باب 03 ریڑھ کی ہڈی
ایک عام سا سجا ہوا کمرہ۔ اندر کے دروازے سے آتے ہوئے جن صاحب کی پیٹھ نظر آ رہی ہے وہ ادھیڑ عمر کے معلوم ہوتے ہیں، ایک تخت کو پکڑے ہوئے پیچھے کی طرف چلتے چلتے کمرے میں آتے ہیں۔ تخت کا دوسرا سرا ان کے نوکر نے پکڑا ہوا ہے۔
بابو : اے دھیرے دھیرے چل … اب تخت کو ادھر موڑ دے… ادھر… بس، بس! نوکر : بچھا دوں صاحب؟
بابو : (ذرا تیز آواز میں) اور کیا کرے گا؟ پروردگار کے یہاں عقل بٹ رہی تھی تو تو دیر سے پہنچا تھا کیا؟… بچھا دوں صاحب!… اور یہ پسینہ کس لیے بہایا ہے؟
نوکر : (تخت بچھاتا ہے) ہی-ہی-ہی۔
بابو : ہنستا کیوں ہے؟… اے، ہم نے بھی جوانی میں ورزشیں کی ہیں، کلسوں سے نہاتا تھا لوٹوں کی طرح۔ یہ تخت کیا چیز ہے؟… اسے سیدھا کر … یوں … ہاں بس۔ … اور سن، بہو جی سے دری مانگ لا، اس کے اوپر بچھانے کے لیے۔ چادر بھی، کل جو دھوبی کے یہاں سے آئی ہے، وہی۔ (نوکر جاتا ہے۔ بابو صاحب اس دوران میں میزپوش ٹھیک کرتے ہیں۔ ایک جھاڑن سے گلدستے کو صاف کرتے ہیں۔ کرسیوں پر بھی دو چار ہاتھ لگاتے ہیں۔ اچانک گھر کی مالکن پریمہ آتی ہیں۔ گندمی رنگ، چھوٹا قد۔ چہرے اور آواز سے ظاہر ہوتا ہے کسی کام میں بہت مصروف ہیں۔ ان کے پیچھے پیچھے بھیگی بلی کی طرح نوکر آ رہا ہے-خالی ہاتھ۔ بابو صاحب (رامسوروپ) دونوں طرف دیکھنے لگتے ہیں…)
پریمہ : میں کہتی ہوں تمہیں اس وقت دھوتی کی کیا ضرورت پڑ گئی! ایک تو ویسے ہی جلدی جلدی میں…
رامسوروپ : دھوتی؟
پریمہ : ہاں، ابھی تو بدل کر آئے ہو، اور پھر نہ جانے کس لیے…
رامسوروپ : لیکن تم سے دھوتی مانگی کس نے؟
پریمہ : یہی تو کہہ رہا تھا رتن۔
رامسوروپ : کیوں اے رتن، تیرے کانوں میں ڈاٹ لگی ہے کیا؟ میں نے کہا تھا-دھوبی کے یہاں سے جو چادر آئی ہے، اسے مانگ لا… اب تیرے لیے دوسرا دماغ کہاں سے لاؤں۔ الو کہیں کا۔
پریمہ : اچھا، جا پوجا والی کوٹھڑی میں لکڑی کے بکس کے اوپر دھلے ہوئے کپڑے رکھے ہیں نا! انہی میں سے ایک چادر اٹھا لا۔
رتن : اور دری؟
پریمہ : دری یہیں تو رکھی ہے، کونے میں۔ وہ پڑی تو ہے۔
رامسوروپ : (دری اٹھاتے ہوئے) اور بی بی جی کے کمرے میں سے ہارمونیم اٹھا لا، اور ستار بھی۔… جلدی جا۔
(رتن جاتا ہے۔ شوہر بیوی تخت پر دری بچھاتے ہیں۔)
