باب 12 میگھ آئے
سروریشور دیال سکسینا
سروریشور دیال سکسینا کا جنم اتر پردیش کے بستی ضلع میں سن 1927 میں ہوا۔ انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آغاز میں انہیں روزگار کے لیے کافی جدوجہد کرنا پڑی، بعد میں دنماں کے معاون مدیر اور مقبول بچوں کے رسالہ پراگ کے مدیر بنے۔ سن 1983 میں ان کا اچانک انتقال ہو گیا۔
کاٹھ کی گھنٹیاں، باںس کا پل، ایک سونی ناو، گرم ہوائیں، کوانو ندی، جنگل کا درد، کھونٹیوں پر ٹنگے لوگ ان کے اہم شعری مجموعے ہیں۔ نئی شاعری کے اہم شاعر سروریشور دیال سکسینا نے ناول، ڈراما، کہانی، مضامین اور وافر مقدار میں بچوں کا ادب بھی لکھا ہے۔ دنماں میں شائع ہونے والے کالم چرچے اور چرخے کے لیے سروریشور بہت مشہور رہے ہیں۔ انہیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
سروریشور کے کلام میں دیہی حساسیت کے ساتھ شہری متوسط طبقے کی زندگی کا احساس بھی ظاہر ہوا ہے۔ یہ احساس ان کے مضمون میں ہی نہیں زبان میں بھی نظر آتا ہے۔ سروریشور کی زبان سہل اور عوامی خوشبو لیے ہوئے ہے۔
منتخب نظم میں شاعر نے بادلوں کے آنے کی تشبیہ سج کر آئے ہوئے مہمان (داماد) سے دی ہے۔ دیہی ثقافت میں داماد کے آنے پر خوشی کا جو ماحول بنتا ہے، بادلوں کے آنے کا جاندار بیان کرتے ہوئے شاعر نے اسی خوشی کو دکھایا ہے۔
میگھ آئے بڑے بن ٹھن کے سنور کے۔
آگے آگے ناچتی گاتی بےار چلی
دروازے کھڑکیاں کھلنے لگیں گلی گلی،
پاہن جیوں آئے ہوں گاؤں میں شہر کے۔
میگھ آئے بڑے بن ٹھن کے سنور کے۔
پیڑ جھک جھانکنے لگے گردن اچکائے،
آندھی چلی، دھول بھاگی گھاگرا اٹھائے،
باںکی چتاون اٹھا، ندی ٹھٹھکی، گھونگھٹ سرکے۔
میگھ آئے بڑے بن ٹھن کے سنور کے۔
بوڑھا پیپل نے آگے بڑھ کر جُہار کی
‘برس بعد سُدھ لیںہیں’
بولی اکولائی لتا اوٹ ہو کِوار کی،
ہرسایا تال لایا پانی پرات بھر کے۔
میگھ آئے بڑے بن ٹھن کے سنور کے۔
کشتیج اٹاری گہرائی دامنی دمکی،
‘کشما کرو گانٹھ کھل گئی اب بھرم کی’,
باںدھ ٹوٹا جھر جھر ملن کے اشرو ڈھرکے۔
میگھ آئے بڑے بن ٹھن کے سنور کے۔
سوال-مشق
1. بادلوں کے آنے پر فطرت میں جو متحرک حرکتیں شاعر نے دکھائی ہیں، انہیں لکھیے۔
2. درج ذیل کس کے علامت ہیں؟
-
دھول
-
پیڑ
-
ندی
-
لتا
-
تال
3. لتا نے بادل روپ مہمان کو کس طرح دیکھا اور کیوں؟
4. مطلب واضح کیجیے-
(ک) کشما کرو گانٹھ کھل گئی اب بھرم کی
(کھ) باںکی چتاون اٹھا، ندی ٹھٹھکی، گھونگھٹ سرکے۔
5. میگھ روپ مہمان کے آنے سے ماحول میں کیا تبدیلیاں ہوئیں؟
6. بادلوں کے لیے ‘بن ٹھن کے، سنور کے’ آنے کی بات کیوں کہی گئی ہے؟
7. نظم میں آئے ہوئے انسانیت کاری اور استعارہ کے مثال ڈھونڈ کر لکھیے۔
