پلاسی اور بکسر کی جنگیں
پلاسی اور بکسر کی جنگیں
1. پلاسی کی جنگ (1757)
جائزہ
- تاریخ: 23 جون 1757
- مقام: پلاشی، بنگال کے قریب
- شرکاء: برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی (رابرٹ کلائیو کی قیادت میں) بمقابلہ بنگال کے نواب، سراج الدولہ
- نتیجہ: برطانوی فتح، بنگال میں برطانوی طاقت کا قیام
اہم نکات
-
تنازعہ کی وجوہات:
- سراج الدولہ کو شک تھا کہ انگریز اس کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔
- انگریزوں پر نواب کے حریفوں کی حمایت کرنے کا الزام تھا۔
- انگریزوں کو کلکتہ میں تین قلعوں تک رسائی سے انکار کر دیا گیا تھا۔
-
اسٹریٹجک عوامل:
- انگریزوں نے مقامی اتحادیوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی فوج (تقریباً 3000 آدمی) استعمال کی۔
- سراج الدولہ کی فوج زیادہ بڑی تھی لیکن اتحاد اور نظم و ضبط سے محروم تھی۔
- انگریزوں نے نواب کی افواج میں اندرونی تقسیم سے فائدہ اٹھایا۔
-
نتیجہ:
- سراج الدولہ کو معزول کر کے پھانسی دے دی گئی۔
- میر جعفر کو انگریزی حمایت سے نیا نواب مقرر کیا گیا۔
- انگریزوں نے بنگال پر کنٹرول حاصل کر لیا۔
اہم اصطلاحات
- میر جعفر: پلاسی کی جنگ کے بعد انگریزوں کی طرف سے مقرر کردہ نیا نواب۔
- دیوانی حقوق: بنگال میں محصول وصول کرنے کا حق، جو میر جعفر نے انگریزوں کو عطا کیا۔
امتحان پر مرکوز حقائق
- برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی پہلی بڑی فتح۔
- ہندوستان میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت کا آغاز۔
- اہم شخصیات: رابرٹ کلائیو، سراج الدولہ، میر جعفر۔
2. بکسر کی جنگ (1764)
جائزہ
- تاریخ: 22 اکتوبر 1764
- مقام: بکسر، بہار
- شرکاء: برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی (ہیکٹر منرو کی قیادت میں) بمقابلہ بنگال کے نواب، میر قاسم، اور مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی
- نتیجہ: برطانوی فتح، برطانوی طاقت کا مزید استحکام
اہم نکات
-
تنازعہ کی وجوہات:
- بنگال کے نئے نواب میر قاسم نے انگریزی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی۔
- انہیں مغل شہنشاہ اور افغانی افواج کی حمایت حاصل تھی۔
- انگریزوں پر مقامی انتظامیہ میں مداخلت کا الزام تھا۔
-
اسٹریٹجک عوامل:
- انگریزوں کے پاس ایک اچھی نظم و ضبط والی فوج اور اعلیٰ رسد تھی۔
- میر قاسم کی افواج غیر منظم تھیں اور ان میں ہم آہنگی کا فقدان تھا۔
- انگریزوں نے مقامی زمینداروں اور تاجروں کی حمایت حاصل کر لی۔
-
نتیجہ:
- میر قاسم کو شکست ہوئی اور وہ اودھ فرار ہو گیا۔
- شاہ عالم ثانی کو مغل شہنشاہ کے طور پر بحال کیا گیا، لیکن انگریزی اثر و رسوخ بڑھ گیا۔
- انگریزوں نے بنگال، بہار اور اڑیسہ میں دیوانی حقوق حاصل کر لیے۔
اہم اصطلاحات
- دیوانی حقوق: بنگال، بہار اور اڑیسہ میں محصول وصول کرنے کا حق، جو 1765 میں انگریزوں کو عطا کیا گیا۔
- مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی: ایک علامتی شخصیت جسے انگریزوں نے اپنی حکومت کو جائز قرار دینے کے لیے استعمال کیا۔
امتحان پر مرکوز حقائق
- ہندوستان میں انگریزوں کی دوسری بڑی فتح۔
- بنگال اور آس پاس کے علاقوں میں برطانوی غلبے کی تصدیق۔
- اہم شخصیات: ہیکٹر منرو، میر قاسم، شاہ عالم ثانی۔
3. بہار، بنگال، اڑیسہ میں برطانوی کنٹرول
جائزہ
- بکسر کی جنگ کے بعد (1764): انگریزوں نے بنگال، بہار اور اڑیسہ پر مضبوط کنٹرول قائم کیا۔
- انتظامی ڈھانچہ: کلیدی عہدوں پر انگریز اہلکاروں کے ساتھ مرکزی انتظامیہ۔
اہم پہلو
| علاقہ | کنٹرول قائم ہوا | اہم واقعہ | انتظامی کنٹرول |
|---|---|---|---|
| بنگال | 1757 (پلاسی) | پلاسی کی جنگ | برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی |
| بہار | 1764 (بکسر) | بکسر کی جنگ | برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی |
| اڑیسہ | 1764 (بکسر) | بکسر کی جنگ | برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی |
محصول نظام
- دیوانی حقوق: 1765 میں انگریزوں کو عطا کیے گئے، جس سے انہیں بنگال، بہار اور اڑیسہ سے محصول وصول کرنے کی اجازت ملی۔
- محصول کی وصولی: انگریز اہلکاروں کے تحت مرکزی، جس سے مالیاتی کنٹرول اور استحصال میں اضافہ ہوا۔
مقامی انتظامیہ پر اثرات
- زمیندار: مقامی جاگیرداروں کو محصول وصولی کے لیے ثالث کے طور پر استعمال کیا گیا۔
- انگریز اہلکار: انتظامیہ کی نگرانی کے لیے مقرر کیے گئے، جس سے نوآبادیاتی بیوروکریسی کا قیام عمل میں آیا۔
- زمینی محصول نظام: زمینی محصول وصول کرنے کا ایک منظم طریقہ متعارف کرایا گیا، جو انگریزوں کی دولت کا ایک اہم ذریعہ بن گیا۔
اہم تاریخیں
- 1757: پلاسی کی جنگ – انگریزوں نے بنگال پر کنٹرول حاصل کیا۔
- 1764: بکسر کی جنگ – انگریزوں نے بہار اور اڑیسہ پر کنٹرول حاصل کیا۔
- 1765: بنگال، بہار اور اڑیسہ میں انگریزوں کو دیوانی حقوق عطا کیے گئے۔
امتحان پر مرکوز حقائق
- برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی بنگال، بہار اور اڑیسہ کی حقیقی حکمران بن گئی۔
- محصول نظام برطانوی معاشی استحصال کی ریڑھ کی ہڈی بن گیا۔
- زمینداروں کو برطانوی محصول وصولی کے ایجنٹ کے طور پر استعمال کیا گیا۔
- برطانوی کنٹرول ہندوستان میں نوآبادیاتی انتظامیہ کے آغاز کا نشان تھا۔