پریمہ : لیکن وہ تمہاری لاڈلی بیٹی تو منہ پھلائے پڑی ہے۔
رامسوروپ : منہ پھلائے!… اور تم اس کی ماں، کس مرض کی دوا ہو؟ جیسے تیسے کر کے تو وہ لوگ پکڑ میں آئے ہیں۔ اب تمہاری بیوقوفی سے ساری محنت بیکار جائے تو مجھے دوش مت دینا۔
پریمہ : تو میں ہی کیا کروں؟ سارے جتن کر کے تو ہار گئی۔ تمہیں نے ہی اسے پڑھا لکھا کر اتنا سر چڑھا رکھا ہے۔ میری سمجھ میں تو یہ پڑھائی لکھائی کے جنجال آتے نہیں۔ اپنا زمانہ اچھا تھا۔ ‘آ اے’ پڑھ لی، گنتی سیکھ لی اور بہت ہوا تو ‘عورت سبودھنی’ پڑھ لی۔ سچ پوچھو تو ‘عورت سبودھنی’ میں ایسی ایسی باتیں لکھی ہیں-ایسی باتیں کہ کیا تمہاری بی اے، ایم اے کی پڑھائی ہوگی۔ اور آج کل کے تو لچھن ہی انوکھے ہیں…
رامسوروپ : گراموفون باجا ہوتا ہے نا؟
پریمہ $\quad:$ کیوں؟
رامسوروپ : دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک تو آدمی کا بنایا ہوا۔ اسے ایک بار چلا کر جب چاہے تب روک لو۔ اور دوسرا پروردگار کا بنایا ہوا۔ ریکارڈ ایک بار چڑھا تو رکنے کا نام نہیں۔
پریمہ : ہٹو بھی۔ تمہیں ٹھٹھولی ہی سوجھتی رہتی ہے۔ یہ تو ہوتا نہیں کہ اس اپنی اماں کو راہ پر لاتے۔ اب دیر ہی کتنی رہی ہے ان لوگوں کے آنے میں۔
رامسوروپ : تو ہوا کیا؟
پریمہ : تمہیں نے ہی تو کہا تھا کہ ذرا ٹھیک ٹھاک کر کے نیچے لانا۔ آج کل تو لڑکی کتنی ہی خوبصورت ہو، بنا ٹیپ ٹاپ کے بھلا کون پوچھتا ہے؟ اسی مارے میں نے تو پاؤڈر-واؤڈر اس کے سامنے رکھا تھا۔ پر اسے تو ان چیزوں سے نہ جانے کس جنم کی نفرت ہے۔ میرا کہنا تھا کہ آنچل میں منہ لپیٹ کر لیٹ گئی۔ بھئی، میں باز آئی تمہاری اس لڑکی سے!
رامسوروپ : نہ جانے کیسا اس کا دماغ ہے! ورنہ آج کل کی لڑکیوں کے سہارے تو پاؤڈر کا کاروبار چلتا ہے۔
پریمہ : ارے میں نے تو پہلے ہی کہا تھا۔ انٹرنس ہی پاس کرا دیتے-لڑکی اپنے ہاتھ رہتی، اور اتنی پریشانی نہ اٹھانی پڑتی۔ پر تم تو…
رامسوروپ : (بات کاٹ کر) چپ چپ… (دروازے میں جھانکتے ہوئے) تمہیں قطعی اپنی زبان پر قابو نہیں ہے۔ کل ہی یہ بتا دیا تھا کہ ان سب لوگوں کے سامنے ذکر اور ڈھنگ سے ہوگا۔ مگر تم تو ابھی سے سب کچھ اگلے دیتی ہو۔ ان کے آنے تک تو نہ جانے کیا حال کروگی!