8. نظم میں جن رسم و رواج کا مؤثر نقشہ کھینچا گیا ہے، ان کا بیان کیجیے۔
9. نظم میں شاعر نے آسمان پر بادل اور گاؤں میں مہمان (داماد) کے آنے کا جو دلچسپ بیان کیا ہے، اسے لکھیے۔
10. شعری حسن لکھیے-
پاہن جیوں آئے ہوں گاؤں میں شہر کے۔
میگھ آئے بڑے بن ٹھن کے سنور کے۔
تخلیق اور اظہار
11. بارش کے آنے پر اپنے ارد گرد کے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کو غور سے دیکھ کر ایک پیراگراف لکھیے۔
12. شاعر نے پیپل کو ہی بڑا بزرگ کیوں کہا ہے؟ پتہ لگائیے۔
13. نظم میں میگھ کو ‘پاہن’ کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔ ہمارے یہاں مہمان (داماد) کو خاص اہمیت حاصل ہے، لیکن آج اس روایت میں تبدیلی آئی ہے۔ آپ کو اس کے کیا اسباب نظر آتے ہیں، لکھیے۔
زبان-مطالعہ
14. نظم میں آئے ہوئے محاوروں کو چن کر اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔
15. نظم میں استعمال ہونے والے علاقائی الفاظ کی فہرست بنائیے۔
16. میگھ آئے نظم کی زبان آسان اور سہل ہے-مثال دے کر واضح کیجیے۔
متن سے ہٹ کر سرگرمی
-
بہار کے موسم کے آنے کا لفظی خاکہ پیش کیجیے۔
-
پیش کردہ غیر مقروءہ نظم کی بنیاد پر دیے گئے سوالوں کے جواب دیجیے-
دھن دھن دھا دھمک دھمک
میگھ بجے
دامنی یہ گئی دمک
میگھ بجے
دادور کا کنٹھ کھلا
میگھ بجے
دھرتی کا ہردے دھلا
میگھ بجے
پنک بنا ہری چندن
میگھ بجے
ہل کا ہے ابھینندن
میگھ بجے
دھن دھن دھا ………
(1) ‘ہل کا ہے ابھینندن’ میں کس کے استقبال کی بات ہو رہی ہے اور کیوں؟
(2) پیش کردہ نظم کی بنیاد پر بتائیے کہ بادلوں کے آنے پر فطرت میں کیا کیا تبدیلیاں ہوئیں؟
(3) ‘پنک بنا ہری چندن’ سے کیا مراد ہے؟
(4) پہلی سطر میں کون سا صنعت ہے؟
(5) ‘میگھ آئے’ اور ‘میگھ بجے’ کس حس کی طرف اشارہ ہیں؟
- اپنے استاد اور کتب خانے کی مدد سے کیدار ناتھ سنگھ کی ‘بادل او’، سمترا نندن پنت کی ‘بادل’ اور نرالا کی ‘بادل راگ’ نظمیں ڈھونڈ کر پڑھیے۔
لفظی ذخیرہ
| آگے آگے ناچتی | - | بارش کے آنے کی خوشی میں ہوا چلنے لگی شہری |
| گاتی بےار چلی | - | مہمان کے آنے کی خبر سارے گاؤں میں تیزی سے پھیل گئی |
| باںکی چتاون | - | بانکپن لیے نظر، ترچھی نظر |
| جُہار کرنا | - | احترام کے ساتھ جھک کر سلام کرنا |
| کشتیج-اٹاری گہرائی | - | اٹاری پر پہنچے مہمان کی طرح افق پر بادل چھا گئے |
| دامنی دمکی | - | بجلی چمکی، تن من چمک اٹھا |
| کشما کرو گانٹھ | - | بادل نہیں برسے گا کا بھرم ٹوٹ گیا، محبوب اپنی محبوبہ کھل گئی اب سے اب ملنے نہیں آئے گا - یہ بھرم ٹوٹ گیا |
| باںدھ ٹوٹا جھر جھر ملن کے ابھرو ڈھرکے | - | میگھ جھر جھر برسنے لگے، محبوبہ محبوب کے ملن سے خوشی ملن کے ابھرو ڈھرکے کے آنسو چھلک اٹھے |