیں
ستری درپن - الہ آباد سے شائع ہونے والا یہ رسالہ شری ماتھی رامیشوری نہرو کی ادارت میں سن 1909 سے 1924 تک مسلسل شائع ہوتا رہا۔ عورتوں میں پھیلی ہوئی ناخواندگی اور بری رسموں کے متعلق بیداری پیدا کرنا اس کا بنیادی مقصد تھا۔