پریمہ : اچھا بابا، میں نہ بولوں گی۔ جیسی تمہاری مرضی ہو، کرنا۔ بس مجھے تو میرا کام بتا دو۔
رامسوروپ : تو اماں کو جیسے ہو تیار کر لو۔ نہ سہی پاؤڈر۔ ویسے کون بری ہے۔ پان لے کر بھیج دینا اسے۔ اور، ناشتہ تو تیار ہے نا؟ (رتن کا آنا) آ گیا رتن؟… ادھر لا، ادھر! باجا نیچے رکھ دے۔ چادر کھول… پکڑ تو ذرا ادھر سے۔
(چادر بچھاتے ہیں۔)
پریمہ : ناشتہ تو تیار ہے۔ مٹھائی تو وہ لوگ زیادہ کھائیں گے نہیں۔ کچھ نمکین چیزیں بنا دی ہیں۔ پھل رکھے ہی ہیں۔ چائے تیار ہے، اور ٹوسٹ بھی۔ مگر ہاں، مکھن؟ مکھن تو آیا ہی نہیں۔
رامسوروپ : کیا کہا؟ مکھن نہیں آیا؟ تمہیں بھی کس وقت یاد آئی ہے۔ جانتی ہو کہ مکھن والے کی دکان دور ہے، پر تمہیں تو ٹھیک وقت پر کوئی بات سوجھتی ہی نہیں۔ اب بتاؤ، رتن مکھن لائے کہ یہاں کا کام کرے۔ دفتر کے چپراسی سے کہا تھا آنے کے لیے، سو نخرے کے مارے…
پریمہ : یہاں کا کام کون زیادہ ہے؟ کمرہ تو سب ٹھیک ٹھاک ہے ہی۔ باجا-ستار آ ہی گیا۔ ناشتہ یہاں برابر والے کمرے میں ٹرے میں رکھا ہوا ہے، سو تمہیں پکڑا دوں گی۔ ایک آدھ چیز خود لے آنا۔ اتنی دیر میں رتن مکھن لے ہی آئے گا… دو آدمی ہی تو ہیں۔
رامسوروپ : ہاں ایک تو بابو گوپال پرساد اور دوسرا خود لڑکا ہے۔ دیکھو، اماں سے کہہ دینا کہ ذرا قرینے سے آئے۔ یہ لوگ ذرا ایسے ہی ہیں… غصہ تو مجھے بہت آتا ہے ان کے دکھیانووسی خیالات پر۔ خود پڑھے لکھے ہیں، وکیل ہیں، مجلس-سوسائٹیوں میں جاتے ہیں، مگر لڑکی چاہتے ہیں ایسی کہ زیادہ پڑھی لکھی نہ ہو۔
پریمہ : اور لڑکا؟
رامسوروپ : بتایا تو تھا تمہیں۔ باپ سیر ہے تو لڑکا سوا سیر۔ بی ایس سی کے بعد لکھنؤ میں ہی تو پڑھتا ہے، میڈیکل کالج میں۔ کہتا ہے کہ شادی کا سوال دوسرا ہے، تعلیم کا دوسرا۔ کیا کروں مجبوری ہے۔ مطلب اپنا ہے ورنہ ان لڑکوں اور ان کے باپوں کو ایسی کوری کوری سناتا کہ یہ بھی…
رتن : (جو اب تک دروازے کے پاس چپ چاپ کھڑا ہوا تھا، جلدی جلدی) بابو جی، بابو جی!
رامسوروپ : کیا ہے؟
رتن : کوئی آتے ہیں۔
رامسوروپ : (دروازے سے باہر جھانک کر جلدی منہ اندر کرتے ہوئے) ارے، اے پریمہ، وہ آ بھی گئے۔ (نوکر پر نظر پڑتے ہی) ارے، تو یہیں کھڑا ہے، بیوقوف۔ گیا نہیں مکھن لانے؟ … سب چوپٹ کر دیا۔ اے ادھر سے نہیں، اندر کے دروازے سے جا (نوکر اندر آتا ہے) … اور تم جلدی کرو پریمہ۔ اماں کو سمجھا دینا تھوڑا سا گا دے گی۔ (پریمہ جلدی سے اندر کی طرف آتی ہے۔ اس کی دھوتی زمین پر رکھے ہوئے باجے سے اٹک جاتی ہے۔)
پریمہ : اونہ۔ یہ باجا وہ نیچے ہی رکھ گیا ہے، کمبخت۔
رامسوروپ : تم جاؤ، میں رکھے دیتا ہوں.. جلدی۔
(پریمہ جاتی ہے، بابو رامسوروپ باجا اٹھا کر رکھتے ہیں۔ دروازے پر دستک۔)
رامسوروپ : ہاں-ہاں-ہاں۔ آئیے، آئیے… ہاں-ہاں-ہاں۔
(بابو گوپال پرساد اور ان کے لڑکے شنکر کا آنا۔ آنکھوں سے لوک چترائی ٹپکتی ہے۔ آواز سے معلوم ہوتا ہے کہ کافی تجربہ کار اور فطرتی صاحب ہیں۔ ان کا لڑکا کچھ کھیس نکالنے والے نوجوانوں میں سے ہے۔ آواز پتلی ہے اور کھسیانی بھری۔ جھکی کمر ان کی خاصیت ہے۔)
رامسوروپ : (اپنے دونوں ہاتھ ملتے ہوئے) ہاں-ہاں، ادھر تشریف لائیے ادھر۔ (بابو گوپال پرساد بیٹھتے ہیں، مگر بینٹ گر پڑتا ہے۔)
رامسوروپ : یہ بینٹ!… لائیے مجھے دیجیے۔ (کونے میں رکھ دیتے ہیں۔ سب بیٹھتے ہیں۔) ہاں-ہاں… مکان ڈھونڈنے میں تکلیف تو نہیں ہوئی؟
گو. پرساد : (کھنکار کر) نہیں۔ تانگے والا جانتا تھا۔… اور پھر ہمیں تو یہاں آنا ہی تھا۔ راستہ ملتا کیوں نہیں؟
رامسوروپ : ہاں-ہاں-ہاں۔ یہ تو آپ کی بڑی مہربانی ہے۔ میں نے آپ کو تکلیف تو دی…
گو. پرساد : ارے نہیں صاحب! جیسا میرا کام ویسا آپ کا کام۔ آخر لڑکے کی شادی تو کرنی ہی ہے۔ بلکہ یوں کہیے کہ میں نے آپ کے لیے خاصی پریشانی کر دی!
رامسوروپ : ہاں-ہاں-ہاں! یہ لیجیے، آپ تو مجھے کانٹوں میں گھسیٹنے لگے۔ ہم تو آپ کے-ہاں-ہاں-خادم ہی ہیں-ہاں-ہاں۔ (تھوڑی دیر بعد لڑکے کی طرف مخاطب ہو کر) اور کہیے، شنکر بابو، کتنے دنوں کی چھٹیاں ہیں؟
شنکر : جی، کالج کی تو چھٹیاں نہیں ہیں۔ ‘ویک اینڈ’ میں چلا آیا تھا۔ رامسوروپ : آپ کے کورس ختم ہونے میں تو اب سال بھر رہا ہوگا؟ شنکر : جی، یہی کوئی سال دو سال۔
رامسوروپ : سال دو سال؟
شنکر : ہاں-ہاں-ہاں!… جی، ایک آدھ سال کا ‘مارجن’ رکھتا ہوں..
گو. پرساد : بات یہ ہے صاحب کہ یہ شنکر ایک سال بیمار ہو گیا تھا۔ کیا بتائیں، ان لوگوں کو اسی عمر میں ساری بیماریاں ستاتی ہیں۔ ایک ہمارا زمانہ تھا کہ اسکول سے آ کر درجنوں کچوریاں اڑا جاتے تھے، مگر پھر جو کھانا کھانے بیٹھتے تو ویسی کی ویسی ہی بھوک!
رامسوروپ : کچوریاں بھی تو اس زمانے میں پیسے کی دو آتی تھیں۔
گو. پرساد : جناب، یہ حال تھا کہ چار پیسے میں ڈھیر سی بھلائی آتی تھی۔ اور اکیلے دو آنے کی ہضم کرنے کی طاقت تھی، اکیلے! اور اب تو بہتیرے کھیل وغیرہ بھی ہوتے ہیں اسکول میں۔ تب نہ کوئی والی بال جانتا تھا، نہ ٹینس ن بیڈمنٹن۔ بس کبھی ہاکی یا کرکٹ کچھ لوگ کھیلا کرتے تھے۔ مگر مجال کہ کوئی کہہ جائے کہ یہ لڑکا کمزور ہے۔
(شنکر اور رامسوروپ کھیسیں نکالتے ہیں۔)
رامسوروپ : جی ہاں، جی ہاں، اس زمانے کی بات ہی دوسری تھی… ہاں-ہاں!
گو. پرساد : (جوشیلی آواز میں) اور پڑھائی کا یہ حال تھا کہ ایک بار کرسی پر بیٹھے کہ بارہ گھنٹے کی ‘سیٹنگ’ ہو گئی، بارہ گھنٹے! جناب، میں سچ کہتا ہوں کہ اس زمانے کا میٹرک بھی وہ انگریزی لکھتا تھا فراٹے کی، کہ آج کل کے ایم اے بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔
رامسوروپ : جی ہاں، جی ہاں! یہ تو ہے ہی۔
گو. پرساد : معاف کیجیے گا بابو رامسوروپ، اس زمانے کی جب یاد آتی ہے، اپنے کو ضبط کرنا مشکل ہو جاتا ہے!
رامسوروپ : ہاں-ہاں-ہاں!… جی ہاں وہ تو رنگین زمانہ تھا، رنگین زمانہ۔ ہاں-ہاں-ہاں!! (شنکر بھی ہیں-ہیں کرتا ہے۔)
گو. پرساد : (ایک ساتھ اپنی آواز اور طریقہ بدلتے ہوئے) اچھا، تو صاحب، ‘بزنس’ کی بات چیت ہو جائے۔
رامسوروپ : (چوک کر) بزنس؟ بز… (سمجھ کر) اوہ… اچھا، اچھا۔ لیکن ذرا ناشتہ تو کر لیجیے۔ (اٹھتے ہیں۔)
گو. پرساد : یہ سب آپ کیا تکلف کرتے ہیں!
رامسوروپ : ہاں-ہاں-ہاں! تکلف کس بات کا؟ ہاں-ہاں! یہ تو میری بڑی تقدیر ہے کہ آپ میرے یہاں تشریف لائے۔ ورنہ میں کس قابل ہوں۔ ہاں-ہاں!… معاف کیجیے گا ذرا۔ ابھی حاضر ہوا۔ (اندر جاتے ہیں۔)
گو. پرساد : (تھوڑی دیر بعد دبی آواز میں) آدمی تو بھلا ہے۔ مکان وغیرہ سے حیثیت بھی بری نہیں معلوم ہوتی۔ پتا چلے، لڑکی کیسی ہے۔ شنکر : جی…
(کچھ کھنکار کر ادھر ادھر دیکھتا ہے۔)
گو. پرساد : کیوں، کیا ہوا؟
شنکر : کچھ نہیں۔
گو. پرساد : جھک کر کیوں بیٹھتے ہو؟ بیاہ طے کرنے آئے ہو، کمر سیدھی کر کے بیٹھو۔ تمہارے دوست ٹھیک کہتے ہیں کہ شنکر کی ‘بیک بون’…
(اتنے میں بابو رامسوروپ آتے ہیں، ہاتھ میں چائے کی ٹرے لیے ہوئے۔ میز پر رکھ دیتے ہیں)
گو. پرساد : آخر آپ مانے نہیں۔
رامسوروپ : (چائے پیالے میں ڈالتے ہوئے) ہاں-ہاں! آپ کو ولایتی چائے پسند ہے یا ہندوستانی؟
گو. پرساد : نہیں-نہیں صاحب، مجھے آدھا دودھ اور آدھی چائے دیجیے۔ اور ذرا چینی زیادہ ڈالیے گا۔ مجھے تو بھئی یہ نیا فیشن پسند نہیں۔ ایک تو ویسے ہی چائے میں پانی کافی ہوتا ہے، اور پھر چینی بھی نام کے لیے ڈالی جائے تو ذائقہ کیا رہے گا؟
رامسوروپ : ہاں-ہاں، کہتے تو آپ صحیح ہیں۔
(پیالہ پکڑاتے ہیں۔)
شنکر : (کھنکار کر) سنا ہے، سرکار اب زیادہ چینی لینے والوں پر ‘ٹیکس’ لگائے گی۔
گو. پرساد : (چائے پیتے ہوئے) ہوں۔ سرکار جو چاہے سو کر لے، پر اگر آمدنی کرنی ہے تو سرکار کو بس ایک ہی ٹیکس لگانا چاہیے۔
رامسوروپ : (شنکر کو پیالہ پکڑاتے ہوئے) وہ کیا؟
گو. پرساد : خوبصورتی پر ٹیکس! (رامسوروپ اور شنکر ہنس پڑتے ہیں) مذاق نہیں صاحب، یہ ایسا ٹیکس ہے جناب کہ دینے والے چوں بھی نہ کریں گے۔ بس شرط یہ ہے کہ ہر ایک عورت پر یہ چھوڑ دیا جائے کہ وہ اپنی خوبصورتی کے ‘سٹینڈرڈ’ کے مطابق اپنے اوپر ٹیکس طے کر لے۔ پھر دیکھیے، سرکار کی کیسی آمدنی بڑھتی ہے۔
رامسوروپ : (زور سے ہنستے ہوئے) واہ واہ! خوب سوچا آپ نے! واقعی آج کل یہ خوبصورتی کا سوال بھی بے ڈھب ہو گیا ہے۔ ہم لوگوں کے زمانے میں تو یہ کبھی اٹھتا بھی نہ تھا۔ (تشتری گوپال پرساد کی طرف بڑھاتے ہیں) لیجیے۔
گو. پرساد : (سموسہ اٹھاتے ہوئے) کبھی نہیں صاحب، کبھی نہیں۔
رامسوروپ : (شنکر کی طرف مخاطب ہو کر) آپ کا کیا خیال ہے شنکر بابو؟
شنکر : کس معاملے میں؟
رامسوروپ : یہی کہ شادی طے کرنے میں خوبصورتی کا حصہ کتنا ہونا چاہیے۔
گو. پرساد : (بیچ میں ہی) یہ بات دوسری ہے بابو رامسوروپ، میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا، لڑکی کا خوبصورت ہونا نہایت ضروری ہے۔ کیسے بھی ہو، چاہے پاؤڈر وغیرہ لگائے، چاہے ویسے ہی۔ بات یہ ہے کہ ہم آپ مان بھی جائیں، مگر گھر کی عورتیں تو راضی نہیں ہوتیں۔ آپ کی لڑکی تو ٹھیک ہے؟
رامسوروپ : جی ہاں، وہ تو ابھی آپ دیکھ لیجیے گا۔
گو. پرساد : دیکھنا کیا۔ جب آپ سے اتنی بات چیت ہو چکی ہے، تب تو یہ رسم ہی سمجھیے۔
رامسوروپ : ہاں-ہاں، یہ تو آپ کا میرے اوپر بھاری احسان ہے۔ ہاں-ہاں!
گو. پرساد : اور جائچہ (جنم پتر) تو مل ہی گیا ہوگا۔
رامسوروپ : جی، جائچے کا ملنا کیا مشکل بات ہے۔ ٹھاکر جی کے چرنوں میں رکھ دیا۔ بس، خود بخود ملا ہوا سمجھیے۔
گو. پرساد : یہ ٹھیک کہا آپ نے، بالکل ٹھیک (تھوڑی دیر رک کر) لیکن ہاں، یہ جو میرے کانوں میں بھنک پڑی ہے، یہ تو غلط ہے نا؟
رامسوروپ : (چوک کر) کیا؟
گو. پرساد : یہ پڑھائی لکھائی کے بارے میں!… جی ہاں، صاف بات ہے صاحب، ہمیں زیادہ پڑھی لکھی لڑکی نہیں چاہیے۔ میم صاحب تو رکھنی نہیں، کون بھگتے گا ان کے نخرے کو۔ بس حد سے حد میٹرک پاس ہونی چاہیے… کیوں شنکر؟
شنکر : جی ہاں، کوئی نوکری تو کروانی نہیں۔
رامسوروپ : نوکری کا تو کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔
گو. پرساد : اور کیا صاحب! دیکھیے کچھ لوگ مجھ سے کہتے ہیں، کہ جب آپ نے اپنے لڑکوں کو بی اے، ایم اے تک پڑھایا ہے، تب ان کی بہوئیں بھی گریجویٹ لیجیے۔ بھلا پوچھیے ان عقل کے ٹھیکیداروں سے کہ کیا لڑکوں کی پڑھائی اور لڑکیوں کی پڑھائی ایک بات ہے۔ ارے مردوں کا کام تو ہے ہی پڑھنا اور قابل ہونا۔ اگر عورتیں بھی وہی کرنے لگیں، انگریزی اخبار پڑھنے لگیں اور ‘پالیٹکس’ وغیرہ پر بحث کرنے لگیں تب تو ہو چکی گھرستھی۔ جناب، مور کے پر ہوتے ہیں مورنی کے نہیں، شیر کے بال ہوتے ہیں، شیرنی کے نہیں۔
رامسوروپ : جی ہاں، اور مرد کے داڑھی ہوتی ہے، عورت کے نہیں۔… ہاں… ہاں… ہاں…!
(شنکر بھی ہنستا ہے، مگر گوپال پرساد گمبھیر ہو جاتے ہیں۔)
گو. پرساد : ہاں، ہاں۔ وہ بھی صحیح ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ باتیں دنیا میں ایسی ہیں جو صرف مردوں کے لیے ہیں اور اونچی تعلیم بھی ایسی چیزوں میں سے ایک ہے۔
رامسوروپ : (شنکر سے) چائے اور لیجیے۔
شنکر : شکریہ۔ پی چکا۔
رامسوروپ : (گوپال پرساد سے) آپ؟
گو. پرساد : بس صاحب، اب تو ختم ہی کیجیے۔
رامسوروپ : آپ نے تو کچھ کھایا ہی نہیں۔ چائے کے ساتھ ‘ٹوسٹ’ نہیں تھے۔ کیا بتائیں، وہ مکھن…
گو. پرساد : ناشتہ ہی تو کرنا تھا صاحب، کوئی پیٹ تو بھرنا تھا نہیں۔ اور پھر ٹوسٹ-ووسٹ میں کھاتا بھی نہیں۔
رامسوروپ : ہاں… ہاں۔ (میز کو ایک طرف سرکا دیتے ہیں۔ پھر اندر کے دروازے کی طرف منہ کر ذرا زور سے) ارے، ذرا پان بھجوادینا…! … سگریٹ منگواؤں؟
گو. پرساد : جی نہیں!
(پان کی تشتری ہاتھوں میں لیے اماں آتی ہے۔ سادگی کے کپڑے۔ گردن جھکی ہوئی۔ بابو گوپال پرساد آنکھیں گڑا کر اور شنکر آنکھیں چھپا کر اسے تاک رہے ہیں۔)
رامسوروپ : …ہاں… یہی، ہاں… ہاں، آپ کی لڑکی ہے۔ لاؤ بیٹی پان مجھے دو۔ (اماں پان کی تشتری اپنے باپ کو دیتی ہے۔ اس وقت اس کا چہرہ اوپر کو اٹھ جاتا ہے۔ اور ناک پر رکھا ہوا سونے کی ریم والا چشمہ دکھائی دیتا ہے۔ باپ بیٹے چوک اٹھتے ہیں۔) (گوپال پرساد اور شنکر-ایک ساتھ) چشمہ!
رامسوروپ : (ذرا سکپکا کر) جی، وہ تو… وہ… پچھلے مہینے میں اس کی آنکھیں دکھنی آ گئی تھیں، سو کچھ دنوں کے لیے چشمہ لگانا پڑ رہا ہے۔
گو. پرساد : پڑھائی ودھائی کی وجہ سے تو نہیں ہے کچھ؟
رامسوروپ : نہیں صاحب، وہ تو میں نے عرض کیا نا۔
گو. پرساد : ہوں۔ (مطمئن ہو کر کچھ نرم سر میں) بیٹھو بیٹی۔
رامسوروپ : وہاں بیٹھ جاؤ اماں، اس تخت پر، اپنے باجے-واجے کے پاس۔ (اماں بیٹھتی ہے۔)
گو. پرساد : چال میں تو کچھ خرابی ہے نہیں۔ چہرے پر بھی چھوی ہے۔… ہاں، کچھ گانا بجانا سیکھا ہے؟
رامسوروپ : جی ہاں، ستار بھی، اور باجا بھی۔ سناؤ تو اماں ایک آدھ گیت ستار کے ساتھ۔
(اماں ستار اٹھاتی ہے۔ تھوڑی دیر بعد میرے کا مشہور گیت ‘مورے تو گر دھر گوپال دوسرو نہ کوئی’ گانا شروع کر دیتی ہے۔ سر سے ظاہر ہے کہ گانے کا اچھا علم ہے۔ اس کے سر میں تلاونیت آ جاتی ہے، یہاں تک کہ اس کا سر اٹھ جاتا ہے۔ اس کی آنکھیں شنکر کی جھینپتی سی آنکھوں سے مل جاتی ہیں اور وہ گاتے گاتے ایک ساتھ رک جاتی ہے۔)
رامسوروپ : کیوں، کیا ہوا؟ گانے کو پورا کرو اماں۔
گو. پرساد : نہیں-نہیں صاحب، کافی ہے۔ لڑکی آپ کی اچھا گاتی ہے۔ (اماں ستار رکھ کر اندر جانے کو اٹھتی ہے۔)
گو. پرساد : ابھی ٹھہرو، بیٹی۔
رامسوروپ : تھوڑا اور بیٹھی رہو، اماں! (اماں بیٹھتی ہے۔)
گو. پرساد : (اماں سے) تو تم نے پینٹنگ-وینٹنگ بھی…
اماں $\quad: \quad$ (خاموش)
رامسوروپ : ہاں، وہ تو میں آپ کو بتانا بھول ہی گیا۔ یہ جو تصویر ٹنگی ہوئی ہے، کتے والی، اسی نے کھینچی ہے۔ اور وہ اس دیوار پر بھی۔
گو. پرساد : ہوں! یہ تو بہت اچھا ہے۔ اور سلائی